یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟


شعبان المعظم، رمضان المبارک 1434ھ/ جون، جولائ، اگست 2013،
شمارہ  15، 16اور 17
یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟ 
جناب عنایت اللہ
Contents in uni-code are included at the bottom of the article. To download PDF, pls click the link at the bottom.
مضمون کے آخر میں مندرجات یونی کوڈ میں بھی شامل ہیں۔ "پی ڈی ایف” ڈاؤن لوڈ کرنے لئے آخر میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔
اللہ کے دھتکارے ہوئے اور خلق کے راندھے ہوئے یہودی کا تاریخی اور نفسیاتی پس منظر
اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے…کیوں ؟ اسے یہ قوت کس نے دی ؟
"حکایت ” ڈائجسٹ لاہور کا شمار ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں ہوتا ہے ۔ ذیل کا قیمتی مضمون "حکایت ” ( لاہور ) ستمبر ١٩٨٢ء میں طباعت پذیر ہوا ۔ اس کے مضمون نگار  "حکایت ” کے بانی و مدیر جناب عنایت اللہ( ١٩٢٠ء – ١٩٩٩ء ) ہیں ۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی سے تھا ۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ہمہ وقت علم و ادب سے منسلک کرلیا ۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایک با شعور ادب تخلیق کیا ۔ ان کے متعدد ناول طباعت پذیر ہوئے اور قارئین نے انہیں بے حد سراہا ۔ ان کے یادگار ناولوں میں "داستان ایمان فروشوں کی "، "اور ایک بت شکن پیدا ہوا " ، "شمشیر بے نیام "، "دمشق کے قید خانے میں”، "اور نیل بہتا رہا”، "حجاز کی آندھی”، "فردوس ابلیس”، "طاہرہ” وغیرہا شامل ہیں ۔ ذیل کا مضمون بھی ان کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ گو اس عرصے میں گردش لیل و نہار کی کتنی ہی ساعتیں گزر گئیں ۔ مگر اس مضمون کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی وجہ سے "حکایت” کے شکریے کے ساتھ یہ مضمون قارئینِ "الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ تاہم قارئین دوران مطالعہ پیش نظر رکھیں کہ یہ مضمون ١٩٨٢ء کا تحریر کردہ ہے ۔
( ادارہ الواقعۃ )
جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل کی جنگ  (Arab Israel War June 1967)
میں اسرائیلیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو ان کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی
لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم (یہودی ) دو ہزار سال بعد اپنے گھر واپس آگئے ہیں ۔ اسی
جنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ارد گرد عربوں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔
مسلمان ممالک کی افواج نے اتحاد کے فقدان کی وجہ سے اسرائیلیوں سے بہت بری شکست
کھائی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ  (
united
nations
)میں تقریروں،
قراردادوں اور مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو چل تو پڑتا ہے مگر کسی انجام کو
نہیں پہنچتا ۔
اسرائیلیوں نے اقوام متحدہ کی کسی
ایک بھی تقریر اور ایک بھی قرارداد کی پروا نہ کی ۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں
اپنی نئی بستیاں آباد کرنی شروع کردیں ۔ شام کی جنگی اہمیت کے کوہستانی علاقے
گولان کی بلندیوں پر بھی اسرائیلیوں نے ١٩٦٧ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا
۔ وہاں انہوں نے پختہ اور مستقل مورچہ بندی قائم کرلی ۔ اسرائیلیوں کے اس روّیے
اور اقدامات سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ مقبوضہ علاقے نہیں چھوڑیں گے ۔
جنگِ رمضان ١٩٧٣ء میں مصریوں نے نہر
سویز (
Suez
Canal
) پار کرکے اسرائیلیوں کو سینائی(Sinai) میں بے خبری میں جا لیا اور کچھ علاقہ آزاد
کرالیا اور نہر سویز بھی اسرائیلیوں سے آزاد کرالی اور اسے کھول دیا ۔ پھر جنگ بند
ہوگئی بلکہ ان بڑی طاقتوں سے بند کرادی جن کے ہم سب مقروض اور امداد کے محتاج ہیں
۔ مصر  (
Egypt)
کے اس وقت کے صدر انور السادات مرحوم نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ جنگ رمضان
١٩٧٣ء کے دوران امریکا
 (USA) کا اس وقت کا سیکرٹری خارجہ ہنری کیسنجر (United States
Secretary of State
Henry Kissinger) مصر پہنچا اور سادات سے ملا ۔ اسرائیلیوں کے
قدم اکھڑ گئے تھے اور وہ مسلسل پسپا ہوتے چلے جارہے تھے ۔ ہنری کیسنجر نے سادات کو
دھمکی دی کہ اس نے جنگ بند نہ کی تو امریکا اپنے وہ جدید اسلحہ اور طیارے مصری فوج
کے خلاف استعمال کرے گا جو ایک دو دنوں میں مصری فوج ، فضائیہ اور بحریہ کو تباہ
کردے گا ۔ سادات کو اس دھمکی کے علاوہ ہنری کیسنجر نے (جس کے متعلق پتہ چلا ہے کہ
یہودی ہے ) کچھ لالچ بھی دیا تھا ۔ سادات کو معلوم تھا کہ امریکا کے پاس کیسا تباہ
کار اسلحہ ہے ، چنانچہ اس نے اس صورت حال میں جنگ بندی کا اعلان کردیا کہ اسرائیل
پسپا ہو رہے تھے ۔
اس کے بعد جینیوا  (Geneva) میں اس جنگ کے متعلق ایک کانفرنس ہوئی ۔ اس
میں سر فہرست یہ مطالبہ تھا کہ اسرائیل عربوں کے علاقے واپس کردے لیکن اسرائیل نے
ایک نئی اصطلاح تخلیق کرلی ۔ یہ تھی
PROTECTED FRONTIERS اور مقبوضہ علاقے اپنے قبضے میں رکھنے کے
لیے یہ دلیل دی کہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے اسے اپنے ارد گرد ان مقبوضہ علاقوں کی
ضرورت ہے جہاں وہ دفاعی مورچہ بندی کرے گا تاکہ اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کو
اسرائیل کی اصل سرحد سے دور روکا اور پسپا کیا جا سکے ۔
ہمارا موضوع عرب اسرائیل جنگ نہیں
بلکہ یہودی ہے ۔ ہم اس تاریخی پسِ منظر کی جس نے یہودی کو ایک فتنے کے روپ میں جنم
دیا ، کچھ جھلکیاں پیش کریں گے ۔ ایک وہ پسِ منظر ہے جس نے درندہ صفت یہودی کو جنم
دیا ، دوسرا وہ پس منظر ہے جسے یہودی کی شیطانی فطرت نے جنم دیا ۔ ہم یہودی کی
تاریخ اور اس کی فطرت بیان کریں گے ۔

اسرائیلیوں
کی کتنی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے اصل تنازعہ کی صورت ہی بدل ڈالی ہے ۔ اصل
تنازعہ یہ تھا کہ اسرائیل کوئی ملک نہیں ۔ یہ استعماری طاقتوں کا ( جن میں روس بھی
شامل ہے ) ایک ناجائز بچہ ہے ۔ تاریخ میں غالباً یہ واحد مثال ہے کہ چند ایک بڑی
طاقتیں مل کر کسی چھوٹے سے ملک کے باشندوں کو وہاں سے دہشت زدہ کرکے نکال دیں اور
وہاں کسی اور قوم کو آباد کرکے اس ملک کا نام ہی بدل ڈالیں ۔ اصل تنازعہ یہ تھا کہ
اسرائیل دراصل فلسطین ہے جس پر اسرائیلیوں نے استعماری اور اسلام دشمن قوموں کی
جنگی مدد سے قبضہ کیا تھا۔ آگے چل کر اسرائیلیوں نے عربوں کے علاقوں پر قبضہ کر
لیا اور انہیں چھوڑنے سے انکار کردیا اور اصل تنازعہ کی صورت یہ بنادی کہ اسرائیل
مقبوضہ علاقے چھوڑ دے ۔ اس کے بعدتنازعہ کی صورت یہ بنی کہ عرب ممالک اسرائیل کو
تسلیم کریں ۔

یہ صحیح ہے کہ اسرائیل کے قیام ،
استحکام اور اس کی توسیع امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور روس کی متحدہ کوششوں کا
نتیجہ ہے لیکن یہ کارنامہ یہودیوں کا ہے کہ انہوں نے ان بڑی طاقتوں کو اپنی مخصوص
استادی سے اپنے زیر اثر لیا اور ان سے اپنا وجود ایک ملک کی صورت میں قائم کرالیا
____اور اب اسرائیل کے موجودہ وزیر دفاع شیرون  (
Defense Minister Sharon)
نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جنگ لبنان تک محدود نہیں ، ہماری (یہودیوں کی ) جنگ عالمِ
اسلام  (
Islamic World)
سے ہے ۔
ادھر امریکا کے صدر ریگن(President Reagan) نے
(جو اگر یہودی نہیں تو یہودیوں کا پالنہار ضرور ہے ) اسرائیل کے وزیرِ اعظم بیگن
(Prime Minister Begin)  سے کہا ہے کہ
امریکا کو عربوں کے ساتھ کسی حد تک دوستانہ تعلقات قائم رکھنے ہیں ۔ ریگن نے بیگن
سے کہا : ” آپ کو سمجھنا چاہیئے کہ ہمیں مشرقِ وسطیٰ میں ایک سے زیادہ دوستوں
کی ضرورت ہے ۔ ہم ایک سے زیادہ مصر بنانا چاہتے ہیں کیونکہ زیادہ مصر اسرائیل کے
لیے مفید ثابت ہوں گے ۔ "
قارئینِ کرام کو معلوم ہوگا کہ انور
السادات مصر کو اسلامی برادری سے الگ کرکے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر
چکا ہے اور یہ معاہدہ امریکا کے پہلے صدر جمی کارٹر  (
President Jimmy Carter)
نے اپنے ہاں کرایا تھا جو کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے  (
Camp David agreement) کے نام سے مشہور ہے ۔ اب صدر ریگن بھی وہی
نسخہ دیگر عرب ممالک کو دوستی کا جھانسہ دے کر ان پر آزمانا چاہتا ہے ۔
یہ پیشِ نظر رکھیے کہ امریکا کی وہ
پالیسیاں جن کا تعلق اسرائیل اوراسلامی ممالک کے ساتھ ہے وہ دراصل یہودیوں کی
بنائی ہوئی ہوتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ اسرائیل کے وجود کو نہ صرف مستحکم کرتی ہیں
بلکہ اس کی توسیع کے لیے ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں ۔
اسرائیل کا قیام اور اس کی توسیع
یہودیوں کا بہت پرانا خواب ہے جسے انہوں نے "وسیع تر اسرائیل”
GREATER
ISRAEL
کانام دے رکھا ہے ۔ انہوں نے پہلے اسرائیل بنایا پھر اسے وسیع کیا
اور اب اسے وسیع تر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ لبنان (
Lubnan)
پر ان کا حملہ اسی توسیع پسندی کی ایک کڑی
ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ لبنان سے فلسطینی گوریلا فورس کو نکالنے کے لیے اسرائیل
نے حملہ کیا ہے اس آپریشن میں اسرائیل نے بیروت کی شہری آبادی ، فلسطینیوں کے
کیمپوں اور ان کی بستیوں پر طیاروں سے جس بے دردی سے بمباری ، برّی اور بحری توپوں
سے گولہ باری کی ہے یہ ان قارئین کے لیے حیران کن نہیں جو یہودیوں کی تاریخ سے
واقف ہیں ۔ یہودیوں کے ہاں غیر یہودیوں خصوصاً مسلمانوں کی قتل و غارت مذہبی فریضے
کا حکم رکھتی ہے ۔ یہودیوں کے مذہب میں غیر یہودی کا قتل ایک مذہبی رسم بھی ہے جسے
کہتے ہیں : 
RITUAL MURDER
لبنان میں لاکھوں مردوں ، عورتوں
اورت بچوں کے جسموں کے ٹکڑے اڑ رہے ہیں اور شہر ملبے کا ڈھیر بنتا جا رہا ہے ۔ قتل
و غارت ، تباہی اور بربادی کی جو تفصیلات لکھتے قلم کانپتا ہے وہ تفصیلات ہر یہودی
کے لیے روحانی تسکین اور سرور کا باعث بنتی ہیں ۔ لبنان میں انسانوں کی ہلاکت کے
صحیح اعداد و شمار باہر کی دنیا تک نہیں پہنچ رہے ۔ امریکی  ہفت روزہ ” نیوز ویک ”  (
news week) کے ٥ جولائی ١٩٨٢ء کے شمارے میں اس کے
وقائع نگار ایگنس ڈیمنگ نے لکھا ہے کہ امریکا کی تینوں ٹیلیوژن کمپنیوں نے اپنے
کیمرہ مین اور نامہ نگار لبنان میں بھیج رکھے ہیں لیکن اسرائیل کے حکام ان کی ہر
فلم کو سنسر کرتے اور تباہی کی صحیح عکاسی کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھتے ہیں ۔
مختصر یہ کہ یہودی کی تاریخ درندگی
، انسان کُشی ، مکاری ، عیاری ، فریب کاری اور بے حیائی کی بڑی لمبی داستان ہے ۔
یہودی فلسطین کو دو ہزار سال سے اپنا گھر کہہ رہے تھے ۔ اس ” گھر ” میں
وہ آگئے تو انہوں نے وہاں سے فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی نکال باہر
پھینکا ۔ پھر جون ١٩٦٧ء میں انہوں نے بیت المقدس ( یروشلم ) پر قبضہ کرکے ١٩٦٩ء
میں مسجدِ اقصیٰ کو آگ لگائی اور خود ہی بجھادی ۔ اس کے بعد انہوں نے اسلام کی
عظمت کے ایک تاریخی نشان مسجدِ ابراہیم کو یہودیوں کی عبادت گاہ بنا کر اس کی مسجد
کی حیثیت ختم کردی ۔ لبنان پر حملے سے پہلے یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کی بنیادیں
کھودنی شروع کردی تھیں ۔ یہ بھی ان کا پرانا عہد ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار
کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کریں گے ۔
اسرائیلیوں کا تاریخی پس منظر بڑی
ہی طویل داستان ہے ۔ ہم اسے اختصار سے بیان کرتے ہیں ۔ اسرائیل کے معنی ہیں مردِ
خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ۔ ان کی نسل بنی اسرائیل کہلائی ۔
حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودہ تھا ۔ فلسطین کے علاقے یہودہ میں اس چوتھے
بیٹے اور بن یامین کے قبائل کی حکمرانی تھی ۔ یہ قبائل یہودی کہلانے لگے اور باقی
قبائل بنی اسرائیل ۔ حضرت یعقوب کنعان کے باشندے تھے ۔
حضرت یوسف نے اپنے والد بزرگوار اور
تمام تر قبیلے کو مصر بلالیا جہاں انہیں عزت و احترام سے رکھا گیا ۔ یہ قبائل چار
سو سال تک مصر میں رہے ۔ اس طویل مدت میں وہ قبائل سے ایک طاقتور قوم بن گئے جس سے
فرعونِ مصر خطرہ محسوس کرنے لگا ۔ اس قوم کو ختم کرنے کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل
کے بچوں کے قتلِ عام کا حکم دے دیا ۔
حضرت موسیٰ اس دور میں پیدا ہوئے ۔
خدانے انہیں بچا لیا اور پیغمبری عطا کی ۔ طور کی وادیوں سے واپس آکر حضرت موسیٰ
نے فرعونِ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلیوں کو مصر سے نکل جانے کی اجازت دیدے ۔
یہودیوں کی روایت کے مطابق حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل نے جو شواکی زیرِ کمان (
مصر سے آکر ) فلسطین کو فتح کیا اور وہاں کے باشندوں کو قتل اور بعض کو جلاوطن کر
دیا ۔ بیشتر مورخین یہودیوں کی اس روایت سے اتفاق نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بنی
اسرائیل فلسطین کے باشندوں کو کلی طور پر تہہ تیغ نہیں کر سکے تھے ۔ ایچ-جی -ویلز
نے اپنی کتاب
The
outline of History
میں لکھا ہے کہ عبرانی یعنی بنی اسرائیل
موعودہ سر زمین
Promised
land
کو کسی بھی وقت مکمل طور پر فتح نہ کر سکے تھے ۔ دیگر کئی
دستاویزات اور انجیل سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی جنوب کے زر خیز علاقوں پر قابض رہے
اور شمال میں کنعانی اور فونیشینن قبائل نے اسرائیلیوں کے پاؤں نہ جمنے دیئے ۔
بہر حال یہ ثبوت بڑا صاف ملتا ہے کہ
بنی اسرائیل نے جو علاقے فتح کر لیے وہاں کے باشندوں پر انہوں نے رحم کرنا گناہ
سمجھا ۔ ان باشندوں کو قتل کرنا اور ان کی کھیتیوں پر قبضہ کر لینے کو بنی اسرائیل
خدائے یہودہ کی خوشنودی سمجھتے تھے ۔ دوسروں کی زمین پر ٹانگیں پسارنا ، وہاں کے
باشندوں کو املاک سے محروم کرکے انہیں بھکاری بنا دینا ، وہاں کی صنعت و تجارت اور
انتظامیہ پراپنا آسیب طاری کرکے وہاں کے باشندوں کو مویشی بنا دینا یہودی کی فطرت
میں شامل ہے ۔
حضرت داود اور حضرت سلیمان آل
اسرائیل کے بادشاہ اور پیغمبر بنے ۔ اسرائیل کے پرچم پر جو ستارہ ہے اسے وہ داود
کا ستارہ 
Star of David
کہتے ہیں ۔ گیارہویں صدی قبل مسیح میں حضرت داود نے پہلی بار یروشلم کا دار ا
لحکومت بنایا ۔ دسویں صدر قبل مسیح میں حضرت سلیمان نے بیت المقدس میں پہلا ہیکل
Temple  تعمیر کیا ۔ یہ بنی اسرائیل کے عروج کا زمانہ
تھا ۔ پھر زوال کی داستان بڑی ہی طویل اور عبرت ناک ہے ۔ ان کے اپنے اعمال اور
خصائلِ بد ان کی تباہی کا باعث بنے ۔ اس کے متعلق قرآن میں واضح فرمان ملتا ہے :
” اور دیکھو ، ہم نے کتاب ( تورات ) میں
بنی اسرائیل کو اس فیصلے کی خبر دے دی تھی کہ تم ملک میں ضرور دو بار خرابی پھیلاؤ
گے اور بہت ہی سخت درجے کی سر کشی کرو گے ۔ ” (القرآن : ١٤ /١٧)
تورات میں ان تباہیو ں کا ذکر بڑی
تفصیل سے آیا ہے ۔ یہ تباہیاں ٧٢١ قبل مسیح میں اشوریوں اور بابل کے شاہ بخت نصر
کے ہاتھوں بپاہوئی تھیں ۔ یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور بنی اسرائیل کی نہ
صرف حکمرانی کے پر خچے اڑے بلکہ وہ بحیثیت قوم فرد فرد ہوکے بکھر گئے اور ان کی
قومیت ریزہ ریزہ ہوکر جیسے آندھی میں اڑ گئی ۔
تقریباً ساٹھ سال بعد شاہِ فارس نے
دریائے فرات اور بحیرہ روم کا درمیانی علاقہ فتح کرلیا اور بکھرے ہوئے اسرائیلیوں
کو اجازت دے دی کہ وہ فلسطین واپس چلے جائیں ۔ یہ اجازت بھی دے دی کہ وہ یروشلم کو
از سر نو آباد کرکے ہیکل تعمیر کر لیں ۔
اسرائیلی ایک بار پھر یکجا اور آباد
ہوگئے ۔ لیکن امن پسند نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ بسنے والی قوموں اور قبائل کو
پریشان کرنے لگے ۔ اسرائیلی اپنے برے خصائل اور فتنہ پرور فطرت کے ہاتھوں مجبور
تھے ۔ چنانچہ دوسروں کے لیے مصیبت بننے کی کوشش میں خود تباہ ہوگئے ۔
٣٣٢ قبل مسیح میں سکندر نے فلسطین پر قبضہ
کیا ۔
٣٢٠ قبل مسیح میں بطلیموس نے مصر کے راستے
حملہ کرکے یروشلم کو تہہ تیغ کیا ۔
پھر روم کا پامپی دندناتا آیا اور
یروشلمپر ہاتھ صاف کر گیا ۔ ہیکل سلیمانی تیسری بار تعمیر ہوکر ملبے کا ڈھیر بنا ۔
خدائے ذو الجلال نے اسرائیلیوں کو
گناہوں سے توبہ کا ایک اور موقعہ دیا اور انہیں حضرت عیسیٰ جیسا پیغمبر عطا کیا
مگر اسرائیلیوں نے حضرت عیسیٰ کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ زمین و آسمان کانپ اٹھے ۔
انہوں نے رومیوں کے ہاتھوں حضرت عیسیٰ کو گرفتاراور ذلیل و رسوا کرایا اور انہیں
صلیب پر مصلوب کرایا ۔
The Nazaraene کے چوتھے باب میں لکھا ہے :” یہودی
مردوں سے بڑھ کر روم کے بادشاہوں اور ان کے اعلیٰ حکام پر یہودی عورتوں کا اثر و
رسوخ تھا ۔ یہودیوں کی خوبصورت اور جوان عورتیں روم کے اعلیٰ حکام اور امراء کی
سوسائٹی میں بڑے دلفریب طریقوں سے داخل ہوجا تی تھیں ۔ وہ روم کی امراء کی سوسائٹی
کی عورتوں کو اپنی پسند کے مردوں کے دل جیتنے کے لیے تعویذ اور ٹونے ٹوٹکے دیتیں
اور مردوں کے حیوانی جذبات بھڑکانے کے لیے جڑی بوٹیاں اور بڑے قیمتی تیل مہیا کرتی
تھیں ۔ اس طرح وہ بیگمات اور امراء پر چھا کر ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کراتی تھیں
۔ "
جب روم کے بادشاہ نیرو کے دورِ
حکومت کے دسویں سال روم کو آگ کے شعلوں نے جلے ہوئے کھنڈروں کا ڈراؤنا شہر بنا دیا
تو صرف یہودی ایسی قوم تھی جس پر ہر کسی نے آتش زنی کا شک کیا جو بالکل صحیح تھا
مگر یہودیوں نے اپنے اثر و رسوخ سے عیسائیوں کو روم کو جلا کر راکھ کرنے کا مجرم
ثابت کردیا۔ مشہور تاریخ داں گبن نے اپنی کتاب ” سلطنت روما کے زوال اور
خاتمے کی تاریخ ” میں لکھا ہے کہ روم کے دربار میں یہودیوں کو معصوم ثابت
کرنے والے لوگ موجود تھے ۔ روم کے بادشاہ نیرو ، اس کی ملکہ اور اس کی حسین و جمیل
داشتہ پوپیّا پر بھی یہودیوں کا اثر و رسوخ تھا ۔
آخر رومیوں کا ماننا پڑا کہ ان کے
ملک میں یہودی فتنہ اور تباہی پھیلا رہے ہیں اور شاہی محل میں ان کی عورتوں کے حسن
اور عیاری کا جادو چل رہا ہے تو رومیوں نے ان کی قتل و غارت اس بری طرح کی جیسے ان
کی نسل ہی ختم ہوگئی ہو مگر بنی اسرائیل ختم ہونے والے نہیں تھے ۔ وہ بکھرے ہوئے
تھے ۔
١٣٥ء میں شاہ ہیڈرن نے یروشلم پر قبضہ کیا
اور بچے کھچے یہودیوں کو فلسطین سے نکال کر کرہ ارض پر بکھیر دیا یہودی جس ملک میں
بھی گئے ان کے خلاف نفرت پیدا ہوگئی ۔ ان کے دلوں میں انسان کی محبت کا نام و نشان
نہ تھا ۔ یہودی صرف نفرت اور فتنہ پردازی کے دلدادہ تھے ۔ وہ کسی دوسری قوم کے دل
میں اپنی محبت پیدا کر ہی نہیں سکتے تھے ۔ وہ نفرت کے پیکر تھے ۔ وہ اللہ کے
دھتکارے ہوئے تھے اس لیے وہ جہاں بھی گئے انہیں نفرت ملی ۔
وہ ١٣٥ء میں کرہ ارض پر بکھر تو گئے
لیکن انہوں نے اس عقیدے کو سینے سے لگائے رکھا کہ خدائے یہودہ نے فلسطین کو ہی ان
کا وطن مقرر کیا ہے ۔ان کا یہ عقیدہ مستحکم ہوتا چلا گیا کہ کوئی انہیں سو بار
شکست دے ، کوئی طاقت خدائے یہودہ کا لکھا نہیں مٹا سکتی اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر
ان کا مقدس فریضہ ہے جو بہر حال یروشلم میں ہی ادا ہوگا ۔ یہ عقیدہ ان کے مذہب کا
جزو بن گیا جس نے ایک مذہبی رسم کی صورت اختیار کرلی ۔ اس رسم کی ادائیگی کے لیے
دور دراز ملکوں کے یہودی ہر سال یروشلم جمع ہوتے تھے ۔ اسے وہ صیہونیت
Zionism
کہتے تھے۔ وہاں وہ یہ الفاظ دہراتے تھے …” آئندہ سال یروشلم میں۔ "
فلسطین میں ایک پہاڑی ہے جس کانام
صیہون
Zionہے ۔
اسے یہودی مقدس سمجھتے ہیں ۔ اس کے نام پر انہوں نے صیہونیت کی تحریک کی ابتدا کی
تھی ۔
رسول اکرم کے
وصال سے تقریباً چارسال بعد٦٣٦ء میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں
مسلمانوں نے فلسطین کو فتح کرکے وہاں اسلامی حکومت قائم کی ۔ جس روز فلسطین فتح
ہوا اس روز حضرت عمر سب سے پہلے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے ۔ محراب داود کے پاس جا
کرسجدہ داود کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا ۔ اس کے بعد عیسائیوں کے گرجوں کو دیکھنے
چلے گئے ۔ شہر کا بطریقِ عظیم پادری سنورینس حضرت عمر کے ہمراہ تھا ۔ اس نے بیت
المقدس کا شہر حضرت عمر کے حوالے کیا تھا ۔ دیکھنے کے دوران عصر کی اذان سنائی دی
۔ بطریق نے حضرت عمر سے کہا کہ وہ گرجے میں نماز پڑھیں ۔ حضرت عمر کے ساتھ تاریخ
اسلام کے مشہور سالار خالد بن ولید ، عمرو بن العاص ، عبد الرحمن بن عوف اور
معاویہ بن ابی سفیان تھے ۔ ان میں سے بھی بعض نے حضرت عمر سے کہا کہ گرجے میں نماز
پڑھی جائے ۔
” نہیں ” … حضرت عمر نے انکار کرتے
ہوئے کہا : "اگر ہم نے گرجے میں نماز ادا کی تو یہ گرجا مسجد بن جائے گا ،
پھر عیسائی اپنے ایک گرجے سے محروم ہوجائیں گے جو بے انصافی ہے ۔ "
انہوں نے گرجے کے باہر نماز پڑھی ۔
اس سے ایک روز پہلے یا اسی روز ظہر
کی نماز کا وقت ہوا تو حضرت عمر اپنے سالاروں سمیت نماز کے لیے تیار ہوئے ۔ تاریخ
اسلام کے مشہور موذن اور رسول خدا کے شیدائی حضرت بلال بھی موجود تھے ، وہ حبشی
تھے ۔ ان کی آواز بلند ، گونجدار اور پرسوز تھی ۔ رسول اکرم
کے
وصال کے بعد حضرت بلال نے اذان دینی چھوڑ دی تھی ۔ ان کی چار سال کی خاموشی کے بعد
بیت المقدس میں حضرت عمر نے ان سے درخواست کی کہ فلسطین کی فتح کے پہلے روز اذان
وہی دیں ۔ حضرت بلال نے اذان شروع کردی۔ جب انہوں نے کہا اشہد ان محمد رسول اللہ
تو وہاں جو لوگ موجود تھے وہ دھاڑیں مارمار کر رونے لگے ۔
١٥جولائی ١٠٩٩ء کے روز بیت المقدس پر
عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا ۔
٢ اکتوبر ١١٨٧ء کے روز سلطان صلاح الدین
ایوبی (
alāḥ ad-Dīn Yūsuf ibn
Ayy
ūb)
نے عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر
قبضہ کیا ۔ وہ جمعہ کا دن تھا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسجدِ اقصیٰ سے صلیبیں
اٹھوا کر وہاں نماز پڑھی ۔
فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت ١٩١٧ء
تک رہی ۔ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ۔ وہ ساری دنیا
میں بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ ہر سال بیت المقدس میں زائرین کی حیثیت سے جاتے اور یہ
الفاظ دہراتے رہے —” آئندہ سال یروشلم میں "— وہ اس عزم کا زبانی
اعادہ کرتے رہے کہ وہ ایک نہ ایک دن مسجدِ اقصیٰ کو مسمار کرکے یہاں ہیکلِ سلیمانی
تعمیر کریں گے ۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے
ہیں ۔ ایک مشہور تاریخ دان وِل ڈیوران نے اپنی کتاب "
ROMAN CAPTURE OF
JERUSALEM
” میں لکھا ہے :
” یہودیوں کا شیرازہ بیت المقدس کی فتح
سے کئی صدیاں پہلے بکھرنا شروع ہوگیا تھا ۔ وہ ٹائر ( ثور ) اور سیدون کی
بندرگاہوں سے روانہ ہوئے اور بحیرہ روم کے کئی ساحلی شہروں میں بکھر گئے ۔ وہ سپین
تک چلے گئے ۔ بہت سے یہودی دریائے ڈینیوب اور دریائے رہائین ( یورپ ) کے ساتھ ساتھ
پولینڈ اور روس میں چلے گئے ………وسطی یورپ میں یہودیوں نے تجارت اور ساہوکارہ
( سود قرض دینے ) میں شہرت حاصل کر لی اور انہیں لوگوں نے قبول کرلیا ۔ قرطبہ (
سپین ) میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی ، اس لیے انہوں نے حساب کتاب ، میڈیکل سائنس
اور فلسفے میں عربوں کا علم استعمال کیا ، لیکن قرطبہ میں اپنا کلچر پھیلا دیا
….. . . . . ‘ ‘
” سپین (Spain)
میں (مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ) یہودیوں کو پھلنے پھولنے کا زیادہ موقع ملا
١٤٩٢ء میں فرڈی نینڈ
 (Ferdinand II of Aragon)نے
غرناطہ(
Granada )
فتح کر لیا  (اور مسلمانوں کی حکومت ختم
ہوگئی ) تو یہودیوں کی بھی آزادی ختم ہوگئی جو انہیں مسلمانوں نے دے رکھی تھی ۔
عیسائیوں نے یہودیوں سے کہا کہ وہ عیسائیت قبول کرلیں یا سپین سے نکل جائیں لیکن
جلا وطنی کی صورت میں انہیں اپنا تما م مال و اسباب یہیں چھوڑنا پڑے گا ۔ ”
چنانچہ یہودیوں کو اسپین سے نکلنا پڑا
۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے آبا و اجداد نے حضرت عیسیٰ اور عیسائیوں کے ساتھ کیا سلوک
کیا تھا ۔ اسپین میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں یہودی ریاضی وغیرہ میں عربی علم و
ہنر کے پابند رہے اور مسلمان حکومت سے مراعات لیتے رہے لیکن درپردہ وہاں انہوں نے
اپنا کلچر اور اپنے جرائم رائج کیے اور وہ اسلامی نظریے اور فلاسفی کا چہرہ مسخ
کرتے رہے۔[
History
of Jewish Crimes
]
تاریخی طور پر شہرت یافتہ عیسائی
مذہبی پیشوا مارٹن لوتھر  (
Martin
Luther
) ( ١٤٥٣ء – ١٥٤٦ء ) نے یہودیوں کو خلق کی راندی ہوئی اور خدا کی
دھتکاری قوم کہا تھا اور اس نے کہا تھا :
” ان کی عبادت گاہوں کو جلادو ، اور ان
کی جو چیز جل نہ سکے اس پر مٹی ڈال دو یا توڑ پھوڑ کر مٹی میں ملادو تاکہ اس کا
کسی کو نشان بھی نظر نہ آئے ………. ان کے مکانوں کو مسمار کر کے ملبہ بکھیر دو
………. انہیں ایک چھت کے نیچے یا کسی اصطبل میں جمع کرلو اور انہیں وہیں رکھو
تاکہ وہ اذیت و مصیبت میں گرفتار رہیں اور ان کے دماغوں سے نکل جائے کہ وہ اس
سرزمین کے آقا ہیں ۔ وہ خدا کے آگے روتے رہیں ۔ ان کی وہ مذہبی کتابیں جلادو جن کے
ذریعے وہ اپنے باطل مذہب کا پرچار کرتے ہیں ۔ ان کے مذہبی پیشواؤں سے کہہ دو کہ
انہوں نے اپنے مذہب کا کہیں وعظ کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا ۔ ” (
The Jews
and The Cross
یہودی اور صلیب )
مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں نے جو
سلوک کیا وہ ان کی عیّاری اور فریب کاری کی بڑی لمبی کہانی ہے ۔ ہم اس کی ایک جھلک
پیش کرتے ہیں ۔ یہ جھلک دیکھنے سے پہلے یہ ذہن میں رکھ لیں کہ یہودیوں کو مسلمانوں
نے اپنے برابر یعنی مساوی حقوق دے رکھے تھے ۔ ایک یہودی تاریخ داں ، پروفیسر ایچ
گرٹینر  (
Professor
Heinrich Graetz
) اپنی کتاب History of The
Jews
جو جیوئش پبلیکیشن سوسائٹی امریکہ نے چھاپی تھی، لکھا ہے :
” مسلمان یہودیوں کو اپنے مساوی سمجھتے
تھے ۔ وہ یہودیوں کو اپنا دوست اور اتحادی سمجھ کر ان کی عزت و احترام کرتے
تھے………….ایشیائی اور مصری یہودی مسلمانوں کو عیسائیوں کی غلامی سے نجات
دلانے والا کہا کرتے تھے ۔ "
پرفیسر گرٹینر نے اپنی اسی کتاب میں
ایک یہودی مرشد کے متعلق لکھا ہے کہ اسے الہام ہوتے تھے ۔ ” سمیون پوجائی (
یہودی مرشد اور درویش ) کو اس طرح الہام ہوا تھا کہ اس نے الہام لانے والے فرشتے
سے پوچھا : "کیا ہم نے روم کی عیسائی حکومت کے ہاتھوں کم مصائب جھیلے ہیں کہ
اب ہم پر اسماعیل کی حکومت مسلط کی جار ہی ہے ۔؟ ” فرشتے نے جواب دیا :
” اے انسان کے بیٹے ! ڈرو مت ۔ خدا اسماعیل ( مسلمانوں کی ) حکومت تم پر اس
لیے لا رہا ہے کہ تم فریب کار عیسائیوں سے آزاد ہوجاؤ ( مسلمانوں میں سے ) خدا ایک
رسول پیدا کرے گا اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا ہو جائے گی
۔” مسلمانوں کی ( عیسائیوں پر ) فتح پر یہودیوں کے یہی جذبات تھے ۔ ”
انہی یہودیوں نے جو مسلمانوں کے زیر سایہ اپنے آپ کو ان کے مساوی اور آزاد اور
مسلمانوں کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے مسلمانوں کے جو تھ جو سلوک کیا اس کی
ایک دو جھلکیاں ملاحظہ فر مائیے ۔یہودیوں نے سب سے پہلے نامور مسلمان خواتین کی تو
ہین شروع کی ۔ انہوں نے ان خواتین کے نام خط لکھ کر ان کی شان میں بیہودہ اور فحش
اشعار لکھے جو وہ محفلوں میں سناتے اورگاتے بھی تھے ۔ مشہور تاریخ دان ابن
اسحاق  ( "سیرت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  ) اور امیر علی (
The Spirit of
Islam
) نے یہودیوں کی اس بد تمیزی کے بہت سے واقعات لکھے ہیں ۔ ان کے
مطابق یہودیوں نے اکیلی دھکیلی مسلمان خواتین پر دست درازی اور مجرمانہ حملے بھی
شروع کر دئیے تھے ۔
ایک بار مدینہ میں تین یہودی
دکاندار وں نے ایک مسلمان لڑکی کو بازار میں پکڑ لیا اور اس کے کپڑے پھاڑ کر اس کے
ارد گرد ناچنے اور فحش گانے گانے لگے ۔ مسلمان یہودیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ مدینہ میں
مسلمانوں اور یہودیوں میں خونریز فساد ہو ا ۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے یہودیوں کے ایک مذہبی پیشوا کعب بن الاشرف
کو گر فتار کر اکے سزا ئے موت دے دی کیو نکہ مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی تو ہین
آمیز اور خطرناک کارروائیوں کی ہدایت کاری یہی شخص کر تاتھا۔
ان اسرائیلیوں نے مسلمانوں کے دشمن
قریش کو جنہوں نے رسول خدا   صلی اللہ علیہ
و آلیہ وسلم  کے قتل کی قسم کھائی تھی ،
تمام راز دئیے اور قریش کو یہ بھی بتا یا کہ جنگ میں مسلمانوں کی کتنی نفر ی آ رہی
ہے ۔ یہودی بظاہر مسلمانوں کے دوست بنے رہے لیکن تمام راز بُت پر ستوں کو پہنچاتے
رہے ۔
یہودیوں نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کو قتل کی بھی سازش کی ۔ معرکہ خیبرکی فتح کے
موقعہ پر ایک یہودی عورت نے رسول اللہ  صلی
اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کو عقیدت کے دھوکے
میں اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا ۔ ابن اسحاق نے یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا :
” رسول کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم زینب بنت الحارث
زوجہ سلام بن مشکم کے گھر ذرا آرام فر ما رہے تھے ، اس عورت نے ایک سالم دنبہ بھو
نا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  سے
پو چھا کہ آپ کو دنبے کا کون سا حصہ پسند ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے دستی بتائی ۔ زینب بن الحارث نے آپ صلی اللہ
علیہ و آلیہ وسلم  کے آگے دستی لا کے رکھ
دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے ذرا
سا گوشت منہ میں ڈال کر اگل دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کے ساتھ بشر بن البارا تھے ۔ انہوں نے ایک بوٹی
کاٹ کر کھا لی آپ  صلی اللہ علیہ و آلیہ
وسلم  نے فر مایا کہ اس گوشت میں زہر ملا
ہو ا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے
زینب بن الحارث کو بلا کر کہا تم نے گوشت کے اس ٹکڑے میں زہر ملایا ہے ۔ اس یہودن
نے اس وقت اقبال جرم کر لیا جب بشر بن البارا فوت ہو گئے ۔”
ابن اسحا ق لکھتا ہے :
"مروان بن عثمان نے مجھے بتا یا تھا کہ
رسول خدا آخری بیماری میں مبتلا تھے ۔ آپ نے وفات سے دو تین روز نے پہلے ام بشر
البارا کو جب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم
کے پاس بیٹھی تھی ، فر مایا تھا ۔ ” ام بشر !  میں آج بھی اپنے جسم میں اسی زہر کا اثر محسوس
کر رہا ہوں جو میں نے منہ میں ڈال کر اگل دیا تھا ۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش
نہیں کہ رسول اللہ کی آخری بیماری کا باعث اسی زہر کا اثر تھا ۔”
محمد حسین ہیکل (Muhammad
Husain Haekal
) نے اپنی کتاب Umar Farooq The Greatمیں
حضرت عمر کے قتل کا واقعہ میں لکھا ہے کہ کعب الاہبر یہودیوں کا مذہبی پیشوا تھا ۔
اس نے حضرت عمر کے قتل کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا ۔وہ اس قتل کی سازش میں شریک
تھا ۔ عباس محمود العقاد نے لکھا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ کعب الاہبر اگر قتل میں
نہیں تو قتل کی سازش میں شریک تھا ۔
حضرت عمر کے قتل کے بعد ایک فتنہ
پرداز یہودی عبداللہ ابن سبا نے مسلمانوں میں سیاسی نوعیت کی بدامنی پیدا کی تھی
جس کے نتیجے میں تیسرے خلیفہ حضرت عثمان قتل ہوگئے ۔
یہ تو معدودے چند مثالیں ہیں ۔
اسلام کے خلاف یہودیوں کے جرائم کی داستان چند صفحوں میں سمیٹی نہیں جا سکتی ۔
اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے یہودی اپنی عورتوں کی عصمت کو بڑے اہتمام سے
ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں ۔ یہودی قوم میں غیرت نام کی کوئی چیز
نہیں ۔ عصمت لوٹنے اور لٹانے کو یہودی جائز سمجھتے ہیں ۔ ہم آئندہ اس کی تفصیلات
پیش کریں گے۔
یہودیوں کی تاریخ پکار پکار کر کہہ
رہی ہے کہ یہودی یورپ میں بکھر گئے اور جس ملک میں بھی آباد ہوئے وہاں کی حکومت پر
چھاگئے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دولت اور عصمت کو استعمال کیا ہے ۔ یہودی
ساہوکارہ ( سود پر قرض دینے ) کو اپنا پیشہ بناتے رہے ہیں ۔ وہ حکومتوں کو بھی
قرضوں کے جال میں پھانس لیتے ہیں ۔ اس وقت امریکہ کا کاروبار اور سیاسی بازار
یہودیوں کے سرمائے سے چل رہا ہے ۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی بھی معیشت یہودیوں کی
مٹھی میں ہے ۔ امریکہ ساری دنیا سے تعلق توڑے گا اسرائیل کی ناراضگی مول نہیں لے
گا ۔ روس پر بھی یہودی اثرات ہیں ۔ روس اسرائیل کی ہی پشت پناہی کرتا ہے لیکن ظاہر
یہ ہوتا ہے کہ روس اسرائیل کا دشمن ہے ۔
قارئین کو معلوم ہوگا کہ دوسری
عالمی جنگ میں جرمنی
(Adolf Hitler) کے حکمران ہٹلر نے
لاکھوں یہودیوں کو ایسی بیدردی سے قتل کیا تھا جس کی مثال نہیں ملتی ۔ تفصیلات سنو
تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً یہودیوں کو ان کی عورتوں اور بچوں سمیت ایک
کمرے میں بھر دیا جاتا اور زہریلی گیس چھوڑ دی جاتی تھی ۔ دوچار منٹ میں تمام
یہودی مرجاتے ۔ ان کی لاشیں زمین میں دبا دی جاتیں اور موت کے کمرے کو پھر یہودیوں
کے کنبوں سے بھر دیا جاتا اور گیس چھوڑ دی جاتی ۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ایک وسیع
و عریض اور گہرا گڑھا کھود کر یہودیوں کو اس کے کنارے پر کھڑا کر دیا جاتا اور ان
پر مشین گنیں فائر کی جاتیں ۔ لاشیں گڑھے میں گرتیں تو مزید یہودیوں کو گڑھے کے
کنارے پر لا کھڑا کیا جاتا ۔ یہ صحیح ہے کہ جرمنوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام
کی مثال نہیں ملتی لیکن یہودیوں نے جو صدیوں سے جر منی میں آباد تھے ، جس طرح
جرمنی کی جڑیں کاٹیں اس کی بھی تاریخ مثال پیش نہیں کر سکتی۔یہودیوں نے جرمنی کو
بحیثیت قوم اور ملک تباہ کر نے کے لیے جر منی کے کلچر ، معاشرت اور کردار کو اپنے
مخصوص اور مذموم طریقوں سے تباہ کیا ۔ ایک مشہور کتاب
The Crisis of
German Ideology
میں اس کی تفصیلات ملتی ہیں اور ایک کتاب Psychology
of Sex
(جنس کی نفسیات) میں ایسے واقعات کھل کر بیان کیے گئے ہیں جو ثابت
کرتے ہیں کہ یہودیوں نے جنسی لذت پرستی سے قوموں کو خصوصاً جرمنوں کو کس طرح تباہ
کیا ہے ۔ مثلاً اس کتاب میں ایک بین الاقوامی طور پر مانے جانے والے ماہر جنسیات
ہنری ہیو لاک ایلس کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ جرمنی میں خوبصورت لڑکوں کا چکلہ
یہودیوں نے کھو لا تھا ۔ایسے لڑکوں کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔
پاکستان جس میں فحاشی اور جنسیت
زدگی میں مبتلا ہے یہ یہودی کی لائی ہو ئی وبا ہے ۔جن انگریزی فلموں پر پاکستانی
ٹوٹ ٹوٹ پڑتے ہیں ان سب کے پروڈیوسر یہودی ہیں ۔ غور اس پہ کیجئے کہ یہ فلمیں جو
یہودیوں کے سر مائے سے تیار ہو تی ہیں ان کا اسرائیل میں داخلہ ممنوع ہے ۔ پاکستان
میں بعض ایسے رسالے جن میں جرائم اور جنسی جذبات کو ابھارنے والی کہانیاں شائع
ہوتی ہیں ان کی پیٹھ پر یہودیوں کا ہاتھ ہے جو عوام کو نظر نہیں آسکتا ۔پاپ میوزک
اور ڈسکو کے خالق یہودی ہیں ۔ہم جرمنی میں یہودیوں کی تخریب کاری کی بات کر رہے
تھے ۔گیر لڈ- کے- سمتھ (
Gerald Lyman Kenneth Smith) نے اپنی کتاب The International
Jew
میں لکھا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی نے جو شکست کھائی تھی ۔اس
کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ جرمن فوج کو محاذوں پر اسلحہ ، خوراک اور دیگر سامان
پہنچانے کا کام یہودی کرتے تھے ۔ وہ فوج کو ناقص اسلحہ بارود سپلائی کرتے رہے ۔
انہوں نے جر منی میں جنگ کے دوران فیکٹریوں میں ہڑتالیں کرائیں اور ہنگامے بھی
کرائے۔امریکہ کی سرکاری پالیسیوں پر بھی یہودی اثرات تھے ۔ ان اثرات نے امریکہ کو
بھی جنگ میں کودنے پر مجبور کر دیا ۔ اسرائیل کا قیام انہی خدمات کا صِلہ ہے جو
یہودیوں نے انگریزوں اور امریکیوں کو بہم پہنچائی تھیں ۔پہلی جنگ عظیم میں حکومتِ
برطانیہ نے یہودیوں کی مدد حاصل کرنے اور جر منوں کی جڑیں کاٹنے کے لیے بالفور
ڈیکلریشن جاری کیا تھا جس میں تحریر ہے کہ بر طانیہ یہودیوں کی ” خد مات
” کے صلے میں صیہونی تحریک کی پشت پناہی کرے گا۔
ایک جر من لیڈر جو لئیس سٹریشر  (Julius Streicher (12 February 1885 – 16 October 1946)) کے
الفاظ ملاحظہ فرمائیے جو اُس نے ١٩٢٢ء میں کہے تھے :
” میں ہزاروں مزدوروں کو پھٹے پرانے
کپڑوں میں دن بھر کی مشقت سے چور اپنے سامنے سے گزرتے ہو ئے دیکھتا ہوں ۔ وہ اپنی
پُر مصائب زندگی اور ناقابل برداشت مفلسی کی باتیں کرتے جاتے ہیں …… میرے
سامنے سے کچھ ایسے لوگ بھی گزرتے ہیں جنہوں نے بیش قیمت گرم کوٹ پہن رکھے ہیں ان
کی گر دنیں موٹی اور پیٹ بڑھے ہو ئے ہیں ۔ یہ یہودی ہیں جو سیر کو نکلے ہیں۔ وہ
اپنے کاروبار اور منافع کی باتیں کرتے ہیں ۔”
آگے چل کر جو لیئس سڑیشر کہتا ہے ۔
"تمام یہودیوں کا ایک ہی مقصد ہے ۔ ساری
دنیا پر چھا نا یہودی پروٹسٹنٹ ہو یا کیتھولک وہ یہودی ہی رہتا ہے ۔ پرو ٹسٹنٹ اور
کیتھولک پادریو تم!کیوں نہیں سمجھتے کہ تم نادانستہ طور پر یہودیوں کے "خدا
” کی عبادت کر رہے ہو ۔ یہ محبت کا خدا نہیں نفرت کا خدا ہے ۔ تم یسوع مسیح
کی آواز کیوں نہیں سنتے جس نے یہودیوں سے کہا تھا کہ تم شیطا ن کی اولاد ہو
؟” ١٩٣٢ء میں اس مفکر اور معاشرتی علوم کے ماہر لیڈیر جولیئس سٹر یشر نے کہا
تھا ۔ ” یہودی ہماری (جرمنی کی ) بد قسمتی ہیں۔”              
 یہودیوں نے جو مذہبی ضابطے اور اصول بنا رکھے
ہیں ان میں انسانی جان کی قربانی بھی شامل ہے ۔ وہ کسی غیر یہودی کو پکڑ کر اُسے
اپنی خاص اور خفیہ عبادت گاہ میں قتل کرتے ہیں ۔ متعدد مصنفین اور مذہبی علوم کے
ماہرین نے لکھا ہے کہ یہودیوں کی ایک خفیہ مذہبی کتاب ہے جو دراصل جرائم کے مختلف
طریقوں کا مجموعہ ہے ۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ
گزرا اسرائیلیوں نے ایک جر من ایشمین کو کسی اور ملک سے جا پکڑا اور اُسے اسرائیل
میں لے گئے تھے ۔اس کے خلاف الزام یہ تھا کہ جنگ عظیم دوم میں جرمنی کی یہودیوں کی
جو نسل کشی کی گئی تھی اس کا حکم دینے اور یہودیوں کے قتل میں ایشمین بھی شامل تھا
اسے اسرائیل میں سزائے موت دے دی گئی تھی ۔ اس کے مقدمے کی کارروائی ایک جرمن ہنری
– اے- زیگر  (
Henry A. Zeiger)
نے کتابی صورت میں چھاپی تھی
The Case Against Adolf Eichmanاس میں
لکھا :
” مذہب کے نام پر قتل (انسانی قربانی)
یہودیوں کے مذہبی قانون میں شامل ہے ۔ اس قانون کی خفیہ مذہبی کتاب
Talmud
اُن جرائم کا مجموعہ ہے جس کا ارتکاب یہودی روز مرہ کی زندگی میں کرتے ہیں ۔
یہودیوں کی روز مرہ کی زندگی جرائم کا مسلسل ارتکاب ہے ۔”
اسرائیلیوں کی نصابی مذہبی کتابوں
میں جو بچوں کو پڑھائی جاتی ہیں ، ان میں لکھا ہے کہ یہودی کو حق حاصل ہے کہ وہ جس
غیر یہودی کو چاہے قتل کر دے ۔
” خدائے یہودہ کی خوشنودی کے لیے یہودی
جتنے بھی غیر یہودیوں کو قتل کر سکتا ہے کر دے۔”
فلسطینیوں اور ان کے بچوں کو نیپام
بموں سے جلا ڈالنا اور لبنان میں شہری آبادی پر بے دریغ بمباری اور گولہ باری جس
نے دنیا کو تڑپا دیا ہے یہ یہودیوں کی فطرت اور مذہب کے عین مطابق ہے ۔یہودی ضمیر
کو قراردادوں اور تقریروں سے نہیں جھنجھوڑا جا سکتا ۔ہم جسے جرم اور گناہ کہتے ہیں
وہ یہودیوں کا مذہبی فر یضہ ہے ۔
نازی جرمنی کی حکومت کو دوسری جنگ
عظیم سے بہت پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ جنگ عظیم میں یہودیوں نے گھر کا بھیدی بن کر
جرمنی کو شکست کی ذلت میں پھینکا تھا ۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے جرمن حکومت
نے یہودیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی تھی ۔ متعدد یہودیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا
تھا ۔ایک روسی پالیا خوف نے ایک کتاب لکھی ہے
Harvest of Hate
(نفرت کی فصل ) اس میں مصنف نے یہودیوں کے متعلق خفیہ حقائق اکھٹے کر کے ان کی ایک
دستاویز کا ذکر کیا جس میں لکھا ہے :
"یہودیوں کے ایک دانشور این سٹیٹب کی
ایک تحریر یوں ہے ۔ ہمارے نظریات کے جو مخالفین ہیں ان کے خلاف ہمیں سائنٹیفیک اور
ٹیکنیکل مو ادیوں تیار کر نا ہے جس طرح اسلحہ بارود کا ذخیرہ جمع کیا جا تا ہے
(اپنے مخالفین کو اپنی مٹھی میں لینے کے لیے ) اور یہودہ ازم اور فری میسنری کے فر
و غ کے لیے لائبریریاں قائم کر نی ہوں گی …….. ہمیں فلموں ، پوسٹروں ، کتابوں
، رسالوں گراموفون ریکارڈوں ( جو آج کل کیسٹوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں ) اور
تمام تر ذرائع کو بروئے کار لا کر اپنے نظریاتی مخالفین کو اپنے راستے پر لانا ہے
۔ ”
اس کتاب میں لکھا ہے کہ اس منصوبے
کے تحت یہودیوں کی سب سے بڑی لائبریری امریکا میں قائم کی گئی تھی ۔ یورپ میں بھی
لائبریریاں کھولی گئیں جو روز بروز پھل پھول رہی ہیں ۔
جس طرح یہودی اپنے اعمالِ بد کی وجہ
سے ایک ملک سے دھتکارے ہوئے دوسرے ملکوں کو بھاگتے رہے ہیں ۔ اسی طرح دوسری جنگِ
عظیم کے شروع ہوتے ہی جرمنی سے یہودی بھاگنے لگے ۔ پالیا خوف نے اپنی کتاب میں
لکھا ہے کہ جرمنی میں رہنے والے چالیس فیصد یہودی فلسطین چلے گئے اور وہاں پاؤں
پسارنے لگے لیکن جرمنوں نے فرار کا راستہ روک لیا اور ساٹھ لاکھ یہودیوں کو کیمپوں
میں قید کر لیا ۔ یہ  کیمپ جہنم سے کم نہ
تھے ۔ انہیں ناکافی کھانا دیا جاتا ۔ مشقت زیادہ کرائی جاتی ۔ ان کی جوان عورتوں
کو جرمن فوجی اپنی تفریح کے لیے استعمال کرتے اور ہر روز بہت سے یہودیوں کو موت کے
گھاٹ اتار دیا جاتا ۔
ایک وقائع نگار ایوجن کوگون نے اپنی
کتاب
The
Theory and Practice of Hell
میں لکھا ہے کہ ان جہنم نما کیمپوں میں
جہاں یہودیوں کے لیے مشقت ، اذیت اور موت کے سوا کچھ بھی نہ تھا یہودی جنسی عیاشی
کو نہ بھولے ۔ انہوں نے جرمنی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کیمپوں میں عصمت فروشی کے
اڈے قائم کیے جائیں کیونکہ قیدی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ چنانچہ ہملر نے ایک حکم
نامہ جاری کیا کہ یہودیوں کے قیدی کیمپوں میں اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر تک کی
عورتیں بھیجی جائیں ۔ اس حکم کے مطابق ہر کیمپ میں ایک الگ مکان تعمیر کرکے وہاں
عصمت فروشی کے اڈے بنائے گئے ۔ ان میں یہودیوں کی اپنی لڑکیاں رکھی گئیں اور یہودی
ان سے اپنی ” ضرورت ” پوری کرتے رہے ۔
انسان کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے
تو وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو گناہوں سے توبہ اور خدا کو یاد کرتا ہے مگر
یہودیوں کی فطرت اور ان کے ” خدا ” کو گناہ مرغوب ہیں ۔ ١٩٧٢ء میں جب
مصریوں نے اچانک حملہ کرکے اسرائیل سے نہر سویز آزاد کرالی اور سینائی سے
اسرائیلیوں کو دور پیچھے ہٹادیا تو یہودیوں کے اپنے ہفت روزہ ” نیوز ویک
” میں جو عالمی شہرت یافتہ جریدہ ہے ، یہودیوں کی نفسیاتی کیفیت کے متعلق ایک
مضمون شائع ہوا تھا ۔ اس میں ماہرین اور شاہدوں نے لکھا تھا کہ اسرائیلی اپنے آپ
کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔اس خوف سے ذرا نجات
حاصل کرنے کے لیے اسرائیلیوں نے اپنے آپ کو جنسی آزادی دے لی ہے ۔ وہ سرعام فحش
حرکات اور جنسی فعل بھی کرتے ہیں ۔
انہی مختصر سی مثالوں سے اندازہ
ہوجاتا ہے کہ یہودی کی فطرت کیا ہے اور اس فطرت کے لوگوں کے ساتھ ہمارا روّیہ کیا
ہونا چاہیئے ۔
اسی کتاب میں ایک مؤرخ اور بشپ
یوسیئس کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہودیوں نے ایک جنگ کے بعد روم کی فوج سے تیس ہزار
عیسائی جنگی قیدی صرف قتل کرنے کے لیے خریدے تھے ۔ ان بد نصیبوں کو یہودیوں نے اس
طرح قتل کیا تھا جس طرح بچے کوئی کھیل کھیلتے ہیں ۔ وہ ان عیسائیوں کو قتل کرتے
اور ناچتے اور گاتے تھے ۔
ایک اور دانشور کومر کلارک نے اپنی
کتاب
The
Savage Truth
میں
اِیشمین کا جس کا اوپر ذکر آچکا ہے ، ایک بیان شامل کیا ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ اِیشمین
سے زیادہ یہودیوں کی فطرت کو اور کوئی نہیں سمجھتا تھا ۔ اِیشمین کے تحریری بیان
کے مختصر سے اقتباسات ملاحظہ کیجئے :
” اپنے آپ کو بحیثیت قوم زندہ و پائندہ
رکھنے کا جو احساس یہودیوں میں ہے وہ کسی اور قوم میں نہیں ۔ یہی احساس ہے جو
انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے ۔ یہودیوں کا ذہن سینکڑوں صدیوں نے بنایا ہے ۔ یہ کہنا
غلط ہے کہ یہودیوں میں قربانی کا مادہ بھی ہے ۔ وہ متحد ہو کر بھی ایک دوسرے کو
لوٹ لیتے ہیں ۔ ہر یہودی کی راہنمائی اس کی اپنی فطرت کرتی ہے ……….”
” یہودیوں کا اپنا کوئی کلچر نہیں ۔ ان
کا جو کلچر ہے وہ دوسری قوموں سے چرایا ہوا اور اپنی فطرت کے سانچے میں ڈھالا ہوا
ہے ……. یہودی ہر ملک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے مذہب کی آڑ میں اپنا الگ
تھلگ معاشرہ بنا رکھا ہے ۔ "
ذہن میں رکھیے کہ یہ تحریر اس وقت
کی ہے جب فلسطین کو ابھی اسرائیل نہیں بنایا گیا تھا ۔ ایشمین کہتا ہے :
” یہودی پیدائشی جھوٹا ہوتا ہے اور دروغ
گوئی کا لازمی سمجھتا ہے ۔ وہ اپنے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دوسری قوموں کے خلاف
جرائم میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔ بعض یہودی تعلیم وغیرہ کی بدولت ایسا بہروپ
دھارتے ہیں کہ انگریز یا فرانسیسی لگتے ہیں ۔ وہ خوشامد اور رشوت سے اپنا کام
نکالتا ہے ۔ اسے رائے عامہ کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں ہوتی ۔ یہودی کوئی بھی زبان
بولے کسی بھی ملک کا باشندہ ہو وہ اندر باہر سے یہودی ہوتا ہے …..”
” یہودی کا دماغ سازشوں کے تانے بانے
بنتا رہتا اور جنگ چھیڑنے کی ترکیبیں سوچتا رہتا ہے ۔ وہ دوسری قوموں کو آپس میں
لڑا کر منافع کماتا ہے ۔ وہ حکومتوں اور مملکتوں کو اپنے مال و دولت سے زیرِ اثر
رکھتا ہے ۔ عوام کو ان کے لیڈروں کے خلاف کرتا اور ان کی تاریخ کا مذاق اڑاتا ہے ۔
وہ ہر طریقے سے دوسروں کو غلاظت میں پھینکنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ جس چیز کو چھوتا
ہے اسے بگاڑ دیتا ہے ، یہ خواہ دوسروں کا آرٹ ہو ، لٹریچر یا فلم ہو ۔ وہ حسن اور
قدرت کی رعنائیوں کا مذاق اڑاتا ہے ۔ مذہب اور اخلاق کو وہ قدیم فیشن سمجھتا ہے
……اگر اسے اقتدار اور طاقت مل جائے تو وہ بڑا ظالم حکمران بن جاتا ہے پھر اپنی
رعایا کو اس کے لیڈروں سے محروم کردیتا ہے تاکہ عوام کو اپنا غلام بنا سکے ۔
"
ایک مشہور کتاب The
Jewish State
میں ایک یہودی دانشور تھیوڈور ہرزل کا بیان جو اس نے اپنی کتاب Judenstaat
( ١٨٩٧ء میں لکھی گئی ) میں شامل ہے ، قابل غور ہے ، وہ کہتا ہے :
” لوگ جمہوریت کے قابل نہیں ،نہ مستقبل
میں اس کے قابل ہو سکیں گے ۔ پارلیمنٹ میں پُرمغز اور پختہ پالیسیاں نہیں بن سکتیں
۔ صرف شخصیتیں جو تاریخ کی قوت کی پیداوار ہیں لوگوں کی خواہشات کو پورا اورملک کے
مفادات اور تحفظ کا بہتر اہتمام کر سکتی ہیں ۔ یہی شخصیتیں ہیں نہ کہ عوام جو حکومت
کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں ۔ عوام پر انہی شخصیتوں کی مرضی اور خواہش مسلط ہونی
چاہیئے۔”
اس سے یہودیوں کا مطلب شخصی حکومت
اور ڈکٹیٹر شپ سے ہے ۔
فلسطین کو اسرائیل بنانے کے لیے
انگریزوں اور امریکیوں نے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس کا نام تھا :
Plestine
Royal Commission
اس میں لکھا ہے :
"صہیونی لیڈروں نے ہم سے پختہ وعدہ کیا
تھا کہ اگر اتحادی ( امریکا ، برطانیہ، فرانس ) انہیں فلسطین کو اسرائیل بنانے کی
سہولتیں مہیا کریں تو وہ تمام دنیا کے یہودیوں کے جذبات اور حمایت کو اتحادیوں کے
مفادات کے لیے وقف کردیں گے ۔ یہودیوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے ۔ "
والٹربیڈل سمتھ (Walter
Bedell "Beetle” Smith
 (5 October 1895 – 9 August 1961))نے
اپنی کتاب
My
Three Years in Moscow
میں لکھا ہے :
"روس میں یہودیوں کے خلاف کوئی آواز
نہیں اٹھنے دی جاتی ۔ یہ وہاں کی سرکاری پالیسی ہے لیکن جو یہودی روس کی حکومت ،
سفارت اور افواج میں اعلیٰ رتبوں تک پہنچ گئے تھے ۔ انہیں وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے
کیونکہ روسی حکومت کو معلوم ہے کہ یہودیوں کے تعلقات دوسرے ملکوں کے ساتھ ہیں اور
یہودیوں سے وفاداری کی توقع رکھنا خطرناک ہے ۔ "
 اتحادی ملکوں نے جب فلسطین کو اسرائیل بنا دیا
تو وہاں یہودیوں کی آبادی خاصی تھی ۔ انہوں نے فلسطینی مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا
نشانہ بنا لیا ۔ انہوں نے اسلام کا مذاق یوں اڑایا کہ یہودی مرد اور یہودی عورتیں
مسجدوں میں جا کر بدکاری کرتے اور اس حالت میں تصویریں اترواتے اور دوسروں کو
دکھاتے تھے۔ ہم نے ایک فوٹو دیکھی ہے جس میں ایک یہودی اور یہودی عورت کے ساتھ ایک
مسجد کے اندر اختلاط میں مصروف ہے اور ایک یہودی ان کے پاس کھڑا ہنس رہا ہے ۔
اینگلو امریکی بلاک نے یہودیوں کو
فلسطین دے کر اسے اسرائیل کا نام دے دیا اور جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ میں
یہودیوں نے مسلمان ممالک کی کمزوری اور عدم اتحاد سے فائدہ اٹھا کر بہت سے عرب
علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ اس طرح ان کی دو ہزار سال پرانی آرزو پوری ہوگئی ۔ انہوں
نے بیت المقدس بھی لے لیا جسے اب وہ اسرائیل کا دار الحکومت بنا رہے ہیں ۔
گزری ہوئی دو صدیوں میں یہودیوں نے یروشلم
تک پہنچنے کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال کیے اور ساری دنیا کو صہیونیت کے چنگل میں لینے
کی جو اسکیمیں بنائیں ان میں فری میسن تحریک سب سے زیادہ اہم اور خطرناک ہے ۔ ہم بتا
چکے ہیں کہ یہودی اپنی فطرتِ بد کے ہاتھوں ساری دنیا ( زیادہ تر یورپی ملکوں ) میں
بکھیر دیئے گئے تھے ۔ اس کے باوجود وہ ایک جماعت کی صورت میں منظم ہوتے چلے گئے۔ ان
کے لیے یروشلم کو مراجعت اور ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر مذہبی جنون اور فطری مطالبہ بن
گیا تھا ۔ اسی مطالبے پر یہودی دور ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب رہے ۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے انہوں نے
١٧١٧ء میں انگلستان میں فری میسن تحریک کی ابتدا کی اور وہاں چار لاجیں

Lodges
قائم
کیں ۔ میسن
Mason کے معنی معمار ہیں۔ فری میسن کے ” معماروں
” کا مطلب ہیکلِ سلیمانی کے معمار ہیں۔ اس تحریک کو غیر یہودیوں کے سامنے بنی نوع
انسان کی فلاح و بہبود کے ادارے یا انجمن کی حیثیت سے پیش کیا گیا مگر اس کے مقاصد
اور کارکردگی کو ایسے طریقوں سے پوشیدہ رکھا گیا کہ اس کے غیر یہودی ممبروں کو علم
نہیں ہوسکتا تھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے ۔ لوگوں کو یہ دھوکہ دینے کے لیے کہ یہ کسی
ایک مذہب کی تحریک نہیں اور اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ۔ اس کی ممبر شپ ہر مذہب
کے لیے کھلی رکھی گئی بلکہ غیر یہودی مذہبوں کے لوگوں کے لیے اس کی ممبر شپ میں کشش
پیدا کی گئی لیکن ممبر شپ ہر ملک کے اعلیٰ سرکاری حکام ، فوج اور پولیس کے افسروں ،
صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کو دی گئی ۔ اب دنیا کے ہر بڑے شہر میں فری میسن لاج
نہ صرف موجود ہیں بلکہ پوری طرح سرگرم ہیں ۔ سرکاری اور غیر سرکاری اعلیٰ حکام اور
سیاسی لیڈروں کو ہم رنگِ زمیں دام میں پھانس کر فری میسنری کا ممبر بنایا جاتا ہے
۔ اس تحریک میں یہودیوں نے عیاری کا مظاہرہ کیا ہے کہ ایک لاج میں صرف ایک ممبر یہودی
ہوتا ہے ۔ بعض لاجوں میں ایک بھی یہودی نہیں ہوتا ۔ پھر بھی یہ تحریک یہودیوں کے پوشیدہ
اور اسلام اور عیسائیت کے لیے بے حد خطرناک منصوبوں اور سازشوں کے لیے سرگرم عمل ہے
۔ یہ تحریک صرف ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ یہودی ساری دنیا پر جنگی
طاقت کے بغیر قابض ہونا چاہتے ہیں ۔
ایّوب خان مرحوم کے دورِ حکومت میں پاکستان
کے کچھ مسلمان ممبروں نے فری میسنری کے خلاف بغاوت کردی تھی ۔ ان میں ایک ممبر پاک
فوج کا میجر تھا ۔ اس نے یہودیوں کی اس تحریک کے پوشیدہ مقاصد کو بے نقاب کیا تھا
۔ ہم نے ” حکایت ” کے شمارہ مارچ ١٩٧٤ء میں اس فوجی افسر کا تفصیلی انٹرویو شائع
کیا تھا جس میں بڑے خوفناک انکشافات کیے گئے ہیں ۔ ان تفصیلات کو طوالت کی وجہ سے دہرایا
نہیں جا سکتا ، اتنا بتانا ضروری ہے کہ پاکستان میں فری میسن لاجوں کی تعداد ٢٩ تھی
جو بند کی جا چکی ہیں لیکن کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان یہودیوں کے اثرات
سے محفوظ ہے ۔
یہودیوں کی اس تحریک کا ایک مقصد مسجدِ
اقصیٰ کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر ہے اور دوسرا بڑا مقصد ” وسیع اسرائیل

” Greater Israel
ہے ۔ اسے یہودیوں نے ” علامتی سانپ
” Symbolic Snake
کانام دے رکھا ہے ۔ جو تمام عالم اسلام کو گھیرے میں لے
لے گا اور اس کا منہ یروشلم میں ہوگا ۔ ” وسیع تر اسرائیل ” کا یہودیوں نے جو نقشہ
بنا رکھا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے
:
یہودیوں کی ایک اور خفیہ دستاویز بے
نقاب ہوچکی ہے لیکن یہودی رائے عامہ یا عالمی رائے کی پرواہ کیے بغیر اس منصوبے پرعمل
کر چکے ہیں ۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ یہودیوں کے چند ایک بزرگ دانشمندوں نے جنہیں انگریزی
میں
Elders کہا گیا ہے ۔ ١٨٩٧ء سے ١٩٠٥ء تک خفیہ اجلاس
کیے اور ساری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ۔ اسے ایسی
خوبی سے پوشیدہ رکھا گیا کہ اعلیٰ حیثیت کے یہودی کے سوا اسے کوئی اور یہودی بھی نہیں
دیکھ سکتا تھا ۔ اسے عبرانی زبان میں لکھا گیا تھا ۔ اس منصوبے کی بنیاد فری میسنری
کی کامیابی پر رکھی گئی تھی ۔ بڑے بڑے ملکوں کی پولیس ، عدلیہ اور انتظامیہ کی کلیدی
آسامیاں فری میسنوں کے ذریعے یہودیوں کے قبضے میں آچکی تھیں ۔ امریکہ ، برطانیہ اور
فرانس جیسے ترقی یافتہ ملکوں کی اقتصادی بنیادوں میں یہودیوں نے اپنا سرمایہ ڈال دیا
تھا ۔
ان کامیابیوں کی بنیاد پر یہودیوں نے
١٨٩٧ء سے ١٩٠٥ء تک یعنی آٹھ برس صرف کرکے ساری دنیا کو اپنے تسلط میں لانے کے لیے ایک
خفیہ منصوبہ تیار کیا ۔ روس کے ایک پادری پروفیسر نیلس کے ہاتھ اس منصوبے کی ایک نقل
لگ گئی ۔ ایک روایت یہ ہے کہ پروفیسر نیلس کو یہ دستاویز اس کی ایک دوست عورت نے چرا
کر دی تھی ۔
پروفیسر نیلس نے ١٩٠٥ء میں یہ منصوبہ
روسی زبان میں ترجمہ کرکے چھپوایا ایک انگریز نامہ نگار وکٹر مارسڈن نے اسے انگریزی
میں ترجمہ کرکے انگلستان میں کتابی صورت میں چھپوایا ۔ یہودیوں نے اسے خفیہ رکھنے کے
لیے یہ کارروائی کی کہ کتاب کا پہلا ایڈیشن بک اسٹالوں پر آیا تو یہودی شام تک تمام
بک سٹالوں سے ایک ایک کاپی خرید کر لے گئے ۔ اس کے بعد کئی ایڈیشن چھپے لیکن جوں ہی
اگلا ایڈیشن بک اسٹالوں پر آتا یہودی شام تک غائب کر دیتے ۔ صرف انگلستان میں اس کتاب
کے بیاسی ایڈیشن فروخت ہوئے ۔ یہودی اسے کہاں تک پوشیدہ رکھ سکتے تھے۔ یہ کتاب کئی
ایک زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے ۔ آخر یہودیوں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ انہوں
نے ایسا کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا اور یہ جو منصوبہ مشہور کر دیا گیا ہے ۔ یہ یہودیوں
کو ذلیل و رسوا کرنے کا ایک طریقہ اختیار کیا گیا ہے لیکن یہودیوں کے آئندہ لائحہ عمل
اور مجرمانہ کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے ایسا منصوبہ تیار کیا تھا اور اسی
پر عمل پیرا ہیں۔ اس منصوبے کا نام ہے
:
THE PROTOCOLS OF THE LEARNED ELDERS OF
ZION 
یعنی یہ صیہونیت کا منصوبہ ہے ۔ پروفیسر
نیلس نے فری میسن تحریک کو خطرناک یہودی سازش کہا تھا ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ساری دنیا
یہودیوں کو عالمی پولیس ریاست
World Police State بنا دیا
جائے ۔
یہودی دانشمندوں نے اس منصوبے کی ابتدا
ان الفاظ سے کی ہے
:
بدی
EVIL
ایک
ایسی قوت ہے جس سے ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔ دنیا میں رشوت ستانی ، فریب کاری
اور عیاری کا جو دور دورہ ہے وہ ہماری کامیابی کا ضامن ہے ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے
کہ یہ خرابیاں ختم نہ ہوں ۔ ہمارے سامنے ایک ایسا پلان ہے جس پر ہم نے عمل نہ کیا تو
ہماری صدیوں کی جدو جہد تباہ ہوجائے گی ۔ حق اس کا ہے جس کے پاس طاقت ہے ۔ ہماری طاقت
سونا ہے جو ہمارے قبضے میں ہے ۔ ہم دنیا بھر کو دیوالیہ کر سکتے ہیں ۔

اس منصوبے کے خالقوں نے سانپ کو اپنے
عزائم کی علامت قرار دیاہے ۔ ان کے مطابق ، یہ سانپ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک اور
ترکی کے بھی کچھ حصے کے گرد کنڈلی مار لے گا اور اس کا منہ یروشلم میں ہوگا جہاں سے
یہودی جنگ لڑے بغیر ساری دنیا کو اپنے چنگل میں لے لیں گے ۔ اس منصوبے میں تحریر ہے

:
یورپی ممالک میں معاشی
اور اخلاقی بحران پیدا کیا جائے گا ۔ ان کے معاشی اور اقتصادی نظام پر اپنے سرمائے
سے قبضہ کیا جائے گا اور اخلاقی تباہی کے لیے یہودی عورتوں کو استعمال کیاجائے گا جو
اپنے آپ کو فرانسیسی ، اطالوی ، برطانوی وغیرہ ظاہر کر کے ان ممالک کے لیڈروں ، دانشوروں
اور نوجوانوں کے ساتھ دوستانے گانٹھ کر ان کی اخلاقی اور روحانی قدروں کو بیکار کردیں
گی ۔
آگے چل کر لکھا ہے
:
یہ ذہن نشیں کرلیں
کہ دنیا میں بری فطرت کے انسانوں کی اکثریت ہے ، اس لیے ان پر کامیابی سے حکومت کرنے
کے لیے علمی بحث مباحثوں کی بجائے تشدد اور دہشت انگیزی لازمی ہے ۔ ابتداء میں انسانی
معاشرے کو بربریّت اور اندھی قوت سے غلام بنایا گیا تھا پھر قانون تیار کیا گیا جو
دراصل دہشت گردی کا ہی دوسرا نام ہے ۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قانونِ فطرت یہی
ہے کہ جس کی لاٹھی اسی کی بھینس …. ہمیں یہ نہیں سوچنا کہ اچھائی اور نیکی کسے کہتے
ہیں ۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری ( عالمی حاکمیت کے لیے ) کیا مفید اور ضروری ہے
۔
اس منصوبے میں تمام دنیا کے غیر یہودیوں
کو مویشی اور حیوان کہا گیاہے ۔ ” یہ ( غیر یہودی ) شراب میں بد مست حیوان ہیں
۔” اس سے آگے لکھا ہے ” ہمارے ایجنٹ غیر یہودی نسل کے نوجوانوں کو احمق اور بد کردار
بنا چکے ہیں اور یہ عمل جاری ہے ۔
یہودیوں نے یہ مقصد فحش ناولوں ، رسالوں
اور انگریزی فلموں کے ذریعے پورا کیا ہے ۔ یہودی ایجنٹوں کی تشریح یہ کی گئی ہے جو
یہودیوں کے اس پلان میں موجود ہے : ” اسکولوں ، کالجوں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں
کے استاد ، امیر گھرانوں میں خوبصورت آیا اور نرسیں ، دفتروں کے کلرک ، بدعماش اور
عصمت فروش عورتیں ، سوسائٹی گرلز ، ایڈیٹر ، قلمکار اور معاشرے میں خرابیاں پیدا کرنے
والے جن میں سیاسی غنڈہ گردی کرنے والے خاص طور پر شامل ہیں ۔

یہ ایجنٹ یہودی نہیں بلکہ ہر ملک کے
اپنے باشندے ہیں ۔ پاکستان میں ہی دیکھ لیجئے ۔ فحاشی اور مار دھاڑ اور اخلاق سوز کہانیوں
سے بھرپور رسالوں کے ایڈیٹر اور کہانی نویس پاکستانی ہیں ۔ یہودیوں کے سیاسی پرچے جو
امریکا سے نکلتے ہیں اور انگریزی کے بالکل ننگے پرچے جو پاکستان میں پڑھے جاتے ہیں،
ان کے ایجنٹ پاکستانی ہیں۔
منصوبے میں عوام کی آواز کو تشدد سے
دبانے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ فلسفہ پیش کیا گیا ہے کہ عوام کو جھوٹے وعدوں اور
جھوٹ موٹ کی ترقی اور خوشحالی سے دھوکہ دیتے رہو ۔ کامیاب حکومت یعنی ڈکٹیٹر شپ کے
استحکام کا راز اسی میں مضمر ہے ۔ منصوبے میں کہا گیا ہے
:
ہم نے جن غیر یہودیوں
کو ہاتھ میں لینا چاہا ہے انہیں پہلے دولت اور عشق بازی سے مفلوج کیا ہے ۔ انسان کی
انہی فطری کمزوریوں سے ہر انسان کو مفلوج کیا جا سکتا ہے ۔ وہ ذہنی طور پر بیکار ہوجاتا
ہے ۔
اخباروں اور رسالوں یعنی صحافت کے متعلق
یہودیوں کے اس منصوبے میں تفصیلی باب شامل ہے ۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ کامیاب حکمرانی
صحافت کو اپنے قبضے میں لیے بغیر ممکن نہیں
:
ہم نے دنیا کے کئی
ایک اخباروں اور رسالوں کو پیسے سے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی دولت
ہے جو ہمارے ہاتھ آگئی ہے ۔
یہودی دانشمندوں نے منصوبے میں لکھا
ہے
:
ہم خفیہ طریقوں سے سونے کی مدد سے جو
صرف ہمارے ہاتھ میں ہے ، عالمی معاشی بحران پیدا کردیں گے اور ہم تمام یورپی ممالک
کے عوام کو حکمرانوں کے خلاف ابھاریں گے ۔ وہ سمجھیں گے کہ ان کی غربت کے ذمہ دار ان
کے حکمران ہیں ۔ لہٰذا وہ عوام امیروں وزیروں کو لوٹیں گے اور انہیں قتل کریں گے
……. اور ہم ان طریقوں سے غیر یہودیوں کو مجبور کردیں گے کہ وہ ہمارے آگے گھٹنے
ٹیک دیں پھر ہم ساری دنیا کی حکومتوں کو اپنی ایک عظیم حکومت میں مدغم کر لیں گے
……. غیر یہودی بھیڑوں کا ریوڑ ہیں اور ہم ( یہودی ) بھیڑیئے ہیں ۔ تم جانتے ہو
کہ جب بھیڑوں کا ریوڑ بھیڑیوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہودیوں نے
بڑ ہانکی ہے تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے ۔ اس وقت ساری دنیا معاشی بحران سے
دوچار ہے ۔ تیسری دنیا کے ممالک کی تو کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ یہ بحران افراطِ زر کی صورت
میں یہودیوں کا پیدا کردہ ہے ۔ عالمی سطح کی تجارت اور سرمایہ کاری یہودیوں کے ہاتھ
میں ہے ۔
فری میسنری کے متعلق انہوں نے لکھا ہے
:
یہ تھا وہ مقصد جس
کی خاطر ہم نے فری میسنری کی ابتدا کی تھی ۔ اس کے اغراض و مقاصد کسی غیر یہودی کو
معلوم نہیں ، نہ یہ مویشی شک ہی کرتے ہیں کہ میسنری کیا ہے ……. وہ کشاں کشاں ہماری
فوج میں چلے آرہے ہیں اور ہم ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں …….. دنیا کی
وہ کونسی مملکت ہے جس کے صاحبانِ اقتدار کی آنکھوں میں ہم نے اپنے مطلب کا رنگدار چشمہ
نہیں چڑھا دیا ۔ اس چشمے سے انہیں وہی کچھ نظر آتا ہے جو انہیں ہم دکھانا چاہتے ہیں
۔ یہ ان مویشیوں ( غیر یہودیوں ) کی حماقت ہے کہ وہ ابھی تک کہتے ہیں کہ ان کے سرکاری
راز ڈھکے چھپے ہیں ۔
اپنے غیر یہودی ایجنٹوں ، فری میسنری
کے ممبروں وغیرہ کو یہودی اپنی ” غیر یہودی فوج ” کہتے ہیں ۔ اس کے متعلق منصوبے
میں تحریر ہے
:
ہم نے اپنی غیر ملکی
فوج میں سرکاری افسروں کو اگلی صف میں رکھا ہے ۔ وہ ہمیشہ ہمارے مقاصد کے لیے کام کرتے
ہیں ۔ دوسری صف میں نیم سرکاری شخصیتیں اور ادارے ہیں اور تیسری صف میں ان دونوں کا
مخالف گروپ رکھا ہے ۔ یہ مخالفت ہماری ہی قیادت میں ہوگی ، یعنی ہم اپنی مخالفت خود
کریں گے ۔ ہندوئوں کے دیوتا وشنو کی طرح ہمارے ایک سو ہاتھ ہیں ۔ وہ جاہل غیر یہودی
جو اپنے ملک کے اخباروں کے اداریئے کو اپنی ( عوام کی ) آواز سمجھتے ہیں ۔ وہ دراصل
ہماری آواز ہے ۔ وہ نہیں جانتے کہ ہمارے ایک سو ہاتھوں میں کیا کچھ ہے ۔ ہم غیر یہودیوں
کے مذہبی نظریات اور عقیدوں کی باتیں کریں گے لیکن یہ مویشی جان ہی نہ سکیں گے کہ وہ
یہودیوں کے نظریۂ حیات کو قبول کرتے چلے جا رہے ہیں ……ہم سب سے زایدہ توجہ دوسرے
ملکوں کی پولیس پر دیں گے کیونکہ پولیس ہمارے حقوق اور ہماری سرگرمیوں کا تحفظ کر سکتی
ہے اور مخالفت کو بھی کچل سکتی ہے ۔
ایک اقتباس اور ملاحظہ ہو
:
غیر یہودی مویشی سمجھتے
ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ انہیں علم نہیں کہ وہ ہم ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں اور
غیر یہودی محض جاہل ہیں …… وہ ایک خاص قسم کی اہمیت اور شہرت کے بھوکے ہیں جو ہم
انہیں مہیا کر دیتے ہیں ۔ ہم انہیں ایسی حماقت اور اندھے پن تک لے آئے ہیں جہاں ہماری
کامیابی یقینی ہوگئی ہے
…..”
ہر انسان کی آخری منزل
موت ہے ۔ جو انسان ہمارے مقاصد کے راستے میں حائل ہو اسے اس کی آخری منزل تک جلد پہنچادو
۔ ہم فری میسنری کے باغی ممبروں کو ایسے طریقوں سے سزائے موت دیتے ہیں کہ یہودی ممبروں
کے سوا کسی دوسری قوم کے ممبروں کو پتہ نہیں چلتا ۔ مرنے والے کو بھی علم نہیں ہوتا
کہ جسے وہ بیماری سمجھ رہا ہے وہ سزائے موت ہے جو اسے ہم نے دی ہے ۔ ہمارے لیے یہ دہشت
گردی لازمی ہے کیونکہ اسی سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہون گے اور یہود کا بادشاہ ساری
دنیا پر حکمرانی کرے گا ۔
دوسری قوموں خصوصاً
مسلمانوں کے نوجوان ذہن کو اپنی مٹھی میں لینے کے لیے یا نوجوانوں کو ان کے اپنے مذہبی
اور قومی نظریات اور قومی کردار سے منحرف کرنے کے لیے یہودیوں نے اس منصوبے میں صاف
الفاظ میں لکھا ہے کہ بوڑھے طوطوں کو کچھ بھی پڑھایا سکھایا نہیں جا سکتا ۔ بگاڑنے
والی اور بگاڑ کر اپنے سانچے میں ڈھال لینے والی چیز نوجوان ذہن ہے ۔ یہودیوں نے کہا
ہے کہ وہ دوسری قوموں اور خاص طور پر مسلمان نوجوانوں کے ذہن میں جنسی لذت پرستی پیدا
کریں گے اور انہیں ایسا کلچر دیں گے جس کی بنیاد جنسی آزادی اور اخلاقی بے راہروی ہوگی
۔ ان کے لٹریچر اور صحافت کو جنسی تسکین مہیا کرنے والے مواد سے بھر دیا جائے گا ۔
انہیں دیکھنے کو ایسی تصویریں دی جائیں گی جنہیں دیکھ دیکھ کر وہ تصوروں میں جنسی اختلاط
کرتے رہیں گے ۔ انہیں ایسا فیشن دیں گے کہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی تذکیر و تانیث بھول
جائیں گے ۔ لڑکے نوجوان لڑکیوں کی طرح بن ٹھن کر رہیں گے ۔ انہیں ایسا کلچر دیں گے
جو کلچر ہوگا ہی نہیں لیکن وہ اس پر فخر کریں گے اور اپنے اپنے ملک کے ان لوگوں پر
جو اس کلچر کو قبول نہیں کریں گے ، وہ ہنسیں گے اور انہیں پسماندہ کہیں گے ۔
یہ معدودے چند اقتباسات ہیں یہودیوں
کی اس خطرناک سازش کے جسے وہ اپنا ضابطہ حیات کہتے ہیں اور جس میں وہ خاصی حد تک کامیاب
ہوچکے ہیں ۔ پاکستان میں دیکھ لیجئے ۔ کیا آپ اپنے اس کلچر کی لاش کو نہیں دیکھ رہے
ہیں جس پر امت رسول ہمیشہ فخر کرتی رہی ہے اور جس کے آثار آج بھی اسپین اور چین میں
موجود ہیں ؟ کیا کراچی سے نکلنے والے جاسوسی ڈائجسٹ ہمارے کلچر کی ترجمانی کر رہے ہیں
؟ اپنی فلمیں دیکھ لیجئے ۔ گلی محلوں میں جو ” ایک آنہ ” لائبریریاں کھلی ہوئی ہیں
ان کی تلاشی لیں تو آپ کو وہاں ننگی تصویروں کے البم ملیں گے جن میں مرد اورعورت کو
انتہائی فحش حالت میں دکھایا گیا ہے ۔ لڑکے اور لڑکیاں یہ تصویریں چوری چھپے کرائے
پر لیتی اور تنہائی میں دیکھتی ہیں۔
یہ موضوع خاص طویل ہے اس پر الگ ایک
جامع اور واضح مضمون ہونا چاہیئے جو ہم پیش کریں گے ۔ یہاں ہم اتنا ہی کہنا کافی سمجھیں
گے کہ پاکستان کی نوجوان نسل جس طرح پاپ میوزک ، ڈسکو اور جنسی آزادی میں لا پتہ ہوگئی
ہے اس کے پیچھے یہودی کا ہاتھ ہے اور اس ہاتھ کی صفائی پاکستانی ہاتھ دکھا رہے ہیں
جو یہودیوں کے ایجنٹ ہیں ۔ ان نوجوانوں کا جو جسمانی اور نفسیاتی حال ہوگیا ہے وی کسی
ڈاکٹر یا حکیم سے پوچھیے یا ان نام نہاد ماہرین جنسیات سے جنہوں نے اپنی دکانوں کے
سامنے ” پوشیدہ اور پیچیدہ امراض ” کے تیر بہدف علاج کے بورڈ لٹکا رکھے ہیں ۔
یہودی یورپی ممالک اور امریکا میں جو
چاہیں کریں ۔ ہمیں عالم اسلام کو دیکھنا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے ۔ یہ نہ بھولیے
کہ یہودی کے مندرجہ بالا منصوبے کا پہلا ہدف عالم اسلام ہے اور یہودی کی نظریں پاکستان
پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے خلاف اسرائیل کے جو عزائم ہیں انہیں ہم ان کے بابائے قوم
بن گورین کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں ۔ بن گورین کی یہودیوں میں وہی قدر و منزلت ہے
جو قائد اعظم کو پاکستان میں حاصل ہے ۔ بن گورین نے جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ میں
عربوں کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرکے اور مصریوں کو شکست دے کر فرانس میں یہودیوں کے
ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا ۔ اس کا یہ لکچر لندن سے شائع ہونے والے ایک یہودی جریدے
” جیوئش کرانیکل
” JEWISH CHRONICLE کی ٩ اگست ١٩٦٧ء کی اشاعت میں شائع ہوا
تھا ۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے
:
یہودی تحریک کو پاکستان
سے جو خطرہ لاحق ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے ۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے
اور ہمارے ( اسرائیل کے ) وجود کے لیے ایک چیلنج ، اب ہمارا نشانہ پاکستان ہونا چاہیئے
…….. پاکستانی قوم یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتی ہے ، عالمی یہودی تحریک
کا یہ فرض ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدامات کرے ۔ ہندوستان کے باشندے ہندو ہیں
ان کے دلوں میں پاکستان کے خلاف ہمیشہ نفرت بھری رہی ہے ۔ اس لیے پاکستان کے خلاف کارروائی
کرنے کے لیے ہندوستان کار آمد اڈہ بن سکتا ہے ۔ ہمیں چاہیئے کہ اس اڈے سے فائدہ اٹھائیں
اور یہودیت اور صہیونیت کے دشمن پاکستانیوں کو کاری ضرب لگا کر کچل دیں ،یہ کام نہایت
رازداری اور خفیہ پلاننگ سے سر انجام دینا چاہیئے ۔
خاص طور پر ذہن میں رکھیے کہ بن گورین
سیاسی لیڈر نہیں تھا اور اس نے یہ بیان اپنے یہودی عوام پر رعب ڈالنے کے لیے نہیں دیا
تھا اور اس کی یہ تقریر ہمارے سیاسی لیڈروں جیسی جوشیلی اور کھوکھلی تقریر نہیں تھی
۔ بن گورین ماہر گوریلا اور کمانڈو تھا ۔ فلسطین کو اسرائیل بنانے سے پہلے بن گورین
یہودیوں کی ایک گوریلا اور دہشت پسند تحریک ” ہگامہ ” کا بانی اور کمانڈر تھا ۔ یہودیوں
نے دوسری جنگ عظیم میں امریکیوں اور انگریزوں سے بھرپور مدد کا جو وعدہ کیا تھا اس
مدد میں یہودی گوریلے شامل تھے ۔ جنہوں نے جرمنوں کے عقب میں اس قدر کامیاب گوریلا
اور کمانڈو آپریشن کیا تھا جس نے جرمنوں کی کمر توڑ ڈالی تھی ۔ بن گورین اس فورس کا
کمانڈر تھا اور وہ سیاسی عقل کا بھی مالک تھا ۔ جنگ عظیم کے بعد اس نے امریکیوں اور
اتحادیوں سے کہا تھا کہ اب وہ اپنا وعدہ پورا کریں یعنی فلسطین کو یہودیوں کا وطن بنائیں
، ورنہ وہ اپنی ” ہگامہ ” تنظیم کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا خواہ اس کی زد
میں امریکہ اور برطانیہ ہی کیوں نہ آجائیں ۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ کمانڈو آپریشن اور
جاسوسی میں یہودی خصوصی مہارت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس فن کے کچھ کمالات دکھائے بھی
ہیں ۔ بن گورین نے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھارت کو اڈہ بنانے کی جو
بات کی تھی اسے یہودی عملی شکل دے چکے ہیں ۔ یہ ١٩٧١ء کا واقعہ ہے ۔ بھارت نے اپنی
کمانڈو فورس جس کی تعداد پچاس ہزار سے اسی ہزار کے درمیان تھی ۔ بنگالی مسلمانوں کے
بہروپ میں مشرقی پاکستان میں داخل کر دی تھی ۔ اس فورس کو مشرقی پاکستان کے جنگلوں
، دلدلی علاقوں ، آبی رکاوٹوں اور نشیب و فراز سے بھرپور خطے میں گوریلا جنگ لڑنے کی
ٹریننگ اسرائیلیوں نے دی تھی اور اس کا کمانڈر ایک یہودی جرنیل جنرل جیکب تھا جو اسرائیل
نے بھارت کو بھیجا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں گوریلا اور کمانڈو آپریشن جنرل جیکب نے
لڑایا تھا ۔ پلاننگ بھی اسی کی تھی ۔ اسے مشرقی پاکستان جیسے جنگلاتی اور ندی نالوں
کی افراط والے علاقوں کی جنگ کا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دسمبر ١٩٧١ء میں جنرل نیازی
کے پاس ہتھیار ڈلوانے کی دستاویز جنرل جیکب ہی لے کر ڈھاکہ گیا تھا ۔
یہاں بھارت کے ایک مشہور سیاسی لیڈر
اور سابق نائب وزیر اعظم اور سابق وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کا انکشاف قابل غور ہے
۔ اس نے ٢٧ جون ١٩٧٥ء کے روز ایک اطالوی صحافی اوریانہ فلاشی کو انٹرویو دیتے ہوئے
کہا تھا : ” مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کا دراصل اپنا کوئی وجود نہ تھا ۔ یہ سب
کے سب بھارت کے باقاعدہ چھاپہ مار ( ریگولر آرمی کے کمانڈو ) تھے جو بنگالیوں کے بھیس
میں اپریل سے دسمبر ١٩٧١ء تک پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے رہے اور دنیا کو یہ تاثر دیا
جاتا رہا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے پاکستانی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں
۔
ہم نے اختصار سے واضح کرنے کی کوشش کی
ہے کہ یہودی کیا ہے ۔ یہودی سراپا فتنہ و فساد اور سازش گری کا ایک نام ہے ۔ ماہرین
نفسیات کہتے ہیں کہ عالم کے پاس علم ہوتا ہے لیکن ذہانت پیشہ ور مجرم کے پاس ہوتی ہے
۔ یہ ذہانت یہودی کے پاس ہے ہم نے دوسری قوموں کے مفکروں اور ماہرین کے حوالوں سے یہودی
کی بڑی صاف تصویر پیش کی ہے ۔ جس طرح غنڈوں کی اپنی کوئی عزت اور کوئی وقار نہیں ہوتا
اور وہ دوسرے کی بے عزتی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے اسی طرح یہودی بھی عزت اور عصمت
سے دستبردار ہوچکے ہیں ۔ ان کے ہاں بنی نوع انسان کی محبت اور بہبود کا ذرا سا بھی
احساس نہیں اس لیے یہودیوں کا ہاتھ تقریروں ، قرار دادوں اور مسجدوں میں دعائوں سے
نہیں روکا جا سکتا ۔
اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں
رہی کہ یہودی نے اپنے پلان ( وسیع تر اسرائیل ) پر عمل شروع کر دیا ہے ۔ ہمارے کلچر
کو وہ تباہ کر چکا ہے ۔ اس کے ایجنٹ اور اس کا ففتھ کالم پاکستان میں موجوداور سرگرم
ہے ۔ ان لوگوں کے سروں پر سینگ نہیں کہ آپ انہیں پہچان سکیں ۔ یہ ہندو اور یہودی بھی
نہیں ۔ یہ پاکستانی ایمان فروش مسلمان ہیں ۔ ان میں دانشور بھی ہیں ، ادیب اور صحافی
بھی ہیں اور ان میں سرکاری افسربھی ہیں ۔
یہودی بے شک غیر معمولی طور پر ذہین
قوم ہے اور اس کے پاس دولت بھی ہے لیکن مسلمانوں کے پاس کیا نہیں ۔ اگر نہیں تو اتحاد
نہیں ، اتفاق نہیں ۔ مسلمان بھول چکے ہیں کہ مسلمان کرئہ ارض پر جہاں کہیں ہیں وہ ایک
جماعت ، ایک امت کے افراد ہیں اور جہان کہیں مسلمان پر کفر یلغار کر دے ساری امت پر
جہاد فرض ہوجاتا ہے مگر ہم انہی کفار کی مدد کے محتاج ہوگئے ہیں جو یہودیوں کے چنگل
میں ہیں ۔ دشمن وہیں کامیاب ہوتا ہے جہان اپنے درپردہ دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں
۔ ہم وہ قوم ہیں جو دشمن کا دیا کھاتے ہیں اور ہاتھ پائوں چھوڑ کے بیٹھے ہیں ۔
اس وقت کیفیت یہ ہے کہ اسرائیل عراق
پر بمباری کر چکا ہے اور اعلان کرچکا ہے کہ اب پاکستان کی باری ہے اور جو ہمارے قبلہ
اوّل کو مسمار کرنے کا عمل شروع کر چکا ہے ۔ وہ اسرائیل لبنان پر حملہ آور ہوکر کہہ
رہا ہے کہ ہماری جنگ عالم اسلام سے ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل عربوں کے علاقوں
سے اپنی فوج نکال لے اور عرب کہتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم نہ کرے ۔ ہم یہ
کیوں نہیں کہتے کہ اسرائیل نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ انہیں عربوں
کے اور فلسطینیوں کے علاقے کیوں کہتے ہیں ؟ صرف اس لیے کہ ہم جو عرب نہیں ۔ کہتے ہیں
کہ یہ عربوںکا مسئلہ ہے اور عرب کہتے ہیں کہ یہ فلسطین کا مسئلہ ہے ۔ یاسر عرفات نے
کہا ہے کہ وہ عالم اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہوں نے انہیں (فلسطینیوں کو ) تنہا چھوڑ
دیا ہے ۔
دراصل ہم سب تنہا تنہا اور الگ الگ ہوگئے
ہیں اور ہم جشن منارہے ہیں اور چراغاں کر رہے ہیں ۔
خدارا اپنے گریبان میں جھانکیے ۔ تنہائی
میں بیٹھ کر اپنے آپ پر غور کیجئے اور اپنے آپ سے پوچھیے کہ جس آزادی کے ہم نے اس وقت
جشن منائے اور چراغاں کی جب فلسطینی بچوں کی لاشیں تڑپ رہی تھیں ۔ کیا ہم اس آزادی
کا تحفظ بھی کر سکیں گے ؟ کیا یہودی جیسے دشمن کو آپ مسجدوں میں بیٹھ کر دعائوں سے
شکست دے سکیں گے ؟
اگر آپ کے دل میں قبلہ اول کی ذرا سی بھی محبت ہے جہاں سے
ہمارے رسول
معراج
پر تشریف لے گئے تھے تو بیدار ہوجائیں اور دیکھیں کہ چاند ستارے پر داود کے ستارے کا
گرہن آرہا ہے ۔ اگر چاند ستارہ گہنا گیا تو سوچیئے کیا ہوگا ۔ اس کا جواب یہودیوں نے
اپنے بزرگ دانشمندوں کے الفاظ میں دے دیا ہے —-” اور تم جانتے ہو کہ جب بھیڑوں کا
ریوڑ بھیڑیوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ۔”

 

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s