(ولا تقربوا الزنا)


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

(ولا تقربوا الزنا)

And Do Dot Come Near Adultery

محمد عالمگیر ( سڈنی ، آسٹریلیا )

ترجمہ : ابو عمار سلیم

 آزادیٔ نسواں کی جو عالمگیر تحریک آج ہمیں بڑی شد ومد سے ساری دنیا پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے، وہ صرف صدیوں پر محیط مردوں کی برتری کےرد عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دنیا کے تقریباًتمام معاشروں میں ہزاروں برسوں سے جاری و ساری ناروا ظلم اور زیادتیوں کے احتجاج کا ایک عملی مظاہرہ بھی ہے جو ہر دور کے تہذیبی ادوار میں مختلف اقسام کی نا انصافیوں سے مزین رہا ہے ۔ حقوق آزادیٔ نسواں کی تحاریک جو آج عرف عام میں عورتوں کی آزادی کے نعرے میں تبدیل ہوچکی ہے بڑی حد تک اسی ظلم و ناانصافی کی ہی پیدا وار ہے جسے آج آواز مل گئی ہے اور اسی رویہ کی ایک منطقی توجیہ ہے جو آج کے معاشرہ  کے زندگی گزارنے کے آداب کے اصولوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔5 And Do Dot Come Near Adultery (((AlWaqiaMagzine.wordpress.com)))

 
خواتین کی آزادی کے مطالبے اور عملی زندگی میں معاشرتی تبدیلی دو مختلف ہمہ جہتی چیزیں ہیں جو ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگ اس بات کے معترف ہو رہے ہیں کہ چونکہ خواتین ہماری زندگی میں حصہ دار ہیں اس لیے انہیں مردوں کی برابری کے حقوق اور ویسی ہی مراعات بھی ملنی چاہئے۔ انہی دونوں رویوں سے متصل ایک ایسا عجیب رویہ بھی اس جدید معاشرے میں پروان چڑھ رہا ہے جو حیوانیات کے بہت زیادہ قریب ہے اور مسلسل بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔بہنظر غور دیکھا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ موجودہ دور کا ،یہ حیوانی اور وحشیانہ جذبہ پرانے دور کی مردانگی کے رویوں اور اس کی ضروریات کے ہم پلہ نہیں ہوسکتا ۔
حیوانیت کا یہ جدید دور اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کی بقا کے لیے ایک ایسے رفیق کی ضرورت ہے جو کہ نہ صرف یہ کہ اس کا ہم پلہ ہو بلکہ اس کو اس بات کی ضمانت بھی مہیا ہو کہ اس کو ہر طرح کی کامل آزادی حاصل ہے اور وہ اپنی اس آزادی کو جیسے چاہے اپنی
مرضی سے استعمال بھی کرسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آزادیٔ نسواں نے عورتوں کو مردوں کی ہزاروں برس کی برتری سے نجات بھی دلا دی اور حیوانیت کے جذبہ کی بقا کا نہ صرف یہ کہ راستہ بھی ہموارکردیابلکہ اس کی ترقی اور ترویج کے لیے بھی مددگار ہوگئی۔
 
مزید آگے بڑھنے سے قبل اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جب ہم معاشرہ کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم معاشرے کے بعض اقدار کی طرف بھی منصفانہ نظر ڈالتے ہیں ۔ ایسا کرنے پر ہماری توجہ ان چیزوں کی طرف بھی مبذول ہوتی ہے جو انہی حیوانی رویوں کی غماز ہوتی ہے۔قدرتی طور پر ہمیں ان حیوانی رویوں سے منافرت پیدا ہوتی ہے اور ہم ان کو  اسی وجہ سے ناپسند بھی کرتے ہیں۔زندگی کو کسی خاص انداز فکر سے دیکھنے کی بجائے اس کی مکمل تصویر دیکھنی چاہئے۔ مذہب ، اخلاقیات کے ساتھ دیگر ثقافتی اور تہذیبی پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہی چیزیں ہیں جو ہمیں زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھنے میں مدد دیتی ہیں ۔ان کا اپنا ذاتی کوئی مقصد نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ یہ تمام معاملات کو ایک دوسرے کی مدد سے سمجھنے میں مددگار ہوں اور اخلاقیات کا ایک مکمل اور واضح ڈھانچہ سامنے آجائے۔ 
انسانیت کی تخلیق کا سب سے بڑا مقصد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حاکمیت کا اقرار اور اس کی عبودیت کی طرف کامل توجہ کا مبذول ہونا ہے۔انسانی فطرت کاسب سے زیادہ طاقت ور جذبہ عورتوں اور مردوں کا باہمی اختلاط ہے اور اس کے ذریعہ سے آرام اور سکون حاصل کرنے کے ساتھ نسل انسانی کو آگے بڑھانا ہے۔ اگر یہ باہمی اختلاط صرف سکون حاصل کرنے کے لیے ہوتا تو تمام کے تمام تہذیبی اور تمدنی اقدار ایک مختلف شکل اختیار کرتے اور ان کا ڈھانچہ موجودہ صورت سے بہت مختلف ہوتا۔ مگر چونکہ اس باہمی التفات کا مبتدا اور منتہا نسل انسانی کو آگے بڑھانے کے عمل کو تقویت دینا ہے اس لیے موجودہ تمدنی اور ثقافتی ڈھانچہ مختلف شکل میں پروان چڑھا جس کے نتیجہ میں شادی کے قوانین ، خاندان کی پہچان اور اس کا مضبوط بندھن ، زمین و جائداد سے متعلق قوانین کا اجرا وغیرہ اسی بندھن کی وجہ سے روپذیر ہوا۔ نتیجہ کے طور پر یہی قوانین اور معاشرتی پابندیاں  پورے معاشرے کے لیے راہ ہدایت بن گئیں جن کی پابندی اور ان پر عمل باہمی مفاہمت اور آرام و سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئیں۔
 
ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ ماضی میں حضرت انسان نے ان معاشرتی قوانین کی اکثر و بیشتر پابندی نہیں کی اور ان اقدار کو پامال کیا اور باہمی قربت اور سفلی جذبات کی تسکین کی خاطر ان مقرر شدہ حدود کی خلاف ورزی کی۔اسی بھٹکاوے سے بچاؤ کی خاطر اللہ رب العزت نے انسان کی ہدایت کے لیے اپنا ہدایت نامہ جاری کیا اور ارشاد ہوا کہThou shall not commit adultery (” تم زِنا نہ کرنا ” دیکھئے کتابِ مقدس ، پرانا عہدنامہ، کتابِ خروج، باب ٢٠،  آیت ١٤۔ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی ، انار کلی ،  لاہور)۔ مگر وہ لوگ جن کے لیے یہ ہدایت نامہ جاری ہوا تھا انہوں نے اس ارشاد ربانی کی روح پر عمل کرکے اپنی زندگی کو تشکیل دینے کی بجائے اپنی بدنیتی اور سفلی جذبات کی تسکین کے لیے اس  ہدایت نامہ کے الفاظ کو توڑنا مروڑنا شروع کر دیا۔
 
جب زنا کا ارتکاب ہوتا ہے تو دونوں فریقوں نے معاشرے اور اللہ کے احکامات کو توڑ دیا ہوتا ہے اور ایک گناہ کا کام کرلیا ہوتا ہے۔ زنا دراصل مرد و زن کے ملاپ کا وہ عمل ہے جو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں دونوں آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ گھلتے ملتے ہیں۔یہی آزادی ، جذباتی وارفتگی اور جنون کو جب کھل کھیلنے کا موقع مل جائے تو پھر زنا کا ارتکاب ہوتا ہے۔ مشرق و مغرب دونوں علاقوں کی روایتی تہذیبوں نے اس قسم کی آزادی کی روک ٹوک کے لیے پابندیاں  عائد کی تھیں تاکہ آزادی ، آتش شوق اور بلا روک ٹوک ملاپ کا عمل رک جائے ۔ ایسی صورت حال میں Thou shall not commit adultery  یعنی ” تم زنا کا ارتکاب نہیں کروگے ” کے حکم کی پاسداری مکمل ہو جا تی تھی۔ مگر ایسا ہوا کہ جب اس حکم سے صرف نظر ہوا تو  پھرnot commit adultery یعنی ” زنا کاارتکا ب مت کرو ” پر زور صرف ہونا شروع ہوگیا۔ اور معاشرہ کے وہ قیود جو اس عمل کو روکنے میں معاون تھے ان کو بالکل بھلا دیا گیا اور وہ تمام قیود و پابندیاں جو اس فعل بد کو روکنے میں معاون تھیں ان کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہی۔
 
یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے ان معاشروں میں لوگوں کے لیے نیم برہنہ اور کم سے کم لباس زیب تن کرکے ہر عمر اور ہر رشتہ کے ساتھ ساحل سمندر پر جانا کوئی بری بات رہی اور نہ ہی نا موزوں عمل رہ گیا۔ اور پھر بچوں کو کم سنی سے ہی اس قسم کی بے ہودگیوں کو غیر اخلاقی چیز نہ سمجھنے کا درس مل گیا اور یہ صورت حال تہذیبی اور معاشر تی اقدار میں شامل ہوگئی اور قابل قبول بن گئی۔اور اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کا صنف مخالف سے کوئی دوست نہ بنے تو والدین پریشان ہوجاتے ہیں اور اپنے بچوں کو لے کر نفسیاتی معالجوں کے پاس چکر لگانے لگتے ہیں تاکہ ان کی بیماری دور ہو سکے۔ بچوں کی اسی اخلاقی تربیت کی خاطر اسکولوں میں انتظامیہ کی طرف سے سالانہ تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں نوجوان جوڑوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ التفات بڑھانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے تاکہ اجنبیت بھی دور ہو اور باہمی تعلقات کی راہ بھی ہموار ہوسکے۔
 
اس طرح کے وجود میں لائے گئے تہذیبی اور ثقافتی رواج کو اب ان معاشروں میں قبولیت حاصل ہوگئی ہے اور وہ معاشرہ جسے Thou shall not commit adultery   کا حکم دیا گیا تھا اس کے لیے یہ رویہ نہ تو نا روا رہا ہے اور نہ ہی گناہ۔اب وہ لوگ شادی کے بغیر ایک ساتھ رہ سکتے ہیں بلکہ یہ کہیں کہ شادی کی اب ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ نتیجہ کے طور پر آزادی ، باہمی اختلاط اور نفسانی خواہشات پر پابندی لگا کر زنا کے مواقع کے آگے رکاوٹ کھڑی کرنے کی بجائے ان کو مزید ہوا دی گئی ہے اور ان لوگوں نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے لیا ہے جو ان سفلی جذبات کو اور بھی بھڑکاتا ہے اور اللہ کے اس انتہائی پاکیزہ حکم کی روح اور الفاظ کے معانی دونوں کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا گیا ہے۔
 
احکام ربانی کے اس انکار نے ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا ہے جس نے برہنہ جسم کے پینٹ کرنے کو ایک فن بنا دیا ہے۔ برہنہ پارٹیوں، کلبوں اور کالونیوں کا قیام بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔ جسم کی زیادہ سے زیادہ نمائش ، بد زبانی بد کلامی اور غیر مہذب جملوں کا ڈراموں اور فلموں میں استعمال بھی اسی اخلاقی گراوٹ کا حصہ ہے ۔ موسیقی اور بچوں کے ویڈیو گیم بھی اسی بہیمانہ درندگی کے سکھانے کا ایک ذریعہ ہیں ۔ فیشن پریڈ اور مقابلہ حسن کے نام پر نسوانی جسموں کی نمائش زور و شور سے جاری ہے ۔ کسی بھی ٹی وی کمرشل پر کوئی سا بھی اشتہار بغیر انسانی خرمن ہوش و حواس پر بجلیاں گراتی ہوئی نیم برہنہ نسوانی نمائش سے خالی نہیں نظر آتا ہے۔
اور پھر حیرت یہ کہ یہ تمام کاروائیاں ان ممالک میں ہورہی ہیں جہاں کہا جاتا ہے کہ نسوانی آزادی اپنے نقطہ عروج تک پہنچ چکی ہے۔
 
اوپر بیان شدہ ربانی حکم کے بالمقابل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بھیجا ہوا آخری پیغام جسے بغیر کسی تحریف کے اللہ نے قائم رکھا  ہے کہتا ہے کہ(و لا تقربوا الزنا )  یعنی زنا کے قریب بھی مت جاؤ ( سورة بنی اسرائیل:  ٣٢) ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا پچھلا پیغام حکم دیتا ہے کہ ” تم زنا مت کرو ” جیسا کہ ان الفاظ کو سمجھا گیا ہے اس کی رو سے ایسا لگتا ہے کہ یہ حکم دیا جارہا ہے کہ ” جو دل میں آئے کرو مگر زنا کے عمل سے دور رہو "ایسا لگتا ہے کہ اس حکم کی اسی بگڑی ہوئی شکل کو عالمگیر طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ اسی خیال کو تقویت دے کر اس حکم کے پوری روح کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ اور اسی کے گردا گرد رہتے ہوئے جدید مغربی تہذیب کے تانے بانے بنے گئے۔اس کے بالمقابل اللہ رب العالمین کا آخری پیغام انسانیت کے نام جو قرآن مجید فرقان حمید میں آیا وہ انتہائی واشگاف الفاظ میں بغیر کسی ڈھکے چھپے الفاظ کے استعمال کے یہ پیغام دے رہا ہے ” زنا کے ارتکاب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ تمہیں حکم ہے کہ ایسے تمام معاملات اور حرکات سے بھی دور رہو جو تمہیں زنا کے قریب لے جانے والا ہو۔” یہ حکم صاف اور واضح انداز میں یہ بتا رہا ہے کہ جتنا عظیم گناہ زنا کا ارتکاب ہے اتنا ہی بڑا گناہ زنا کے قریب جانے کی کوشش کرنا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی چیزیں ہیں جو "زنا کے قریب لے جانے والی ہیں” اور پھر یہ بھی کہ قریب جانے سے کیا مراد ہے اور یہ بھی کہ کس حد تک قریب جاسکتے ہیں کہ جس کے بعد یہ قربت خطرناک ہوسکتی ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب بھی قران حکیم میں ہی موجود ہے۔سورة مبارک نور کی آیات ٣٠
اور ٣١  میں مردوں اور عورتوں دونوں کویہ بتا رہی ہیں کہ ” ایک دوسرے کی موجودگی میں اپنی نظروں کو نیچے رکھو ” ہم یہ بات بغیر کسی اشتباہ کے کہہ سکتے ہیں کہ وہ معاشرہ جو غض بصر کے اس حکم کا تابع رہا ہے وہ جدید دور کے مادر پدر آزادمعاشرہ کے ان تمام عناصر سے میلوں دور رہا ہے جن کا تذکرہ پہلے گذر چکا ہے۔اس کے ساتھ ہی عورتوں کو یہ حکم دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈھیلے ڈھالے لباس میں ملبوس رکھیں اور اچھی طرح اپنے کو چھپا رکھیں تاکہ ان کی خوبصورتی ، ان کی آرا ئش اور ان کے جسم کی نمائش نہ ہو۔ یہ حکم ربانی ،خواہشات نفسانی اور انسانی وحشیانہ پن کے تمام دروازوں کو مکمل طور پر بند کرکے اس تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ہے۔ 
یہ دونوں احکام ربانی یعنی نظروں کو نیچا رکھنا اور جسم کی نمائش نہ کرنا ، کے احکامات کو جن معاشروں نے اپنایا ہے ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے معاشرے کو زنا اور حرام کاری کے ارتکاب سے محفوظ کرلیا ہے۔ ان معاشروں نے عورتوں کو مردوں کی ہوس کا نشانہ بن جانے سے حفاظت عطا کی ہے۔اس معاشرے نے اپنی عورتوں کو وہ اعلیٰ مقام دلانے میں بڑا مثبت کردار ادا کیا ہے جو عورتوں کو بطور
مردوں کی ماں ہونے کے ایک عظمت اور عزت کا مقام دیتا ہے۔آزادیٔ نسواں کی جدید تحاریک نے کوشش کی تھی کہ مردوں کے ناجائز  اختیارات کو ایک مناسب حد میں مقید کرکے مردوں کے اختیارات کو چیلنج کیا جائے۔مگر ہوا یوں کہ عورتیں بے چاری الٹا ان ناروا معاملات کا شکار ہوگئیں جن کے تحت ان کے نزدیک آزادیٔ نسواں اور برابری کا ایک بگڑا ہوا نظریہ پیش کیا گیاجس نے ان کو پہلے سے بھی زیادہ اس بات کے قریب پہنچا دیا جہاں وہ مردوں کے لیے کھلونا  اور دل بہلانے کا سامان بن کر رہ گئیں۔اور ان تمام باتوں نے ان معاشروںمیں زنا کے ارتکا ب کو  ایک مسلسل اور نہ ختم ہونے والے محرک میں تبدیل کردیا ہے۔
 
پہلے والے حکم الٰہی کے عطا کیے جانے والے لوگوں کو قرآن بڑی عزت دے کر ” اے اہل کتاب ” کے نام سے یاد کرتا ہے۔مگر بہ یک جنبش قلم اس حکم کے ساتھ یہ کہہ کر کہ ( و لا تقربوا الزنا ) ایک ایسے معاشرے کی بنیاد ڈال دی جو ” اہل کتاب ” کے کردار اور ان کے مقرر کردہ اہداف سے بہت دور اور انتہائی پاکیزہ ہے۔
 
قرآن مجید فرقان حمید کے احکامات کے مطابق نسل انسانی کو آگے بڑھانا ایک بڑا ہی مہذب اور پاکیزہ معاملہ ہے ۔ اس معاملہ کو روح کی
بالیدگی اور پاکیزگی کے ساتھ ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ اس روحانی ملبوس کے ساتھ جو نئی زندگی شروع ہو اس کا مزاج ہی پاکیزگی اور نفاست سے مخمور ہو ۔ اس بات کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ زنا کا ارتکاب ہو تو اس کی سزا ایک سو کوڑے مقرر ہے جو بغیر کسی رو رعایت کے لگائے جائیں گے اور اس میں کوئی چھوٹ بھی نہیں ہے خواہ  اس کے نتیجہ میں ملزم کی موت بھی واقع ہو جائے۔موت کی سزا اسلامی احکامات میں قتل کے ملزموں کے لیے رکھی گئی ہے مگر اس میں یہ رعایت موجود ہے کہ مقتول کے وارثین چاہیں تو قاتل کو معاف کردیں ۔ مگر زنا کے مرتکب کے لیے ایسی کوئی معافی نہیں ہے۔یہ سزا ہر صورت میں دی جائے گی اور کوئی اس کو معاف نہیں کرسکتا۔
مرد اور عورت کا ملاپ بنیادی طور پر ایک حیوانی عمل ہے مگر حضرت انسان یقینا حیوانوں سے برتر ہیں اور ان کے نزدیک زندگی ایک روحانی ہدف کے حصول کی جدوجہد سے ملوث ہے۔اسی لیے اس حیوانی عمل کے قریب جانے سے قبل اس کو ایک حد میں مقید کرنے کے لیے اور ذاتی عمل تک رکھنے کے لیے ہمارے یہاں ” حیا ” کا تصور موجود ہے ۔ حیا کے تصور کو انگریزی کے مختلف الفاظ جیسے Shyness, Shamefulness, Bashfulness وغیرہ  سے ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ معاشرے جن کے یہاں بے شرمی اپنے انتہائی عروج پر ہے حیا  جیسے خالص روحانی تصور کو اپنی زبان میں ادا بھی نہیں کر سکتے ، جب کہ اس کے برخلاف اسلام نے ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا ہے جہاں ‘حیا’ ایمان کا ایک جزو لازم ہے۔اس موقع پر قرآن پاک کی ایک انتہائی خوبصورت آیت کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جہاں سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہونے والی زوجہ محترمہ شرماتی لجاتی ان کے پاس تشریف لاتی ہیں تو قرآن ان کے اس شرمانے کو اس طرح بیان کرتا ہے:
 
فَجَا ئَتْہُ اِحدَا ھُمَا تَمشِی علیٰ اسْتِحْیائِ)
یعنی  "پھر ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔” (سورة قصص :٢٥)
 
آخر میں یہ بات بلا شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ توراةِ مقدس میں وہ سچ موجود ہے جو مرد و زن کے تعلقات کو بیان کرتا ہے ۔ مگر قرآن مجید فرقان حمید کے الفاظ میں سچ بھی ہے اور ایک بے انتہا خوبصورتی کا عنصر بھی ہے ۔ وقت گذرنے کے ساتھ انسان نے اس سچ کو جو خوبصورتی کے بغیر تھا ، بری طرح مسخ کر کے اللہ سے بغاوت کی ہے ۔ اور یہی وہ بغاوت ہے جو تمام قسم کے گناہوں کا نقطہ آغاز ہے ۔ چاہے وہ اللہ کے ساتھ شرک ہو یا اللہ کی ذات کا کفر ہو یاپھر نفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرعون مشرک بھی تھا اور کافر بھی ، پھر بھی اللہ تعالیٰ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہتا ہے کہ "فرعون کے پاس جاؤ اس نے بغاوت کی ہے ۔”
(سورة النازعٰت، :١٧۔  اور سورة طہٰ : ٢٤)۔
 
آئیے اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بغاوت کو سمجھنے کی توفیق عطا کریں جو ہمارے اندر موجود ہے اور ہمیں وہ طاقت اور ہمت اور جذبہ عطا کریں کہ ہم خود اپنے اندر سے ، اپنے رویوں سے اور اپنے معاشرے سے بغاوت کے ان تمام عناصر کی بیخ کنی کریں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جو بغاوت کے قریب لے جائیں۔ آ مین یا رب العالمین۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s