امام محمد تاج فقیہ۔ بہار کے پہلے مسلم فاتح


جریدہ "الواقعۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

امام محمد تاج فقیہ۔ بہار کے پہلے مسلم فاتح

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
گو ارضِ بہار نہ امام محمد تاج فقیہ کا مولد و مدفن ہے اور نہ ہی انہوں نے ا س سرزمین کو اپنی سکونت کے لیے اختیار فرمایالیکن بہار کی اسلامی تاریخ امام محمد تاج فقیہ کے بغیرادھوری ہے اور علومِ اسلامی کے ماہر علماء کے وجود کی ابتداء گویا آپ ہی کے حسنات میں سے ہے۔بہار سے تعلق رکھنے والے مسلم اشراف کا شاید ہی کوئی گھرانہ ایسا ہو جسے امام محمد تاج فقیہ کی ذریّت نہ پہنچی ہو۔
امام محمد تاج فقیہ بن ابو بکر بن ابو محمد معروف بہ ابو الفتح بن ابو القاسم بن ابو الصائم بن ابو سعید معروف بہ ابو الدہر بن ابو الفتح بن ابو اللیث بن ابو ابواللیل بن ابو الدر بن ابو سہمہ بن ابو الدین امام عالم بن ابو ذر عبد اللہ ( رضی اللہ عنہ ) بن زبیر بن عبد المطلب ۔نسباً زبیری الہاشمی تھے ۔ امام محمد تاج کے نسب میں مذکور تمام بزرگ اپنے دور کے ائمہ و فقہا میں سے تھے ۔
امام محمد تاج کا تعلق الخلیل سے تھا ۔ بعض نے مدینہ منورہ اور  بعض نے مکہ مکرمہ بھی لکھا ہے ۔تاہم بہار کے اکثر مورخین نے الخلیل ہی کو امام محمد تاج فقیہ کا وطن قرار دیا ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے بکثرت آمد و رفت رکھتے ہوں ۔ یہی مورخین کے لیے وجۂ التباس ہوا ہوگا ۔ شاہ محمد نور کی قلمی بیاض کے مطابق امام محمد تاج اور امام غزالی ہم مکتب و ہم درس تھے ۔ اپنے شیخ کے حکم سے اشاعتِ اسلام کی غرض سے مدینہ منورہ سے باہر نکلے ۔ شاہ محمد نو رکے قلمی بیاض سے مولانا عبد الرحیم صادق پوری نقل کرتے ہیں :

“حضرت مولانا محمد تاج فقیہ قدس سرہ بوجہ تبحر در علم فقہ بمرتبۂ کمال امام محمد تاج الفقہا ملقب بودند آنحضرت و امام محمد غزالی رحمة اللہ علیہما بحکم مرشد خود برائے اجرائے اسلام از مدینہ منورہ و ہم از محلہ قدس خلیل من محلات بیت المقدس تشریف میداشتند ( از آنجا امام غزالی بطرف ملک مغرب و از آنجا بطرف طوس تشریف بردند ) حضرت مولانا محمد تاج فقیہ بطرف ہندوستان صوبہ بہار تشریف ارزانی فرمودند ۔ ” (الدر المنثور فی تراجم اہل الصادقفور : ١١)

مولانا محمد کبیر دانا پوری نے اپنی کتاب “ تذکرة الکرام “ میں لکھا ہے کہ امام محمد تاج کے استاد ، شیخ شہاب الدین سہروردی ہیں ۔
تاہم یہ روایات درایتاً درست نہیں ۔ مستند تاریخی روایت کے مطابق امام محمد تاج نے منیر کو ٥٧٦ھ میں فتح کیا ۔ ان کے ساتھ ان کے جوان بیٹے تھے ۔ یقینا ان کی عمر اس وقت ٥٠ برس سے متجاوز ہوگی ۔جبکہ شیخ ابو حفص شہاب الدین سہروردی کی ولادت ٥٣٩ھ میں ہوئی اور ان کی وفات ٦٣٢ھ میں ہوئی ۔ تاہم یہ امکان ہے کہ امام محمد تاج کے استاد ، شیخ ابو نجیب عبد القاہر سہروردی ہوں کیونکہ ان کی ولادت ٤٩٠ھ میں ہوئی اور وفات٥٦٣ھ میں ہوئی ۔ اسلامی بہار کی قدیم تاریخ ویسے بھی اغلاط سے پُر ہے ۔ ممکن ہے کاتب کی مہربانی سے عبد القاہر سہروردی کو شہاب الدین سہروردی سمجھ لیا گیا ہو ۔ اسی طرح یہ خیال کہ امام غزالی ، امام محمد تاج کے ہم مکتب و ہم درس تھے ، درست نہیں ۔ امام غزالی کا زمانۂ حیات تو اس سے قبل کا ہے ۔ ان کی ولادت ٤٥٠ھ میں ہوئی جبکہ وفات ٥٠٥ھ میں ہوئی ۔ یہ امر بالکل واضح ہے کہ نہ شیخ شہاب الدین سہروردی امام محمد تاج کے شیخ تھے اور نہ ہی امام غزالی ہم مکتب ۔ و اللہ اعلم بالصواب
امام محمد تاج ہندوستان وارد ہوئے ۔ اس وقت اسلامی عملداری کی حدود اودھ تک پہنچی تھی ۔ اس زمانے میں ہندوستان کے مشرقی صوبوں یوپی کے مشرقی اضلاع و بہار و بنگال میں طوائف الملوکی تھی ۔ مختلف ہندو راجاؤں کی حکمرانی تھی ۔ اثنائے سفر امام صاحب بہار کے ایک مقام منیر جا پہنچے ۔ وہاں صرف ایک ہی مسلمان گھر آباد تھا امام صاحب اسی کے گھر فروکش ہوئے جب نماز کا وقت ہوا تو چاہا کہ اذان دیں اور نماز پڑھیں ۔ اس مسلمان نے اذان دینے سے منع کیا اور کہا کہ اذان کی آواز سنتے ہی راجا کے آدمی آکر ہمیں مار دیں گے یہاں اذان دینے کا حکم نہیں یہ سن کر امام صاحب کو بہت دکھ ہوا اور وہ وہیں سے واپس ہوئے ۔ مدینہ منورہ پہنچے تاہم دل میں یہ خیال جاگزیں ہو چکا تھا کہ کسی طرح اس راجا سے لڑیں اور منیر کو اسلامی عملداری میں داخل کریں ۔ اسی اثنا میں ایک روز مسجدِ نبوی میں سو رہے تھے کہ رسول اللہ   کی زیارت ہوئی ۔ آپ نے حکم دیا کہ اس کافر سے جا کر لڑو اللہ کامیاب کرے گا ۔ جب بیدار ہوئے تو متحیر ہوئے کہ تنِ تنہا کس طرح لڑیں ۔ اسی کشمکش میں چند دن مزید نکل گئے کہ دوبارہ مسجدِ نبوی ہی میں نبی کریم کی زیارت ہوئی اور وہی حکم صادر ہوا ۔ اس بار بھی وہی کیفیت ہوئی تاہم یہ خیال بھی راسخ ہوا کہ جب حکم صادر ہوا ہے تو اسباب بھی مہیا ہوگا ۔  تآ نکہ تیسری بار بھی مسجدِ نبوی ہی میں زیارت ہوئی اور اس بار نبی کریم نے فرمایا کہ جاؤ فلاں فلاں اشخاص سے ملو وہ تمہاری اس امر میں مدد کریں گے ۔ جب بیدار ہوئے تو ان ناموں کو اچھی طرح سے ذہن میں محفوظ کرلیا ۔ ان میں سے بعض افراد تو مدینہ منورہ ہی میں مقیم تھے اور بعض دوسرے ممالک میں مقیم تھے ۔ مدینہ منورہ میں جو افراد رہائش پذیر تھے وہ سنتے ساتھ ہی امام صاحب کی معیت میں عازم جہاد ہوئے ۔امام صاحب بمع اہل و عیال ٣٠ /٣٥ افراد کے ساتھ مدینہ سے نکلے ۔ بخارا ، کابل وغیرہا سے ہوتے ہوئے منیر پہنچے ۔ اس وقت تقریباً ساڑھے تین سو افراد ہمرکاب تھے ۔ راجا منیر کو خبر ملی تو اپنے قلعے کی بلندی سے جب اس لشکرِ اسلامی پر نظر ڈالی تو تعداد کی قلت سے بہت خوش ہوا اور مزید سرکشی پر آمادہ ہوا ۔ چنانچہ اس نے جنگ کا آغاز کیا اللہ ربّ العزت نے لشکرِ اسلامی کو فتحیاب کیا ۔ امام صاحب ہی کے نیزے سے راجا مارا گیا ۔ امام صاحب کو منیر اور اس کے اطراف میں مکمل تسلط حاصل ہوا ۔ امام صاحب نے مکمل اسلامی نظام قائم کیا ۔بہار میں منیر کے مقام پر اس پہلی اسلامی ریاست کا قیام بقول مولانا مراد اللہ منیری مصنف “ آثار منیر “ ٢٧ رجب ٥٧٦ھ کو عمل میں آیا ۔ ان کے الفاظ ہیں :

“آج سے آٹھ نو سوسال پہلے اللہ کے بندے ، اس کے محبوب کی امت خاندان ہاشم کے جلیل القدر فرزند حضرت سیدنا امام محمد تاج فقیہ ہاشمی قدس خلیلی رحمة اللہ علیہ حسبِ بشارت حضرت رسالتمآب ہندوستان سے ہزاروں میل دور بیت المقدس سے صوبہ بہار کے مرکز عظیم یعنی سر زمین منیر شریف میں تشریف لائے اور پرچم اسلام نصب کرکے اس تیرہ و تار خطہ کو اپنی ضیائے ایمانی سے منور فرمایا ۔ ٢٧ رجب روز جمعہ ٥٧٦ ہجری کی وہ مبارک ساعت تھی جب آپ کے ہاتھ سے یہاں اسلام کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ۔ “ (آثار منیر : ٨ -٩)

جبکہ پروفیسر معین الدین دردائی کے مطابق :

“حضرت مخدوم الملک (شیخ احمد منیری)کے پردادا حضرت امام محمد تاج فقیہ بقصدِ جہاد ٥٧٦ھ میں بیت المقدس کے محلہ قدس خلیل سے ہندوستان تشریف لائے تھے اور صوبہ بہار ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ منیر شریف میں اقامت گزیں ہوئے ۔ منیر کا راجہ بہت ظالم اور سرکش تھا ۔ مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم توڑتا تھا ۔ یہ دیکھ کر حضرت امام محمد تاج فقیہ نے اپنے آنے کے چھٹے سال اس سے جہاد کیا اور منیر فتح کرلیا ۔ “ (تاریخ سلسلہ فردوسیہ:١٣٩)

تاہم بہاری محققین کے نزدیک فتح منیر کی اوّل الذکر روایت ہی کو قبولیت عام حاصل ہے ۔ پروفیسر صاحب کی روایت کو درست تسلیم نہیں کیا جاتا ۔
عام طور ہندوستانی مورخین بختیار خلجی کو بہار کا پہلا مسلم فاتح قرار دیتے ہیں ۔ جس نے معروف روایت کے مطابق ( مثلاً “ طبقات ناصری “) ٥٩٥ھ میں بہار فتح کیا تھا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہار کے پہلے مسلم فاتح امام محمد تاج فقیہ تھے ۔ جنہوں نے بختیار خلجی کی آمد سے ١٩ برس قبل ہی بہار کے ایک خطے میں اسلامی ریاست قائم کرلی تھی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام محمد تاج بہار کے پہلے مسلم فاتح ہیں ۔ اس پر بہار کی مستند تاریخی روایات موجود ہیں اور اس حقیقت کو اب تاریخی طور پر تسلیم کیا جانا چاہئیے۔
امام صاحب کی اہلیہ مکرمہ کا انتقال منیر ہی میں ہوا جس کے بعد امام محمد تاج نے اپنی اہلیہ کی چھوٹی ہمشیرہ کو اپنے حبالۂ عقد میں لیا ۔ ان سے ایک صاحبزادے مخدوم عبد العزیز منیر ہی میں پیدا ہوئے ۔ امام صاحب نے اہلیہ اولیٰ سے اپنے صاحبزادوں مخدوم اسرائیل اور مخدوم اسماعیل کو یہیں چھوڑا اور خود امام صاحب اپنی محل ثانی ، چھوٹے صاحبزادے مخدوم عبد العزیز اور چند مخلصین کے ہمراہ منیر سے الخلیل کی طرف عازم سفر ہوئے ۔ الخلیل بیت المقدس کا ایک محلہ ہے وہیں امام صاحب کی وفات ہوئی ۔ صاحبِ "الدر المنثور“ مولانا عبد الرحیم صادق پوری کے مطابق امام تاج فقیہ منیر سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔ (الدر المنثور فی تراجم اہل الصادقفور : ١٤)
امام تاج فقیہ کے چھوٹے صاحبزادے مخدوم عبد العزیز جب سنِ شعور کو پہنچے تو انہیں اپنے بھائیوں سے ملنے کا شوق منیر کھینچ لایا اور انہوں نے بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ یہیں اقامت اختیار کرلی ۔
مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

“مولانا محمد تاج فقیہ کی ذات سے منیر اور اس کے مضافات میں اسلام کی بہت اشاعت ہوئی ، کچھ عرصہ آپ نے منیر میں قیام کرکے وطن مراجعت فرمائی اور زندگی کا بقیہ حصہ خلیل ہی میں بسر کیا ۔ “(تاریخ دعوت و عزیمت : ٣ /١٧٨)

مولانا ابو البرکات عبد الرؤف دانا پوری لکھتے ہیں :

“صوبہ بہار میں قصبہ منیر شریف قدیم اسلامی مرکز ہے حضرت امام محمد تاج فقیہ رحمة اللہ علیہ نے اس دیار میں سب سے پہلے منیر کو اپنا اسلامی مرکز بنایا ۔ آپ کی مجاہدانہ کوششوں سے اس دور دراز خطہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی اور کافی اشخاص نے راہ ہدایت اختیار کی ۔ “ (آثار منیر :٥)

امام محمد تاج فقیہ سلطانِ ہند شہاب الدین محمد غوری ( م ٦٠٢ھ ) کے معاصر تھے ۔ امام محمد تاج کی سن وفات سے متعلق بہت اختلاف پایا جاتا ہے ۔
پروفیسر محمد حسنین اپنے مکتوبِ گرامی مرقومہ ٦ اکتوبر ١٩٩٩ء بنام سیّد قیام الدین نظامی لکھتے ہیں:

"میرے والد الحاج سیّدمحمد رشید مرحوم کے دادا سیّد صمصام الدین کی ایک سندی انگشتری میرے پاس محفوظ ہے ۔ سیّد صمصام الدین مرحوم کی پوتی ، رقیہ محمود شمسی کاکوی ( دختر فخر الدین منیری ) کے پاس جو خاندانی فاتحہ نامہ زیرِ مصرف رہا اسی کا عکسی نقل آپ کو بھیج رہا ہوں ، شاید آپ کے کام آئے ۔ فاتحہ نامہ میں امام محمد تاج فقیہ کا سالِ وفات ٥٦٣ھ تحریر ہے ، جس کی شہادت تاریخِ کملاء سے بھی مل جاتی ہے ۔”

گزشتہ سطور میں مولانا مراد اللہ کی کتاب “ آثار منیر “ کا اقتباس گزر چکا ہے کہ منیر کی فتح ٥٧٦ھ میں ہوئی جس سے ٥٦٣ھ میں امام محمد تاج فقیہ کے سنِ وفات ہونے کی قطعاً نفی ہوتی ہے ۔اس ضمن میں راقم کا حاصلِ تحقیق حسبِ ذیل ہے :
 
اوّلاً : کسی مستند کتاب میں امام محمد تاج فقیہ کی سن وفات مذکور نہیں ۔
ثانیاً : جن سنین وفات کا ذکر ملتا ہے نہ وہ روایتاً درست ہیں اور نہ ہی درایتاً ۔
مختلف اور متعدد تاریخی شخصیات ایسی ہیں جن کی سنینِ ولادت و وفات سے آگاہی نہیں ہوتی لیکن نہ اس سے ان کی شخصیت مجروح ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے کارناموں پر زد پڑتی ہے ۔
 
بہار کے متعدد مشاہیر مخدوم یحیٰ منیری ، شیخ شرف الدین احمد منیری ، مخدوم عزیز الدین پکھئی ، مولانا محمد عارف ،  شاہ دولت منیری ، مولانا محمد سعید ( شہر گھاٹی ) ،مولانا ولایت علی صاد ق پوری،مولانا عنایت علی صادق پوری، مولانا عبد الرحیم صادق پوری( اسیر کالاپانی )، شاہ محمد اکبر دانا پوری ، شاہ امین احمد ثبات فرودسی ، شاہ محمد سلیمان پھلواروی وغیرہم امام محمد تاج سے براہِ راست نسبی تعلق رکھتے ہیں ۔

گستاخانہ فلم ۔ عالم اسلام کے خلاف نئی سازش کا نکتۂ آغاز


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

گستاخانہ فلم ۔ عالم اسلام کے خلاف نئی سازش کا نکتۂ آغاز

ابو محمّد معتصم باللّٰہ

واہیات فلم Innocence of Muslims مسلمانوں کے خلاف عالمی سازش کا تسلسل اور ایک نئے سازشی موڑ کا نکتۂ آغاز ہے ۔ اس سازش کے ظاہری کرداروں میں سب سے نمایاں نام ٹیری جونز کا ہے ۔یہ وہی خبطی ہے جس نے گزشتہ برس قرآن پاک کے مقدس اوراق کو جلانے کی مہم شروع کی تھی تاہم عالمی دباؤ کے باعث اسے پیچھے ہٹنا پڑا ۔ لیکن اس دوران اس کاتخریبی ذہن مسلسل مسلمانوں کے خلاف متحرک رہا ۔ جس کا نتیجہ گستاخانہ فلم کی صورت میں نکلا ہے ۔

خبر ہے فلم کے لیے ١٠٠امریکی یہودیوں سے پانچ ملین ڈالر بٹورے گئے۔  یہودی جو چند ٹکے دینے میں بھی لیت و لعل سے کام لیں انہوں نے یہ رقم بخوشی پیش کردی ۔ جائے تعجب ہے ۔ گستاخانہ فلم کا پروڈیوسر بھی اسرائیلی نکلاجو فلم کی تیاری کے بعد روپو ش ہوگیا ۔

٥٢ سالہ سام باسل نامی اس پروڈیوسر کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور وہ وہیں روپوش ہے۔ سام باسل ایک اسرائیلی نژاد یہودی ہے۔

گستاخانہ فلم گزشتہ برس کے آخر میں مکمل کر لی گئی تھی اور اسے امریکا میں ہالی وڈ کے ایک تھیٹرمیں چند لوگوں کو دکھایا بھی گیا تھا۔ تاہم اسے منظر عام پر نہیںآنے دیا گیا۔ اس کی تیاری پر پانچ ملین ڈالرز کی لاگت آئی ہے اور یہ ساری رقم امریکا کے ١٠٠یہودیوں سے جمع کی گئی۔

 بعد ازاں فلم کی ١٣ منٹ کی فوٹیج ویڈیو سائٹ ”یو ٹیوب”پر نشر کی گئی ۔ یو ٹیوب کی انتظامیہ نے اس پر ردعمل آنے کے بعد انٹرنیٹ سے ہٹانے کا بھی اعلان کیا ہے۔تاہم عالمی سطح پر پُرزوراحتجاج کے باوجودابھی تک نہیں ہٹا یا ہے ۔

گستاخ رسول امریکی پادری ٹیری جونزبھی اس فلم کا ایک اہم کردار ہے۔ جس عرصے میں یہ فلم اپنی تیاری کے مراحل میں تھی۔ اس دوران یہ بد بخت ، قرآن کریم کے نسخے نذرآتش کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ پچھلے سال نائن الیون کی دسویں برسی کے موقع پراس نے قرآن کریم کے نسخے جلانے کا اعلان کیا تھا اور اس سال اسی کے تعاون سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں ایک نئی گستاخی کی گئی ہے۔

فلم کو انگریزی سے عربی میں ڈب بھی کیا گیا ہے ۔ جس کے لیے مصری افراد کی خدمات لی گئی ہیں ۔جن مصری افراد نے اس گھناؤنی حرکت میں حصہ لیا ان کے خلاف مصری حکومت نے سخت تادیبی کارروائی کا حکم دیا ۔تحقیقات کے بعد  ٹیری جونز اور نو مصری نژاد قبطیوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اوران کی گرفتاری کے لیے وارنٹ تیارکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
امریکی نیٹ ورک سی این این نے بیہودہ فلم میں کام کرنے والے عملے کا بیان نشر کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ سب نہیں جانتے تھے کہ فلم پروڈیوسر سیم باسل کا کیا ارادہ ہے، وہ سب اس کے ہاتھوں استعمال ہوئے اور وہ کسی کو تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے ۔ ان کو صحرائی جنگجو Desert Warrior نامی ایک فلم کے لیے اشتہار دے کر بھرتی کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ ایک تاریخی فلم ہو گی ۔

سی این ان نے ایک ایکٹریس کا انٹرویو نشر کیا ہے جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے معذرت کی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ ساری صوتحال پر بہت خوفزدہ ہے ، اور فلم بنانے والے پر شدید غصے میں ہے ۔ اس کو بتایا گیا تھا کہ یہ ایک ایڈونچر فلم ہے اور اس کا کردار بہت مختصر تھا۔فلم کے کئی ڈائیلاگ بعد میں بدلے گئے جو ایک دھوکا ہے ۔ ایکٹریس نے بتایا کہ فلم بناتے وقت مکالموں میں حضرت محمدکا نام شامل نہیں تھا بلکہ اس کی جگہ جارج یا سر جارج کا نام تھا جسے بعد میں تبدیل کیا گیا ۔

امریکا اور اسرائیل دونوں ہی نے اس فلم سے اپنی برأت کا اظہار کیا ہے اور بظاہر مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کی ہے ۔ لیکن مقام غور ہے کہ اب تک انہوں نے اس گھناؤنی ساش کے کرداروں پرکوئی گرفت نہیں کی ۔  نہ اس فلم پر کسی قسم کی پابندی ہی عائد کی ہے ۔

فلم کے ردّ عمل میں جو تشدد کا رجحان نظرآتا ہے اہلِ نظر بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ بھی کسی بیرونی و عالمی سازش ہی کا حصہ ہے ۔ شاید یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔ کیونکہ توہین آمیز فلم کے خلاف عالم اسلام میں احتجاج کی حدت ابھی کم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ فرانس کے ایک  ہفت روزہ جریدے نے نبی اکرم کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس سے فرانسیسی زبان میں چھپنے والے میگزین ”چارلی ایبڈو”کے ایڈیٹر انچیف چارب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے بدھ کے روز کے پرچے میں ایک صفحہ خاکوں کے لیے مختص کیا ہے۔ ان خاکوں میں مسلمانوں کے پیغمبر کی زندگی پر کارٹون شامل ہیں۔فرانسیسی ٹی وی”آئے ٹیلی”سے بات کرتے ہوئے جریدے کے ایڈیٹر نے کہا کہ جو لوگ ہمارے میگزین سے نفرت کرتے ہیں، اسے پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور ہمارے ساتھ لڑائی پر اتر آتے ہیں، یہ خاکے ان کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ہم لڑائی کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح لڑ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے مذموم عزم کا اظہار کرنے والا جریدہ اسی طرح کی جسارت پچھلے سال بھی کر چکا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر گزشتہ برس پیرس میں اس کے دفتر پر نامعلوم افراد نے پٹرول بموں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دفتر کا ایک حصہ نذر آتش ہو گیا تھا۔ میگزین نے اس سال پھر وہی جسارت کی ہے اور آزادی صحافت کی آڑ میں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔

ادھر پیرس میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ حدود سے تجاوز کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے تمام اشاعتی اور نشریاتی اداروں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اورکسی نئی اشتعال انگیزکارروائی سے گریز کریں۔ وزیر اعظم آئرویلٹ کا کہنا ہے کہ فرانس ایک سیکولر ملک ہے جہاں تمام مذاہب کو یکساں احترام حاصل ہے۔ میثاق جمہوریت کا اصل اصول یہ ہے کہ تمام ادیان کا احترام بجا لایا جائے۔ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فائیبوسنے اپنے قاہرہ کے دورے کے دوران کہاکہ وہ کسی اخبار یا جریدے کو کارٹون شائع کر کے نئی اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے آزادی اظہار رائے کا راگ الاپتے ہوئے اپنی ہی کہی بات کی نفی کر دی کہ ان کے ملک میں کچھ بھی شائع کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر ایک کو اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

دوسری طرف خیال رہے کہ امریکا بہادر نے دنیا ، بالخصوص اسلامی دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں اپنے سفارت خانوں کی حفاظت کو ہر ممکن صورت یقینی بنائے گا ۔ اس کے لیے وہ اپنی فوجیں بھی مامور کرسکتا ہے ۔ چنانچہ سوڈان کے لیے امریکی فوجوں کی تعیناتی کا اعلان ہوچکا ہے ۔ اس اعلان کے ساتھ مسلم دنیا کے روشن ضمیر افراد پر اس سازش کے تمام اسرار منکشف ہوجاتے ہیں کہ اس سازش کے اصل کردا ر کون ہیں ؟ اور یہ کہ ان کے مقاصدکیا ہیں ؟

نبی کریم کی شانِ اقدس میں گزشتہ کئی برسوں سے ہونیوالی رذیلانہ حرکتوں کے خلاف مسلم امہ سراپا احتجاج ہے ۔ لیکن انہیں احتجاج پر مجبور کرنے والے بغیر کسی مقصد کے ایسا نہیں کرسکتے ۔ نیز یہ سلسلہ رکتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ اسی طرح ان ذمہ دار ممالک کے ارباب اقتدار بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہے ۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ گستاخانہ فلم محض ایک سازش نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف بپا عالمی سازش کا ایک اہم ترین موڑ ہے ۔

المغراف فی تفسیر سورہ ق


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012

المغراف فی تفسیر سورہ  ق


مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط نمبر 4

(١) جو خدا ایسی عظیم الجثہ کثیر المنافع چیز کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے ، وہ مردوں کو بھی زندہ کرنا اپنی قدرت میں رکھتا ہے ۔

(٢) زمین اس کا ملک ہے ، اور سارے مخلوقات اس کی رعایا اپنے ملک کی آراستگی و انتظام و رعایا کی تعلیم و تربیت کی غرض سے کسی بشر کو اپنا قانون لے کر بھیجنا اور تعلیم گاہیں کھولنا کتابیں متعین کرنا کچھ بھی جائے تعجب و اعتراض نہیں ۔

(٣) زمین باوجود اس کے کہ زمین ہونے میں ہر جگہ یکساں ہے مگر کہیں پیداوار کی صلاحیت اور معدنی ہونے کی حیثیت سے قابل قدر ہے ، اور دوسری جگہ بسبب شور و سنگلاخ ہونے کے ناقابل ۔

(٤) زمین میں سیکڑوں شہر اور دیہات آباد ہیں ، چھوٹے سے چھوٹاکوئی شہر لو اور دیکھو تو ایک حاکم، کچہری، بازار ، جیلخانہ ، شفا خانہ ، باغات ضرور اس میں ہوگا ۔

کچہری میں مختلف قسم کے آدمی ہوتے ہیں کوئی سرکاری ملازم ، کوئی مدعی ، کوئی مدعا علیہ ، کوئی گواہ ، کوئی مقدمہ جیت کر خوش خوش ہر ایک کو اپنے متعلقِ فیصلہ کی نقل سناتا پھر تا ہے ۔ کوئی ہار کر افسردہ دلگیر چلا جاتا ہے ، کوئی پاداش جرم میں پابہ زنجیر کشاں کشاں حاکم کے روبرو دلایا جاتا ہے ، اور مارے ہراس و ندامت کے حواس باختہ ہے ، کوئی بڑے اعزاز کے ساتھ سواریوں پر لباس فاخرہ پہنے چلا آتا ہے ۔ حاکم کسی کے صلۂ خدمت میں انعام کا پروانہ دے رہا ہے اور کسی کو پاداش جرم میں سزائے موت یا جیل یا جلائے وطن ہونے کا حکم سنا رہا ہے ۔

پھر بازار میں آئو کہیں نقود پرکھے جارہے ہیں کہ کھرے ہیں یا کھوٹے ، کوئی اپنے محاصل کے جانچنے کو بھی کھاتا کھولے حساب و کتاب میں مشغول ہے ، کہیں ترازونصب ہیں اور کہیں ناپ جوکھ جاری ہے ، کوئی خریدار ہے ، کوئی بیچنے والا۔
بیمارستان (ہسپتال) میں آؤ تو کتنے قسم کے آزار دہ امراض میں مبتلا پڑے نظر آتے ہیں ۔ کوئی سسک رہا ہے کوئی مارے تکلیف کے غش میں ہے ، کوئی جاں بلب آہیں کھینچ رہا ہے ۔

جیل خانے میں دیکھئے تو مختلف جرائم کے مختلف میعادی محبوس ہیں اور ذلت و خواری میں پڑے غم کھاتے ہیں ۔

امراء اور خوشحال اپنے باغوں اور محلوں میں پری جمالوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مصروف اور خوش وقت ہیں ۔

بروزِ حشر یہی زمین کھینچ کر نہایت وسیع بنادی جائے گی اور یہی واقعات بیع و شرا جنت و نار کے اعمال سے ۔ اور فصلِ خصومات ۔ اور وزنِ اعمال اور مخفیات کی جانچ اور حساب و کتاب ہوں گے ۔ اور یہ ممکن ہے اس لیے کہ جو کام سیکڑوں برس سے ہورہا ہے ، وہی کام بہت دیر تک بہت زیادہ کرکے آسانی سے کیا جاسکتا ہے ، جیسا ارشاد ہوا کہ 
(وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ   Ǽ۝ۙ) (الانشقاق: ٣)  "جب زمین کھینچ کر پھیلائی 

جائے۔” اور فرمایا 
(يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ) (ابراہیم: ٤٨) 

"جس دن زمین اور آسمان کی موجودہ حالت بدل دی جائے گی اور سب لوگ 

اللہ کے حضور میں حاضر ہوں گے ۔” 
اور فرمایا : 
(وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ 

وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ       69؀) )الزمر:٦٩( 

زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔
غرض زمین میں بھی دلائل توحید و حشر و نشر واضح طور پر موجود ہیں ، جیسا کہ ارشاد ہوا :)   وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ       20؀ۙ) (الذاریات:٢٠) "یقین لانے والوں کے لیے زمین میں بہیتری نشانیاں موجود ہیں ۔” اگر اس سے بھی نہ سمجھیں تو دیکھیں کہ ( وَ أَلْقَیْْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ ) "اور ہم نے ڈال رکھے ہیں اس میں اونچے اونچے پہاڑ” جو زمین کو ہلنے سے اور بعض بلادِ معمورہ پر سمندر کو بہ نکلنے سے روکے ہوئے ہیں ۔
(١) پہاڑ بھی مخلوقاتِ ارضیہ میں سے ایک مخلوق ہے مگر تمام مخلوقات ارضی کو ہلاکت سے روکے ہوئے ہے ۔ اس لیے اس کا رُتبہ بلند ہے ۔ اسی طرح سے منجملہ انسانوں کے ایک انسان ایسا پیدا کیا جا سکتا ہے جو اپنے تمام بنی نوع کو ہلاکتِ ابدی سے بچارکھے اور اس سبب سے تمام بنی نوع سے اس کا پایہ بلند ہو ۔

(٢)باوجود اس کے کہ پہاڑ بھی مخلوقات ارضیہ سے ہے مگر سب سے ارفع ، سخت ، انفع اور اٹل ہے ۔ اسی طرح سے اپنے تمام جنس میں سے ایک فرد انسان ارفع و اعلیٰ اونچی شان والا ہوسکتا ہے اور وہ انبیاء ہیں ۔

(٣) پہاڑوں میں سے بعض بعض پتھر جو منجملۂ اجزائے کوہ ہیں ، تاثیرات علوی سے جواہر بیش بَہا مثلاً لعل و یاقوت و الماس وغیرہا بن جاتے ہیں ۔ اور درحقیقت ہیں تو پتھر ہی ، اور انہیں پہاڑوں کے اجزاء مگر من حیث بہا (قیمت) و رونق و قدر و قیمت کوئی نسبت اپنے ہم جنسوں سے نہیں رکھتے ۔ اسی طرح کسی بشر میں تاثیرات علوی سے نبوت کا پایا جانا اور اس سبب سے اپنے تمام ہم چشموں سے بہا (قیمت) و رونق و قدر و منزلت میں فائق ہوجانا کوئی جائے تعجب نہیں ۔
(٤) پہاڑوں میں اکثر معدنیات ودیعت (پوشیدہ) رکھے ہوتے ہیں اور انسان بہیترے آثار و قرائن سے ان کا پتا لگا کر نکالتے ہیں ۔ نکلنے کے وقت تھکے اور ڈھیلے ہوتے ہیں ۔ بعد استخراج ( علیحدہ کرنا) کے مختلف اشکال و اوضاع (صورت) میں لائے جاتے ہیں ۔ کوئی ظروف (برتن) ، زیور و مضروب سکے بنتے ہیں ۔ کوئی آلات حراست و حرب بنائے جاتے ہیں ۔ پھر جب چاہتے ہیں گلا کر مثل سابق تھکّا (مائع ) بنا ڈالتے ہیں ۔ پس جو خدا اپنے مخلوقات کو آثار و علامات کی حس بخشتا ہے اور معدنیات کے مقام کی شناخت کی قدرت دیتا ہے ۔ جس کے سبب سے مدت ہائے دراز کے مودّع (پوشیدہ) چیزوں کو استخراج ( علیحدہ کرنا) کرکے کام میں لاتے ہیں ، وہ خدا کیا اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ انسان کو جو خاک میں مل گئے پھر واپس لائے ؟ اور اجزائے متفرق انسان کے مقام و محل کو پہنچا دے اور دوبارہ ان کو اصلی صورت و شکل پر لوٹا لائے 
(وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ        Ċ۝ۙ (١)  ) (سورہ ق :٧) "اور میں نے اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں ۔” 
جن کے رنگا رنگ پھول ، پتے ، ڈالیاں خود بھی دل لبھالینے والے ہیں اور اس تختہ زمیں کو جس پر اگتے ہیں ، خوشنما اور دلفریب بنا دیتے ہیں ۔

(١) جو خدا خود رو گھانس پات کے تخم  (بیج )کو زمین میں سڑ گل جانے اور انقلابات عظیم کے بعد طرح طرح کے شگوفے بنا کر نکالتا ہے ، وہ خدا انسان کو بھی زمین میں ایک مدت تک رہنے اور سڑ گل جانے کے بعد از سر نو پیدا کر سکتا ہے ۔

(٢) جس طرح عموماً نباتات بیچ سے سڑ گل کر درخت اور درخت سے پھول اورپھول سے پھل ہوتے ہیں ۔ اور پھر پھل میں وہی بیج موجود ہوتے ہیں ، جو زمین میں سونپے گئے تھے ، علیٰ ہٰذا القیاس خدا کی قدرت میں ہے کہ جو کچھ زمین کو سونپے بعد ایک مدت کے ہزاروں انقلاب اس میں ہوجائیں ۔ جب چاہے بعینہ جیسا سونپا تھا واپس لے ۔

(٣) جس طرح ہر نبات کا خلاصہ اور اس کی زینت و بہجت (خوشی) اس نبات کا پھول ہوتا ہے یا پھل، اور وہ درخت کا ایک جز ہی ہوتا ہے مگر خوشنمائی اور زینت و تر و تازگی و بو ولذت میں تمام اجزائے درخت سے فائق و ممتاز ہوتا ہے ۔ اسی طرح سے تمام بنی نوع انسان میں سے ایک شخص بسبب نبوت ممتاز و فائق ہوسکتا ہے ۔ جس کے سبب سے تمام بنی آدم کی رونق و بہا (قیمت) و زینت بڑھ جاتی ہے ۔

(٤) جس طرح درخت جڑ سے سر تک مختلف اجزاء سے مرکب ہوتا ہے جڑ کی پرورش در پردہ اجزائے ارضی سے ہوتی ہے ۔ جڑ تمام اجزائے ارضی سے غذا لے کر ہر اجزائے درخت کو پہنچاتا ہے ۔ جس کے سبب سے درخت کی زندگی اور ترو تازگی بحال رہتی ہے ۔ اسی طرح سے تمام بنی آدم کے مختلف المزاج اور مختلف الحالت افراد کے اصل اور باعثِ بقا وحیٰوةابدی –انبیاء –ہیں ۔ جن کی پرورشِ روحانی کا ذریعہ وحی و الہام ہے ، جو درپردہ اور مخفی ہوتا ہے اور وہ سارے بنی نوع کو اس سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔

تبصرہ
ان کاموں سے اور بنی آدم کے روبرو اس کارخانۂ عالم کے کھولنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سے ان کی ظاہری آنکھیں ان عجائبات کے نظارے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں ، اسی طرح ان کی قلبی آنکھیں بھی روشن ہوں اور جس طرح ظاہری آنکھ سے دیکھ کر ہر شے کی نسبت موسم و آب و ہوا کی تاثیرات کی جانب کرتے ہیں ۔یا کسان و مالکِ زمین اور مزدوروں کی حسن تدبیر و انتظام و جانفشانی کی طرف کرتے ہیں ۔ دلی آنکھ سے غور کریں اور ہر چیز کے بونے اور اُگانے اور پھیلانے اور مِلک و مُلک کی نسبت اصل مالک اور بونے والے اور اگانے والے اور پھیلانے والے کی طرف کریں اور راہِ صواب و قول حق کے اوپر آجائیں ، اور ظاہری اسباب کے پیچ میں پھنس کر اصل مسبب الاسباب (اسباب کو پیدا کرنے والا)کو نہ بھول بیٹھیں ۔ جیساکہ ارشاد ہوا 
( فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ  حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ  ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا    ) (النمل:٦٠) 
میں نے پانی کے ذریعہ سے خوشنما باغ اگائے ۔ تمہاری مجال نہ تھی کہ ان کے درختوں کو اگالیتے ۔”
( وَ ذِکْریٰ ) اور اس لیے کہ کارخانۂ عالم کی ہر چھوٹی بڑی چیزوں کو آسمان ہو یا اس کی فراخی و زینت ، زمین ہو یا اس کے نباتات کی خوبی و خوشنمائی ۔پہاڑ ہو یا اس کی رفعت و سختی دیکھ کرخدا یاد آئے اور اس کی خالقیت و حکمت و تدبیر و لطف و ترحم کا یقین بڑھے ۔
حواشی
(١)     ( زَوْجٍ ) بعض ائمہ مفسرین جن میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ بھی شامل ہیں ، نے زوج کے معنی جوڑا کیے ہیں ۔ یعنی قدرت الٰہیہ نے ہر صنفِ اشیاء و نباتات کو جوڑا جوڑا ( نر و مادہ ) بنایا ہے ۔قرآنی و حی و تنزیل کی صداقت کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ کائنات عالم کے جس اسرار کا انکشاف قرآن نے بغیر کسی مادّی وسائل کے چودہ صدی قبل کیا تھا آج سائنسی تحقیق بھی اسے درست تسلیم کرتی ہے ۔ ( بَہِیْجٍ ) کے معنی ہیں خوش منظر و خوش نما ، حسین و دلفریب ۔

[جاري ہے۔۔۔۔۔]

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کی کتب سیرت


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کی کتب سیرت

محمد ساجد صدیقی

حب رسول سے سر شار کتاب ، رحمتہ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمتہ اللہ علیہ ١٨٦٧ء کو منصور پور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ (برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن ازمحمد اسحاق بھٹی)۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔اپنی قابلیت و صلاحیت اوربفضل تعالیٰ وہ ترقی کرتے ہوئے ١٩٢٤ء میں سیشن جج مقرر ہوگئے ۔
 قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول سے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں کتب سیرت کے نام درجِ ذیل ہیں۔

١) سید البشر٢) اسوہ حسنہ٣) مہر نبوت٤) رحمتہ اللعالمین٥) اصحاب بدر

قاضی محمد سلیمان منصور پوری بحیثیت جج انتہائی مصروف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ علمی اور تصنیفی کام کرتے تھے بلکہ روزانہ درسِ قرآن بھی دیتے تھے ۔ معتدد عیسائیوں اور پادریوں سے مناظرے بھی کیے ۔دروس و تبلیغ کے خاطر دوردراز کے سفر بھی کرتے تھے ۔وہ عربی میں مہارت رکھتے تھے اور قرآن پاک کے تفسیری نکات بھی بیان کرتے تھے۔انہوں نے دو مرتبہ حج کیا۔ دوسرے حج سے واپسی پر جہاز میں ان کا انتقال ہوگیا۔ مولانا محمد اسمعٰیل غزنوی رحمتہ اللہ نے اُن کا جنازہ پڑھایا اور پھر انہیں سمندر کے سپرد کردیا گیا۔ (اناللھ وانا الیھ راجعون ) اس طرح اُن کی یہ دعامقبول الہی ہوگئی کہ ”اے مولا! مجھے ایسے وقت اپنے حضور بلانا جب میں دنیا کی ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہوں۔” (اصحاب ِبدر چوتھا ایڈیشن ،حکیم محمد عبداللہ جہانیاں کے مضمون سیرتِ سلیمان سے ماخوذ)

قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی کتب سیرت کا جائزہ

قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمتہ اللہ کو سیرت رسول  کے موضوع سے خاص شغف تھا۔وہ فرماتے ہیں۔ ”سالہا سال سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ حضرت سید ولد آدم محمد النبی الاُمی، کی سیرت پر تین کتابیں لکھ سکوں ۔ مختصر ۔متوسط ۔مطول۔١٨٩٩ء میں مختصر کتاب لکھ کر شائع کر چکا ہوں ۔اس کا نام مہر نبوت ہے ۔ متوسط کتاب کا نام رحمتہ اللعالمین تجویز کیا گیا ہے۔” (رحمتہ اللعالمین جلد نمبر ١)۔ ذیل میں ان کی دو معروف کتبِ سیرت کا تعارف پیش کیا جارہاہے۔

رحمتہ اللعالمین :

اردو زبان میں سیرت نبوی  پر لکھی جانے والی ابتدائی کتب میں ” رحمتہ اللعالمین ” شامل ہے ۔رحمتہ للعالمین کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس کے بعد اردو زبان میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر لکھی گئی تقریباًتمام قابل ذکر اور تحقیقی کتب کے مصنفین نے ”رحمتہ اللعالمین ” سے استفادہ کیا ہے۔ ”رحمتہ اللعالمین ”اپنی پہلی جلد کی اشاعت کے بعد ہی اتنی مقبول اور معروف ہوگئی تھی کہ کئی مدارس کے نصاب میں شامل کردی گئی۔
جب پہلے پہل لوگوں کو معلوم ہوا کہ علامہ شبلی نعمانی سیرت پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں تو لاہور کے اس وقت کے مشہور اخبار ”وطن ” کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان نے یہ خیال ظاہر کیا کہ”جناب قاضی سلیمان صاحب منصور پوری تو سیرت لکھ ہی چکے اب اس کی کیا ضرورت ہے اور اس سے زیادہ کیا کچھ لکھا جاسکتا ہے۔” (بحوالہ مضمون ”برصغیر کے خادمان سیرت ” ازمولانا حسن مثنیٰ ندوی مشمولہ کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی ص٢٠مطبوعہ اول ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور )
اس کتاب میں یورپ کے مستشرقین کی جانب سے نبی کریم  کی ذات مقدس پر لگائے گئے الزامات اور غلط فہمیوں کا موثر انداز میں رد کیا ہے۔اور انجیل و تورات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”رحمتہ اللعالمین ”ثابت کیا ہے۔
جلد اول میں نبی کریم کی سیرت مبارکہ کا مکمل احاطہ کرنے کے بعد باب ٥ میں نبی کریم  کے اخلاق عظیم کو انتہائی تفصیل اور جامعیت سے بیان کیا ہے۔سیرت نبوی اس طرح بیان ہوئی ہے کہ اس سے اسلام کی حقانیت کے ساتھ ساتھ فقہ رسول اور احادیث رسول کی بھی تبلیغ و تر غیب ہوجائے۔
جلد ثانی میں رسول اللہ  کے شجرہ نصب کو حضرت آدم علیہ السلام تک انتہائی محنت اور تحقیق سے بیان کیا ہے۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری غالباًوہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نبی کریم  کی حیات مبارکہ کو ونوں ،گھنٹوں اور مختلف اقوام کے کلینڈروں سے اس قدر تحقیق سے بیان کیا۔ خاندان قریش کے کئی قابل ذکر افراد کے حالات و واقعات بھی اختصار کے ساتھ لکھے ہیں۔
نبی کریم کے عہد مبارکہ میں ہونے والے سر ایا اور غزوات کا تفصیلی نقشہ یا چارٹ جس میں ٨٢ غزاوات و سرایاکا ذکر ہے۔نبی کریم کی کثرت ازواج کے متعلق مستشرقین کے پھیلائے ہوئے افکار و نظریات کا بھر پور ردکیا ہے اور امہات المومنین کی سیرت مبارکہ کا اجمالی ذکر کیا ہے۔باب پنجم میں نبی کریم  کا دیگر انبیاء کرام کی زندگی سے مما ثلت اور اُن کی محمد رسول اللہ  کے حق میں کی گئی دعائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ باب ششم میں نبی کریم  کے رحمتہ اللعالمین ہونے کے دلائل اور اسباب انتہائی خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں۔
جلد سوم خصائص النبی  کے لیے مخصوص ہے ۔جس میں رسول اللہ  کے معجزات اور خصا ئص کو قرآن کریم اور کتب سابقہ و احادیث رسول  سے بیان کیا ہے۔مختلف انبیاء کرام کے واقعات بیان کرکے اُس کی تاریخ و لادت نبی  سے بیان کرتے ہیں۔
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :

مرحوم نے رحمتہ للعالمین لکھی، رب العالمین نے اس دنیا میں اس کو قبول کے شرف سے ممتاز کیا۔امید ہے کہ اس کی رب العالمینی اور اس کے رسول کی رحمتہ للعالمینی دوسری دنیا میں بھی اُس کی چارہ نوازی کریگی۔” (مقدمہ ”رحمتہ اللعالمین” جلد سوم)

سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں :

 ”اگر چہ اُردو میں سیرت النبی کے موضوع پر بے شمار کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔تاہم اِن کتب میں سے چند ہی ایسی ہیں جن کے اندر واقعات کی صحت بیان کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ان چند کتب میں قاضی صاحب کی ”رحمت للعالمین”سر فہرست ہے۔

مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں :

خدمت سیرت کے سلسلے میں دوسرا اہم نام مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری کا ہے۔قاضی صاحب ریاست پٹیالہ پنجاب کے جج تھے اور وسیع النظر عالم و محقق تھے۔ ان کی مشہور کتاب رحمتہ اللعالمین کی پہلی جلد ١٩١٢ء میں شائع ہوئی۔یہ کتاب سیرت رسول پر بحیثیت سیرت پہلی تفصیلی جامعیت کی کتاب تھی جو اردو زبان میں منظر عام پر آئی۔ یہ تحریک سیرت سے مقصود کے مطابق تھی اور قاضی صاحب کو اس مرکزسے خصوصی ربط تھا ۔حسن میاں نے تبصرہ و تنقید کے ساتھ قاضی صاحب کو لکھا کہ ”اس کتاب کے بعد مجھے یہ کام کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔” ( پیغمبر انسانیت  ازشاہ محمد جعفر پھلواروی میں مولاناحسن مثنیٰ ندوی کے مضمون ”پاکستان و ہندوستان کے خادمانِ سیرت)

مولانا حسن مثنی ندوی نے دس اہم خصوصیات ” رحمتہ العالمین ” کی بیان کی ہیں اور انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ”مصنف نے اس کے صفحات پر دماغ کے ساتھ دل کے ٹکڑے بھی رکھ دیے ہیں ۔ایک ایک لفظ سے عشق نبوی اور حب انسانیت نمایاں ہے۔” (ایضاً )
اصحاب بدر
اسلام اور کفر کے درمیان فیصلہ کن معرکہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے حالات زندگی پر مشتمل اس کتاب میں مسلمانوں کے سپہ سالار اعظم اور نبی الخاتم محمد کے مختصر حالات زندگی بیان ہوا ہے۔جنگ بدر کا تفصیلی اور ایمان افروز نقشہ کھنچا ہے۔ قدم بقدم نبی  کا دعائیں کرنا ، مسلمانوں کے ساتھ مشورے کرنا ،مختلف سردارانِ کفار کی موت کی پیشنگوئیاں کرنا، صحابہ کا جوشِ شہادت ، قیدیوں سے حسنِ سلوک غرض نبی کے قائم کردہ جنگی اصل وقواعد کا بہترین اظہار کیا ہے۔اہل بدر کا مقام اور مرتبہ کو احادیث سے بیان کیا ہے۔
قابل ذکر و تحسین کام یہ ہے کہ نبی کریم کی ولادت باسعادت کو دنیا کے مختلف اقوام میں رائج ١٢مختلف سنین کے مطابق درج کیا ہے۔ پھر حضور  کی ولادت سے وفات تک کے ایام کو ”دنوں”اور ”گھنٹوں” میں بیان کیا ہے۔لکھتے ہیں:

عالم دنیوی میں حضور  نے ولادت سے لیکر وفات تک٢٢٣٣٠ دِن٦گھنٹے قیام فرمایا۔یہ چھ گھنٹے اکتیسویں دن کے تھے۔ مذکورہ بالا ایّام میں سے ٨١٥٦ دن تبلیغِ رسالت و نبوت کے ہیں۔ ” (اصحابِ بدر۔ از مولانا سلیمان سلمان منصور پوری ص ٦٣۔٦٤۔ناشر: مکتبہ نذیریہ، لاہور)

نبی کا مختصر نسب نامہ بیان کرنے کے بعد ان تمام غزوات کے نام تحریر کیے جن میں آپ  نے شرکت فرمائی۔