ایم ایم عالم. پاکستانی قوم کا اصل ہیرو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

ابو محمد معتصم باللّٰہ

پاکستانی قوم کے اصل ہیرو تو ایئر کموڈور محمد محمود عالم  (Air Commodore Muhammad Mehmood Alam)تھے، جنہیں قوم نے کبھی اپنا ہیرو نہیں سمجھا، جسے کبھی میڈیا نے قوم کی شناخت نہیں بنایا ۔ ٹی وی پر وینا ملک کے پروگرام کرنے والے بے شرم اینکروں کو خیال تک نہ آیا کہ ایک پروگرام ایم ایم عالم پر بھی کر دیں ۔ ایم ایم عالم کی وفات بھی ہوگئی لیکن ایسا لگا کہ جیسے ہماری تاریخ کا ایک ورق ہوا اڑا کر لے گئی اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی ۔ کاش گلوکاروں اور فنکاروں کو اپنا ہیرو سمجھنے والی قوم کبھی ایم ایم عالم کی عظمت کی بھی قدر کرتی ۔14 M M Alam pdf
وہ جولائی 1935ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق بہار شریف کی انصاری فیملی سے تھا ۔ ان کے والد بسلسلہ ملازمت کلکتہ میں مقیم تھے ۔ یہیں ایم ایم عالم کی ولادت ہوئی ۔ ان کا اصل نام محمد محمود عالم تھا مگر وہ اپنے نام کے مخفف ایم ایم عالم سے معروف ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے والد اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ ڈھاکہ چلے آئے ۔ یہیں ایم ایم عالم کی تعلیم و تربیت ہوئی۔1952 ء میں شہادت کی تمنا اور مجاہد بننے کی آرزو لیے ایم ایم عالم پاکستان ایئر فورس میں شریک ہوئے ۔
ان کا شمار 1965ء کی جنگ کے ہیروز میں ہوتا ہے ۔ ان کی ہوا بازی نے پاکستان کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ دورانِ جنگ ایک ایسا وقت بھی آیا جب ان کے طیارے کو دشمن کے 6 طیاروں نے گھیر لیا اور انہوں نے 55 سیکنڈ کے قلیل وقت میں دشمن کے 5 طیارے مار گرائے ۔ یہاں یہ ذکر بھی نہایت ضروری ہے کہ دشمن کے وہ طیارے جدید لڑاکا طیارے تھے اور ہتھیاروں سے لیس تھے ۔ جبکہ ایم ایم عالم کو جو طیارہ ملا تھا اسے امریکی ایئر فورس ناکارہ قرار دے چکی تھی۔ لیکن ایم ایم عالم نے ثابت کردیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان و یقین کی دولت سے جیتی جاتی ہیں ۔ اس جنگ میں انہوں نے مجموعی طور پر 9 لڑاکا طیارے مار گرائے ۔
فضائی جنگ کی تاریخ میں جو کارنامہ ایم ایم عالم نے انجام دیا ۔ اسے توڑنا ایک امر محال ہے اور جو شاید ہمیشہ کے لیے برقرار رہے ۔ قیام بنگلہ دیش کے بعد انہوں نے ڈھاکہ کی سکونت ترک کردی اور مستقل طور پر پاکستان اقامت گزیں ہوئے ۔ انہوں نے پاکستان کو بطور نظریہ قبول کیا تھا اور اس ملک کے ساتھ ان کی یہ نظریاتی وابستگی ہمیشہ برقرار رہی ۔
وہ 1952ء میں اسکوڈرن لیڈر کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور 1982ء میں ایئر کموڈور کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔
محمد محمود عالم کو ان کی بہادری اور بے مثال دلیری کے اعتراف میں فوجی اعزاز ستارہ جرات سے بھی نوازا گیا تھا۔
وہ ایک سچے پاکستانی تھے ۔ پاکستان کے ساتھ ان کا گہرا قلبی تعلق تھا جو ہمیشہ برقرار رہا ۔ ان کی طبیعت میں سادگی تھی اور ان کی زندگی بھی بے حد سادہ تھی ۔
وہ ایک طویل عرصے سے علیل تھے ۔ بالآخر 77 برس کی عمر میں 18 مارچ 2013ء کو وہ ہمیشہ کے لیے اپنے مالکِ حقیقی کی خدمت میں جا پہنچے ۔ رحمة اللہ رحمة و اسعة
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.