ڈاکٹرگیری ملر کا قبولِ اسلام


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد جاوید اقبال

عیسائیت کا ایک ممتاز مبلغ مسلمان ہوا اور اِس سے اس قدر جذباتی طور پر وابستہ ہوا کہ نہایت سرگرمی سے تبلیغِ دین کا فریضہ سرانجام دینے لگا۔
بے شک اللہ تعالیٰ کے کام کبھی نہیں رکتے۔ اگر ہمارے مولوی ملا عوام کو فرقہ واریت میں الجھا 
کریہ سمجھتے تھے کہ اسلام بس یہی ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عملاً دکھادیا کہ اسلام کیا ہے اور قرآن پاک میں کیا کیا معجزے پوشیدہ ہیں جنہیں اہل علم ہی جان سکتے ہیں۔گیری ملر (Gary Miller) کو ریاضی بہت پسند ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ریاضی کے ذریعے کسی بھی چیز کا منطقی یا غیر منطقی ہونا ثابت کیا جاسکتاہے۔13 Dr Gerry Miller ka Qabool e Islam pdf
 
اُس نے سوچاکہ اگر وہ قرآن کریم میں کوئی غلطی ڈھونڈ سکے تو مسلمانوں کو عیسائیت کی تبلیغ میں آسانی ہوجائے گی۔  ایک
دن وہ قرآن لے کربیٹھا اور اس نے پوری کوشش کی کہ قرآن پاک میں کوئی غلطی یا تضاد ڈھونڈ نکالے۔ وہ کامیاب نہ ہوسکا اور یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ قرآن اپنے پڑھنے والے کو چیلنج دیتا ہے کہ اگروہ سمجھتے ہیں کہ قرآن من جانب اللہ نہیں ہے تو اس میں کوئی خامی یا تضاد ڈھونڈ کردکھادیں۔
اس کا خیال تھا کہ قرآن 14 صدی پرانی کتاب ہے اور صحرا کے بارے میں بات کرتی ہوگی۔ مگر جو کچھ اس نے دیکھا اُس نے اُسے حیران کردیا۔
 اُسے معلوم ہوا کہ جو کچھ اس کتاب میں ہے وہ دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ قرآن میں ان مشکلات کا
ذکر پڑھنے کو ملے گا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم دوچار ہوئے۔ مثلاً آپ کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ کی وفات کا ذکر۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ قرآن میں کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے مصائب اور مشکلات کا ذکر نہیں۔ اس کے کنفیوژن میں یہ دیکھ کر مزید اضافہ ہوا کہ قرآن کریم میں حضرت مریم علیہا السلام پر ایک پورا باب موجود ہے۔ حالانکہ حضرت فاطمہ یا حضرت عائشہ صدیقہ پر کوئی باب نہیں ہے۔ اسے یہ دیکھ کر بھی حیرت ہوئی کہ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام 25 مرتبہ آیا ہے۔ جبکہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا نام نامی صرف چارمرتبہ مذکور ہے۔ اس کی قرآن میں غلطی ڈھونڈنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ وہ سورہ نساء کی 82 آیت پڑھ کر دنگ رہ گیا۔
( أَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْرِ اللّھِ لَوَجَدُواْ فِیْھِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً )
“ کیا وہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔ اگر وہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو وہ اُس میں اختلاف پاتے۔”
 ڈاکٹر ملر اس آیت کے متعلق کہتے ہیں کہ کسی نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تضاد تلاش کیا جائے۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں۔  بلکہ وہ خود لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ قرآن میں اختلاف یا تضاد ڈھونڈیں اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اِس میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر ملر کہتے ہیں کہ دنیا کے کسی رائٹر (مصنف) میں یہ
ہمت نہیں کہ وہ ایساچیلنج کرسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ سورہ الانبیاء کی تیسویں آیت انکشاف کرتی ہے کہ
( أَ وَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَا ھُمَا وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَاء  کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ )
“ کیا کافر نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین پہلے آپس میں جڑے ہوئے تھے ۔ پھر ہم نے انہیں جُدا کردیا ۔ کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم نے تمام زندہ اشیاء کو پانی سے پیدا کیا؟ “ 
ڈاکٹر ملر کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ایک سائنسی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی جسے 1973ء میں نوبل انعام دیا گیا۔ یہ ایک بڑے دھماکے کے متعلق ہے جس نے زمین اور سامان کو جُدا کردیا۔ اُسی دھماکے سے کائنات وجود میں آئی۔ وہ بتاتے ہیں
کہ قران کہتا ہے کہ شیطان قرآن کے قریب نہیں آسکتا۔ قرآن کا مطالعہ کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ تلاوت شروع کرنے سے پہلے شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کریں۔
وہ بتاتے ہیں کہ پانی سے تمام زندہ افراد کی تخلیق کا انکشاف بھی اُس دور کے لحاظ سے ایک معجزہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا۔ کیوں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید سائنس سے بہرہ ور ہیں ، وہ ان انکشافات کے متعلق اعتماد سے بات کرسکتے ہیں جو قرآن کریم نے چودہ سو سال قبل دنیا کو بتائے۔ انہوں نے کہا کہ ابی لہب کی موت سے دس سال قبل قرآن نے پیش گوئی کی تھی کہ ایمان اس کے نصیب میں نہیں ہے اور ایسا ہی ہوا۔ حالانکہ اگر ابو لہب چاہتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم پر ایمان لاکر قرآن کی پیش گوئی کو غلط ثابت کرسکتا تھا ۔ اور یہ محرومی صرف ابولہب کے لیے مخصوص نہیں بلکہ یہود کی قوم نے اجتماعی طور پر قرآن کو جھٹلایا ۔ مگر وہ قرآن پر ایمان لاکر اِس دعوے کو جھٹلا نہ سکے کہ وہ ایمان کی دولت سے محروم رہیں گے۔ اس طرح قرآن مجید ایک قادر مطلق خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ثابت ہوتا ہے جس کا ہر حرف خواہ ماضی سے متعلق ہو خواہ مستقبل سے، سراسر سچ ہے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہونے کے سبب اور عیسائیت کے مبلغ ہونے کے باعث ڈاکٹر گیری ملرنے منطق اور حقائق کی بنیاد پر قرآن کی سچائی کو ثابت کیا اور علامہ اقبال   کے اس مصرعے کو صحیح کر دکھایا:
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
ڈاکٹر صاحب کا نیا نام عبدالاحد عمر (Abdul Ahad Omar) ہے اور وہ سرگرمی سے اسلام کی تبلیغ واشاعت میں مگن ہیں۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.