زوالِ نعمت کے اسباب


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/مئی، جون 2013

زوالِ نعمت کے اسباب

شیخ الاسلام حافظ ابن القیم الجوزیة رحمہ اللہ کی مایہ ناز تصنیف “ تفسیر المعوذتین “ سے ماخوذ

ترجمہ  :  مولانا عبد الرحیم پشاوری

معاصی اور سیئات کے ارتکاب میں اگر چہ بظاہر لذت محسوس ہوتی ہے اور اس سے نفس کو فوری خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کی مثال ایک لذیذ کھانے کی ہے جس میں زہر ملایا گیا ہو ۔ بظاہر وہ نہایت مرغوب ہوتا ہے ، مگر اس کا انجام کھانے والے کی ہلاکت ہے ذنوب اور معاصی بھی اسی لذیذ مگر مسموم کھانے کی طرح عقوبت اور عذاب کے موجب ہیں اور وہ گناہ اور عذاب میں سبب اور مسبب کا تعلق ہے اگر بالفرض شریعت مطہرہ نے آدمی کو اس کی عقوبت اور انجام بد سے آگاہ نہ کیاہوتا تو تب بھی ایک صاحب بصیرت انسان ، تجربہ کے ذریعے سے اور واقعات عالم سے استدلال کر کے اسی نتیجہ پر پہنچتا ۔کیوں کہ جب کبھی بھی کسی سے کوئی نعمت زائل ہوتی ہے اس کا
سبب یقینا اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی ہو گا۔ ارشاد الہٰی ہے کہ 

( اَنَّ

اﷲَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقُوْمٍ حَتّٰی یَغَیُّروَا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ط وَ اِذَ 

اَرَادَاﷲُ بَقَوْمٍ سُوْئً فَلَا مَرَدَّلَہ وَ مَالَہمْ مِّنْ دُوْنِہ مِنْ 

وَّالٍ )

 “ 

بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی اچھی حالت کو بری حالت سے تبدیل نہیں فرماتا جب تک 

وہ خود اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا نہ کرلیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب 

نازل فرمانا چاہتا ہے تو پھر کوئی بھی اس کو ٹال نہیں سکتا اور نہ سوائے اس کے 

کوئی اور ان کے لیے کارساز ہو سکتا ہے ۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

طلبِ استعانت کا قرآنی تصور


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013

طلبِ استعانت کا قرآنی تصور

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

استعانت کیا ہے ؟

“استعانت” عربی زبان کا لفظ ہے ، “ عون “ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی ہیں : مدد و اعانت ۔ تاہم استعانت و معاونت میں فرق ہے ۔ استعانت کے معنی ہیں :

“اپنی پیش آمدہ مصائب و بلا پر کامل یقین کے ساتھ کسی سے مدد چاہنا ۔ “

آخرت کی بھلائی چاہنا یا وہ امور جو حس و ادارک سے بالا تر ہیں ان میں کسی سے مدد 

چاہنا ۔ “

امام بغوی فرماتے ہیں :
علی ما یستقبلکم من أنواع البلاء و قیل: 

علی طلب الآخرة ۔” (معالم التنزیل، للامام البغوی المتوفی
٥١٠ھ ، طبع دار طیب للنشر و التوزیع ١٤١٧ھ ) کو پڑھنا جاری رکھیں

تاریخ پاکستان کا نیا باب


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
    محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (اداریہ)
پاکستان کی گزشتہ جمہوری حکومت کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا ۔ سیاسی حلقے خوش ہیں کہ پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت
پوری کی ۔ تاہم یہ حلقے اس بات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ اس مدت کی تکمیل کس قیمت پر ہوئی ۔ ڈرون حملے ، خود کش دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ ، ہڑتال اور مظاہرے۔ یہ ساری قیمتیں پاکستانی عوام کو چکانی پڑیں ۔
گزشتہ دنوں انتخابی عمل تکمیل پذیر ہوا اور اس خونی انتخابی عمل کے نتیجے میں بقول ایک ٹی وی چینل ١١٠ افراد جاں بحق ہوئے ۔ تکمیلِ
انتخاب کے بعد پاکستان کے تمام انتخابات کی طرح اس انتخابی عمل پر بھی دھاندلی کے الزامات عائد ہوئے ۔
ہمارے ٹی وی اینکرز کو کچھ نئے مسالے اور ٹاک شوز کے لیے کچھ نئے عناوین مل گئے ۔ احتجاج اور مظاہروں کے کچھ نئے سلسلے چل پڑے۔ حریفوں میں تبدیلی آگئی تاہم کھیل وہی پرانا ہے اور یہ سب کچھ جمہوریت کا حسن ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 15،شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013

زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زنا بالرضا اور زنا بالجبر باعتبارِ کیفیت و نتائج دو مختلف جرم ہیں۔لہٰذا لازم ہے کہ قانون ان دونوں جرائم میں فرق کرے۔شواہد و دلائل کے اعتبا ر سے بھی اور زجر وتوبیخ کے اعتبار سے بھی ۔
 
زنا بالرضا میں دونوں فریق مستحق سزا ہونگے ۔اگر زانی شادی شدہ(محصن/محصنہ) ہے تو وہ سنگسار کیا جائے گا اور اگر غیر محصن ہے تو سورۂ نور کی آیت نمبر ٢ کے تحت سو کوڑوں کا مستحق قرار پائے گا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب:اہل علم کے خطوط


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی
الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:اہل علم کے خطوط

مرتب : محمد یوسف نعیم
طبع اوّل : دسمبر ٢٠٠٧ئ-١٢٨صفحات-غیرمجلد
قیمت : ٨٠ رُپےناشر:عبد الرحمان دارالکتاب کراچی

اہلِ علم کے خطوط کی ترتیب و تدوین اربابِ ذوق کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔ بسا اوقات ان میں ایسے عمدہ علمی نکات اور مختلف اہل علم کی اپنے مخصوص افکار و نظریات سے متعلق اہم تصریحات مل جاتی ہیں جو ضخیم کتابوں کی ورق گردانی سے بھی حاصل نہیں ہوتی ہیں ۔ زیرِ تبصرہ تالیف بھی اسی نوعیت کی ایک کاوش ہے جس کے فاضل مرتب جناب
محمد یوسف نعیم نے اپنے نام آنے والے مختلف اہلِ علم کے مکاتیب کو جمع کیا ہے ۔
کتاب ٣ حصوں پر منقسم ہے پہلے حصے میں ان اہلِ علم کے خطوط ہیں جنہوں نے مرتب کے نام اپنے مکاتیب روانہ کیے ۔ جن میں مولانا حافظ عبدالمنان نور پوری ،مولانا محمد رفیق اثری ، مولانا محمد اسحاق بھٹی ، ڈاکٹر معین الدین عقیل ، مولانا
عمر فاروق سعیدی ، مولانا محمد ادریس ہاشمی ، مولانا محمد یٰسین شاد ، محمد رمضان یوسف سلفی وغیرہم شامل ہیں ۔
دوسرے حصے میں وہ خطوط درج ہیں جو فاضل مرتب نے مختلف اہلِ علم کے نام روانہ کیے تھے تاہم انہیں ان کے جوابات موصول نہیں ہوئے ۔ ان اہلِ علم میں جاوید احمد غامدی ، مفتی منیب الرحمان ، ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہم شامل ہیں ۔
تیسرے حصے میں جن اہلِ علم کے مکاتیب شاملِ کتاب کیے گئے ہیں ان کے حالات درج ہیں ۔ فاضل مرتب نے کتاب کی ترتیب و تالیف میں خاصی جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جس طرح ہر شخص کی سوانح نہیں لکھی جاتی اسی طرح ہر مکتوب بھی لائقِ اشاعت نہیں ہوتا ۔ متعدد خطوط میں ایک ہی مضمون مختلف پیرایوں میں آیا ہے وہ یہ کہ ” خیرالقرون
قرنی ” حدیث کی کسی کتاب میں روایت نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح بعض مکاتیب مرتب کی کسی کتاب کی وصولی اطلاع کے طور پر لکھے گئے ہیں ۔ بیشتر مکاتیب مختصر اور ہلکے پھلکے خیالات پر مبنی ہیں ۔ تاہم مولانا محمد اسحاق بھٹی اور رانا محمد شفیق خاں پسروری کے مکاتیب لائقِ مطالعہ اور دلچسپ ہیں ۔
مرتب کی کاوش علمی اعتبار سے گو بہت وزنی اور جاندار نہیں تاہم ان کا جذبہ بلاشبہ لائقِ ستائش ہے ۔
(محمد تنزیل الصدیقی الحسینی )

تبصرہ کتب:مولانا عبد التواب محدث ملتانی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:مولانا عبد التواب محدث ملتانی

مولف :حافظ ریاض عاقب

طباعت : جنوری ٢٠١٠ئ

-٢٩٣ صفحات-

مجلدقیمت : ٤٠٠رُپے

ناشر:مرکز ابن القاسم الاسلامی یونی ورسٹی روڈ ملتان

مولانا عبد التواب محدث ملتانی کا شمار ماضیِ قریب کے معروفعلماء ومحدثین میں ہوتا ہے ۔ ان کی خدمتِ حدیث کے نقوش آج بھی نمایاں ہیں ۔ وہ سیّد نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذِ رشید تھے ۔ خودنے انہوں اپنی زندگی کا مقصد علمِ حدیث اور دیگر علوم اسلامیہ کی نشر و اشاعت کو قرار دیا تھا ۔ اسلاف کرام کی متعدد دینی کتب کی اوّلین طباعت ان کے حسناتِ علمیہ میں سے ہے ۔ مگر انتہائی افسوسناک امر ہے کہ کتبِ تذکرہ میں ان کا ذکر نہیں ملتا ۔ کسی معاصر تذکرہ نویس نے ان پر خامہ فرسائی کا فریضہ انجام نہیں دیا ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی خدمات سے طلاب علم کو آگاہ کیا جاتا تاکہ ان میں بھی خدمتِ حدیث کا داعیہ پیدا ہوسکے ۔ زیرِ تبصرہ کتاب مولانا موصوف کی زندگی کی مختلف جہات کا احاطہ کرتی ہے ۔ یہ دراصل بی ایڈ کا مقالہ ہے جو ٢٠٠٦ء میں ایجوکیشن یونیورسٹی ملتان میں پیش کیا گیا ۔ بعد ازاں اب یہ مقالہ کتابی شکل میں مرتب کرکے پیش کیا گیاہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب: ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں(جلد سوم)


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:

ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں(جلد سوم)

مولف  :  ڈاکٹر کبیر احمد جائسی
طبع : ستمبر ٢٠١٠ئ-٢٤٤ ، صفحات-مجلد ،
قیمت :٢٠٠ رُپےناشر:قرطاس ، آفس نمبر ٢ ، عثمان پلازہ ، بلاک 13-B، گلشن اقبال ، کراچی

 
ادارئہ علوم اسلامیہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ، یوپی ، انڈیا ) کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر کبیر احمد جائسی کی کتاب ” ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں” اہم مفسرینِ ایران اور ان کی تفاسیر کے مطالعات پر مبنی ہے ۔ جسے ادارئہ قرطاس چار جلدوں میں پیش کر رہا ہے ۔ اس سلسلے کی ابتداء محمد بن جریر طبری ( م ٣١٠ھ ) کی مشہور زمانہ تفسیر ”جامع البیان ” کے فارسی ترجمہ سے ہوئی ہے اور اس کا اختتام چودہویں صدی ہجری تک کے اہم ایرانی مفسرین پر مبنی ہوگا ۔
زیرِ تبصرہ کتاب اس سلسلے کی تیسری جلد ہے ۔ اس جلد میں جن فارسی تفاسیر سے متعلق اپنے حاصلِ مطالعہ کو مصنف نے پیش کیا ہے ، وہ حسبِ ذیل ہے: کو پڑھنا جاری رکھیں

کوئی تو ہے۔ There is Someone


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد ابراہیم خاں

مائیکل بیہے (Michael J. Behe) کی کتاب "ڈارونز بلیک باکس: اے بایو کیمیکل چیلینج ٹو ایوولیوشن” (Darwin’s Black Box: The Biochemical Challenge to Evolution) 1996 میں شائع ہوئی۔  بیہے نے اس کتاب میں مرکزی خیال اس نکتے کو بنایا ہے کہ زندگی کے نظام میں بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنہیں کسی بھی سطح پر، اور کسی بھی طریقے سے معکوس حالت میں نہیں لایا جاسکتا۔ مرکزی تصور یہ ہے کہ بعض بایو کیمیکل سسٹمز کی تشریح نظریۂ ارتقا (Theory of Evolution) کی روشنی میں ممکن ہی نہیں اور یہ کہ یہ بایو کیمیکل سسٹمز اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ان کا 

خود بہ خود پنپنا قطعی طور پر خارج از امکان ہے۔ یعنی یہ کہ کوئی نہ کوئی ایسی ہستیہے جس نے انہیں تیار کیا ہوگا اور زندگی کے نظام میں داخل بھی کیا ہوگا! ذیلی نکتہیہ ہے کہ ان بایو کیمیکلز کے تمام اجزا موجودہ حالت سے پہلے کی حالت میں لائے جائیںتو ان کا کوئی مصرف دکھائی نہیں دیتا! نظریۂ ارتقا یہ کہتا ہے کہ نامیاتی اشیا ء واعمال ایک سلسلۂ واقعات سے گزر کر موجودہ شکل تک پہنچے ہیں۔ یعنی ہر حرکت پذیر چیزکے وجودی اجزا کی کوئی نہ کوئی سابق شکل ہے۔ مائیکل بیہے نے خرد بینی سطح پر کام کرنےوالے دیگر بایو کیمیکل اوامر کو نظریۂ ارتقا کی حدود سے باہر قرار نہیں دیا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج شہر کی فضا پر آغازِ صبح ہی سے خاموشی و سکوت کا دورہ ہے، لوگ گھروں میں دَبکے پڑے ہیں، اس لیے کہ نکلنا نہیں چاہتے۔آج نفاذِ اسلام کی تحریک کے سب سے بڑے داعی جلسۂ عام سے خطاب کرنے والے ہیں۔جن کے دل نفاذِ نظامِ اسلامی کی تڑپ رکھتے ہیں وہ جلسۂ عام میں جمع ہورہے ہیں۔ حکومتِ وقت کے جبر و استبداد کے باوجود ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی۔خطاب شروع ہوا اربابِ اقتدار سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظام نافذ کیا جائے، ابھی فضا پر اس مجاہدِ عصر کی آواز کی گونج باقی ہی تھی کہ یک بیک سپاہیوں کی بہت بڑی نفری حملہ آور ہوئی۔ ان اللہ کے بندوں کے پاس تھا ہی کیا جو اپنا دفاع کرتے۔اک نشہ تھا جس کی بے خودی انہیں یہاں تک لے آئی تھی۔ یہ وہ نشہ نہیں تھا جو قدموں کو بہکا دیتی ہے اور عقل و خِرد کے پردوں کو چاک کردیتی ہے، بلکہ یہ وہ نشہ تھا جو روح و قلب پر سرشاری طاری کردیتی ہے اور ذہن و فکر کو عقل سے گویا کردیتی ہے۔ ابھی یہ عالم و حشت و سراسیمگی جاری ہی تھا کہ فضا تکبیر کے کلمات سے گونج اٹھی، مغرب کا وقت آچکا تھا، لاٹھی برداروں نے تاریکی کے طلوع ہوجانے پر اور کچھ اپنے تھک جانے کے باعث بھی ہاتھ روک لیے، انہوں نے جانا کہ جس طرح تاریکی روشنی پر غالب آگئی بعینہ وہ بھی پیروکارانِ حق پر غالب آگئے،مگر وہ نادان نہیں جانتے کہ روشنی ہمیشہ تاریکی کے سینے کو چیر کر ہی نمودار ہوتی ہے۔خزاں نے ہمیشہ باغوں کو اجاڑا اور گلشن کو برباد کیا،مگر اُمیدِ بَہار پر ہی درختوں کی زندگی کا مدار ہے اور پھر بارش کی ایک بوند زمین کو زندگی سے ہَمکنار کردیتی ہے۔

ایم ایم عالم. پاکستانی قوم کا اصل ہیرو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

ابو محمد معتصم باللّٰہ

پاکستانی قوم کے اصل ہیرو تو ایئر کموڈور محمد محمود عالم  (Air Commodore Muhammad Mehmood Alam)تھے، جنہیں قوم نے کبھی اپنا ہیرو نہیں سمجھا، جسے کبھی میڈیا نے قوم کی شناخت نہیں بنایا ۔ ٹی وی پر وینا ملک کے پروگرام کرنے والے بے شرم اینکروں کو خیال تک نہ آیا کہ ایک پروگرام ایم ایم عالم پر بھی کر دیں ۔ ایم ایم عالم کی وفات بھی ہوگئی لیکن ایسا لگا کہ جیسے ہماری تاریخ کا ایک ورق ہوا اڑا کر لے گئی اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی ۔ کاش گلوکاروں اور فنکاروں کو اپنا ہیرو سمجھنے والی قوم کبھی ایم ایم عالم کی عظمت کی بھی قدر کرتی ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ڈاکٹرگیری ملر کا قبولِ اسلام


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد جاوید اقبال

عیسائیت کا ایک ممتاز مبلغ مسلمان ہوا اور اِس سے اس قدر جذباتی طور پر وابستہ ہوا کہ نہایت سرگرمی سے تبلیغِ دین کا فریضہ سرانجام دینے لگا۔
بے شک اللہ تعالیٰ کے کام کبھی نہیں رکتے۔ اگر ہمارے مولوی ملا عوام کو فرقہ واریت میں الجھا 
کریہ سمجھتے تھے کہ اسلام بس یہی ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عملاً دکھادیا کہ اسلام کیا ہے اور قرآن پاک میں کیا کیا معجزے پوشیدہ ہیں جنہیں اہل علم ہی جان سکتے ہیں۔گیری ملر (Gary Miller) کو ریاضی بہت پسند ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ریاضی کے ذریعے کسی بھی چیز کا منطقی یا غیر منطقی ہونا ثابت کیا جاسکتاہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

دجّالیات سے ایمانیات تک۔ تدبر و تفکر کی آرزو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد احمد

1۔ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ بہت بڑے خلجان کا شکار ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے کیسا لائحہ عمل ( STRATEGY ) مرتب کرے حالانکہ یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ اختتام وقت کی لڑائیاں ( End of Time Battles ) جاری رہیں گی۔ اگر ہم ہر لحظہ قرآن مجید کی طرف متو جہ رہیں اور اپنی ایمانیات ( Motivating Force ) کی ترقی و ترویج دل و جان سے کرتے چلے جائیں تو ہمارے قدم صحیح منزل کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے ۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے :
( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَ اِن یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُّسْتَمِرّ ۔ وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أھْوَاء ھُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرّ ۔ وَ لَقَدْ جَآئَ ھُم مِّنَ الْأَنبَاء  مَا فِیْھِ  مُزْدَجَر ۔ حِکْمَة بَالِغَة فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلَی شَیْ نُّکُرٍ ۔ خُشَّعاً أَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ کَأَنَّھُمْ جَرَاد مُّنتَشِر ۔ مُّھطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ یَقُولُ الْکَافِرُونَ ھٰذَا یَوْم عَسِر)
“ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا ۔یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے ۔یقینا ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت ) ہے اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا پس (اے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ۔ یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گو یا پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے ۔ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے ۔” (القمر :1 تا 8) کو پڑھنا جاری رکھیں

سیّد ابو تراب رشد اللہ راشدی سندھی۔ حیات و خدمات


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اقلیم سندھ کے سادات کی ایک شاخ خانوادہ راشدی اپنی دینی خدمات ،علمی عظمت ، روحانی بر کات اور مجاہدانہ قربانیوں کے اعتبار سے ممتاز اقران وامثل رہا ہے ۔اس خانوادہ علم و فضل میں ہر دور میں کبار اصحاب رشد و ہدایت و حاملین علم و فضیلت گزرے ہیں ۔ جنہوں نے اپنی علم پروری سے دین و علم کی بہتیری خدمات انجام دیں ۔
خانوادہ راشدی کے موسس اعلیٰ حضرت پیر محمد راشد شاہ المعروف بہ روضہ دھنی (1170ھ / 1757ء- 1223ھ / 1818ء) کا سلسلہ نسب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے جا ملتا ہے ۔ پیر محمد راشد شاہ کے چار صاحبزادے تھے ۔ اوّل الذکر پیر سید صبغت اللہ شاہ پیر پگاڑا مشہور بہ تجر د دھنی (1183ھ / 1779ء – 1246ھ/ 1831ء) نہ صرف صاحب علم و فضل تھے بلکہ مجاہدانہ عادات و خصائل کے مالک بھی تھے ۔ سید احمد شہید رائے بریلوی کے ہم مسلک و رفیق خاص تھے ۔ان کی تحریک جہاد کے ایک اہم رکن اور” حروں” کے روحانی پیشوا تھے ، بلاشبہ ان کے لاکھوں مرید تھے ، جو ان پر اپنی جان نچھاور کر نے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں