تحریک آزادیِ نسواں. خواتین کے خلاف ایک پُر فریب شیطانی دھوکہ


جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013، شمارہ  12-13

ابو عمار محمد سلیم                اللہ سبحانہ وتعالیٰ ، خالق ارض و سما کا فرمان ہے کہ میں نے اس کائنات میں تمام چیزوں کو جوڑے جوڑے میں بنایا ہے۔ اسی سنت کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کا جوڑا بھی خلق کیا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ان کا جوڑا حضرت بیبی حوا علیہا السلام کی صورت میں بنایا اور ان کی تخلیق کی۔ اس طرح جوڑے جوڑے میںتمام چیزوں کو بنانے میں اللہ رب العزت نے جو اہتمام روا رکھا اس کی بنیادی حقیقتاس قسم کی نسل کو آگے بڑھانے اور ان کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرناتھا ۔انسان کے ساتھ ساتھ ہمارے کرہ ارض پر جو بھی معلوم چرند پرند اور بحری اقسام کےعلاوہ نباتاتی جاندار ہیں ان سب کے نسلوں کے پھیلاؤ کا واحد فارمولا اپنے جوڑے سےاختلاط ہے اور اس کے نتیجہ میں اسی جیسی ایک نئی زندگی وجود میں آتی ہے۔ انسان کےساتھ ساتھ بہت سے غیر انسانی گروہوں میں بھی اللہ نے مذکر جنس کو زیادہ طاقت عطا کی ہے جس کا استعمال کرکے وہ نہ صرف اپنے ساتھی جوڑے کا بلکہ اپنی کمزور افزائشپذیر نسل کی حفاظت کے لیے ہمہ دم چو کنا اور تیار رہتا ہے۔یہ ایک ایسا انتظام ہے جودنیا کے قیام کے بعد سے خالق کائنات کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق جاری و ساری ہےاور یہ ہی وجہ ہے کہ تمام انسانوں اور حیوانوں کی زندگیاں قائم ہیں۔ مذکر اور مؤنث
کا یہ جوڑ ہی کامیاب اور پر مسرت زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ جوڑےکے اس انتظام میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک عجیب امتزاج رکھا ہے۔ اس جوڑے کےایک حصہ کو بے انتہا طاقت ، ہمت اور دور اندیشی کی صفت عطاکی تو دوسر ے حصہ کو نزاکت، برداشت اور محبت کا وہ لازوال خزانہ دے دیا جو زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کےلیے تیل کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔ دونوں صنفوں کو ایک دوسرے کی ضد بھی بنایا مگرساتھ ہی ایسا جذبہ بھی بیچ میں رکھ دیا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بنگئے۔یہ اوراس جیسے دیگرتمام عوامل ہر جنس میں رکھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر قسمکی نسل نے اللہ کی عطا کی ہوئی طاقت اور قوت کا غلط استعمال بھی کیا۔ دیگر مخلوقاتمیں شاید اس کا ادراک اتنا زیادہ نہ ہو مگر ہم بنی آدم اپنی نسل میں اس بے جااستعمال کے شاہد ہیں جہاں ایک فریق نے اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ زیادتیاں کیں اوراس کے حقوق کو پامال کیا۔ ہمارے اس مضمون کا مطمح نظر بھی بنی آدم اوراس کے جوڑے
کا اسی حوالے سے جائزہ لینا ہے اور ہم اب اپنی توجہ صرف انسانی جنسوں یعنی مرد اورعورت کی طرف رکھیں گے اور ان ہی سے متعلق مختلف مسائل پر گفتگو کریں گے۔
                اللہ خالق کائناتنے جب مرد اور عورت کو پیدا کیا تو دونوں کو بر ابری کی بنیاد پر تخلیق فرمایا۔دونوں کو ایک دوسرے کا لازم و ملزو م بنایا۔ ایک طرف کچھ خوبیاں اور صفات رکھیں تودوسری طرف بھی ایسی خوبیاں اور صفات رکھیں جو پہلے کے لیے لازمی تھیں۔ ایک دوسرےکے اندر کشش او ر مودّت کا حساب بھی رکھا اور اسی سے محبت کے سوتے بھی پھوٹے۔نہمرد عورت سے دور بھاگ سکا اور نہ ہی عورت کا مرد کی رفاقت کے بغیر کام چلا۔ دونوںہی ایک دوسرے کی ضرورت کا سامان بہم کرتے رہے ہیں اور یوں اجتماع ضدین ہونے کے
باوجود زندگی ہم آہنگی کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلتی رہی ہے۔ مرد نے اگرگھرسے باہر کی ذمہ داری سنبھالی تو عورت نے گھر کے اندر امن اور سکون کی فضا کااہتمام کردیا۔ مرد نے اپنی طاقت اور کام کرنے کی صلاحیت کا استعمال کر کے کھانے کاسامان فراہم کردیا تو عورت نے اپنی خوش اسلوبی اور سگھڑاپے کو استعمال کرکے اس کوخوش ذائقہ اور کام ودہن کے لیے پر کشش کھانے میں تبدیل کردیا۔ صدیوں سے اسی ڈگر پرچلنے والی گاڑی نے ناہمواری کا ذائقہ بھی چکھا ہے۔ دونوں فریقوں کے تعلقات میںدراڑیں بھی پڑی ہیں اور بہت سے گھروں کا شیرازہ بھی بکھر کر رہ گیا ہے۔ زندگی عذاببھی بنی ہے اور قتل و غارت گری کا بازار بھی گرم ہوا ہے۔مگر ان تمام تلخ حقیقتوںکے باوجود آج بھی اس بنیادی مقصد تخلیق میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ آج بھی مرد و زنباہم مل کر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کی پیدائش ، ان کی افزائش اور ان کی پرورشاور ان کی محبت سے حاصل ہونے والے کیف و سرور کے لیے لوگ آج بھی کمر بستہ ہیں۔
تمام ناہمواریوں اور چپقلش کے باوجود خاندان کو قائم رکھنے اور اس کی بہتری اوربہبود کی کوششوں میں کوئی رخنہ نہیں پڑا ہے۔یہ ہی زندگی کا رنگ ہے اور اسی سےزندگی میں حسن ہے۔مرد اور عورت میں سے کسی ایک فریق کو بھی اس میں سے نکال دیاجائے تو زندگی کا مقصد ہی فوت ہو کر رہ جائے گا۔یہ تمام نظام دھڑام سے زمیں بوسہوجائے گا۔ مگر اللہ رب العزت کی مشیت اور ان کے حکم کے تحت یہ سب کارواں اسی طرحگامزن ہے جیسا کہ اللہ نے چاہا ہے۔ شیطان اور اس کے چیلوں کی مزاحمتی کارروائیوںاور انسانیت کو درست راہ سے ہٹانے کی تمام کوششوں کے باوجود انسانیت اپنے مقصدحیات کی طرف گامزن ہے۔
                تاریخ پر نظرڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شیطان نے انسان کو ہر طرح سے بھٹکانے اور اللہ کےبتائے ہوئے طریقوں سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں وہ کامیاب بھی ہوا ہے اور کہیںاس کو منہ کی بھی کھانی پڑی ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ انسان کی عداوت اور دشمنی میںہمہ تن مصروف ہے۔ اس نے بارہا مرد اور عورت کو ایک دوسرے سے بدگمان کرنے کی کوششکی ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح خاندان کی اکائی ختم ہوجائے اور انسان اپنےمضبوط بندھنوں سے دور ہو کر اکیلا رہ جائے تو اس کو شکار کرنا اس کے لیے آسانہوجائے گا۔ اکثر اس نے مرد کو طاقت کے نشے میں مبتلا کرکے عورتوں کے ساتھ انسانیتسوز کارروائیوں میں مبتلا کیا ہے۔ ایسے میں عورتوں کے اوپر مردوں نے ظلم و ستم کےپہاڑ ڈھائے ہیں۔ معاشرے میں بڑی ناہمواریوں نے جنم لیا اور ہزاروں گھر برباد ہوئے۔
کبھی عورتوں کے نازو  نخرے اور عشوہطرازیوں کے بل بوتے پر عورتوں کو مردوں کے خلاف اس طرح سے صف آرا کردیا کہ معاشرہ برائیوں سے بھر گیا۔ مگر بنیادی طور پر معاشرہ اس بات پر متفق ہے کہ عورت ایکمظلوم ہستی ہے اور مرد اس پر بے تحاشا ظلم ڈھاتا ہے۔ اپنی کمزوری کی وجہ سے عورتمرد کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اس لیے یا تو گھٹ گھٹ کر جیتی ہے یا پھر جس طرح سے وہموقع پائے اس طرح انتقام لیتی ہے۔ اسی چپقلش کو بڑھاتے بڑھاتے شیطان آج اس جگہپہنچ گیا ہے جہاں اس نے اپنے مذکر و مونث اور جن و انس دونوں قسم کے چیلے چانٹوں کو استعمال کر کے عورتوں کے اندر بداعتمادی کی شدید فضا قائم کرلی ہے۔ دنیا بھر سے عورتوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پراکٹھا کر رہا ہے اور آج اس کا نعرہ ہے عورتوں کی آزادی اور حقوق نسواں کا تحفظ ۔
دنیا جہاں کی عورتیں اس پلیٹ فارم پر نہ صرف یہ کہ اکٹھی ہورہی ہیں بلکہ ابلاغ کیفراوانی کے اس دور میں اپنی آوازوں کو بہت بلند کر رکھا ہے اور بے تحاشا شور وشرابہ مچایا جارہا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حقوق نسواں کے تحفظ کا نعرہ ہے کیا اورابلیس کے سکھائے پڑھائے ہوئے ان لوگوں کا نقطہ نظرکیا ہے اور وہ کیا حاصل کرناچاہتے ہیں۔
                آج کے دور میں جب تحریک حقوق نسواں کی بات ہوتی ہے تو اس کوعالمی سطح پر بین الاقوامی تناظر میںدیکھا جاتا ہے۔ موجودہ دور کی یہ تحریک اس فکر آزادی کا تیسرا دور ہے جبکہ اب سےقبل اس کے دو دورگزر چکے ہیں۔ پہلا دور جو اٹھارویں صدی عیسوی میں مغرب میںشروعہوا وہ عمومی طور پر معاشرے کے اوپر والے طبقے کی عورتوں کی آزادی سے متعلق تھا جسمیں ان کو اظہار رائے اور زمین و جائیداد پر مکمل اختیارات کے علاوہ سیاست میں بھیبرابری کی بنیاد پر حقوق دینے کی جدوجہد شامل تھی۔ دوسرے دور میں جو 1960ء کے لگبھگ شروع ہوا تو اس کا دائرہ کار کچھ اور وسیع کیا گیا اور اس میں درمیانی طبقے کیخواتین کے حقوق کی بھی بات کی گئی۔ 1990ء کے بعد کی جدوجہد بین الاقوامی جہتاختیار کرگئی اور سفید فام کے علاوہ دیگر رنگوں اور علاقوں کے عورتوں کے حقوق کیبھی علمبردار بن گئی اور عورتوں کو مردوں کی طرح تمام معاملات میں برابری کی بنیادپر اختیارات اور حقوق دلانے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہمعاشرے میں عورتوں کو ہمیشہ سے مردوں سے کمتر درجہ دیا گیا ہے۔ انسانی معاشرہمردوں کو برتر درجہ دیتا ہے اور اسے عورتوں کا سرپرست یا محافظ سمجھتا ہے اورمردوں کو خواہ مخواہ عورتوں کا حاکم بھی قرار دیتا ہے۔ عورت مردوں کی محکوم اورخدمت گار سے زیادہ نہیں سمجھی گئی۔ یہ بات بھی حق ہے کہ تمام آسمانی مذاہب نےعورتوں کو مردوں کے برابر قرار دیا اور ان دونوں کو زندگی کے تمام معاملات میں ایکہی قسم کے حقوق عطا کیے۔ عبادات میں بھی اور دنیاوی معاملات میں بھی دونوں کے لیےایک جیسے ہی احکامات وارد ہوئے۔ ہاں یہ ضرور ہو اکہ مرد کو اس کی قوت کی مناسبت سےعورتوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ مگر معاشرے کے بگاڑ نے اس رعایت سےناجائز فائدہ اٹھایا اور مردوں کی تھانے داری عورتوں کے سروں پر مسلط کردی گئی۔
شیطان جو ہمیشہ سے انسان کا دشمن ہے اور جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اس کےمنصب حقیقی سے بھٹکا دے تاکہ روز قیامت وہ اللہ سبحانہ و تعالی کے روبرو اپنے آپکو سچا ثابت کر سکے کہ اس نے انسان کو سجدہ نہ کرکے درست کام کیا تھا کیونکہ انساناس قابل ہی نہ تھا کہ اس کو اللہ کی نیابت کا شرف عطا کیا جاتا۔شیطان سمجھتا ہے کہاللہ کے حکم سے سرتابی کے بعد اب اللہ کے دربار میں اس کی سرخروئی کا واحد ذریعہیہ ہے کہ انسان اس حد تک نیچے گر جائے جہاں اللہ تعالیٰ انسان سے برگشتہ ہوجائے اور اس کو اس کے کرتوت کی وجہ سے اس منصب سے گرادے جس پر اسے بٹھایا گیا تھا۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ بڑی شدومد سے انسان اور انسانیت کے خلاف نبرد آزما ہے۔ بھٹکانے کی رنگارنگ ترکیبیں ایجاد کررہاہے اور انسان کے خلاف اللہ کے غیض و غضب کو بڑھاوا دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔اس کی انہی کارروائیوں میں سے ایک ،حقوق آزادی نسواں بھی ہے۔ عورتوں کو مردوں کے خلاف اٹھانے کے بعد عورتوں کو یہ راہ دکھائی ہے کہ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں اور ان کا جس طرح دل چاہے زندگی گزار سکتی ہیں۔ مرد کی حفاظت کے گھیرے سے باہر نکلناضروری قرار دیا گیا تو اپنی روزی روزگار کی فراہمی کی ضرورت بھی پیش آئی۔ جب روزگار میں عورتوں کو مردوں سے کمتر حیثیت دی گئی تو ان کے قویٰ کی کمزوری اور بے قوتی کی وجہ سے ان کی آمدن بھی کم مقرر ہوئی جو مزید بے چینی کا باعث بنی۔گو کہ تاریخ شاہد ہے کہ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ تقریباً تمام معاملات میں مردوں کا ہاتھ بھی بٹایا ہے اور بوجھ بھی اٹھا یا ہے ۔کھیتوں کھلیانوں میں بھی مردوں کی مدد کی ہے تو دیگر سماجی اور سماوی آفات کا بھی مردوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا ہے۔ مردوں کی ہمت بھی بندھائی ہے اور ان کی خوراک اور آرام کا بھی انتظام کیا ہے۔ یوں دونوں نے زندگی کی گاڑی کو باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کی خاطر اور اپنی نسلوں کو پروان چڑھانے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ مگر اب جب عورت نے گھر سے باہر صرف اپنی خاطر قدم نکالے تو لازم تھا کہ وہ ہر محاظ پر مردوں کی برابری کا نعرہ لگائے۔ اپنی شخصیت کا اظہار اس کے لیے ضروری ہوگیا۔ وہ کسی طور بھی خود کو مردوں سے کمتر رہنے کو قبول نہیں کرسکتی تھی۔ شیطان نے اس کو بغاوت پر آمادہ کیا تو ساتھ ہی اس کے لیے اپنے چیلے چانٹوں کی مدد سے دنیائے تجارت اور معیشت میں ایک انقلاب برپا کیا۔ مردوں کو راہ دکھائی کہ عورتویں چونکہ آزادی اور معاشی منفعت چاہتی ہیں تو ان کو استعمال کرکے اپنے کاروبارکو چمکاؤ۔ اس نے عورتوں کو آمادہ کرلیا کہ وہ اپنا سنگھار اور اپنی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کریں سو وہ انہوں نے کردیا۔ مگر بات یہاں کب رکنے والی تھی۔ پیسوں کی خاطر عورتوں نے اپنا لباس  اتار دیا اور برہنگی کی نمائش خوب خوب کی۔چالاک تاجروں نے اپنی تجوریاں بھر لیں اس کے مقابلے میں انسانیت کے سفلی جذبات کو بر انگیختہ کیا گیا تو عورتوں کو زیادہ سے زیادہ شرم وحیا سے بے گانہ کردیا گیا۔پاکیزگی اور شرم و حیا کے پیکر کو سڑکوں پر لا کر کھڑا کردیا گیا۔
آج اکثر عورتیں اس کا الزام بھی مردوں کو دیتی ہیں مگر یہ نہیں سوچتی ہیں کہ ان کا بھی کچھ حق تھا کہ اس حد تک نہ جاتیں۔بہر حال شیطان نے صرف یہ نہیں کیا کہ عورتوں کی تحقیر کا سامان کردیا بلکہ ساتھ ہی اس نے ان کو ان کی خواہشات کے مطابق ان کے حقوق کو بحال کروادیا جو مردوں نے ان سے چھین لیے تھے۔ جمہوریت جو مغربی معاشرہ میں واحد کامیاب طریقہ انتظام حکومت کا ہے اور جس میں عورتوں کو ووٹ دینے کا کوئی حق نہیں تھا انہیں ووٹ دینے کا حق دلایا، سب سے پہلے انیسویں صدی کے اواخر میںنیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں اور پھر ١٩١٤ ء اور ١٩٣٩ء کے درمیان میں اٹھائیس مختلف ممالک میں بھی انہیں یہ حق مل گیا۔ انہیں تجارت، معیشت اور وراثت میں مردوں کی برابری دلوائی اور ان کی تنخواہیں مردوں کے برابر کروائیں۔ ان میں سے کئی ممالک میں حکومتی امارت اور وزارتیں بھی دلوائیں۔ انہیں تمام شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا یہاں تک کہ وہ کام جو صدیوں سے خالص مردانہ شمار ہوتے تھے جیسے فوج میں شمولیت وغیرہ توان میں بھی اب عورتوں کو حصہ دے دیا گیا ہے۔ اب تو حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ عورتوں کا یہ حق بھی تسلیم کیا جارہا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ شادی کریں اور دونوں عورتیں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کریں۔ جدید طبی ایجادات کو استعمال کرتے ہوئے ان کے یہاں ولادتیں بھی ہوں اور وہ  ماں بھی بن سکیں۔ استغفراللہ۔
               اوپر جو کچھ بھی
بیان ہوا وہ عمومی طور پر مغرب میں ہوا۔ مشرق اور خصوصاً مسلم ممالک میں حالات پھر بھی بہت بہتر رہے اور اب بھی ان کی صورت حال مغربی معاشرہ کی نسبت کچھ بہتر ہے۔ مگر بگاڑ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ایک تومغرب کی نقالی اور ان کے معاشرے کو بہترسمجھنے کی غلطی اور دوسری طرف مادر پدر آزاد میڈیا کی چیرہ دستی اور بلا روک ٹوک اسی گندے مغربی معاشرے کی عکاسی بڑی شدت سے نئی نسل کی بربادی کا سامان بہم کر رہی ہے۔ اپنے ڈرامے دیکھ لیں جس میں نہ صرف مذہب بلکہ معاشرتی اقدارسے بھی بغاوت سکھانے کا مکمل اہتمام ہورہاہے۔ ساس کو بہو سے، میاں کو بیوی سے، بچوں کو والدین سے، چھوٹوں کو بڑوں سے بدتمیزی کرنے اور ان کی باتوں کو در خور اعتنا نہ سمجھنے کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ٹاک شو کے نام سے بے راہ روی کو عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ناچ گانے کے پروگرام بڑے فخر سے دکھائے جارہے ہیں۔ ناچنے گانے والوں اور معاشرے کے دیگر بگڑے ہوئے لوگوں کو Intellectual  بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور ان کی باتوں کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ نام نہاد دینی شخصیات کو جن کی شاید کوئی سند نہیں ہے عوام کے سامنے بٹھا کر دینی مسا ئل کے ا لٹے سیدھے حل پیش کیے جارہے ہیں۔ زائچہ بنانے والوں اورمستقبل کاحال بتانے والوں کو بٹھا کر ان سے قسمت کا حال معلوم کیا جارہاہے ، کل کیا ہوگا پوچھا جارہاہے۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ یہ سب گناہ کے کام ہیں ۔ یہ سب اور اس سے کہیں زیادہ خود آپ کے علم میں ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ سنجیدہ طبقہ اور علما ء سب کے سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ جو کچھ ہورہا ہے اس کے روک تھام کی کوئی تدبیر نہیں ہورہی۔ جو غلط باتیں پھیلائی جارہی ہیں ان کے خلاف علماء کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ مغرب کی چکا چوند نے سب کو اندھا کردیا ہے۔ کوئی عورتوں کو یہ نہیں بتا رہا ہے کہ تمہارا آزادی کا یہ نعرہ ڈھکوسلا ہے اور اس سے تمہیں آزادی ملنے کی بجائے الٹا تمہارا استحصال ہورہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ  "United Nations Human Development Report – 2004 ”  انٹرنیٹ پر جاکر دیکھی جا سکتی ہے ۔ اس رپورٹ کے اعداد وشمار بتا تے ہیں کہ مغربی معاشرہ میں اتنی آزادی ہونے کے باوجود عورتیں مردوں کی نسبت 20 فیصد زیادہ کام کرتی ہیں کیونکہ وہ باہر بھی کام کرتی ہیں اور گھر کے معاملات بھی انہیں نمٹانے پڑتے ہیں۔ دنیا بھر کے تمام کاموں کا اندازہ لگایا گیا تو پتہ چلا کہ ان کاموں کا 66 فیصد عورتوں کے ذمہ ہے اور مرد صرف 34 فی صد کام کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان کے بنائے ہوئے ہیں جو عورتوں کی آزادی کے بڑے ہمدرد ہیں۔ خواتین اب یہ خود سوچ لیں کہ وہ آزادی حاصل کررہی ہیں یا مزید شکنجوں میں جکڑی جارہی ہیں۔
                جہاں تک اسلام کاتعلق ہے عورتوں کے حقوق  کے سلسلے میں انتہائی اعتدال اور انصاف سے کام لیا گیا ہے۔ جو حقوق اسلام نے مسلمان اور دنیا بھر کی خواتین کے لیے مقرر کیے ہیں ، ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے :
 ( یَااَیُّھَا الَّذِینَ اٰ مَنُوا لَا یَحِلُّ لَکُم اَن تَرِثُوا النِّساَئَ  کَر ھاً ) (سورة النساء :19)  
“مومنو تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔”
اور اسکے بعد پھر مرد کے ذمہ یہ کام بھی لگا دیا کہ عورت کی حفاظت کرنا اور اس کے لیے روٹی کما لانا تمہارا کام ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
 ( اَلِرّ جَالُ قَوّا مُونَ عَلیٰ النّسَا ئِ  بِمَافَضَّلَ اللھ بَعضَھُم عَلیٰ بَعٍض وَّ بِمَا اَنفَقُوا مِن اَموَالُھُم ) ( سورة النساء : 34)
 “مرد عورتوں پر قیم ہیں(نظام اور معاملات کو درست چلانیوالے) اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض پرفضیلت دی ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔”
اور اسکے بعد پھر مزید فرمادیا کہ
 (وَ  لِلِرّجَاِلِ عَلَیھِنَّ دَرَجَة۔  وَ اللھ عَزِیز حَکِیم ) (سورة البقرہ : 228)
“البتہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ غالب اورصاحب حکمت ہے۔”
اور اسکے بعدمردوں کو یہ ہدایت بھی دیدی کہ  ( وَ عَا شِرُو ھُنَّ بِا لمَعرُوفِ(النساء۔ :19)
“اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو۔۔۔” 
اور ان تمام ہدایات کے ساتھ اس طرف بھی دونوں جنسوں کی توجہ مبذول کرادی کہ 
( وَ لَا تَتَمَنَّوا مَا فَضَّلَ اللھ بھِ بَعضَکُم عَلیٰبَعٍض(النساء :32)
“اور اس چیز کی آرزو نہ کروجس کے تحت اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس کی ہوس مت کرو۔”
یہ اور ان جیسے اور بھی بے شمار احکامات موجود ہیں جن کے ذریعہ سے عورتوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ان احکامات کی موجودگی کے باوجود بھی اگر کوئی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے یا ان کے حقوق ادا نہیں کرتا ہے تو ایسا شخص یقیناً اللہ کا گناہ گار ہے۔ ہمارے آقا و مولا سید الکونین خاتم النبین حضرت احمد مجتبےٰ محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اپنے طرز عمل سے اور قرآن کریم کی ہدایات کی روشنی میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں ایک عورت کو اتنی ہی آزادی حاصل تھی جتنی کہ ایک مرد کو۔وہ اتنی ہی محفوظ تھی جتنا کہ ایک مرد بلکہ اس لحاظ سے دیکھیں کہ عورت کی حفاظت کی ذمہ داری مردوں کی تھی تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عورت مردوں سے زیادہ محفوظ تھی۔ ہاں اللہ کی قائم کی ہوئی حدود کو کوئی پامال نہیں کرتا تھا۔ عورتیں بھی ان قیود و ضوابط کی پابندی کرتی تھیں اور مرد بھی۔ تاریخ کا کوئی بھی طالب علم مسلمانوں کی ان معاشرتی خوبیوں سے نابلد نہیں ہے۔ مردوں نے عورتوں کا تحفظ کیا اور عورتوں نے مردوں کے گھر بار، مال اور املاک کی حفاظت کی۔ نتیجہ کے طور پر ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جو اپنی گوناگوں خوبیوں سے پہچانا جاتا تھا۔آج کا مرد اپنی تمام طاقت اور صلاحیت صرف اپنے کاروبار کو پھیلانے اور اپنی مالی حیثیت کو بہتر سے بہتر بنانے پر خرچ کر رہا ہے۔ گھر بار ، بیوی بچوں سے اس کو بظاہر کوئی دلچسپی نہیں یا شاید زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ کہیں کہ اس کے پاس ان چیزوں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ گھر جو امن کی جگہ ہے جہاں سے سکون اور پیار کے سوتے پھوٹتے ہیں اس کو مرد نے نظر انداز کردیا ہے۔ تمام معاملات خواتین کے والے کردیئے گئے ہیں اور وہ نظام جو اللہ نے قائم کیا تھا اور جس متوازن پیمانے کا اللہ نے ہمیں مکلف بنایا تھا ہم نے اس کو بگاڑ دیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس بگاڑ کو دور کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی بجائے ہم آج بھی مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس معاشرے کو اپنانا چاہ رہے ہیں جو بدبودار ہے جس کی چمک دمک نقلی ہے۔ جس کی بنیاد بودی ہے اور اس میں نہ پائیداری ہے نہ فلاح۔ ہمارے اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ کہنے سے نہیں چوکتے کہ مغرب نے اتنی ترقی کی ہے اس کے بنیادی اصول زیادہ تر اسلامی تعلیمات سے ماخوذ ہیں ۔ جھوٹ وہ نہیں بولتے ، کاروبار میں ایمان داری کرتے ہیں ، ہر شخص اپنا کام انتہائی دیانت داری سے کرتا ہے۔ دھوکہ دہی اور قانون شکنی نہ ہونے کے برابر ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان میں سے کچھ باتیں تو درست ہیں مگر اکثر صرف سطحی ہیں۔ اگر یہ مان
بھی لیا جائے کہ انہوں نے تمام اچھے اصول مسلمانوں کے اپنا لیے ہیں تو ہم خود اپنے اصول اپنے اوپر کیوں نہیں لاگو کرتے ہیں جبکہ ہمیں نظر آرہا ہے کہ انہی اصولوں کو اپنا کر وہ ترقی کر رہے ہیں۔ 
                اس گفتگو کو اس کے منطقی انجام تک  پہنچانے سے قبل میں اپنی مسلمانوں بہنوں اور بیٹیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدارا اٹھ کھڑی ہوں اور حقوق نسواں کے اس پر فریب نعرہ کا انکار کریں۔اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سنواریں۔ بے حیائی اور بے حجابی کو روکیں۔ وہ حقوق جو اسلام نے آپ کو دیئے ہیں ان کا اگر استحصال ہورہا ہے تو اس کو مانگیں اور اس کے لیے جدوجہد کریں نہ کہ مغرب کی نقالی کریں۔ اپنے گھر کی ایکائی کو مضبوط کریں۔ اپنے محافظ مردوں کو گھر کی طرف متوجہ کریں۔ اپنے سگھڑاپے اور اللہ کی دی ہوئی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے گھر کے مردوں کی کمائی کو عقل مندی سے استعمال کریں۔ مردوں کو زیادہ سے زیادہ مال کمانے پر مجبور نہ کریں اور نہ ہی اس کو غلط طریقوں سے مال کمانے دیں۔ جتنا تھوڑے میں گذر بسر ہو سکتی ہے کریں۔ خوشیاں اور سکون ،مال و دولت میں تو ہے نہیں۔ یہ تو اللہ کے فضل سے ملتا ہے اور اللہ کا کرم اور اس کی نوازشیں اس کے احکامات پر عمل کرنے سے ملتی ہیں۔ اپنے بچوں کو بھی اسلام پر گامزن کریں ۔ اسلام کی تعلیمات خود بھی حاصل کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسی طرف لگائیں۔ یقین جانئے کہ عورت کا گھر سے بے پردہ باہر نکلنا اس سے اگلے  شدید گناہ کے قدم کی طرف راہنمائی کرتا ہے بے حیائی میں گھسیٹتا ہے۔ اور یوں شیطان اپنی ترکیبوں کو استعمال کرتے ہوئے عورت کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں آج کا مغربی معاشرہ کھڑا ہے۔ جس میں میرے اپنے نظریہ کے مطابق مرد عورت سے زیادہ حیا دار ہے۔ تین پیس کا سوٹ پہنتا ہے ، ٹائی بھی لگاتا ہے موزے بھی چڑھاتا ہے اور سر پر ٹوپی بھی رکھتا ہے۔ چہرہ اور کلائیوں کے علاوہ اس کا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ مگر اس کی عورت کو یہ فکر ہے کہ کس طرح کم سے کم کپڑوں میں باہر آجائے۔ جسم کے زیادہ سے زیادہ حصوںکی کس طرح نمائش کرے اور مردوں کو لبھائے۔ اے اللہ ہمیں اپنا اچھا اور برا سمجھنے کی توفیق عطا کریں اور ان راستوں پر گامزن کردیں جو آپ نے اپنے حبیب نبی اکرم ﷺکے ذریعہ سے ہمیں تعلیم کی ہے۔ آمین۔ ثم آمین۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.