رومی جمہوریت


 18ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  08 Romi Jamhuriat 1

 

نظم مملکت

رومی جمہوریت

م – ص – ف – رفعت


جمہوریت
کیا ہے اور کیا نہیں ہے ، اِس پر ہمارے ملک میں کبھی غور ہی نہیں کیا گیا ۔  

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انتہائی لا پروائی کا مظاہرہ
کیا گیا ہے ۔  جو جانتے تھے انھوں نے اس کے
متعلق عامتہ الناس کو چلتے ہوئے نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔  رہ گئے وہ چند لوگ جو یورپ و امریکہ سے تعلیم حاصل
کر کے آئے تھے ، وہ ذہنی طور پر مرعوب تھے اور وہ اُس سے آگے سوچ ہی نہیں سکے جو اُن
کو دورانِ تعلیم یورپ و امریکہ میں پڑھایا گیا تھا ۔ وہ چند لوگ جو اشتراکی نعروں سے
مرعوب ہو گئے اور اُن کی باقیات جو آج بھی نظر آتی ہیں ، اُنھیں زندگی کے کسی معاملے
کے متعلق کچھ بھی علم نہیں تھا ۔  وہ اِس بات
میں تمیز ہی نہ کر سکے کہ اشتراکی اپنے لیے جو کچھ چاہتے تھے وہ سوویت یونین نے اپنے
شہریوں کو کبھی بھی نہیں دیا ۔  ہڑتال کا حق
مانگنے والوں نے یورپ ، ایشیا اور دُنیا کے دیگر ممالک میں اس کی بنیاد پر انتہائی
درجے میں فساد پھیلایا ، لیکن اشتراکی روس اور دیگر ممالک میں مزدوروں اور کسانوں کو
ہڑتال کا حق حاصل نہیں تھا ۔ یہ کیسا آزاد ملک تھا ، یہ کیسی آزادی تھی کہ ہر ایک شخص
کے پیچھے ایک دوسرا شخص لگا ہوا تھا اور پولیس کو اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں ، دوستوں
اور پڑوسیوں کے متعلق آگاہی دیتا تھا کہ کون کیا  کر رہا ہے ۔
( کسی کو اِس بات پر اعتراض ہو یا مزید
معلومات حاصل کرنی ہوں تو وہ الیکساندر عیسائی وِچ سولژ نِت سِن (
Aleksandr Isaevitch
Solzhnytsin
)
کی تصنیفات پڑھ لے )
  ڈر اور خوف کا
کیا عالم تھا ، یہ سمجھنے کے لیے ایک واقعہ سن لیجیے : ایک جلسہ ہو رہا تھا اور اختتام
پر بڑے بھائی
(
اس لقب کے لیے ناظرین قارئین مَیں مشہور انگریزی مصنف جارج آرویل
 George Orwellکا مشکور ہوں ، اُس کے طنزیہ ناول
1984 کا مطالعہ حد درجہ فائدہ مند ثابت ہو گا )
‘ کامریڈ یوسپ وساریو
نووچ ستالن
( ملحوظ خاطر رہے کہ روسی زبان میں ”ٹ” کا تلفّظ نہیں، اُردو
میں انگریزکی نقّالی کی گئی ہے )
 کو
خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔ اُس کے بعد ہر شخص کھڑے ہو کر تالیاں بجاتا رہا ‘ رُکا کوئی
نہیں’ یہاں تک کہ ایک ایک کر کے تمام لوگ فرش پر گر گئے ۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی
۔  اگلے دن وہ شخص جو سب سے پہلے گرا تھا وہ
مملکت اور بڑے بھائی کے خلاف بغاوت کے الزام میں جیل میں داخل کر دیا گیا ۔ شنید ہے
کہ بنّے بھائی
(
سجاد ظہیر ، جو آل انڈیا کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن رکین تھے
اور پاکستان بننے کے بعد پاکستانی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے )
نے بھی
یہ معاملہ پڑھ یا سن کر دیر تک تالیاں بجائیں یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو کر گر گئے ۔
میری معلومات کی حد تک وہ کامریڈ ستالن کے برعظیم ہند و پاک میں سب سے بڑے پرستار تھے
۔ خیر یہ تو ضمنی سی بات تھی۔
اصل موضوع کی طرف لوٹتے
ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کیا ہے ؟ لیکن اِس سے قبل یہ بات ذہن نشین رہے کہ جس
وقت دنیا میں اولادِ آدم پھیلی تو جو نظام بتدریج قائم ہوا ،  وہ خاندانی اور پھر قبائلی تھا اور اِس نظام میں
بھی پہلے پہل سردار وہ شخص ہوتا تھا جو جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ دوسروں سے زیادہ عقل
رکھتا تھا یعنی صائب الرائے تھا اور وہ اپنے خاندان قبیلہ کے افراد کی حفاظت کر سکتا
اور اُن کے لیے غذا بھی فراہم کر سکتا تھا ۔ یہ ضروری نہ تھا کہ سردار کا بیٹا ہی اگلا
سردار ہوگا ۔ لیکن بتدریج یہی ہوا کہ سردار کا بیٹا ہی سردار ہونے لگا چاہے وہ عقل
و طاقت میں دوسروں سے کم ہی کیوں نہ ہو ۔  پھر
یہ ہوا کہ بجائے اِس کے کہ سردار ، افرادِ قبیلہ کی حفاظت کرے ، قبیلے کے افراد ، سردار
کی حفاظت کرنے لگے ۔ آج جو کیفیت ہے وہ اظہر من الشمس ہے کہ سردار کے چاروں طرف بندوق
بردار محافظوں کی ایک فوج ظفر موج چلتی ہے ۔ لیکن ایسا نہیں تھا کہ سب کام سردار صرف
اپنی صوابدید سے کرتا ہو ، بلکہ باقی لوگوں سے مشورے بھی یقینی طور سے کرتا تھا ۔ قرآن
مجید میں اﷲ رب العزت نے بھی دو قوموں کے بارے میں فرمایا ہے کہ اُن کے سربراہ مشورہ
کیا کرتے تھے ایک فرعون مصر کی بابت اور ایک قوم سبا کی بابت ۔ قرآن میں” ملاء ”
کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس سے مراد ایسی مجلس ہے کہ جس کے ارکان سے سربراہِ قوم یا
ریاست مشورہ کیا کرتا تھا ۔ یہی سرداری نظام ، بادشاہت اور پھر موروثی بادشاہت میں
تبدیل ہو گیا ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ مذہبی معاملات میں ہوا یعنی علم و دانش میں جو زیادہ
ہوتا تھا وہی مذہبی رسومات کو ادا کرنے کے لیے آگے آتا ، لیکن بتدریج یہاں بھی موروثیت
قائم ہوگئی یعنی پروہت کا بیٹا ہی پروہت ہوگا ۔  برہمن کا بیٹا ہی برہمن ہوگا ۔ ربی کا بیٹا ہی ربی
ہوگا ۔ اِس مذہبی اجارہ داری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ علم کی ترویج رک گئی ۔ جو
مذہبی کتابیں یا صحائف تھے وہ مخصوص افراد یا خاندانوں کی اجارہ داری بن گئے اور عام
لوگوں کو جو کچھ بتایا جاتا اُسی پر اُن کو یقین کرنا ہوتا تھا ۔ کہیں کہیں تو یہ ہوا
کہ مذہبی کتابوں کو پجاری کے علاوہ کوئی غیر ہاتھ ہی نہیں لگا سکتا تھا ، اور کہیں
یہ ہوا کہ غلاموں یا نچلے درجے کے لوگوں کے لیے یہ قانون بنا دیا گیا کہ وہ مذہبی اقوال
سن ہی نہیں سکتے ، اور اگر کسی نے بھولے سے سن لیا تو اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ
ڈال دیا گیا۔
یورپ کے ڈروئڈ Druid(یادراوڑ) کے متعلق کتب تواریخ میں یہی ملتا ہے
کہ اُن کے پجاری یا مذہبی پیشوا کے پاس کوئی تحریر نہیں ہوتی تھی بلکہ زبانی یاد رکھتے
تھے
، اور جب وہ رومیوں سے مغلوب ہوگئے تو اُن کی مذہبی روایات کھو گئیں، آج صرف خیال آرائی ہی کی جاسکتی ہے کہ اُن کے مذہبی اعتقادات کیا تھے”  کوئی بھی بات سو فی صد یقین سے نہیں کہی جا سکتی
۔ یہاں میں یہ وضاحت کرنا چاہوں گا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق
زندگی کے معمولات پر عمل کرنے والوں کا ذِکر نہیں کر رہا ہوں بلکہ یہ اُس وقت یا اوقات
کی بات ہے کہ جب اولادِ آدم نے وحی الٰہی کو چھوڑ کر اپنی عقل کے مطابق الٰہ بنا لیے
، بت پرستی اور دیگر توہمات کے قائل ہو گئے تھے ۔
یہ بات بھی قابلِ غور
ہے کہ شروع ہی سے سرداری یا بادشاہی میں ہزاروں میل پر مشتمل سرداری یا بادشاہی قائم
نہیں ہوئی تھی ، یہ سب کچھ رفتہ رفتہ ہی ہوا تھا ۔ ایک قصبہ یا ایک شہر اور اس کے گرد
و نواح کا علاقہ بھی ایک الگ ریاست تھے ۔ یہ کیفیت زمانہ قدیم میں دنیا کے ہر خطے میں
نظر آتی ہے ۔ یونان کی واضح مثال کتب تواریخ میں ملتی ہے ۔ سپارٹا
( Sparta ) ، ایتھنز
( Athens ) ، کورنتھ
( Corinth ) وغیرہ
شہری ریاستوں کا ذکر بہت تفصیل سے موجود ہے ۔
ایک بڑی مملکت میں یہ شہری ریاستیں یا تو ڈھلی ہی
نہیں ، اور کچھ عرصے کے لیے اگر ایسا ہوا بھی تو وہ ایک محدود عرصہ ہی تھا ۔ اِس کی
ایک بڑی مثال سکندر مقدونی
( سکندر اعظم ) کا دَورِ حکومت ہے کہ یونان کا بیشتر علاقہ ، موجودہ ایشیائی
ترکی ، مصر اور موجودہ سیاسی حدود کے لحاظ سے شام ، لبنان ، فلسطین ، اُردن ، عراق
، ایران کا بیشتر علاقہ ، افغانستان اور موجودہ پاکستان کا شمالی علاقہ۔
یونان کی شہری ریاستوں
میں خاندانی حکمرانی قائم رہی لیکن سرداری و بادشاہی کے ساتھ ساتھ مذہبی پروہتوں کی
مطلق العنانی نے انسانوں میں اُن سے نفرت پیدا کرنا شروع کر دی اور بتدریج عوام کی
شکایات بڑھتی چلی گئیں تو مفکرین نے متبادل نظام پر اپنی اپنی رائے دینا شروع کی ،
جن میں افلاطون بھی شامل ہے اور اس کی کتاب کا نام ہی ” جمہوریت ” ”
Republic ” ہے ۔ اُس کے نظریات کی بنیاد پر مستقل جمہوری حکومت کہیں بھی قائم
نہیں ہو سکی ، جو تھوڑی بہت کوششیں ہوئیں بھی تو وہ بالا دست امرا اور با اثر خاندانوں
کی بالواسطہ یا بلا واسطہ آمریت میں ڈھل گئیں ۔
یورپی اقوام کے سامنے
جو واضح مثال تھی وہ ” رومی جمہوریت ” تھی اور جسے ہمارے سامنے بھی پیش کیا گیا ہے
۔ روم کی جمہوریت کیا تھی ؟ اس کی تفصیلات بیان نہیں کی جاتیں بلکہ صرف یہ بتایا اور
سمجھایا جاتا ہے کہ
1
روم میں ایک پارلیمنٹ
تھی ، جسے سینیٹ
(
Senate ) کہا گیا۔
2
انتخابات کا انعقاد
ہوا کرتا تھا ، اور
3
سربراہِ حکومت منتخب
ہوا کرتا تھا۔
 مذکورہ بالا تینوں باتیں دُرست تو ہیں لیکن بات پوری نہیں بتائی گئی ہے
۔ تینوں باتیں درست ہونے کے باوجود پورا سچ نہیں ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ
روم کیا تھا اور اُس کی جمہوریت کیا تھی۔
روم کا شہر ، 750 یا
751 قبل مسیح میں آباد ہوا ۔ اُس کا بانی رومولس
( Romolus )  بنیادی طور پر ڈاکوؤں کا سردار تھا ۔ اُس کی بابت
تاریخ کی کتابوں میں یہ لکھا گیا ہے کہ اُس کی پیدائش
سے قبل اُس کا خاندان لاطیم
( Latium ) کا باسی ہی نہیں بلکہ حکمران بھی تھا ( لاطیم کا شہر موجودہ شہر
روم ( روما ) سے کچھ فاصلے پر واقع تھا )
۔ اِس خاندان کا پہلا شخص جو اطالیہ آ کر آباد ہوا ، وہ
اینیاس
( Aeneas ) تھا ، جو ٹرائے ( Troy ) کی بربادی کے بعد وہاں سے بھاگ کر
اور سالہا
سال
کی آوارہ گردی کے بعد اطالیہ میں پناہ گزین ہوا ، اور بالآخر لاطیم کا بادشاہ بن گیا
۔  لاطیم کے ایک بادشاہ کا انتقال ہوا تو اُس
کی بیٹی کو ، بادشاہ کے بھائی نے قید میں ڈال دیا اور خود بادشاہ بن گیا ۔  کچھ عرصہ بعد
دورانِ قید ہی اُس لڑکی کے ہاں توام لڑکوں کی ولادت ہوئی اور جب اُس سے پوچھا گیا تو
اُس نے کہا کہ ایک رات مریخ
( Mars )
دیوتا میرے پاس آیا تھا اور یہ بچے اُس کے ہیں ۔
( کنواری ماں کا
فلسفہ بہت سارے ممالک میں رائج تھا )
۔ شاہِ وقت نے
اُن بچوں کو اپنے ملازمین یا غلاموں کے ذریعے ایک ویران پہاڑی پر رکھنے کے لیے کہا
تاکہ وہ جنگلی جانوروں کا لقمہ دہن
بن جائیں اور اُس پر قتل کا الزام نہ
لگ سکے ۔ اُن دونوں بچوں کو ایک گڈریے کی بیوی نے بچا لیا جس کا لقب یا عرفیت بھیڑیا
تھی ،
اِسی لیے قدیم روم کا جو نشان ملتا ہے اُس میں ایک مادہ
بھیڑیا کے تھنوں سے دو دودھ پیتے بچے دکھائی دیتے ہیں ۔ جب رومولس اور ریمس
( Remus ) جوان ہوگئے
تو انھوں نے ایک گروہ تشکیل دیا جس کے ہمراہ وہ قرب و جوار کی بستیوں میں ڈاکے ڈالا
کرتے تھے اور ایک دِن انھوں نے لاطیم کے بادشاہ کو شکست دے دی اور اپنی ماں کا بدلہ
لے لیا ۔ لیکن انھوں نے لاطیم میں رہائش قبول نہیں
کی بلکہ دریائے ٹائیبر
(
Tiber ) کے کنارے
ایک ویران وادی کو اپنی پناہ گاہ بنا لیا جو بتدریج روم کا شہر بنا ۔ شہر کی آبادی
بتدریج بڑھتی گئی ، دور دور سے قبائل آ کر روم میں بستے چلے گئے ۔ قرب و جوار کی بستیوں
سے لڑائیاں بھی ہوئیں جن میں اکثر و بیشتر رومولس کو فتح نصیب ہوتی چلی گئی ۔ اس کے
ساتھ ساتھ اس میں بے پناہ غرور بھی پیدا ہوتا چلا گیا اور ظلم و تشدد بھی بڑھتا گیا
جس کی وجہ سے اُس کے اپنے ساتھی اُس سے نالاں ہوتے چلے گئے ۔ اُس کے انجام کے متعلق
دو روایات ہیں :
(1)
ایک دن شہر سے باہر
ایک مندر میں پوجا کے لیے گیا ، واپسی میں اندھیاری چھا گئی اور جب وہ اندھیاری ختم
ہوئی تو رومولس کا گھوڑا تو موجود تھا لیکن وہ خود غائب تھا ۔ پروہتوں نے روم کے باسیوں
کو بتایا کہ رومولس تو دیوتاؤں کا بیٹا تھا اور اُس اندھیاری کے دوران دیوتاؤں نے اپنے
بیٹے کو اپنے پاس بلا لیا ۔
(2)
دوسری روایت یہ ہے
کہ روم کے باسی بشمول اس کے انتہائی مقربین بھی اس کے ظلم سے عاجز آ چکے تھے اور اُس
سے چھٹکارا پانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے ، اور ایک دن بادشاہ کو روم سے باہر ایک
مندر میں پوجا کے دوران تمام لوگوں ، بشمول پجاری اور پروہت ، نے مل کر مار ڈالا اور
اُس کی لاش کے ٹکڑے کر کے اپنے پاس چھپا لیے تا کہ اُس کی لاش کسی کو مل ہی نہ سکے
اور روم پہنچ کر بڑے پروہت نے بتایا کہ واپسی کے سفر میں اچانک ایک بادل آیا اور ایک
کڑاکا ہوا جس کے بعد رومولس غائب ہو گیا ۔ جس سے یہ معلوم ہی نہیں ہوتا بلکہ ثابت ہو گیا کہ رومولس دیوتاؤں
کا بیٹا تھا ، وہی اُسے اپنے ساتھ آسمانوں پر لے
گئے ۔
( خدا دیوتا کا بیٹا ، یہ فلسفہ
بہت ہی قدیم ہے )
۔
ایک
سال کے بعد ایک دوسرے شخص کو بادشاہ بنا لیا گیا ، جس کا نام  نوما پومپیلیس
(Numa
Pompilius
) تھا ۔ اُس نے
پہلی بار ایک مجلس مشاورت تشکیل دی ،
جسے سینیٹ
( Senate ) کہا گیا
اور جس میں روم میں رہائش پذیر تمام قبائل کے زعما کو رکنیت دی گئی ۔ کئی روایات ہیں
کہ پہلی بار کتنے لوگوں کو اِس مجلس کا رکن بنایا
گیا تھا ،
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 100 تھے اور کچھ کا کہنا ہے کہ زیادہ تھے ۔ لیکن اِس بات پر تمام مؤرخین
کا اتفاق ہے کہ وہ لوگ اور وہ خاندان جو پہلی سینیٹ کے رکن تھے اُن کو دوسرے لوگوں
کے مقابلے میں زیادہ  با اثر سمجھا جاتا تھا
۔ اُن لوگوں کے لیے ایک اصطلاح رائج رہی ہے کہ ان کو اور ان کی اولاد کو پیٹریشین
( Patrician ) ” آبائے
قوم ” یا ” اشراف ” کہا جاتا تھا ۔ یہی ” آبائے قوم ” تھے جن کو قرآنی الفاظ میں
” ملاء قوم ” کہا جا سکتا ہے ۔ باقی آزاد شہریوں کو ” عام آدمی ”
( Plebian )  کہا جاتا تھا ۔ بیشتر بادشاہ جو نوما کے جانشین ہوئے
سابق بادشاہ کی اولاد تو نہ تھے لیکن کچھ نہ کچھ رشتہ داری رکھتے تھے یا بادشاہ بننے
کے بعد قائم کی گئی ۔ آخری بادشاہ لوکیس تارکوئینس
( Lucius Tarquinus ) یونانی
نسل سے تعلق رکھتا تھا اور اُس کے دَور میں ایک کامیاب بغاوت ہوئی جس میں اشراف قوم
، فوجی ، پجاری ، پروہت وغیرہ بھی شامل تھے ۔ قدیم روم کی تاریخ میں یہ لکھا گیا ہے
کہ ایک شہزادے نے ایک کنواری لڑکی کو اغوا کر لیا
اور اُس کی آبرو ریزی کی ۔
اِس میں صداقت ہو سکتی ہے لیکن ایسے ہی ایک واقعہ
کا ذکر چند سال بعد ایک دوسرے حکمران کی بابت تاریخ
میں ملتا ہے ،
اِس لیے یہ اصل وجہ نہیں ہو سکتی ، اور ایسے ہی واقعات کا ذکر
نہ صرف روم کی تاریخ میں بلکہ دیگر تمام اقوام
کی تواریخ میں اَن گنت بار ملتا ہے ،
کیوں کہ یہ سب سے عام الزام تھا جو بادشاہوں
کے خلاف لگایا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد بادشاہت کا سلسلہ روم میں ختم ہو گیا اور سال
509 قبل مسیح  سے روم میں جمہوریت کی ابتدا
ہو گئی ۔ جمہوریت کی بنیادی باتیں یا شرائط بیان کرنے سے قبل یہ بتانا ضروری ہے کہ
روم کے باشندے کس طرح تقسیم تھے ۔ آزاد لوگ قبائل
میں بٹے ہوئے تھے ۔
روم کے آزاد شہری بھی چار طبقات میں منقسم تھے اور پانچواں
طبقہ غلام تھا ، جنہیں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا ۔ جمہوریت جو قائم کی گئی اس کی
شرائط یہ تھیں :
1
ہر سال دو سربراہانِ
مملکت کا انتخاب ہو گا ، دونوں کا اختیار برابر ہو گا ۔ ایک مہینہ ایک شخص سربراہِ
مملکت کی حیثیت سے تمام اختیارات استعمال کرے گا اور دوسرے مہینے دوسرا شخص ۔
( آج کی اصطلاح میں اِس طرح
سمجھ لیجیے کہ ایک صدر اور ایک نائب صدر کا انتخاب ہوا کرتا تھا ۔ جو فرق تھا وہ واضح
ہے )

۔ سربراہِ مملکت کو ” کونسل ”
(
Consul )  کہا جاتا تھا ۔
2
انتخابات میں ایک عجیب
طریقہ یہ بھی تھا کہ ہر قبیلہ علیحدہ اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا اور جس شخص کو سب
سے زیادہ ووٹ ملتے تھے ، اُسی کو مخالف
مخالفین کے ووٹ بھی مل جاتے تھے ۔
( یہ ناقص طریقہ
انتخاب کسی حد تک آج بھی رائج ہے صرف ایک ملک یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں )
3
جو شخص ایک بار سربراہِ
مملکت منتخب ہو گیا ، وہ دوسری بار دس  سال
کے بعد لڑ سکے گا ۔ اِس شرط پر ناگزیر حالات میں عمل نہیں ہوا لیکن جب بھی ایسا ہوا
تو وہ انتہائی غیر معمولی حالات کے سبب سے ہی ہوا۔
4
روم میں ہر شخص بشمول
سربراہانِ مملکت اور فوجیوں کے ہر ایک کو مسلح ہو کر چلنے کی ممانعت تھی۔
5
سینیٹ اور سربراہانِ
مملکت کے لیے دو لازمی شرائط تھیں :
( الف ) وہ براہ ِراست کسی کاروبار کا منتظم نہ ہو
۔
( ب ) وہ ہم
جنس پرستی میں کسی طور طریق سے ملوث نہ ہو ۔ یہ شرط ہر فوجی کے لیے بھی لازمی تھی ۔
روم میں اِس کو ” یونانی مرض ” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا ۔
( شاید یونانیوں سے نفرت
کے اظہار کے لیے ، کیوں کہ آخری بادشاہ یونانی تھا ! )
جو سب سے اہم بات ہے
وہ یہ کہ پہلا کونسل جو منتخب ہوا تھا یعنی لوکیس یونیئس بروتس
( Lucius Junius Brutus ) ،اس کو
روم کی تواریخ میں اشراف میں داخل کیا  گیا
ہے لیکن بعد کے ادوار میں اِس خاندانی نام کے ساتھ جو لوگ روم کی تاریخ میں سامنے آتے
ہیں اُن میں سے کوئی بھی اشراف نہ تھا ۔ اُن کا شمار عام لوگوں میں تھا ۔ اُسی سال
یعنی 509 قبل مسیح میں آخری بادشاہ کے لڑکوں نے اپنے حمایتیوں کے ساتھ روم پر حملہ
کیا جو ناکام بنا دیا گیا ، لیکن لڑائی کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ بروتس کے دونوں
لڑکے آخری بادشاہ کے لشکر کے ساتھ خفیہ طور پر شریک ِکار تھے ۔ دونوں پر مقدمہ چلایا
گیا اور ان دونوں کو قتل کر دیا گیا ۔ کچھ ہی عرصہ بعد ایک اور لڑائی میں بروتس مارا
گیا اور اُس کا براہِ راست کوئی نام لیوا ، پانی دیوا باقی نہ رہا ۔ ایسا محسوس ہوتا
ہے کہ بادشاہ کے خلاف لڑائی میں اشراف اور باقی تمام لوگ ضرور شریک تھے لیکن چند ہی
سالوں میں وہ مفاہمت ختم ہوگئی اور حکم رانی صرف اشراف کے لیے ہی مخصوص ہو گئی ۔ کیوں
کہ رومی سینیٹ میں جو کم سے کم شرط تھی وہ سالانہ آمدنی کی تھی اور وہ دور یقینی طور
پر آج کا صنعتی دور نہ تھا ، اس لیے بیشتر آمدنی کا ذریعہ صرف زراعت تھی ، اور زیادہ
تر زمینیں بڑے اشراف خاندانوں کی ہی ملکیت تھیں ، اِس لیے ایک عام آدمی کے لیے رومی
سینیٹ کا رکن بننا کم و بیش نا ممکن تھا ۔ اختلافات بڑھتے گئے اور تنازعات بھی سامنے
آتے گئے ۔ ایک کمیشن قائم کیا گیا اور اس کے اراکین چند سالوں تک یونان کے مختلف علاقوں
میں گئے ، اہل فکر و نظر سے گفتگو کی اور رومی سینیٹ کو یہ رائے دی کہ ایک یا دو حکمرانوں
کے بجائے روم میں ایک انتظامی ادارہ قائم کیا جائے جس میں دس ارکان ہوں ۔  دو سال یہ انتظام چلا لیکن دوسرے سال دس آدمیوں میں
سے ایک پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اُس نے زبردستی ایک لڑکی کی آبرو ریزی کی ہے اور
ایک خلفشار بپا ہو گیا جس کے نتیجے میں پھر یہ طے کیا گیا کہ نہیں دو ہی حکمرانوں کو
منتخب کیا جائے ۔ چند سال بعد پھر ہنگامہ ہوا جس میں بات یہاں تک پہنچ گئی کہ عام آدمی
روم کی شہری حدود سے چلے گئے اور اشراف کا مکمل
مقاطعہ
(
boycott ) کیا گیا
، جس کے نتیجے میں حکومت کا نظم و نسق ہی کیا عام زندگی کے معمولات میں بھی فرق آ گیا
، تو پجاریوں اور دیگر اہل فکر ونظر نے معاملات کو طے کرانے کے لیے تگ و دو شروع کی
، اور اس کے نتیجے میں یہ طے ہوا کہ عام آدمی اپنے میں سے کچھ لوگوں کو ہر سال منتخب
کریں گے جو عدالتوں کے فیصلے کے خلاف عام آدمی کے حق میں ” حقِ استرداد ”
( Veto ) استعمال
کریں گے اور اس کے خلاف عدالتی کارروائی ختم ہو جائے گی ۔ اور یہ کہ سینیٹ اپنی سفارشات
عام آدمیوں کی اسمبلی
(People’s Assembly ) کو بھیجے
گی اور اس کی بنیاد پر عوامی اسمبلی قانون بنائے گی ۔ دوسرے معنوں میں ایک ایوان کے
بجائے دو ایوان ہوں گے ۔ اور کچھ پجاریوں اور پروہتوں کے لیے یہ طے کیا گیا کہ اس عہدے
کے لیے تمام لوگ اہل ہوں گے چاہے وہ اشراف ہوں یا عام آدمی ۔ اور ان کا انتخاب ہوا
کرے گا ، یہاں تک کہ جو مہا پجاری
( Pontifex
Maximus
) ہو گا وہ بھی بذریعہ انتخاب ہی بنے گا ( ناظرین قارئین کی اطلاع
کے لیے یہ خطاب یعنی پونٹی فیکس میکسی مس ، آج بھی رومن کیتھولک چرچ کے پوپ کا خطاب
ہے )

۔ آخری مہا پجاری جسے تمام رومی شہریوں نے منتخب کیا تھا وہ گائیس یولیس قیصر
( C.Julius
Caeser
) تھا ۔ کچھ عرصہ اور
گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہنگامہ ہوا ، جس کے نتیجے میں پانچ سال کی مدت تک حکمرانوں
کے چناؤ کے لیے کوئی انتخاب منعقد نہ ہو سکا ۔  بالآخر یہ طے ہوا کہ آئندہ سے ایک حکمران ہر سال
عام آدمیوں میں سے ہو گا اور ایک اشراف  میں
سے ۔ روم کی شہری حکومت کا دائرۂ کار اور دیگر علاقوں اور اقوام پر اس کا تسلط بڑھتا
چلا گیا ۔ لیکن ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ جو علاقے بھی فتح ہوئے ، وہاں کے رہنے
والوں کو عام طور پر روم کی شہریت نہیں دی گئی ۔  کچھ لوگوں کو تو ضرور نوازا گیا ۔ اس سے معاملات
میں پھر تناؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا ۔ غلاموں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ۔ اشراف اور روم
کے عام لوگوں کا آبادی میں تناسب کم ہوتا گیا ، اس کی سب سے بڑی وجہ مختلف اقوام سے مسلسل جنگیں تھیں ۔ اشراف خاندانوں کے ساتھ
درمیانے درجے کے خاندانوں کی خودغرضی بھی بڑھتی چلی گئی ۔
( درمیانے درجے کے خاندان
وہ تھے جو سینیٹ کے رکن بن گئے ، چاہے وہ حکمران منتخب ہو کے بنے ہوں یا پھر پجاری
، پروہت بن جانے کی وجہ سے )
سرکاری ملکیت کی زمینیں ان ہی خاندانوں کو
معمولی معاوضہ پر زراعت کرنے کے لیے مل جایا کرتی تھیں ۔ اسی وجہ سے سابق فوجیوں اور
بے زمین کسانوں میں حکمرانوں کے خلاف غم و غصہ بڑھتا چلا گیا ۔ 133 قبل مسیح میں حکمران
طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کا بڑا لڑکا تائیبیریئس سیمپرونیئس گراکچس
(Tiberius Sempronius Gracchus ) عوامی
نمائندہ
( Tribune of the Plebs ) منتخب
ہوا ۔ اس سے قبل وہ فوج میں لازمی بھرتی کے مراحل سے گزر چکا تھا اور ایک طویل عرصہ
تک اسپین ، افریقہ ، ایشیائے کوچک اور دیگر علاقوں میں رومی افواج کے ساتھ اپنی ذمہ
داریاں پورے طور پر ادا کرتا رہا تھا ۔ اس دوران اس نے جو کچھ محسوس کیا تھا ، اس میں
ایک بات یہ بھی تھی کہ مقبوضہ جات میں لگان کی وصولی ٹھیکہ دار کیا کرتے تھے اور وہ
معروضی حالات کو پیش نظر رکھتے ہی نہیں تھے ، بلکہ چاہے فصل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو
، یا کسی بھی قدرتی آفت کی وجہ سے کم ہوئی ہو ، وہ ایک پیسہ بھی لگان کا معاف نہیں
کرتے تھے ۔ لگان بھی وصول کرتے تھے اور اپنا بھتہ بھی ۔ ان کا ظلم اتنا بڑھ گیا تھا
جس کی وجہ سے ایشیائے کوچک اور بلقان ، یونان  میں ایک بڑے علاقے سے لوگ ہجرت کر کے دوسرے علاقوں
میں چلے گئے تھے ، جس کی وجہ سے لگان کی آمدنی میں ہر سال کمی واقع ہو رہی تھی ۔ اس
نے پہلے یہ کوشش کی کہ لگان وصول کرنے والے ٹھیکہ داروں کو کسی قانونی دائرۂ کار میں
لایا جائے تا کہ یہ ظلم ختم نہ بھی ہو سکے تو اس میں کچھ کمی واقع ہو جائے ۔ اس میں
کسی حد تک کامیابی اس لیے ہوگئی کہ کچھ ٹھیکہ دار چونکہ اپنی اصل رقم بھی وصول نہ کر
سکے تھے جو وہ خزانے میں داخل کرا چکے تھے ۔
اس کے بعد اس نے ایک قانون کا مسودہ عوامی
اسمبلی میں پیش کیا جس کے
تحت سرکاری زمین کو بے زمین کسانوں اور سابق فوجیوں میں تقسیم کرنا لازمی قرار دیا
گیا ۔ حکمران اشرافیہ
(
Asristocracy ) یا با
اثر خاندانوں نے مخالفت کی اور اس میں پیش پیش اس کے اپنے انتہائی قریبی عزیز ، رشتہ
دار بھی تھے ، جن میں سے ایک روم کا مہا پجاری تھا جس نے اس معاملے میں یہ تک کیا کہ
روم میں سر ڈھانپ کر چلا اور اپنے سر پر مٹی ڈالتا  گیا اور چلاّ چلاّ کر کہا کہ اس کو یعنی گراکچس کو
قتل کر ڈالو ورنہ روم ختم ہو جائے گا ۔ بالآخر اسے قتل کر دیا گیا ۔ زمین کی تقسیم
کے لیے ایک کمیشن ضرور قائم ہوا لیکن وہ اگلے دس برسوں میں کچھ بھی نہ کر سکا ۔ دس
سال بعد اس کا چھوٹا بھائی گائیس سیمپرونیئس گراکچس
(C.Sempronius Gracchus ) عوامی
نمائندہ منتخب ہوا تو اس کمیشن کو اس نے فعال بنایا اور کئی ایک بستیاں قائم کی گئیں
جن میں بے زمین کسانوں اور سابق فوجیوں کو زمینیں دی گئیں ۔ سال ختم ہونے کے بعد وہ
اگلے سال کے انتخابات میں بھی امیدوار کے طور پر سامنے آیا تو ایک بار پھر مخالفت شروع
کی گئی ، لیکن اس مخالفت کا کوئی اثر نہیں ہوا ، وہ منتخب تو ہو گیا لیکن اسے کچھ کرنے
نہیں دیا گیا کہ با اثر خاندانوں کے پروردہ لوگ بھی بڑی تعداد میں عوامی اسمبلی میں
موجود تھے ۔ سال ختم ہو نے سے پہلے اُس نے تیسری بار انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان
کیا تو ہر جانب سے اس کی مخالفت شروع ہو گئی … اور یہاں کہانی کے دو انجام بتائے جاتے
ہیں ، ایک یہ کہ اُسے با اثر خاندانوں میں سے کسی کے غلام نے قتل کر دیا ، اور دوسرا
یہ کہ اس نے سینیٹ کی عمارت پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حملہ کیا تھا ، اور جب وہ ناکام
ہوگیا تو خودکشی کرلی ۔ دونوں بھائیوں کی وارث ایک لڑکی باقی رہی ۔ بہن لاولد فوت ہوگئی
تھی ۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ اُن کے بہنوئی کا ہاتھ دونوں بھائیوں کی ہلاکت میں تھا
جس کی وجہ سے بیوی نے اپنے شوہر کو زہر دے کر ہلاک کر ڈالا ۔ 107 قبل مسیح میں پہلی
بار گائیس ماریئس
(
Caius Marius )  کونسل منتخب ہوا ۔ یہ شخص ایک عام خاندان سے تعلق
رکھتا تھا لیکن اس کی دوسری بیوی مشہور زمانہ گائیس یولیس قیصر
( جولیئس سیزر )  کی پھوپھی تھی ۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے کے
باوجود اس نے اپنی فوجی ملازمت کے دوران اپنی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور ایک
بہترین فوجی جنرل کے طور پر اپنا لوہا منوایا ۔ اس سے قبل کے سالوں میں جرمن قبائل
کئی بار حملہ آور ہو چکے تھے اور دیگر اقوام و قبائل سے لڑائی کے نتیجے میں روم کی
فوج میں لڑنے کے لیے افراد کا قحط ہو گیا تھا ، کوئی بھی تیار نہیں ہوتا تھا ۔ ایک
وجہ یہ بھی تھی کہ فوجیوں کو اُس مدت کے بعد جس کے لیے وہ فوج میں شامل ہوتے تھے ،
واپس ان کے گھر نہیں بھیجا جاتا تھا ، اِس وجہ سے پہلے سے تو کم از کم کی شرائط میں
کمی کی گئی کہ بنیادی شرط یہ تھی کہ ہر فوجی کو اپنے لیے ہتھیار خود ہی فراہم کرنے
ہوں گے ۔ کم از کم اتنی سالانہ آمدنی ہو گی ۔ آزاد ہو گا ۔ غلام نہیں ہو گا ۔ لیکن
گائیس ماریئس کا دور آتے آتے یہ ہوا کہ توقع سے بہت کم لوگوں نے رضا کارانہ طور پر
فوج میں شمولیت اختیار کرنی شروع کر دی ۔ معلوم تاریخ میں اُس وقت تک اور بعد میں بھی
تمام اقوام میں بنیادی طور پر فوج میں شمولیت رضا
کارانہ طور پر ہی تھی ۔
گائیس مارئیس نے رومی سینیٹ میں یہ تجویز پیش کی کہ
فوج کو مستقل بنیادوں پر تنخواہ پر ملازم رکھا جائے تاکہ جرمن قبائل کا مقابلہ کیا
جا سکے ، کیوں کہ وہ شمالی اطالیہ کی طرف بڑھتے چلے آ رہے تھے اور ان کی تعداد میں
روز بروز اضافہ ہو رہا تھا ۔ پہلے تو کوئی تیار نہیں ہوتا تھا لیکن جب کوئی اور طریقہ
نہیں بن پڑا تو قانون بنانا ہی پڑا ، اور مستقل تنخواہ دار فوج کی بھرتی شروع ہو گئی
۔
( یہ الگ
موضوع ہے کہ کیا مستقل تنخواہ دار فوج رکھی جانی چاہیے یا نہیں ۔ اِس پرکسی اور مجلس
میں گفتگو ہو گی )
جرمن قبائل کو شکست تو ہوگئی لیکن چند سالوں بعد ایک اور
مسئلے نے سر اُٹھا لیا کہ تربیت یافتہ فوجی جو ایک بار پھر عام شہری کی حیثیت اختیار
کر گئے تھے ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہ تھا ، کیوں کہ وہ بنیادی شرط تو ختم کر دی
گئی تھی کہ کم ازکم ان کے پاس اتنی قابل کاشت زمین ضرور ہونی چاہیے کہ جس سے وہ اپنا
اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں اور فوج میں فرائض
انجام دینے کے لیے نئی نسل تیار کر سکیں ۔
روم میں اور دیہات میں جرائم بڑھنے
شروع ہو گئے ۔ گائیس مارئیس نے ایک بار پھر سینیٹ سے قانون بنوانا چاہا کہ ریاست کی
زمین ان سابق فوجیوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ ایک بار پھر حکمران اشرافیہ نے شور مچانا
شور کر دیا اور ہر قسم کی رکاوٹیں ڈالنی شروع کردیں ، کیوں کہ وہ برائے نام سالانہ
کرایہ کی بنیاد پر ریاست کی تحویل میں جو زمین تھی اسے اپنے غلاموں ہاریوں سے کاشت
کروایا کرتے تھے ، اور اگر یہ زمین دوسروں کو مل جاتی تو اشرافیہ کے عیش و آرام میں
خلل پڑتا ۔ گائیس مارئیس وہ واحد رومی جمہوری دور کا سربراہِ مملکت تھا جو سات بار
منتخب ہوا ۔ پہلی بار 107 قبل مسیح میں ، اس کے بعد پانچ متواتر سالوں یعنی 104 سے
100 قبل مسیح تک ، اور آخری بار 86 قبل مسیح میں ۔ اُس کے بار بار منتخب ہونے کی بنیادی
وجہ جرمن قبائل کا باربار حملہ آور ہونا تھا ، اور جب بالآخر انھیں شکستِ فاش ہوگئی
تو 99 قبل مسیح میں روم میں جو دو نئے لوگ منتخب ہوئے ، اُن میں سے ایک مشہور زمانہ
مارک انطونی
(Marcus Antonius ) کا دادا
بھی تھا ۔ لیکن معاملات میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو چکا تھا ۔ ایک طرف بے زمین کسانوں
کا مسئلہ تھا ، دوسری طرف جزیرہ نمائے اطالیہ اور دیگر مقبوضہ جات میں جو رعایا تھی
، اُن کی اکثریت کے پاس رومی شہریت نہ تھی ، وہ یا حلیف تھے یا باج گزار تھے ۔ 86 قبل
مسیح میں گائیس ماریئس جب آخری بار سربراہِ حکومت منتخب ہوا تو اُس کی بنیادی وجہ 88
یا 87  قبل مسیح میں ایشیائے کوچک بھیجے جانے
والے لشکر کی سربراہی تھی ، جسے منتخب کیا گیا تھا ۔ گائیس ماریئس نے اُس کی مخالفت
کی تھی ، لیکن اس سے قبل وہ ایک عرصے سے صاحب ِفراش تھا ، جس کی وجہ سے اُس میں غصہ
کا عنصر بڑھ گیا تھا اور آخری بار جب وہ سربراہ منتخب ہوا تب اُس نے ہر اُس شخص کو
جس کے متعلق اُس نے یہ سمجھا کہ وہ اُس کا مخالف ہی نہیں بلکہ دشمن ہے ، پھانسی پر
لٹکا دیا ۔ اُس میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے بیشتر خاندانوں کے افراد بھی شامل تھے
۔ اِس قتل عام کے چند روز بعد ہی وہ انتقال کر گیا تو اُس کی جگہ دوسرے لوگ ضرور برسر
اقتدار آ گئے لیکن دشمنی  در دشمنی کا جو چکر
چل چکا تھا اُس نے بالواسطہ طور پر آمریت کی راہ ہموار کی ۔ 81 قبل مسیح میں ایشیائے
کوچک سے لشکر واپس آیا تو اُس کے سربراہ لوکیس کارنیلیئس سُلّا
( L.Cornelius Sulla ) نے حکومت
حاصل کر لی اور اُس نے رومی آئین میں چند بنیادی تبدیلیاں سینیٹ سے منظور کرائیں ،
جن میں سے ایک یہ تھی کہ فوج اور انتظامیہ بشمول سینیٹ کی رکنیت کے لیے اشراف قوم کے
لیے جو عمر کی شرط تھی اُس میں تین سال کی کمی کر دی گئی ۔ اِسی طرح کچھ حلیف قبائل
کے لیے رومی شہریت حاصل کرنے میں نرمی برتی جانے لگی ۔ لیکن جو اہم تبدیلی واقع ہوئی
وہ یہ کہ شمالی اطالیہ کے رہائشی قبائل میں سے ایک قبیلہ جس کا سربراہ گنائیس پومپائیس
( Gnaeus Pompeius ) ( عرف عام میں پومپیائی ) تھا ،
اُس نے اپنا ذاتی لشکر ترتیب دے لیا اور باوجود اِس کے کہ وہ رومی سینیٹ کا  رکن بھی نہیں تھا ، اُسے سُلاّ نے اپنا حلیف بنا
لیا اور اس کے لشکر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔ اُسی دور میں پومپیائی نے بحر
متوسط میں مختلف جزائر میں بحری قزاقوں کا قلع قمع کر دیا ، جس کی وجہ سے عام لوگوں
کو بھی بے پناہ فوائد حاصل ہوئے ۔ پومپیائی پہلی بار 70  قبل مسیح میں کونسل
( حکمران ) منتخب ہوا ۔ اُس نے
فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں پر رومی تسلط قائم کر دیا ۔  جبکہ اُس کے ساتھی  نے جب وہ اور پومپیائی دوبارہ 55 قبل مسیح میں منتخب
ہوئے تو اُس نے فارس
(
ایران )

پر حملہ کیا اور ناکام ہی نہیں ہوا بلکہ اپنے بیشتر لشکر کے ساتھ مارا  گیا ۔ اُس سے قبل 55 قبل مسیح میں گائیس یولیس قیصر
( جولیس سیزر
)

نے سربراہ حکومت کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تو اُس کی مخالفت اشراف اور اُن کے حلیفوں
نے شروع کر دی اور اُسے زچ کرنے کے لیے وہ دوسرے حکمران کے لیے ایک شخص کو سامنے لائے
جس کا نام مارکس کالپورنیئس بیبولس
( M.
Calpurnius Bibulus
) تھا ۔ تمام تر دھاندلی
کے باوجود سینیٹ پر قابض اشرافیہ اور ان کے حلیف
گائیس یولیس قیصر کو نہیں ہرا سکے ،
 کیوں کہ اُسے پومپیائی اور اُس دور کے امیر ترین
شخص مارکس لیکینیئس کراسس
(M. Licinius Crassus ) کی بھرپور
حمایت حاصل تھی ۔ دراصل یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اِن تین افراد پر مشتمل ایک تگڈم
قائم ہو گئی تھی ۔ وہ  55 قبل مسیح میں فارس
( ایران ) کے مقابلے
میں مارا گیا ۔ اِس تگڈم کو مضبوط بنانے کے لیے گائیس یولیس قیصر نے اپنی اکلوتی بیٹی
یولیا
( جولیا
)
Julia کی شادی پومپیائی سے کر دی تھی ۔ ان تینوں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ اگلے
دس برسوں تک کن کن لوگوں کو حکمران منتخب کرایا جائے گا اور دونوں یعنی قیصر اور پومپیائی
کے پاس فوجی کمانڈ بھی رہے گی اور دونوں کو مختلف صوبوں کا گورنر بھی مقرر کیا گیا
۔ قیصر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے 58 قبل
مسیح میں روم سے چلا گیا ۔
اُسی عرصہ میں اُس نے نہ صرف فرانس میں ڈروئڈ کی
سیاسی طاقت کو ختم کیا بلکہ برطانیہ پر حملہ کیا اور لندن تک پہنچ گیا ۔ روم پر قابض
اشرافیہ جو کسی قیمت پر بھی اصلاحات کرنے کے لیے تیار نہ تھی ، انھوں نے قیصر کی روم
سے غیر حاضری میں پومپیائی کے گرد ایک حلقہ قائم کر لیا اور اُسے اپنا ہم نوا بنانے کی بھرپور کوششیں کیں ۔ 52 قبل مسیح میں حکمرانوں
کے لیے انتخابات ہوئے ، اُن میں اتنی دھاندلی ہوئی کہ وہ انتخابات کالعدم قرار دینے
پڑے اور پومپیائی کو ڈکٹیٹر بنا دیا گیا ۔ اِسی دوران میں قیصر کی ماں اور اُس کی بیٹی
کا انتقال ہو گیا ۔ بیٹی کے انتقال کی وجہ سے پومپیائی سے جو تعلق تھا وہ ٹوٹ گیا ۔
اِسی عرصہ میں اشرافیہ نے پومپیائی کے گرد اپنا حلقہ تنگ کر دیا اور اُس کی شادی رومی
اشرافیہ کے ایک قدیم خاندان میں کر دی گئی ۔ قیصر کو سینیٹ کی جانب سے سمن جاری کیے
گئے کہ اُس کی گورنری ختم کر دی گئی اور حکم دیا گیا کہ وہ روم واپس آئے
اور
جو مختلف الزامات لگائے گئے ہیں ان کا جواب وہ
خود سینیٹ میں پیش ہو کر دے ۔ قیصرنے یہ احکامات ماننے سے انکار کر دیا اور جواب میں
یہ کہا کہ اگر میری گورنری ختم کر دی گئی ہے تو پومپیائی کی گورنری بھی ختم کی جائے
۔ لیکن اس کی بات نہ مانی گئی اور دوبارہ اُسے حکم بھیجا گیا کہ وہ واپس روم آئے اور
جواب دہی کرے ۔ قیصر اپنی فوج کے ہمراہ شمالی اطالیہ میں اُس مقام تک پہنچ گیا جہاں
پر اطالیہ کی سرحد واقع تھی ۔  روم کی اشرافیہ
نے ایک آخری کوشش یہ کی کہ رومی سینیٹ کے چند ارکان جو دوسری ، تیسری  صف کے لوگ تھے ، اُن پر مشتمل ایک وفد قیصر کے پاس
بھیجا کہ وہ اپنی فوج کے بغیر روم واپس آئے ، لیکن کوئی مفاہمت نہ ہوسکی اور رومی اشرافیہ
کو جب یہ معلوم ہوا کہ قیصر اپنی فوج کے ہمراہ روم کی جانب بڑھ رہا ہے تو انھوں نے
روم کا شہر چھوڑ دیا ۔ اشرافیہ کا وہ گروہ جو روم چھوڑ کر پومپیائی کے ساتھ گیا تھا
اُس نے یونان میں قیصر کا مقابلہ کیا ، لیکن ہار گئے ۔  جو گرفتار ہوئے انھیں قیصر نے اِس شرط کے ساتھ معاف
کر دیا تھا کہ وہ اُس کے خلاف آئندہ ہتھیار نہیں اُٹھائیں گے۔ بات یہاں ختم نہ ہوئی
بلکہ اشرافیہ نے اگلے چند برسوں میں بھرپور تیاری کی اور قیصر کے خلاف سازشی گروہ نے
بالآخر 15 مارچ 44 قبل مسیح کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران قیصر کو قتل کر دیا ۔ اُس دن
جیسی بھی جمہوریت جو 509 قبل مسیح میں قائم ہوئی تھی ، ختم ہو گئی ۔ اگلے چند برسوں
تک روم اور اُس کے مقبوضہ جات میں جگہ جگہ بغاوتیں ہوئیں اور مارک انطونی کی خودکشی
کے بعد بالا دست حکمران کی حیثیت میں آگسٹس
( Augustus ) کو للکارنے والا کوئی بھی باقی نہیں
رہا ۔ 133 قبل مسیح سے شروع ہونے والی خانہ جنگی بالآخر 33 قبل مسیح میں آگسٹس کے شہنشاہ
بننے پر ختم تو ہو گئی ، لیکن اِس 100سال کے عرصے میں اشرافیہ
کے وہ تمام خاندان جو پچھلے چار سو برسوں سے حکمران بنتے آئے تھے ، چند کے سوا ،  خاص طور پر وہ تمام خاندان جنھوں نے گراکچی برادران
کی مخالفت کی تھی ، سب ختم ہو گئے ۔ قیصر کے خاندان میں سے کوئی مرد باقی نہیں رہا
۔ آگسٹس کو ایک وصیت نامہ کے ذریعے مارک انطونی نے قیصر کا وارِث قرار دیا تھا ۔ لیکن
سینیٹ کے اجلاس میں اُس دَور
کے عظیم فلسفی مارکس تُلیئس سِسیرو
( ککیرو )M. Tullius Cicero نے اس وصیت نامہ کو جعلی قرار دیا تھا ۔ آگسٹس کے
بعد اُس کے تمام جانشین شہنشاہ ہی ہوئے ، کوئی باقاعدہ انتخاب نہیں ہوتا تھا ، جس کے
پاس طاقت ہوتی وہ قبضہ کر لیتا ، ہاں مگر رومی سینیٹ کے انتخابات ہوتے رہے ۔ کالی گولا 
( Caligula ) کے عہد میں یہ تک ہوا کہ شہنشاہ نے
کہا اور اُس کے گھوڑے کو رومی سینیٹ کا رکن منتخب کر لیا گیا ۔ رومی شہنشاہیت دو حصوں
میں بٹی اور دونوں جگہ سینیٹ کے انتخابات ہوتے رہے لیکن زیادہ تر شہنشاہ کے نامزد کردہ
لوگ ہی سینیٹ کے رکن ہوتے تھے۔
رومی جمہوریت کے دورانیہ
میں اکثر اوقات یہ ہوا ہے  کہ اشرافیہ اور ان
کے حامی دوسرے خانوادے پہلے سے یہ طے کر لیا کرتے تھے کہ اگلے برس کس کو حکمران منتخب
کرانا ہے ۔ اِس کی تفصیل فریڈرچ منزر
Friedrich Munzer کی تالیف ” رومی اشرافیہ کی
سیاسی جماعتیں اور خاندان ”
(Roman
Aristocratic Parties and Families
) میں دیکھی جا سکتی
ہے ۔ اصل کتاب جرمن زبان میں تحریر ہوئی تھی ۔ تھیریس رڈلے
( Therese Ridley ) کا انگریزی
ترجمہ 1999ء میں شائع ہوا تھا ۔
رومی جمہوریت 15 مارچ
44 قبل مسیح کو تاریخ پارینہ کا ایک جز بن گئی ۔  
صرف اور صرف رب کائنات کا نام باقی رہنے والا ہے۔

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s