پاکستان اور عالمی سازشی طاقتیں


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

درس آگہی

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

پاکستان اور عالمی سازشی طاقتیں

 پاکستان اور عالمی سازشی طاقتیں

online urdu

کھول کر آنکھیں مری آئینہ گفتار میں

آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

جنہیں سمجھنا ہے وہ سمجھ رہے ہیں ، اور سمجھ جائیں گے اور جو سمجھنا نہیں چاہتے وقت اور حالات انہیں سب کچھ سمجھا دیں گے۔

—- —- —-

مشرق وسطیٰ کے تمام اسلامی ممالک باستثناء ترکی اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں ، تاہم عالمی سازش کاروں کو ترکی کی آزادی پسند نہ تھی بایں وجہ اسے بھی اس قضیے میں گھسیٹ لیا گیا اور بد قسمتی سے ترکی کو بھی سازشی نرغے میں لے ہی لیا گیا ہے۔ بات مشرقِ وسطیٰ سے پھیلی تو مصر ، سوڈان ، لیبیا ، الجزائر ، مالی ، تیونس اور دیگر افریقہ تک پہنچی۔ دوسری جانب سعودی عرب ، یمن ، بحرین ، قطر اور  کویت متاثر ہوئے۔ اس موقع پر پاکستان جو پہلے ہی سے اندرونی و بیرونی محاذ پر نبرد آزما ہے اسے کیسے چھوڑا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اشارے یہی ہیں کہ جلد یا بدیر پاکستان بھی اس عالمی سازش کا بآسانی شکار ہوگا۔

اور سچ پوچھیے تو احادیث میں جس ” الملحمۃ العظمیٰ ” کی خبر دی گئی ہے اور ” غزوہ ہند ” کی جو بشارت دی گئی ہے ، اس کی تکمیل پاکستان کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

—- —- —-

روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا ، پاکستانی قوم کی مثال ایسی ہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہماری بصیرتوں پر حجابِ غفلت کی دبیز تہہ چڑھا دی گئی مگر ہم نے بھی رجوع الی اللہ کی کونسی کوشش کی ؟ در توبہ و انابت کھلا ہے مگر ہم در توبہ و انابت پر دستک دیئے بغیر فوز و فلاح کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ہم وہ تمام کام کرتے ہیں جو غضب الٰہی کا باعث ہیں لیکن پھر بھی خود کو رحمتِ الٰہی کے سایہ عاطفت کا مستحق سمجھتے ہیں۔

—- —- —-

بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں۔ لوگوں کے سر سے چھت چھن گئی اور لاکھوں افراد کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ وسائلِ روزگار محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ عزتیں پامال ہو رہی ہیں اور خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے مگر درد مندوں کے نوحہ غم کو سنتا ہی کون ہے ؟ سب کی توجہ تو بے دردوں کے نغمہ شادی کی طرف ہے۔ قوم کی اشرافیہ یہی بتاتی ہے کہ ہم فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔ دنیا کی برادری میں ہمارا وقار بڑھ رہا ہے۔ ہم کرکٹ کے میدان کے فاتح ہیں۔ ہم ہی ہیں جو عالمی طاقتوں کی سازشوں کی تکمیل میں صف اوّل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ خواہ اس اتحاد کی قیمت قوم کو تشتت و افتراق میں مبتلا کرکے ہی کیوں نہ ادا کریں۔ خواہ اس وقار کی قیمت ہم قوم کو رسوا کرکے ہی کیوں نہ دیں۔ خواہ ہم زندگی کے میدان میں ہار ہی کیوں نہ جائیں اور خواہ ان سازشوں کی تکمیل کے لیے ہم ہمیشہ کے لیے خود ہی سازش کا شکار کیوں نہ ہو جائیں۔

گل کی تصویر کس خوبی سے گلشن میں لگایا ہے

میرے صیاد نے بلبل کو بھی الو بنایا ہے

افسوس کہ اب الفاظ اپنی معنویت کھو چکے ہیں ، اور حقیقتیں خوشنما لفظوں کے دجل و فریب سے تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں

دل کی جراحتوں سے کھلے ہیں چمن چمن

اور اس کا نام فصل بہاراں ہے آج کل

—- —- —-

عالمی سازشی طاقتوں کی اصل نگاہیں پاکستان پر ہیں ، 1965ء کی غیر معمولی کامیابی نے عالمی طاقتوں کو حیران و ششدر کر دیا تھا ، اسی وقت سے پاکستان غیر معمولی عالمی توجہ کا مرکز بنا اور ہنوز ہے۔ بِن گورین کا بیان ریکارڈ پر ہے۔ 1971ء میں تقسیم پاکستان کا سانحہ ہو یا پاکستان کی معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی و سماجی انحطاط۔ ان سب میں عالمی سازش کاروں کی خصوصی دلچسپی کا عنصر واضح طور پر موجود ہے مگر اغیار کی تمام سازشیں ہمارے ہی ہاتھوں انجام پاتی ہیں ، یہ ہم ہی ہیں جو ان سازشوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

ہمارے اخلاقی انحطاط کی انتہا تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں بکنے والے زیادہ ہیں اور خریداروں کی کمی ہو گئی ہے۔ لیکن کوئی سچا پاکستانی تو کجا کوئی بھی سچا مسلمان ، پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

ہر وہ شخص جو پاکستانی ہے لیکن پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے ، خواہ کسی بھی شکل میں ہو اسے چاہیے کہ اپنے ایمان کا احتساب کرے۔

—- —- —-

حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں سے تو گلہ کرنا ہی فضول ہے کیونکہ انہیں ہر قسم کے جرم کرنے کا استثناء حاصل ہے ، اور یہ استثناء ہماری قوم کی بزدلی نے انہیں دے رکھا ہے۔ قوم کی تقدیر قوم کے عام افراد کے ہاتھوں میں ہے ، مگر عوام بھی خواص ہی کی نقالی کرتے ہیں۔ یہاں شریف وہ ہے جسے بدمعاش بننے کا موقع نہ مل سکے۔ ہر شخص کے اندر ایک فرعون چھپا بیٹھا ہے ، بس اسے اپنی فرعونیت کے اظہار کا موقع نہیں مل رہا۔ اس فرعونیت سے کسی کسی کو استثناء حاصل ہے۔

—- —- —-

ہر سال ماہِ دسمبر کی آمد پاکستانیوں کو اس سانحہ عظیم کی یاد دلاتی ہے جب عالمی سازشی طاقتوں کے زیرِ اثر پاکستان کو یکلخت دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا تھا ۔ منقسم ہونے والے حصے نے پاکستان سے نہ صرف اپنی شناخت مٹا ڈالی بلکہ نظریاتی اساس بھی منہدم کر دی اور اب تو نوبت بایں جا رسید کہ جنہوں نے اس وقت غیر منقسم پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا وہ آج چالیس برس بعد معتوب ٹھہرے ہیں۔ جبکہ اِس وقت وہ بنگلہ دیش کے مخلص اور محب وطن شہری ہیں۔

بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی حکمراں جماعت جو استعمار کے کندھوں پر چڑھ کر مسندِ اقتدار پر متمکن ہوئی ہے۔ اصلاً عالمی ایجنڈے ہی کی تکمیل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ضمیر بھی وہاں حقوقِ انسانی کی پامالی پر دم سادھے بیٹھا ہے۔

لیکن مقام افسوس تو یہ ہے کہ پاکستانیوں نے بھی اس سانحہ عظیم کو فراموش کر دیا، عالمی سازشی طاقتیں اب بقیہ پاکستان پر حریصانہ نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔ جب پاکستان اپنی نظریاتی اساس سے محروم ہو جائے گا تو یہاں بسنے والی ہر قوم اپنے اپنے لیے وطن کا مطالبہ کرنے لگے گی ۔ جس وطن کے قومی شاعر نے امت کو ” ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے ” کا سبق دیا تھا افسوس وہی قوم تشتت و افتراق کی راہوں پر گامزن ہے۔

—- —- —-

دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کو یہ بات بخوبی جان لینی چاہیے کہ اپنوں کی بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں سے جو جنگ ان پر مسلّط ہوگئی ہے وہ کسی بھی طرح اس سے بچ نہیں سکتے۔ ان کی طبع نازک پر خواہ یہ کتنا ہی ناگوار گزرے مگر تقدیر الٰہی نے اسی میں ان کے لیے خیر پوشیدہ رکھا ہے۔ وَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡ‍ٔٗا وَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيۡ‍ٔٗا وَهُوَ شَرّٞ لَّكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ

اور اسی کا نتیجہ بالآخر لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ کی صورت میں نکلنا ناگزیر ہے۔

—- —- —-

قومیں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی۔ قوموں کی تاریخ میں بڑے بڑے سانحے بھی آتے ہیں مگر زندہ قومیں ہر قسم کے سانحات سے گزر کر دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لیتی ہے۔ مگر اس کے لیے لازم ہے کہ ضمیر اور احساس زندہ ہو کیونکہ ضمیر اور احساس ہی شعور کو زندگی بخشتے ہیں۔ بے ضمیر قومیں حالتِ بے شعوری میں فنا کے جام پیتی ہیں یہی کاتبِ تقدیر کا فیصلہ ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s