یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ 2 جاری ہے


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ 16

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ 2 (جاری ہے)

جناب عنایت اللہ

١٥جولائی ١٠٩٩ء کے روز بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا ۔

٢اکتوبر ١١٨٧ء کے روز سلطان صلاح الدین ایوبی (alāḥ ad-Dīn Yūsuf ibn Ayyūb)  نے عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کیا ۔ وہ جمعہ کا دن تھا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسجدِ اقصیٰ سے صلیبیں اٹھوا کر وہاں نماز پڑھی ۔

فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت ١٩١٧ء تک رہی ۔ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ۔ وہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ ہر سال بیت المقدس میں زائرین کی حیثیت سے جاتے اور یہ الفاظ دہراتے رہے —” آئندہ سال یروشلم میں  — وہ اس عزم کا زبانی اعادہ کرتے رہے کہ وہ ایک نہ ایک دن مسجدِ اقصیٰ کو مسمار کرکے یہاں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کریں گے ۔
 اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ ایک مشہور تاریخ دان وِل ڈیوران نے اپنی کتاب "ROMAN CAPTURE OF
JERUSALEM
” میں لکھا ہے :

 ” یہودیوں کا شیرازہ بیت المقدس کی فتح سے کئی صدیاں پہلے بکھرنا شروع ہوگیا تھا ۔ وہ ٹائر ( ثور ) اور سیدون کی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے اور بحیرہ روم کے کئی ساحلی شہروں میں بکھر گئے ۔ وہ سپین تک چلے گئے ۔ بہت سے یہودی دریائے ڈینیوب اور دریائے رہائین (یورپ ) کے ساتھ ساتھ پولینڈ اور روس میں چلے گئے ………وسطی یورپ میں یہودیوں نے تجارت اور ساہوکارہ ( سود قرض دینے ) میں شہرت حاصل کر لی اور انہیں لوگوں نے قبول کرلیا ۔ قرطبہ ( سپین ) میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی ، اس لیے انہوں نے حساب کتاب ، میڈیکل سائنس اور فلسفے میں عربوں کا علم استعمال کیا ، لیکن قرطبہ میں اپنا کلچر پھیلا دیا ….. . . . . ‘ ‘


” سپین (Spain) میں (مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ) یہودیوں کو پھلنے پھولنے کا زیادہ موقع ملا ١٤٩٢ء میں فرڈی نینڈ  (Ferdinand II of Aragon)نے غرناطہ(Granada ) فتح کر لیا  (اور مسلمانوں کی حکومت ختم ہوگئی ) تو یہودیوں کی بھی آزادی ختم ہوگئی جو انہیں مسلمانوں نے دے رکھی تھی ۔ عیسائیوں نے یہودیوں سے کہا کہ وہ عیسائیت قبول کرلیں یا سپین سے نکل جائیں لیکن جلا وطنی کی صورت میں انہیں اپنا تما م مال و اسباب یہیں چھوڑنا پڑے گا ۔ ”
چنانچہ یہودیوں کو اسپین سے نکلنا پڑا ۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے آبا و اجداد نے حضرت عیسیٰ اور عیسائیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ۔
اسپین میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں یہودی ریاضی وغیرہ میں عربی علم و ہنر کے پابند رہے اور مسلمان حکومت سے مراعات لیتے رہے لیکن درپردہ وہاں انہوں نے اپنا کلچر اور اپنے جرائم رائج کیے اور وہ اسلامی نظریے اور فلاسفی کا چہرہ مسخ کرتے رہے۔[
History of Jewish Crimes]

تاریخی طور پر شہرت یافتہ عیسائی مذہبی پیشوا مارٹن لوتھر  (Martin Luther) ( ١٤٥٣ء – ١٥٤٦ء ) نے یہودیوں کو خلق کی راندی ہوئی اور خدا کی دھتکاری قوم کہا تھا اور اس نے کہا تھا :
” ان کی عبادت گاہوں کو جلادو ، اور ان کی جو چیز جل نہ سکے اس پر مٹی ڈال دو یا توڑ پھوڑ کر مٹی میں ملادو تاکہ اس کا کسی کو نشان بھی نظر نہ آئے ………. ان کے مکانوں کو مسمار کر کے ملبہ بکھیر دو ………. انہیں ایک چھت کے نیچے یا کسی اصطبل میں جمع کرلو اور انہیں وہیں رکھو تاکہ وہ اذیت و مصیبت میں گرفتار رہیں اور ان کے دماغوں سے نکل جائے کہ وہ اس سرزمین کے آقا ہیں ۔ وہ خدا کے آگے روتے رہیں ۔ ان کی وہ مذہبی کتابیں جلادو جن کے ذریعے وہ اپنے باطل مذہب کا پرچار کرتے ہیں ۔ ان کے مذہبی پیشواؤں سے کہہ دو کہ انہوں نے اپنے مذہب کا کہیں وعظ کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا ۔ ” (The Jews and The Cross یہودی اور صلیب )
مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں نے جو سلوک کیا وہ ان کی عیّاری اور فریب کاری کی بڑی لمبی کہانی ہے ۔ ہم اس کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں ۔ یہ جھلک دیکھنے سے پہلے یہ ذہن میں رکھ لیں کہ یہودیوں کو مسلمانوں نے اپنے برابر یعنی مساوی حقوق دے رکھے تھے ۔ ایک یہودی تاریخ داں ، پروفیسر ایچ گرٹینر  (Professor Heinrich Graetz) اپنی کتاب History of The Jews جو جیوئش پبلیکیشن سوسائٹی امریکہ نے چھاپی تھی، لکھا ہے :

” مسلمان یہودیوں کو اپنے مساوی سمجھتے تھے ۔ وہ یہودیوں کو اپنا دوست اور اتحادی سمجھ کر ان کی عزت و احترام کرتے تھے………….ایشیائی اور مصری یہودی مسلمانوں کو عیسائیوں کی غلامی سے نجات دلانے والا کہا کرتے تھے ۔ "

پرفیسر گرٹینر نے اپنی اسی کتاب میں ایک یہودی مرشد کے متعلق لکھا ہے کہ اسے الہام ہوتے تھے ۔ ” سمیون پوجائی ( یہودی مرشد اور
درویش ) کو اس طرح الہام ہوا تھا کہ اس نے الہام لانے والے فرشتے سے پوچھا : "کیا ہم نے روم کی عیسائی حکومت کے ہاتھوں کم مصائب جھیلے ہیں کہ اب ہم پر اسماعیل کی حکومت مسلط کی جار ہی ہے ۔؟ ” فرشتے نے جواب دیا : ” اے انسان کے بیٹے ! ڈرو مت ۔ خدا اسماعیل ( مسلمانوں کی ) حکومت تم پر اس لیے لا رہا ہے کہ تم فریب کار عیسائیوں سے آزاد ہوجاؤ ( مسلمانوں میں سے ) خدا ایک رسول پیدا کرے گا اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا ہو جائے گی ۔” مسلمانوں کی (عیسائیوں پر) فتح پر یہودیوں کے یہی جذبات تھے ۔ ” انہی یہودیوں نے جو مسلمانوں کے زیر سایہ اپنے آپ کو ان کے مساوی اور آزاد اور مسلمانوں کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے مسلمانوں کے جو تھ جو سلوک کیا اس کی ایک دو جھلکیاں ملاحظہ فر مائیے ۔یہودیوں نے سب سے پہلے نامور مسلمان خواتین کی تو ہین شروع کی ۔ انہوں نے ان خواتین کے نام خط لکھ کر ان کی شان میں بیہودہ اور فحش اشعار لکھے جو وہ محفلوں میں سناتے اورگاتے بھی تھے ۔ مشہور تاریخ دان ابن اسحاق  ( "سیرت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  ) اور امیر علی (
The Spirit of Islam) نے یہودیوں کی اس بد تمیزی کے بہت سے واقعات لکھے ہیں ۔ ان کے مطابق یہودیوں نے اکیلی دھکیلی مسلمان خواتین پر دست درازی اور مجرمانہ حملے بھی شروع کر دئیے تھے ۔ 
ایک بار مدینہ میں تین یہودی دکاندار وں نے ایک مسلمان لڑکی کو بازار میں پکڑ لیا اور اس کے کپڑے پھاڑ کر اس کے ارد گرد ناچنے اور فحش گانے گانے لگے ۔ مسلمان یہودیوں پر ٹوٹ پڑے ۔ مدینہ میں مسلمانوں اور یہودیوں میں خونریز فساد ہو ا ۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے یہودیوں کے ایک مذہبی پیشوا کعب بن الاشرف کو گر فتار کر اکے سزا ئے موت دے دی کیو نکہ مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی تو ہین آمیز اور خطرناک کارروائیوں کی ہدایت کاری یہی شخص کر تاتھا۔
ان اسرائیلیوں نے مسلمانوں کے دشمن قریش کو جنہوں نے رسول خدا   صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کے قتل کی قسم کھائی تھی ، تمام راز دئیے اور قریش کو یہ بھی بتا یا کہ جنگ میں مسلمانوں کی کتنی نفر ی آ رہی ہے ۔ یہودی بظاہر مسلمانوں کے دوست بنے رہے لیکن تمام راز بُت پر ستوں کو پہنچاتے رہے ۔
یہودیوں نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کو قتل کی بھی سازش کی ۔ معرکہ خیبرکی فتح کے موقعہ پر ایک یہودی عورت نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کو عقیدت کے دھوکے میں اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا ۔ ابن اسحاق نے یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا :
” رسول کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم زینب بنت الحارث زوجہ سلام بن مشکم کے گھر ذرا آرام فر ما رہے تھے ، اس عورت نے ایک سالم دنبہ بھو نا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  سے پو چھا کہ آپ کو دنبے کا کون سا حصہ پسند ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے دستی بتائی ۔ زینب بن الحارث نے آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کے آگے دستی لا کے رکھ دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے ذرا سا گوشت منہ میں ڈال کر اگل دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کے ساتھ بشر بن البارا تھے ۔ انہوں نے ایک بوٹی کاٹ کر کھا لی آپ  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے فر مایا کہ اس گوشت میں زہر ملا ہو ا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے زینب بن الحارث کو بلا کر کہا تم نے گوشت کے اس ٹکڑے میں زہر ملایا ہے ۔ اس یہودن نے اس وقت اقبال جرم کر لیا جب بشر بن البارا فوت ہو گئے ۔”
ابن اسحا ق لکھتا ہے : 
 "مروان بن عثمان نے مجھے بتا یا تھا کہ رسول خدا آخری بیماری میں مبتلا تھے ۔ آپ نے وفات سے دو تین روز نے پہلے ام بشر البارا کو جب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  کے پاس بیٹھی تھی ، فر مایا تھا ۔ ” ام بشر !  میں آج بھی اپنے جسم میں اسی زہر کا اثر محسوس کر رہا ہوں جو میں نے منہ میں ڈال کر اگل دیا تھا ۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ رسول اللہ کی آخری بیماری کا باعث اسی زہر کا اثر تھا ۔”

محمد حسین ہیکل (Muhammad Husain Haekal) نے اپنی کتاب Umar Farooq The Greatمیں حضرت عمر کے قتل کا واقعہ میں لکھا ہے کہ کعب الاہبر یہودیوں کا مذہبی پیشوا تھا ۔ اس نے حضرت عمر کے قتل کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا ۔وہ اس قتل کی سازش میں شریک تھا ۔ عباس محمود العقاد نے لکھا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ کعب الاہبر اگر قتل میں نہیں تو قتل کی سازش میں شریک تھا۔ 
حضرت عمر کے قتل کے بعد ایک فتنہ پرداز یہودی عبداللہ ابن سبا نے مسلمانوں میں سیاسی نوعیت کی بدامنی پیدا کی تھی جس کے نتیجے میں تیسرے خلیفہ حضرت عثمان قتل ہوگئے ۔

یہ تو معدودے چند مثالیں ہیں ۔ اسلام کے خلاف یہودیوں کے جرائم کی داستان چند صفحوں میں سمیٹی نہیں جا سکتی ۔ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے یہودی اپنی عورتوں کی عصمت کو بڑے اہتمام سے ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں ۔ یہودی قوم میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ عصمت لوٹنے اور لٹانے کو یہودی جائز سمجھتے ہیں ۔ ہم آئندہ اس کی تفصیلات پیش کریں گے۔ 
یہودیوں کی تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہودی یورپ میں بکھر گئے اور جس ملک میں بھی آباد ہوئے وہاں کی حکومت پر چھاگئے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دولت اور عصمت کو استعمال کیا ہے ۔ یہودی ساہوکارہ ( سود پر قرض دینے ) کو اپنا پیشہ بناتے رہے ہیں ۔ وہ حکومتوں کو بھی قرضوں کے جال میں پھانس لیتے ہیں ۔ اس وقت امریکہ کا کاروبار اور سیاسی بازار یہودیوں کے سرمائے سے چل رہا ہے ۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی بھی معیشت یہودیوں کی مٹھی میں ہے۔ امریکہ ساری دنیا سے تعلق توڑے گا اسرائیل کی ناراضگی مول نہیں لے گا ۔ روس پر بھی یہودی اثرات ہیں ۔ روس اسرائیل کی ہی پشت پناہی کرتا ہے لیکن ظاہر یہ ہوتا ہے کہ روس اسرائیل کا دشمن ہے ۔ 
قارئین کو معلوم ہوگا کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی (Adolf Hitlerکے حکمران ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو ایسی بیدردی سے قتل کیا تھا جس کی مثال نہیں ملتی ۔ تفصیلات سنو تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً یہودیوں کو ان کی عورتوں اور بچوں سمیت ایک کمرے میں بھر دیا جاتا اور زہریلی گیس چھوڑ دی جاتی تھی ۔ دوچار منٹ میں تمام یہودی مرجاتے ۔ ان کی لاشیں زمین میں دبا دی جاتیں اور موت کے کمرے کو پھر یہودیوں کے کنبوں سے بھر دیا جاتا اور گیس چھوڑ دی جاتی ۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ایک وسیع و عریض اور گہرا گڑھا کھود کر یہودیوں کو اس کے کنارے پر کھڑا کر دیا جاتا اور ان پر مشین گنیں فائر کی جاتیں ۔ لاشیں گڑھے میں گرتیں تو مزید یہودیوں کو گڑھے کے کنارے پر لا کھڑا کیا جاتا ۔ یہ صحیح ہے کہ جرمنوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کی مثال نہیں ملتی لیکن یہودیوں نے جو صدیوں سے جر منی میں آباد تھے ، جس طرح جرمنی کی جڑیں کاٹیں اس کی بھی تاریخ مثال پیش نہیں کر سکتی ۔یہودیوں نے جرمنی کو بحیثیت قوم اور ملک تباہ کر نے کے لیے جر منی کے کلچر ، معاشرت اور کردار کو اپنے مخصوص اور مذموم طریقوں سے تباہ کیا ۔ ایک مشہور کتاب The Crisis of German Ideology میں اس کی تفصیلات ملتی ہیں اور ایک کتاب Psychology of Sex(جنس کی نفسیات) میں ایسے واقعات کھل کر بیان کیے گئے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہودیوں نے جنسی لذت پرستی سے قوموں کو خصوصاً جرمنوں کو کس طرح تباہ کیا ہے ۔ مثلاً اس کتاب میں ایک بین الاقوامی طور پر مانے جانے والے ماہر جنسیات ہنری ہیو لاک ایلس کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ جرمنی میں خوبصورت لڑکوں کا چکلہ یہودیوں نے کھو لا تھا ۔ایسے لڑکوں کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔
پاکستان جس میں فحاشی اور جنسیت زدگی میں مبتلا ہے یہ یہودی کی لائی ہو ئی وبا ہے ۔جن انگریزی فلموں پر پاکستانی ٹوٹ ٹوٹ پڑتے ہیں ان سب کے پروڈیوسر یہودی ہیں ۔ غور اس پہ کیجئے کہ یہ فلمیں جو یہودیوں کے سر مائے سے تیار ہو تی ہیں ان کا اسرائیل میں داخلہ ممنوع ہے ۔ پاکستان میں بعض ایسے رسالے جن میں جرائم اور جنسی جذبات کو ابھارنے والی کہانیاں شائع ہوتی ہیں ان کی پیٹھ پر یہودیوں کا ہاتھ ہے جو عوام کو نظر نہیں آسکتا ۔پاپ میوزک اور ڈسکو کے خالق یہودی ہیں ۔ہم جرمنی میں یہودیوں کی تخریب کاری کی بات کر رہے تھے ۔گیر لڈ- کے- سمتھ (Gerald Lyman Kenneth Smith) نے اپنی کتاب The International Jew میں لکھا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی نے جو شکست کھائی تھی ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ جرمن فوج کو محاذوں پر اسلحہ ، خوراک اور دیگر سامان پہنچانے کا کام یہودی کرتے تھے ۔ وہ فوج کو ناقص اسلحہ بارود سپلائی کرتے رہے ۔ انہوں نے جر منی میں جنگ کے دوران فیکٹریوں میں ہڑتالیں کرائیں اور ہنگامے بھی کرائے ۔امریکہ کی سرکاری پالیسیوں پر بھی یہودی اثرات تھے ۔ ان اثرات نے امریکہ کو بھی جنگ میں کودنے پر مجبور کر دیا ۔ اسرائیل کا قیام انہی خدمات کا صِلہ ہے جو یہودیوں نے انگریزوں اور امریکیوں کو بہم پہنچائی تھیں ۔پہلی جنگ عظیم میں حکومتِ برطانیہ نے یہودیوں کی مدد حاصل کرنے اور جر منوں کی جڑیں کاٹنے کے لیے بالفور ڈیکلریشن جاری کیا تھا جس میں تحریر ہے کہ بر طانیہ یہودیوں کی ” خد مات ” کے صلے میں صیہونی تحریک کی پشت پناہی کرے گا ۔ 
ایک جر من لیڈر جو لئیس سٹریشر  (Julius Streicher (12 February 1885 – 16 October 1946)کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے جو اُس نے ١٩٢٢ء میں کہے تھے : 
” میں ہزاروں مزدوروں کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دن بھر کی مشقت سے چور اپنے سامنے سے گزرتے ہو ئے دیکھتا ہوں۔ وہ اپنی پُر مصائب زندگی اور ناقابل برداشت مفلسی کی باتیں کرتے جاتے ہیں …… میرے سامنے سے کچھ ایسے لوگ بھی گزرتے ہیں جنہوں نے
بیش قیمت گرم کوٹ پہن رکھے ہیں ان کی گر دنیں موٹی اور پیٹ بڑھے ہو ئے ہیں ۔ یہ یہودی ہیں جو سیر کو نکلے ہیں ۔ وہ اپنے کاروبار اور منافع کی باتیں کرتے ہیں ۔” 
آگے چل کر جو لیئس سڑیشر کہتا ہے ۔ 
"تمام یہودیوں کا ایک ہی مقصد ہے ۔ ساری دنیا پر چھا نا یہودی پروٹسٹنٹ ہو یا کیتھولک وہ یہودی ہی رہتا ہے ۔ پرو ٹسٹنٹ اور کیتھولک پادریو تم!کیوں نہیں سمجھتے کہ تم نادانستہ طور پر یہودیوں کے "خدا ” کی عبادت کر رہے ہو ۔ یہ محبت کا خدا نہیں نفرت کا خدا ہے ۔ تم یسوع مسیح کی آواز کیوں نہیں سنتے جس نے یہودیوں سے کہا تھا کہ تم شیطا ن کی اولاد ہو ؟” ١٩٣٢ء میں اس مفکر اور معاشرتی علوم کے ماہر لیڈیر جولیئس سٹر یشر نے کہا تھا ۔ ” یہودی ہماری (جرمنی کی ) بد قسمتی ہیں۔” 
یہودیوں نے جو مذہبی ضابطے اور اصول بنا رکھے ہیں ان میں انسانی جان کی قربانی بھی شامل ہے ۔ وہ کسی غیر یہودی کو پکڑ کر اُسے اپنی خاص اور خفیہ عبادت گاہ میں قتل کرتے ہیں ۔ متعدد مصنفین اور مذہبی علوم کے ماہرین نے لکھا ہے کہ یہودیوں کی ایک خفیہ مذہبی کتاب ہے جو دراصل جرائم کے مختلف طریقوں کا مجموعہ ہے ۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ گزرا اسرائیلیوں نے ایک جر من ایشمین کو کسی اور ملک سے جا پکڑا اور اُسے اسرائیل میں لے گئے تھے ۔اس کے خلاف الزام یہ تھا کہ جنگ عظیم دوم میں جرمنی کی یہودیوں کی جو نسل کشی کی گئی تھی اس کا حکم دینے اور یہودیوں کے قتل میں ایشمین بھی شامل تھا اسے اسرائیل میں سزائے موت دے دی گئی تھی ۔ اس کے مقدمے کی کارروائی ایک جرمن ہنری – اے- زیگر  (Henry A. Zeiger) نے کتابی صورت میں چھاپی تھی The Case Against Adolf Eichmanاس میں لکھا :

  "مذہب کے نام پر قتل (انسانی قربانی) یہودیوں کے مذہبی قانون میں شامل ہے ۔ اس قانون کی خفیہ مذہبی کتاب Talmud اُن جرائم کا مجموعہ ہے جس کا ارتکاب یہودی روز مرہ کی زندگی میں کرتے ہیں ۔ یہودیوں کی روز مرہ کی زندگی جرائم کا مسلسل ارتکاب ہے ۔”
اسرائیلیوں کی نصابی مذہبی کتابوں میں جو بچوں کو پڑھائی جاتی ہیں ، ان میں لکھا ہے کہ یہودی کو حق حاصل ہے کہ وہ جس غیر یہودی کو چاہے قتل کر دے ۔

” خدائے یہودہ کی خوشنودی کے لیے یہودی جتنے بھی غیر یہودیوں کو قتل کر سکتا ہے کر دے۔ ”
فلسطینیوں اور ان کے بچوں کو نیپام بموں سے جلا ڈالنا اور لبنان میں شہری آبادی پر بے دریغ بمباری اور گولہ باری جس نے دنیا کو تڑپا دیا ہے یہ یہودیوں کی فطرت اور مذہب کے عین مطابق ہے ۔یہودی ضمیر کو قراردادوں اور تقریروں سے نہیں جھنجھوڑا جا سکتا ۔ہم جسے جرم اور گناہ کہتے ہیں وہ یہودیوں کا مذہبی فر یضہ ہے ۔

نازی جرمنی کی حکومت کو دوسری جنگ عظیم سے بہت پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ جنگ عظیم میں یہودیوں نے گھر کا بھیدی بن کر جرمنی کو شکست کی ذلت میں پھینکا تھا ۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے جرمن حکومت نے یہودیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی تھی ۔ متعدد یہودیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا ۔ایک روسی پالیا خوف نے ایک کتاب لکھی ہے Harvest of Hate (نفرت کی فصل ) اس میں مصنف نے یہودیوں کے متعلق خفیہ حقائق اکھٹے کر کے ان کی ایک دستاویز کا ذکر کیا جس میں لکھا ہے :

"یہودیوں کے ایک دانشور این سٹیٹب کی ایک تحریر یوں ہے ۔ ہمارے نظریات کے جو مخالفین ہیں ان کے خلاف ہمیں سائنٹیفیک اور ٹیکنیکل مو ادیوں تیار کر نا ہے جس طرح اسلحہ بارود کا ذخیرہ جمع کیا جا تا ہے (اپنے مخالفین کو اپنی مٹھی میں لینے کے لیے ) اور یہودہ ازم اور فری میسنری کے فر و غ کے لیے لائبریریاں قائم کر نی ہوں گی …….. ہمیں فلموں ، پوسٹروں ، کتابوں ، رسالوں گراموفون ریکارڈوں ( جو آج کل کیسٹوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں ) اور تمام تر ذرائع کو بروئے کار لا کر اپنے نظریاتی مخالفین کو اپنے راستے پر لانا ہے ۔ ” 
اس کتاب میں لکھا ہے کہ اس منصوبے کے تحت یہودیوں کی سب سے بڑی لائبریری امریکا میں قائم کی گئی تھی ۔ یورپ میں بھی لائبریریاں کھولی گئیں جو روز بروز پھل پھول رہی ہیں ۔

جس طرح یہودی اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے ایک ملک سے دھتکارے ہوئے دوسرے ملکوں کو بھاگتے رہے ہیں ۔ اسی طرح دوسری جنگِ عظیم کے شروع ہوتے ہی جرمنی سے یہودی بھاگنے لگے ۔ پالیا خوف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جرمنی میں رہنے والے چالیس فیصد یہودی فلسطین چلے گئے اور وہاں پاؤں پسارنے لگے لیکن جرمنوں نے فرار کا راستہ روک لیا اور ساٹھ لاکھ یہودیوں کو کیمپوں میں قید کر لیا ۔ یہ  کیمپ جہنم سے کم نہ تھے ۔ انہیں ناکافی کھانا دیا جاتا ۔ مشقت زیادہ کرائی جاتی ۔ ان کی جوان عورتوں کو جرمن فوجی اپنی تفریح کے لیے استعمال کرتے اور ہر روز بہت سے یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ۔

ایک وقائع نگار ایوجن کوگون نے اپنی کتاب The Theory and Practice of Hellمیں لکھا ہے کہ ان جہنم نما کیمپوں میں جہاں یہودیوں کے لیے مشقت ، اذیت اور موت کے سوا کچھ بھی نہ تھا یہودی جنسی عیاشی کو نہ بھولے ۔ انہوں نے جرمنی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کیمپوں میں عصمت فروشی کے اڈے قائم کیے جائیں کیونکہ قیدی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ چنانچہ ہملر نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ یہودیوں کے قیدی کیمپوں میں اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر تک کی عورتیں بھیجی جائیں ۔ اس حکم کے مطابق ہر کیمپ میں ایک الگ مکان تعمیر کرکے وہاں عصمت فروشی کے اڈے بنائے گئے ۔ ان میں یہودیوں کی اپنی لڑکیاں رکھی گئیں اور یہودی ان سے اپنی ” ضرورت ” پوری کرتے رہے ۔

انسان کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو گناہوں سے توبہ اور خدا کو یاد کرتا ہے مگر یہودیوں کی فطرت اور
ان کے ” خدا ” کو گناہ مرغوب ہیں ۔ ١٩٧٢ء میں جب مصریوں نے اچانک حملہ کرکے اسرائیل سے نہر سویز آزاد کرالی اور سینائی سے اسرائیلیوں کو دور پیچھے ہٹادیا تو یہودیوں کے اپنے ہفت روزہ ” نیوز ویک ” میں جو عالمی شہرت یافتہ جریدہ ہے ، یہودیوں کی نفسیاتی کیفیت کے متعلق ایک مضمون شائع ہوا تھا ۔ اس میں ماہرین اور شاہدوں نے لکھا تھا کہ اسرائیلی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔اس خوف سے ذرا نجات حاصل کرنے کے لیے اسرائیلیوں نے اپنے آپ کو جنسی آزادی دے لی ہے ۔ وہ سرعام فحش حرکات اور جنسی فعل بھی کرتے ہیں۔

انہی مختصر سی مثالوں سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہودی کی فطرت کیا ہے اور اس فطرت کے لوگوں کے ساتھ ہمارا روّیہ کیا ہونا چاہیئے ۔ 
اسی کتاب میں ایک مؤرخ اور بشپ یوسیئس کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہودیوں نے ایک جنگ کے بعد روم کی فوج سے تیس ہزار عیسائی جنگی قیدی صرف قتل کرنے کے لیے خریدے تھے ۔ ان بد نصیبوں کو یہودیوں نے اس طرح قتل کیا تھا جس طرح بچے کوئی کھیل کھیلتے ہیں ۔ وہ ان عیسائیوں کو قتل کرتے اور ناچتے اور گاتے تھے ۔ 
ایک اور دانشور کومر کلارک نے اپنی کتاب The Savage Truthمیں اِیشمین کا جس کا اوپر ذکر آچکا ہے ، ایک بیان شامل کیا ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ اِیشمین سے زیادہ یہودیوں کی فطرت کو اور کوئی نہیں سمجھتا تھا ۔ اِیشمین کے تحریری بیان کے مختصر سے اقتباسات ملاحظہ کیجئے :
” اپنے آپ کو بحیثیت قوم زندہ و پائندہ رکھنے کا جو احساس یہودیوں میں ہے وہ کسی اور قوم میں نہیں ۔ یہی احساس ہے جو انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے ۔ یہودیوں کا ذہن سینکڑوں صدیوں نے بنایا ہے ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ یہودیوں میں قربانی کا مادہ بھی ہے ۔ وہ متحد ہو کر بھی ایک دوسرے کو لوٹ لیتے ہیں ۔ ہر یہودی کی راہنمائی اس کی اپنی فطرت کرتی ہے ……….”
” یہودیوں کا اپنا کوئی کلچر نہیں ۔ ان کا جو کلچر ہے وہ دوسری قوموں سے چرایا ہوا اور اپنی فطرت کے سانچے میں ڈھالا ہوا ہے ……. یہودی ہر ملک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے مذہب کی آڑ میں اپنا الگ تھلگ معاشرہ بنا رکھا ہے ۔ ” 
ذہن میں رکھیے کہ یہ تحریر اس وقت کی ہے جب فلسطین کو ابھی اسرائیل نہیں بنایا گیا تھا ۔ ایشمین کہتا ہے : 
” یہودی پیدائشی جھوٹا ہوتا ہے اور دروغ گوئی کا لازمی سمجھتا ہے ۔ وہ اپنے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دوسری قوموں کے خلاف جرائم میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔ بعض یہودی تعلیم وغیرہ کی بدولت ایسا بہروپ دھارتے ہیں کہ انگریز یا فرانسیسی لگتے ہیں ۔ وہ خوشامد اور رشوت سے اپنا کام نکالتا ہے ۔ اسے رائے عامہ کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں ہوتی ۔ یہودی کوئی بھی زبان بولے کسی بھی ملک کا باشندہ ہو وہ اندر باہر سے یہودی ہوتا ہے …..” 
” یہودی کا دماغ سازشوں کے تانے بانے بنتا رہتا اور جنگ چھیڑنے کی ترکیبیں سوچتا رہتا ہے ۔ وہ دوسری قوموں کو آپس میں لڑا کر منافع کماتا ہے ۔ وہ حکومتوں اور مملکتوں کو اپنے مال و دولت سے زیرِ اثر رکھتا ہے ۔ عوام کو ان کے لیڈروں کے خلاف کرتا اور ان کی تاریخ کا مذاق اڑاتا ہے ۔ وہ ہر طریقے سے دوسروں کو غلاظت میں پھینکنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ جس چیز کو چھوتا ہے اسے بگاڑ دیتا ہے ، یہ خواہ  دوسروں کا آرٹ ہو ، لٹریچر یا فلم ہو ۔ وہ حسن اور قدرت کی رعنائیوں کا مذاق اڑاتاہے ۔ مذہب اور اخلاق کو وہ قدیم فیشن سمجھتا ہے ……اگر اسے اقتدار اور طاقت مل جائے تو وہ بڑا ظالم حکمران بن جاتا ہے پھر اپنی رعایا کو اس کے لیڈروں سے محروم کردیتا ہے تاکہ عوام کو اپنا غلام بنا سکے ۔ "
ایک مشہور کتاب The Jewish State میں ایک یہودی دانشور تھیوڈور ہرزل کا بیان جو اس نے اپنی کتاب Judenstaat ( ١٨٩٧ء میں لکھی
گئی ) میں شامل ہے ، قابل غور ہے ، وہ کہتا ہے : 
” لوگ جمہوریت کے قابل نہیں ،نہ مستقبل میں اس کے قابل ہو سکیں گے ۔ پارلیمنٹ میں پُرمغز اور پختہ پالیسیاں نہیں بن سکتیں ۔ صرف شخصیتیں جو تاریخ کی قوت کی پیداوار ہیں لوگوں کی خواہشات کو پورا اورملک کے مفادات اور تحفظ کا بہتر اہتمام کر سکتی ہیں ۔ یہی شخصیتیں ہیں نہ کہ عوام جو حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں ۔ عوام پر انہی شخصیتوں کی مرضی اور خواہش مسلط ہونی چاہیئے۔”

اس سے یہودیوں کا مطلب شخصی حکومت اور ڈکٹیٹر شپ سے ہے ۔
  
فلسطین کو اسرائیل بنانے کے لیے انگریزوں اور امریکیوں نے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس کا نام تھا : Plestine Royal Commission اس میں لکھا ہے : 
"صہیونی لیڈروں نے ہم سے پختہ وعدہ کیا تھا کہ اگر اتحادی ( امریکا ، برطانیہ، فرانس ) انہیں فلسطین کو اسرائیل بنانے کی سہولتیں مہیا کریں تو وہ تمام دنیا کے یہودیوں  کے جذبات اور حمایت کو اتحادیوں کے مفادات کے لیے وقف کردیں گے ۔ یہودیوں نے اپناوعدہ پورا کردیا ہے ۔ ” 
والٹربیڈل سمتھ (Walter Bedell "Beetle” Smith (5 October 1895 – 9 August 1961))نے اپنی کتاب My Three Years in Moscow میں لکھا ہے : 
"روس میں یہودیوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھنے دی جاتی ۔ یہ وہاں کی سرکاری پالیسی ہے لیکن جو یہودی روس کی حکومت ، سفارت اور افواج میں اعلیٰ رتبوں تک پہنچ گئے تھے ۔ انہیں وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ روسی حکومت کو معلوم ہے کہ یہودیوں کے تعلقاتدوسرے ملکوں کے ساتھ ہیں اور یہودیوں سے وفاداری کی توقع رکھنا خطرناک ہے ۔ "
 اتحادی ملکوں نے جب فلسطین کو اسرائیل بنا دیا تو وہاں یہودیوں کی آبادی خاصی تھی ۔ انہوں نے فلسطینی مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا لیا ۔ انہوں نے اسلام کا مذاق یوں اڑایا کہ یہودی مرد اور یہودی عورتیں مسجدوں میں جا کر بدکاری کرتے اور اس حالت میں تصویریں اترواتے اور دوسروں کو دکھاتے تھے ۔ ہم نے ایک فوٹو دیکھی ہے جس میں ایک یہودی اور یہودی عورت کے ساتھ ایک مسجد کے اندر اختلاط میں مصروف ہے اور ایک یہودی ان کے پاس کھڑا ہنس رہا ہے ۔ 

 اینگلو امریکی بلاک نے یہودیوں کو فلسطین دے کر اسےاسرائیل کا نام دے دیا اور جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ میں یہودیوں نے مسلمان ممالک کی کمزوری اور عدم اتحاد سے فائدہ اٹھا کر بہت سے عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ اس طرح ان کی دو ہزار سال پرانی آرزو پوری ہوگئی ۔ انہوں نے بیت المقدس بھی لے لیا جسے اب وہ اسرائیل کا دار الحکومت بنا رہے ہیں ۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s