جمہوریہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کی نسل کشی


ربیع الاول و ربیع الثانی 1435ھ جنوری، فروری 2014، شمارہ 22 اور 23

جمہوریہ وسطی افریقہ میں  مسلمانوں کی نسل کشی

عالم اسلام

 

 

جمہوریہ وسطی افریقہ میں  مسلمانوں کی نسل کشی

ابو محمد معتصم باللہ

جمہوریہ وسطی افریقہ نے 13 اگست 1960ء میں فرانس سے آزادی حاصل کی اور اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ جغرافیہ عالم میں نمودار ہوا ۔ اس ملک کی موجودہ آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔ اس ملک کی اکثریتی آبادی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے جن کی تعداد کا تخمینہ 80 فیصد ہے ۔ عیسائیوں میں بھی بڑی تعداد پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے رومن کیتھولک کے پیروکار ہیں ۔ جبکہ مسلمانوں کی آبادی صرف 15 فیصد ہے ۔ حالیہ دنوں میں عیسائی اکثریتی اس علاقے میں مسلمانوں کے ساتھ بد ترین مظالم روا کیے گئے ۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا  کہ مسلح حملوں کے نتیجے میں وسطی جمہوریہ افریقہ سے ” مسلمانوں کا تاریخی انخلا ” دیکھنے میں آیا ہے۔

اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت تجارت پیشہ ہے ۔ تھوک کا کام کرنے والے اور چھوٹے دکانداروں کی بڑی تعداد مسلمان ہے۔ اس انخلاء کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک میں غزائی قلت ہو سکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کے خوراک کے پروگرام نے جمہوریہ وسطی افریقہ میں ہوائی جہازوں کے ذریعے خوراک پہنچانا شروع کر دی ہے ۔ ادارے کے ایک ترجمان الیکسِز مسکیاریلی کے بقول فوج کی نگرانی کے بغیر سڑک کے راستے خوراک کی ترسیل بہت خطرناک ہو چکی ہے ، زمینی راستے کے غیر محفوظ ہو جانے کی وجہ سے ادارے کو کیمرون سے طیاروں کے ذریعے خوراک لےجانا پڑ رہی ہے جو کہ خاصا مہنگا طریقہ ہے۔تاہم سر دست کوئی متبادل دستیاب نہیں ۔

ملک میں خوارک کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ یہاں کی 90 فیصد آبادی دن میں صرف ایک وقت کھانا کھا رہی ہے ۔ دار الحکومت بانگوئی سے مسلمان تاجروں کے مجبوراّ چلے جانے کے بعد اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ طیاروں کے ذریعے لائی جانے والی خوراک کا کچھ حصہ ایئر پورٹ پر قائم کیمپ میں تقسیم کر دیا جائے گا جہاں تقریباً ایک لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے بھیجے ہوئے امن کے ذمہ دار افراد بعض جگہ خاموش تماشائی بنے رہے اور انہوں نے مسلح گروہوں کو طاقت کے خلا کو پُر کرنے کا موقع دیا ۔

تنظیم کی ایک سینیئر اہلکار کا کہنا تھا کہ اس نازک صورتحال کا تقاضا ہے کہ "اس مسئلے کا فوری سدِ باب کیا جائے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ امن کے ذمہ داران جمہوریہ وسطی افریقہ میں عام شہریوں کا تحفظ کریں ، جن علاقوں میں زیادہ خطرہ ہے وہاں فوج بھیجیں اور ایسے افراد کو روکیں جو لوگوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔”

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہےوسطی اافریقہ میں منظم طریقے سے مسلمانوں پر تشدد کرکے انہیں نقل مکانی پت مجبور کیا جا رہا ہے ، وہ دن دور نہیں جب ملک سے مسلم اقلیت کا نام و نشان مٹ جائے ۔

جمہوریہ وسطی افریقہ میں کئی ہفتوں سے جاری مسلم کش فسادات پر تا حال قابو نہیں پایا جا سکا ہے ۔ مسلمانوں کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے ۔

اب تک 30 ہزار مسلمان چاڈ اور 10 ہزار کیمرون نقل مکانی کر گئے ہیں ۔

ریڈ کراس تنظیم کے مقامی ذرائع کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق امدادی کارکنوں نے صرف دار الحکومت بنگوئی میں 461 لاشوں کو جمع کیا ہے ۔ اس تعداد میں مساجد میں لائی گئی لاشوں کی تعداد شامل نہیں۔

اقوام متحدہ نے ملک کے شہریوں کے تحفظ کے لیے فرانس اور افریقی یونین کو مشترکہ اقدامات کرنے کی اجازت دی ہے ۔ تاہم حالیہ کشیدگی میں اضافے کے سبب فرانس کے مطالبے پر امریکا نے بھی فوجی مداخلت کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کشیدگیوں میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد متاثر ہوئی اور اقلیتی آبادی ہونے کی وجہ سے انہیں شدید ترین خسارے کا سامنا کرنا پڑا تاہم یہ بات ضرور کھٹکتی ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی مسلم ملک کو بطور فریق شامل نہیں کیا ۔ اور نہ ہی مسلم ممالک میں کوئی بھرپور احتجاج دیکھنے میں آیا ۔

بہر حال دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جمہوریہ وسطی افریقہ کے بے کس مسلمانوں کی دار رسی اور ان کی تمام مشکلات کو دور فرمائے ۔ و نیز امت مسلمہ کو ان کا درد محسوس کرنے کی توفیق عطا کرے ۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s