1دجّالیات سے ایمانیات۔ تک سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/مئی، جون 2013
دجّالیات سے ایمانیات تک

سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو

 اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو

محمد احمد

1-
الحبّ للّٰہ و البغض للّٰہ ۔اسلامی دنیا میں مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ اس لیے جب غیر اسلامی دنیا (فقہاء جسے دار الحرب قرار دیتے ہیں ) کا ایک فر د برضا و رغبت دین اسلا م کی آغوش رحمت میں پناہ گزیں (دنیا نے اسے رفیوجی
REFUGEEکا خطاب دیا ہے جبکہ فر مانروائے کائنات کی نظر میں وہ مہاجر کے لقب کا حق دار گردانا جا تا ہے ) ہو تا ہے تو فضاء میں نعرہ توحید اللہ اکبر کا غیر فانی ارتعاش بلند ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ لو گوں کے دلوں میں ایمان کی بالیدگی کا باعث بن جاتا ہے ۔آخر ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فر ما رہے ہوں :

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ

 للّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ    ) (البقرة : ٢١٨)

 “ 

البتہ ایمان لانے والے ، ہجرت کرنے والے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی رحمت  

الٰہی کے امیدوارہیں ، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے ۔”PDF Download 6 form-dajjaliyat-to-the-faith-leave-the-economic-interest-and-get-rid-of-the-deficit-of-both-lives-1

٢- ایسا ایمان لانے والا شخص (یا خاتون) انتہائی احترام و عزت کا استحقاق مسلم معاشرہ میں رکھتا ہے ایسا ہی ایک شخص (” نومسلم” کہنے پر وہ عار محسوس کر سکتا ہے ) مسجد کے ایک کونے میں خشوع و خضوع سے نوافل کی ادائیگی میں منہمک تھا ۔ فراغت پر ہم جیسے “گنتی “کے ایک مسلمان نے کہیں اسے کہہ دیا کہ بھائی کیوں اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈال رہے ہو ؟ بر جستگی سے جواب ملا "Brother I am a Muslim by choice, but you are a Muslim by chance” کہ بھائی میں تو سب مال و متاع لٹا کر اور تمام رشتے ، ناطے توڑ کر آپ لوگوں کے زیر سایہ آیا ہوں درآں حالانکہ رب کریم نے آپ کو مسلمان رحم مادر میں پرورش فرما کر دارالسلام میں نکال کھڑا کیا !!
 
٣- جناب ابو عمار سلیم کا مضمون “ نو مسلموں کا اسلام سے واپس لوٹ جانا ۔ایک لمحہ فکریہ “ (الواقعة شوال و ذیقعد ١٤٣٣ھ ) نہ صرف ایک پُر خلوص کوشش ہے بلکہ جلد از جلد ایک منصوبہ کی تکمیل کا شاخسانہ ثابت ہو سکتا ۔ یہ دور فتن ہے اور اس دور میں ، گو آغوش اسلام انتہائی وسیع ہے ، قبولیت دین ( یَدْخُلُونَ فِیْ دِیْنِ اللھ أَفْوَاجاً )  کا منظر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ مگر ان بانصیب حضرات (مرد و عورت ) کی مماثلت دور اولین کے صحابہ ، صحابیات  ، مہاجرین و مہاجرات سے ضرور بالضرور ہو تی ہے اور اس بات کو برملا آشکار ہو نا چاہئیے۔ ام ریان کے مراسلے نے ہماری بے حسی کا ذکر کر کے ہمیں خوب جھنجھوڑا ہے ۔
ان کے مسائل کے حل کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کے لیے ایک خصوصی سورت نازل فر مائی ہے جس کا نا م نامی الممتحنہ ہے ۔ اردو تفاسیر میں “الممتحنہ “ ہی استعمال ہوا ہے ۔ احقرکو محمد مارما ڈیوک پکتھال (
Mohammad M Pickthal)کے معتبر انگریزی ترجمہ قرآن میں اسی سورہ کانا م ” SHE THAT IS TO BE EXAMINED ” بڑا بر محمل اور to the point لگا حق تعالیٰ ارشاد فر ما رہے ہیں :

(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ  ۭ

اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِهِنَّ ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ ۭ لَا هُنَّ

حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ  ۭ وَاٰتُوْهُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا   ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ

اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ) (الممتحنة : ١٠)

"اے ایمان والو !جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔ در اصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اگر وہ تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور وہ نہ ان کے لیے حلال ہیں اور جو خرچ کافروں کا ہو ا ہو وہ انہیں ادا کر دو ان عورتوں کو اپنے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کو ئی گناہ نہیں ۔”

٤-دین اسلام سراسر سچ ہے ۔ اس کے حصے بخرے نہیں کیے جا سکتے ، تکمیل دین ، نعمت الہیہٰ کا تمام کر دینے (Totality) کا ذو الجلال و اکرام کا ابلاغ ، کافروں اور مشرکوں کا دین حق سے مایوسی اور رب ذوالجلال واکرام کا ہمارے تیّقن سے اس مبارک دین پر استقامت سے تا حیات گامزن رہنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کتنا شفاف ، روشن اور عیاں ہے ذرا دل کی گہرائی سے سو چیے :

(اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ  ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ

لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) (المائدة : ٣)

“…. آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ، خبردار ! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا ، آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا ۔ “

٥- “ دجالیات سے ایمانیات تک …. تد بر و تفکر کی آرزو “میں رب ذوالجلال کے قول (ETERNAL TRUTH) “ جو لوگ سچے تھے ان کا سچ ان کے کام آئے گا۔” کے حوالے سے احقر نے عرض کیا تھا کہ اس قسط میں مزید گزارشات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کی جائیں گی ۔اس لیے عروج آد م خاکی سے قبل نزول کا ذکر ناگزیر ہو گیا ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو زمین پر نازل کر دیا گیا اور ان کی اولاد سے دنیا بھی آباد ہو ئی اور ساتھ ہی ساتھ رب العالمین کی پہچان نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر نا شروع کر دیا ۔ چونکہ شیطان نے انسانی نسل کے پہلے جوڑے سے قبل از نزول ہی سے اپنے بہکانے کے مشن (MANDATE) پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا اس لیے وہ بنی نوع آدم کا ازلی دشمن قرار پایا ۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
٦- من حیث القوم ہم شیطان سے احتیاط نہیں برتتے اسی لیے ہمارے بڑوں سے بھی اپنی چالوں میں مدد لینا اس کے “بائیں “ ہاتھ کاکام بن چکا ہے ۔ بات سمجھنے کے لیے ١١/٩ کے حوالے سے ، بش کا مشرف سے منتقمانا مکالمہ :” تم ہمارے ساتھ ہو یا مخالف ؟ “ (مشرف کا جواب ) “جی ہاں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں “ (اگر آپ مزید تفصیل کے خواہاں ہیں تو مطالعہ فر مائیے : In the line of fire by Musharraf) ۔ اس کا موازنہ رب کے مندرجہ بالا حکم : “ ان سے نہ ڈرنا مجھ سے ڈرتے رہنا “سے کیجئے ۔ پھر دیکھئے ہم کیسی ہلاکت خیز ابتلاء میں آن پھنسے ۔ہماری قوم نسل در نسل اس خون  آشا م وار اون ٹیر ر War on Terror کو نہ بھلا سکے گی ۔اس نہ ختم ہو نے والی جنگ کی اولین وجہ سو دی نظام کی مسلسل سر پر ستی ہے جس کی بناء پر اس جنگ کو خالق و ہادی برحق صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے علی الاعلان قوم و حکمران پر مسلط کر دیا ۔ مزید گفتگو بعد میں ہو گی ۔ پہلے تو یہ بات طے کر لی جائے کہ کبھی کسی اسلامی حکمران نے غنیم کے چند حرفی الفاظ پر مشتمل للکار ٹیلی فون پر سنتے ہی اپنا ماتھا اعتراف شکست کے اظہار کے لیے فوراً زمین پر رگڑدیا ہو اور اپنے پیدا کرنے والے کے جملے :” ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ہی ڈرتے رہنا “ کی شمہ برابر بھی لاج نہ رکھی ہو !!
٧-قول و فعل کے تضاد کا سکہ ہمیشہ کھوٹا ہو تا ہے مندرجہ بالا خوفناک جنگ کے کرتا دھرتا آپ سے ان کھوٹے سکوں سے سودا کرتے رہیں گے اور جھوٹ کی دلدل میں دھنساتے رہیں گے ۔قرآن میں اس سودا گری پر بڑی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ حصول جہنم کے لیے کتنے جری ہو گئے ہیں (فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ(البقرة : ١٧٥) اسلام جیسے پاکیزہ دین میں جھوٹے گمان بھی ناقابل برداشت ہیں ۔ دور نبوت میں کچھ لوگ اپنے عذرات پیش کر کے غزوہ تبوک سے بچ نکلے ۔بالآ خر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی واپسی ہو ئی اور اللہ رب العزت نے ان لو گوں کی دلی کیفیت سے حضور صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کو پیشگی مطلع فر مایا :

(سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ

يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔا اِنْ


اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا   ۭ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا       11؀بَلْ ظَنَنْتُمْ

اَنْ لَّنْ يَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓى اَهْلِيْهِمْ اَبَدًا وَّزُيِّنَ ذٰلِكَ فِيْ قُلُوْبِكُمْ

وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ ښ وَكُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا        12 ؀) (الفتح : ١١-١٢)


"دیہاتیوں میں سے جو لو گ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے وہ اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بچوں میں لگے رہ گئے پس آپ ہمارے لیے مغفرت طلب کیجئے ۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے ۔آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچا نا چاہے تو یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو ، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے (نہیں ) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً نا ممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا ۔در اصل تم لوگ ہو ہی ہلاک ہو نے والے۔” 

٨- اسلامی معاشرہ میں لوگوں کی نجی زندگی مسموم ہونے سے بچانے کا بڑ ا اہتمام کیا گیا ہے ۔خیالوں میں ستھرائی اور پاکیزگی بہت توجہ طلب امر ہے ۔ باری تعالیٰ اس ضمن میں احکامات دے رہے ہیں :
(يٰٓاَيُّهَا 

الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ اِنَّ بَعْضَ 

الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا 

تَجَسَّسُوْا) (الحجرات : ١٢)

"اے ایمان والو ! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو ۔ “

٩- قول و فعل کا تضاد ، جس کو قبل ازیں کھوٹے سکے سے تشبیہ دی گئی تھی کتنا قبیح طرز عمل ہے ۔حق تعالیٰ فرماتے ہیں :

(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ     Ą۝كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا

مَا لَا تَفْعَلُوْنَ     Ǽ۝) (الصف : ٢-٣)
"اے ایمان والو !تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔”

مندرجہ بالا الٰہی احکامات ہماری زندگیوں میں جاری و ساری ہو جائیں تو معاشرتی زندگی میںایک نکھار آنا شروع ہو جائے گا۔ مگر ایسا معاشرہ کیوں نہیں تشکیل پا سکا ! قرآن عظیم کی دو آیت پر غور و فکر فر مالیا جائے تو اس کیوں کا جواب مل سکے گا :

(فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّــلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ

اللّٰهِ ۡ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  38؀ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا

رْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ  ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ  ) (الروم : ٣٨-٣٩)

"پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو اس کا حق دیجئے ۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنا چاہتے ہوں ، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ صدقہ و زکوة تم اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنے (اور خوشنودی کے لیے ) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دو چند کر نے والے ہیں ۔ “

١٠- ہم اپنا انتہائی مناسب روڈ میپ تیار کرسکتے ہیں اگر ہماری معیشت صحیح خطوط پر گامزن ہو جائے ۔ سورہ التوبہ کی آیت ٦٠ ،جو زکوة 
کے مصارف بیان کرتی ہے ، میں ہمارے مومن اور مہاجر بہنوں بھائیوں کی تالیف قلوب کا ایک عظیم الشان شعبہ مضمر ہے ۔امام راغب اصفہانی اپنی تصنیف “ مفردات القرآن” باب الف میں مولفة قلوبھم سے وہ لوگ مراد لیتے ہیں جن کی بہتری کا خیال رکھا جائے حتیٰ کہ وہ ان لوگوں کی صفوں میں داخل ہو جائیں جن کے بارے میں قرآن بیان کرتا ہے :

(وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ

اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا  ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ

النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا  ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِھٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ     ١٠٣؁   ) (آل عمران : ١٠٣)

“ اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ تعالی کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی ، پس اس کی مہر بانی سے بھائی بھائی ہو گئے ، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا ۔اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی نشانیاں بیان کر تا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ ۔”

١١-اللہ ربّ العزت کی دلوں میں ڈالی ہو ئی الفت (محبت ) کیسی عجیب اور لذت آشنا ہو تی ہے رب العالمین خود ہی تشریح فر ماتے ہیں:

(  وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ  ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ

وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۭاِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ      63؀) (الانفال: ٦٣)
"ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے ۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے ۔ وہ غالب حکمتوں والا ہے ۔”

جن لوگوں کی آپس میں الفت و یگانگت بے مثل و بے بہا ہو جائے تو وہ کیوں دنیا کی متا ع غرور پر فریفتہ ہوں ۔ البتہ سودی گماشتے جن کو نہ صرف طلب کثرت کا ہو کا ہو گیا ہے بلکہ پوری دنیا کو مائل بہ کثرت اور آخرت سے غفلت کے مہلکانہ مرض میں مبتلا کرنے کے در پے ہوں ، وہ اس موذی وبائی مرض کو پھیلانے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔اسلامی معیشت اس اژدھے کی طرح کے کارپوریٹ کلچر(Corporate culture) وغیرہم کو ٹارگٹ کرتی رہے گی تاکہ امراء کو غریبوں کی غربت و عزت پامال کیے بغیر انہیں اپنے حرص و آزکے پیمانے بھرنے سے باز رکھا جاسکے ۔قرآن حکیم اس تدبیر کے لیے جوالفاظ لایاہے وہ ( کی لا یکون دولة بین الاغنیاء من کم ) ہیں ۔ساتھ ہی اپنے پیروکاروں کو بہترین نصیحت کہ نفس(دل) کی تنگی سے بچنا کامیابی و کامرانی (دین ، دنیا اور آخرت ) کی ضمانت ہے ۔ 
آئیے ان سنہری اصولوں کو حرزِ جاں بناتے ہوئے اپنے اسلامی کلچر کا حصہ بنا لیں : 
(مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى
وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ
الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ     وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا   وَاتَّقُوا اللّٰهَ    ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ    
Ċ۝ۘلِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ
اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ  ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ     Ď۝ۚ وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ
الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ
حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ     ڵ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ
نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ     ۝ۚ وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ
لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ      10۝ۧ) : ٧-١٠)
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا اور اس کے رسول کا اور قرابتداروں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مند وں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کر تا نہ رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ تعالی سخت عذاب دینے والا ہے ۔(یہ مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مال سے نکال دیے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں۔اور (ان کے لیے ) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے اور اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس وہ اپنے دلوںمیں کو ئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے ) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور با مراد) ہے ۔اور(ان کے لیے ) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال ، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔”
 ١٢-اگر آپ حضرت فکر سے کام لے کر مندرجہ بالا آیت ١٠ کو آئینہ سمجھیں تو اپنی ذات کا شخص بخوبی دیکھ سکیں گے ۔اس لیے آپ سے مودبانہ درخواست کی جاتی ہے کہ آیت ١٠ کی دعا کو اپنی نمازوں میں بار بارمانگی جانے والی دعاؤں میں شامل فر ما لیں ۔یاد رہے حضورصلی
اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے اس دور فتن کے مسلمانوں پر صحابہ کرام کے سامنے فخر فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ مجھے دیکھے بغیر ایمان لائے اور میرے محبین بھی ہیں !!

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.