اسلامی سائنسی فکر اور پیغمبر انقلاب


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

سیرت اور عصر حاضر

اسلامی سائنسی فکر اور پیغمبر انقلاب

پروفیسر عبد العظیم جانباز (سیالکوٹ)

05 islam ki siasi fikr title

online urdu

زندگی میں ہمارے سامنے بہت سے معاملات میں ایسی صورتِ حال آتی ہے جہاں ہمیں دو طبعی چیزوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ صحیح انتخاب وہی کر سکتا ہے جو ” جانتا ” ہو اور ” تمیز ” کر سکتا ہو۔ اس کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے اور علم کے خزینے میں ہونے والے روز افزوں اضافے سے واقف رہنا ضروری ہے۔ ہر دور کا جدید علم ، اس کی ایجادات اور اس کی دریافتیں ، دراصل اس دور کی سائنس ہوتی ہیں ، جو ہمیں جاننے اور تمیز کرنے میں آسانی فراہم کرتی ہیں۔

ایک عرصہ تک ہمارے معاشرے میں خصوصاً مذہبی طبقے کی طرف سے ، جدید تعلیم اور سائنس کو مطعون کیا جاتا رہا۔ اب اگرچہ جدید علوم کی اہمیت ہم پر عیاں ہو چکی ہے ، لیکن پرانی عادتیں جلدی پیچھا نہیں چھوڑتیں اور جدید علوم کو حاصل کرنے کے حوالے سے جس نا لائقی کا مظاہرہ ہم نے ماضی میں کیا ، وہ ابھی تک پوری طرح ہمارے دامن سے جدا نہیں ہوئی ہے۔ ضروری ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے اقدامات کیے جائیں کہ اسی میں نہ صرف شخصی بلکہ قومی اصلاح کا راز بھی پوشیدہ ہے۔

جدید تعلیم سے آشنائی حاصل کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے ہر میدان میں طبع آزمائی شروع کر دی جائے۔ یقیناً اس تعلیم کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جو ہماری دنیا و آخرت کے لیے مضر رساں ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے۔

اسلام کی فطری تعلیمات نے ہمیشہ ذہن انسانی میں شعور و آگہی کے اَن گِنت چراغ روشن کر کے اسے خیر و شر میں تمیز کا ہنر بخشا ہے۔ اسلام نے اپنے پیروکار کو سائنسی علوم کے حصول کا درس دیتے ہوئے ہمیشہ اعتدال کی راہ دکھائی ہے۔ اسلام نے اس کارخانہ قدرت میں انسانی فطرت اور نفسانیت کے مطابق انسان کو احکامات اور ضابطوں کا ایک پورا نظام دیا ہے اور اس کے تضادات کو مٹا کر اسے اپنے نصب العین کی سچائی کا شعور عطا کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سفر کی ابتدائی صدیوں میں تفکر و تدبر کے ذریعے سائنسی علوم میں نہ صرف بیش بہا اضافے کیے ، بلکہ انسان کو قرآنی احکامات کی روشنی میں تسخیر کائنات کی ترغیب بھی دی۔ چنانچہ اس دور میں بعض حیران کن ایجادات بھی عمل میں آئیں اور سائنسی علوم کو ایسی ٹھوس بنیادیں فراہم ہوئیں جن پر آگے چل کر جدید سائنسی علوم کی بنیاد رکھی گئی۔ یہاں پر ہم قرآنِ مجید کی چند ایسی آیات کریمہ پیش کر رہے ہیں جن کے مطالعے سے قرونِ اولیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی تحقیقات کی طرف ترغیب ملی اور اس کے نتیجے میں بنی نوع انسان نے تحقیقی و جستجو کے نئے باب تحریر کیے۔ چند آیات ملاحظہ کیجیے علم کی فضیلت پر :

  • إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَٰٓؤُاْۗ ” اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں ( جو صاحبِ بصیرت ہیں )۔” ( فاطر : 28 )

  • وَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ ” اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے ( اللہ ) ان لوگوں کے درجے بلند کرے گا۔” ( المجادلہ :11 )

  • فَسۡ‍َٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٤٣ ” سو تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں خود ( کچھ ) معلوم نہ ہو۔” ( النحل : 43 )

دیگر آیات میں انسان کو کائنات میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے :

  • إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَ ٱلۡأَرۡضِ وَ ٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَ ٱلنَّهَارِ وَ ٱلۡفُلۡكِ ٱلَّتِي تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَ بَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖ وَ تَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَ ٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَ ٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ١٦٤ ” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کی گردش میں اور ان جہازوں اور ( کشتیوں ) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں اٹھا کر چلتی ہیں اور اس ( بارش ) کے پانی میں جسے اللہ آسمان کی طرف سے اتارتا ہے ، پھر اس کے ذریعے زمین کو مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرتا ہے ( وہ زمین ) جس میں اس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیے ہیں اور ہواؤں کے رُخ بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان ( حکم الٰہی ) کا پابند ( ہو کر چلتا ) ہے ( ان میں ) عقلمندوں کے لیے ( قدرت الٰہیہ کی بہت سی ) نشانیاں ہیں۔” ( البقرة : 164 )

  • إِنَّ فِي ٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَ ٱلنَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَ ٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَّقُونَ ٦ ” بےشک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان ( جملہ ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں۔” ( یونس : 6 )

  • وَ هُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَ جَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَ أَنۡهَٰرٗاۖ وَ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٣ وَ فِي ٱلۡأَرۡضِ قِطَعٞ مُّتَجَٰوِرَٰتٞ وَ جَنَّٰتٞ مِّنۡ أَعۡنَٰبٖ وَ زَرۡعٞ وَ نَخِيلٞ صِنۡوَانٞ وَ غَيۡرُ صِنۡوَانٖ يُسۡقَىٰ بِمَآءٖ وَٰحِدٖ وَ نُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلۡأُكُلِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٤ ” اور وہی ہے جس نے ( گولائی کے باوجود ) زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ بنائے اور ہر قسم کے پھلوں میں ( بھی ) اس نے دو دو ( جنسوں کے ) جوڑے بنائے۔ ( وہی ) رات سے دن کو ڈھانک لیتا ہے۔ بے شک اس میں تفکر کرنے والے کے لیے ( بہت ) نشانیاں ہیں اور زمین میں ( مختلف قسم کے ) قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جھنڈ دار اور بغیر جھنڈ کے۔ ان ( سب ) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ( اس کے باوجود ) پھر ذائقہ میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشتے ہیں۔ بے شک اس میں عقلمندوں کے لیے ( بڑی ) نشانیاں ہیں۔”( الرعد : 3 – 4 )

  • هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗۖ لَّكُم 

    مِّنۡهُ شَرَابٞ وَ مِنۡهُ شَجَرٞ فِيهِ تُسِيمُونَ ١٠ يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرۡعَ وَ ٱلزَّيۡتُونَ وَ ٱلنَّخِيلَ وَ ٱلۡأَعۡنَٰبَ وَ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ١١ ” وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان کی جانب سے پانی اُتارا ، اس میں سے ( کچھ ) پینے کا ہے اور اسی میں سے ( کچھ ) شجر کاری کا ہے ( جس سے نباتات ، سبزے اور چراگاہیں اگتی ہیں ) جن میں تم ( اپنے مویشی ) چراتے ہو ، اسی پانی سے تمہارے لیے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل ( اور میوے ) اگاتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔” ( النحل : 10 – 11 )

  • وَ مَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَ لَا طَٰٓئِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ 

    مَّا فَرَّطۡنَا فِي ٱلۡكِتَٰبِ مِن شَيۡءٖۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُونَ ٣٨ ” اور ( اے انسانو ! ) کوئی بھی چلنے پھرنے والے ( جانور ) اور پرندہ جو اپنے دو بازؤں سے اڑتا ہو ( ایسا ) نہیں ہے مگر یہ کہ ( بہت سی صفات میں ) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی ( جسے صراحتاً یا اشارتاً بیان نہ کر دیا ہو ) پھر سب ( لوگ ) اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے۔” ( الانعام : 38 )

اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دین فطرت بھی ہے ، ان تمام احوال وتعبیرات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق مسلمہ حقیقت سے ہے کہ اسلام نے یونانی فلسفے کے گرداب میں بھٹکنے والی انسانیت کو نورِ علم سے منور کرتے ہوئے جدید سائنس کی بنیادیں فراہم کیں۔

قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ انسان ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے با خبر رہنے کے لیے غور و فکر اور تدبر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اور قوت مشاہدہ کو بروئے کار لائے ، تا کہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اس پر آشکار ہو سکیں۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ سائنسی علوم کی بدولت کائنات کی ہر شے کو انسانی فلاح کے نکتہ نظر سے اپنے لیے بہتر سے بہتر استعمال میں لائے۔ اسی طرح ایک طرف ہمیں مذہب یہ بتاتا ہے کہ جملہ مخلوقات کی خلقت پانی سے عمل میں آئی ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ذمے داری یہ رہنمائی کرنا ہے کہ بنی نوع انسان کو پانی سے کس قدر فوائد بہم پہنچائے جا سکتے ہیں اور اس کا طریقہ کار کیا ہو۔

قرآنِ مجید نے بندۂ مومن کی بنیادی صفات و شرائط کے ضمن میں جو اوصاف ذکر کیے ہیں ان میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں تفکر کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔

آج کا دور سائنسی علوم کی معراج کا دور ہے۔ سائنس کو بجا طور پر عصری علم کہا جاتا ہے ، لہٰذا دورِ حاضر میں دین کی صحیح اور نتیجہ خیز اشاعت کا کام جدید سائنسی بنیادوں پر بھی بہتر طور پر سر انجام دیا جا سکتا ہے۔ بلا شک و شبہ اس دور میں اس امر کی ضرورت گزشتہ صدیوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے کہ مسلم معاشروں میں جدید سائنسی علوم کی ترویج کو فروغ دیا جائے اور دینی علوم کو سائنسی تعلیم سے مربوط کرتے ہوئے حقانیت اسلام کا بول بالا کیا جائے۔ چنانچہ آج کے مسلمان طالب علم کے لیے مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا از حد ضروری ہے۔

قرآنِ مجید میں کم و بیش ہر جگہ مذہب اور سائنس کا اکٹھا ذکر ہے مگر یہ ہمارے دور کا المیہ ہے کہ مذہب اور سائنس دونوں کی سیادت اور سربراہی ایک دوسرے سے نا آشنا افراد کے ہاتھوں میں ہے ، چنانچہ دونوں گروہ اپنے مد مقابل دوسرے علم سے دوری کے باعث اسے اپنا مخالف اور متضاد تصور کرنے لگے ہیں ، جس سے عام الناس کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں تضاد اور تخالف سمجھنے لگے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

مغربی تحقیقات اس امر کا مسلمہ طور پر اقرار کر چکی ہیں کہ جدید سائنس کی تمام ترقی کا انحصار قرونِ اولیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کی فراہم کردہ بنیادوں پر ہے۔ مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی نہج پر کام کی ترغیب قرآن و سنت کی ان تعلیمات نے دی تھی جن میں سے کچھ کا تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔ اسی منشائے ربانی کی تکمیل میں مسلم سائنسدانوں نے ہر شعبہ علم کو ترقی دی اور آج اغیار کے ہاتھوں وہ علوم اپنے نکتہ کمال کو پہنچ چکے ہیں۔ شومئی قسمت کہ جن سائنسی علوم و فنون کی تشکیل اور ان کے فروغ کا حکم قرآن و حدیث میں جا بجا موجود ہے اور جن کی امامت کا فریضہ ایک ہزار برس تک خود بغداد ، دمشق ، اسکندریہ اور اندلس کے مسلمان سائنسدان سر انجام دیتے چلے آئے ہیں ، آج قرآن و سنت کے نام لیوا طبق ارضی پر بکھرے مسلمانوں میں سے ایک بڑی تعداد اسے اسلام سے جدا سمجھ کر اپنی تجدد پسندی کا ثبوت دیتے نہیں شرماتی۔ سائنسی علوم کا وہ پودا جسے ہمارے ہی اجداد نے قرآنی علوم کی روشنی میں پروان چڑھایا تھا۔ آج اغیار اس کے پھل سے محظوظ ہو رہے ہیں اور ہم اپنی اصل تعلیمات سے رو گرداں ہو کر دیار مغرب سے انہی علوم کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

جہاں تک مذہب کا معاملہ تھا اس نے تو ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کر دیا کہ زمین و آسمان میں جتنی کائنات بکھری ہوئی ہیں سب انسان کے لیے مسخر کر دی گئی ہیں ، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مِّنۡهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ١٣ ” اور اس اللہ نے سماوی کائنات اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔” ( الجاثیہ : 13 )

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیائے علم و ثقافت میں عرب مسلمانوں کی یہ حیرت انگیز ترقی اسلام کی آفاقی تعلیمات ہی کی بدولت ممکن ہوئی اور جب تک مسلمان بحیثیت قوم قرآن و سنت کی فطری تعلیمات سے متمسک رہے روحانی بلندی کے ساتھ ساتھ مادّی ترقی کی بھی اوج ثریا پر فائز رہے اور جونہی انہوں نے لغزش کی اور اسلامی تعلیمات سے اعراض کا راستہ اپنایا قعر ذلت میں جا گرے۔

ایک غیر ملکی مؤرخ جے برونوسکی ( J.Bronowski ) نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے :

” حضرت عیسیٰ  کے چھ سو برس بعد اسلام کا ظہور ایک نئی توانا تحریک کے طور پر ہوا۔ اس کا آغاز ایک مقامی حیثیت سے ہوا اور شروع میں نتائج کے اعتبار سے صورتِ حال غیر یقینی تھی، مگر نبی اکرم ﷺ 630ء میں جونہی فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے تو دنیا کے جنوبی حصہ میں حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوئی۔ ایک صدی کے اندر اسکندریہ فتح ہوا ، بغداد اسلامی علم و فضل کا شاندار مرکز بنا اور اسلامی حدود کی وسعت مشرقی ایران کے شہر اصفہان سے آگے نکل گئی۔ 730ء تک اسلامی سلطنت اندلس اور جنوبی فرانس کو سمیٹتی ہوئی چین اور ہندوستان کی سرحدوں تک جا پہنچی۔ طاقت اور وقار کی اس امتیازی شان کے ساتھ جہاں مسلم سلطنت اپنے عروج پر تھی وہاں یورپ اس وقت پستی اور تنزلی کے تاریک دور سے گزر رہا تھا۔ حضرت محمد ﷺ نے اسلام کو معجزات کے محدود دائرہ میں رکھنے کی بجائے اسے غور و فکر اور تجزیہ کی نمایاں عقلی و فکری چھاپ عطا کی۔”

اسی طرح رابرٹ ایل گلک (Robert L.Glick ) نے لکھا ہے :

” اس امر کو بخوبی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ان احادیث کو انتہائی مستند حیثیت حاصل رہی ہے اور نبی اکرم ﷺ کے اُن ارشادات کا بہت مفید اور گہرا اثر مرتب ہوا ہے۔ اُن احادیث نے اسلامی تہذیب کے سنہری دور کے عظیم مفکرین پر نہایت صحت مند اور رہنما اثر ڈالا ہے۔”

پروفیسر رابرٹ ( Prof.Robert ) اپنی کتاب ” محمد ﷺ بہ حیثیت معلم ” ( Muhammad s.a.w as a teacher ) میں علم اور حصولِ علم کی اہمیت و فضیلت پر مبنی آیات و احادیث کے ذکر کے بعد مزید لکھتے ہیں :

” رابرٹ ایل گلک (Robert L.Glick) کہتا ہے کہ ( اسلام کے ) ان اقوال کو بے فائدہ اور بے مقصد نہیں سمجھنا چاہیے ، کیونکہ ان پر عمل کرنے سے ٹھوس نتائج مرتب ہوئے ہیں ، اسلامی سائنس کی اصل طاقت اس امر میں مضمر ہے کہ یہ بازنطینی یونانی واہموں کے برعکس تجرباتی امور پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔”

اس موضوع پر مغرب کے نامور مؤرخ اور محقق رابرٹ بریفالٹ (Robert Briffault) کا تجزیہ :

” اس بات کا غالب امکان ہے کہ عرب مشاہیر سے خوشہ چینی کیے بغیر جدید یورپی تہذیب دورِ حاضر کا وہ ارتقائی نقطہ عروج کبھی حاصل نہیں کر سکتی تھی جس پر وہ آج فائز ہے۔ یوں تو یورپی فکری نشو و نما کے ہر شعبے میں اسلامی ثقافت کا اثر نمایاں ہے ، لیکن سب سے نمایاں اثر یورپی تہذیب کے اس مقتدر شعبے میں ہے جسے ہم تسخیر فطرت اور سائنسی وِجدان کا نام دیتے ہیں۔ یورپ کی سائنسی ترقی کو ہم جن عوامل کی وجہ سے پہنچانتے ہیں وہ جستجو ، تحقیق ، تحقیقی ضابطے ، تجربات ، مشاہدات ، پیمائش اور حسابی موشگافیاں ہیں۔ یہ سب چیزیں یورپ کو معلوم تھیں اور نہ یونانیوں کو ، یہ سارے تحقیقی اور فکری عوامل عربوں کے حوالے سے یورپ میں متعارف ہوئے۔”

یہ بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ مغربی مفکرین نے اس حقیقت کو ان کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے۔ جوزف اسکاٹ (Joseph Scoot ) اور سی ای بوزورتھ (Clifford Edmund Bosworth) اپنی کتاب ” اسلامی ورثہ ” ) (Islamic Inheritance میں لکھتے ہیں :

” اس امر میں قطعی کوئی شبہ نہیں کہ یورپ کے سائنسی علوم پر اسلامی سائنسی فکر کا گہرا اثر مرتب ہوا۔ مغرب کی اس علمی نشاہِ ثانیہ (Renaissance) پر دیگر کئی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ مگر بنیادی طور پر سب سے گہرا اثر اندلس سے آیا ، پھر اٹلی اور فلسطین کی جانب سے اثرات مرتب ہوئے ، کیونکہ صلیبی جنگوں (Crusades war) نے مغربی ممالک کے لوگوں کو فلسطینی مسلم ثقافت اور سائنسی اسلوب سے روشناس کرایا۔”

اس اعترافِ حقیقت کے ساتھ ساتھ یورپی محققین نے براہِ راست اس سوال پر بھی توجہ کی ہے کہ وہ انقلاب کس چیز کے زیر اثر آیا اور اس کا محرک کیا تھا ؟

رابرٹ ایل گلک (Robert L.Glick) نے درج ذیل الفاظ میں اس حقیقت کا برملا اظہار کیا ہے :

” یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ دنیا کی شعوری ترقی میں عربوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا ، مگر کیا یہ ساری ترقی حضرت محمد ﷺ کے اثر کا نتیجہ نہ تھی۔”

اس نے بریفالٹ (Briffault ) کے اس نقطہ نظر کو رد کر دیا ہے کہ عرب سائنسدانوں کا مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا اور یہ تمام ترقی عرب علماء اور سائنسدانوں کی اپنی محنت تھی۔ اس کے نزدیک اس تمام ترقی کی بنیاد صرف اور صرف دین اسلام اور سیرتِ محمدی ﷺ تھی ، جس کے ذریعے عرب مسلمان اور سائنسدان علوم و فنون اور تحقیق و جستجو کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے تھے۔

اقتدار – ایک بارِ امانت” یاد رکھو ! حکومت اور اقتدار ایک امانت ہے ، قیامت کے دن سلامتی اسی کے حصے میں آ ئے گی جس نے اختیار و اقتدار مستحق ہونے کی بناء پر سنبھالا اور اس کی ذمہ داریاں پوری کیں ۔ اس لیے عہدے اور مناصب ان لوگوں کے سپرد کرو جو اس کے اہل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلے میں تم سے حساب لیں گے۔”

شیخ عبد القادر عودہ شہید مصری کی کتاب

” الاسلام بین جھل ابنائہ و عجز علمائہ " سے ماخوذ

ریورنڈ جارج بش (Reverend George Bush) نے اپنی کتاب ” حیاتِ محمد ﷺ ” (The Life of Muhammad s.a.w) میں بڑی صراحت کے ساتھ لکھا ہے :

” الہامی کتابوں کے حوالہ سے کوئی بھی تاریخی انقلاب اتنے ہمہ گیر اثرات کا حامل نہیں جس قدر پیغمبر انقلاب کا لایا ہوا انقلاب جسے انہوں نے پائیدار بنیادوں سے اٹھایا اور بتدریج استوار کیا۔”

غور کیجیے کہ ہمارا ورثہ کیا تھا اور اسے کون لے اڑا ؟ جو خزانہ ہم نے دریافت کیا تھا ، اس سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

بقول علامہ اقبال

مگر  وہ  علم  کے  موتی ، کتابیں  اپنے  آباء کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل  ہوتا ہے  سیپارا

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s