مسلمانوں کا انتشارِ خیال –اور — اتحاد امت کا چیلنج. اداریہ


واق
جریدہ "الوقعۃ”  کراچی جمادی الثانی ١٤٣٣ھ /اپریل مئی ٢٠١٢ء
(اداریہ)

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اس وقت تیسری عالمی جنگ جاری ہے ۔ شیطانی گماشتوں کو اس بات کا احساس بہت پہلے ہوچکا تھا کہ دنیا کی ہر تہذیب اور دنیا کا ہر مذہب ان کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا ، سوائے اسلام کے ۔ کیونکہ اسلام جو فلسفۂ حیات پیش کرتا ہے وہ نہ محض چند رسوم و اعمال کا مجموعہ ( یعنی مذہب ) ہے اور نہ ہی محض چند اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترغیب دینے والی کوئی تہذیب ہے ۔ اسلام جو فلسفہ پیش کرتا ہے اسے ہم قرآنی اصطلاح میں ” الدین ” کہہ سکتے ہیں ۔ دین کا تعلق انسان کے افکار و نظریات سے بھی ہے اور اعمال و عادات سے بھی ۔ زندگی کا ہر ہر گوشہ اور ہر گوشے کا ہر ہر پہلو دائرہ دین میں داخل ہے ۔

 
یہی وجہ ہے کہ اسلام کو کسی نئے نظریے اور کسی نئی حکمت عملی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔جدید الحادی نظام نے تقریباً ہر خطۂ ارضی اور وہاں کے رہنے والوں کو متاثر کیا ہے ۔ تقریباً تمام مذاہب نے جدید الحاد کی چوکھٹ پر بلا مقابلہ ہی جبینِ نیاز جھکادی ۔ الحادی نظام کی یلغار اب اپنے آخری دور میں جا داخل ہوئی ہے اس آخری دور میں الحادی نظام کو زبردست مزاحمت کا سامنا ہے اور اس مزاحمت کا نام ہے —-” اسلام ” ۔ کیونکہ الحاد و دہریت کا کھوکھلا پن اس عرصے میں ظاہر ہوچکا ہے ۔ یہ انسان کو آزادی تو دیتے ہیں لیکن اس آزادی سے پیدا ہونے والے مفسدات کا حل تجویز نہیں کرتے ۔ یہ گوشۂ انسانی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ بھی نہیں کرپاتے ۔ نتیجةًیہ انسانی تشکیک میں اضافہ تو کرتے ہیں مگر اسے طمانیتِ قلب کا احساس نہیں دے سکتے ۔ اس کے برعکس اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو بہت سے مفسدات پیدا ہی نہیں ہوتے پھر زندگی کا خواہ کوئی گوشہ ہو احکامات اسلامی رہنمائی کے لیے موجود ہیں جو انسان کو تشکیک کی جگہ طمانیت اور ظن کی جگہ یقین دیتی ہیں ۔ اسلام کی یہی حیرت انگیز روحانی تاثیر ہے جو مغربی ملحدانہ معاشرے کی بنیادوں کو ہلا چکی ہے ۔ آج مغربی الحاد کے رَستے زخموں پر اگر کوئی مرہم رکھا جاسکتا ہے تو وہ صرف اسلام ہے اور جن لوگوں کو اس کا احساس ہوچکا ہے وہ بہ جلد و دیر حلقہ بگوشِ اسلام ہوچکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلۂ ہدایت و آگہی جاری ہے ۔ اب گویا اسلام اور الحاد بالمقابل ہیں ۔ ہر میدان میں رزم حق و باطل جاری ہے ۔ الحاد نے اپنے دام تزویر بچھادیے ہیں ۔ یہ جنگ عسکری سے کہیں زیادہ فکری و نظری ہے ۔ یہاں قوت و طاقت سے کہیں زیادہ عقل و فکر کی ضرورت ہے ۔ ہنگامی صورتحال کے تقاضے بھی ہنگامی ہوتے ہیں ۔ تاخیر ایک ناقابلِ تلافی جرم ہے ۔ امت مسلمہ کے سامنے الحاد کا چیلنج ہے لیکن ان کے انتشارِ خیال نے خود ان کے اتحاد کو اصل چیلنج سے بھی بڑا چیلنج بنا دیا ہے ۔ مسلمانوں کا انتشارِ خیال جو بدقسمتی سے فکر کی ہر سطح پر موجود ہے ، اتحاد امت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ہمارے یہاں قومیت کا آسیب ہے جو اپنے سوا ہر دوسری قومیت سے زندگی کے بنیادی حقوق چھین رہا ہے ۔ نسل پرستی کا جنون ہے جو ہر دوسری نسل کے لیے عفریت بن گیا ہے ۔ لسانیت کا عذاب ہے جو ہر دوسری زبان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوچکا ہے ۔ ہم معاشیات کی دوڑ میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ حرام کو حلال بنانے کی شرعی دلیلیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے جان و مال کی بربادی اور عزت و آبرو کی پامالی ہمارا شعار بن چکی ہے ۔ ہم سب کچھ ہیں مگر مسلمان نہیں ۔ کاش ” اسلام ” ہمارا دیس ہوتا اور ” مصطفوی ” ہماری قومیت ۔امت مسلمہ کا ایک بہت برا المیہ تفرقہ پرستی ہے اور اسی تفرقہ پرستی نے اسے ایک مرکزِ ملّت اور نکتۂ وحدت و ارتکاز سے محروم رکھا ہے ۔ اللہ ربّ العزت نے امت مسلمہ کو حکم دیا تھا:

  وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلاَ تَفَرَّقُوا   (آل عمران : ١٠٣)

"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو.”

اور اس حکم سے اعراض کا نتیجہ بھی بتادیا تھا

وَلاَ تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْبَیِّنَاتُ وَأُوْلَئِکَ لَھُمْ عَذَاب عَظِیْم   (آل عمران : ١٠٣)

"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے تفرقہ کیا اور باوجودیکہ ان کے پاس روشن دلیلیں ( بینات ) آگئیں انہوں نے اختلاف کیا ۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے.”

لیکن کتنی بدقسمت ہے یہ قوم جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں مگر دل یقین سے خالی ہے ۔ جس نے کتاب و سنت کی واضح تصریحات کے بالمقابل اپنے پیشوایان کے اقوال و آراء کو اصل دین سمجھ لیا ہے ۔ رحمتِ الٰہی نے کافوری شمعیں عطا کی تھیں ، مگر یہ بجھتے دیے کی دم توڑتی روشنی میں ہدایت کے متلاشی ہیں ۔ جب تک یہ امت دین کی اصل کی طرف متوجہ نہیں ہوگی تب تک نہ اسے ہدایت و رہبری مل سکتی ہے اور نہ ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ۔ صد حیف و حسرت کہ اس تفرقہ پرستی کی آگ کو بھڑکانے والے اس امت کے علماء ہیں جن کا فریضہ امت کو انتشار و افتراق اور تشتت و انشقاق کی جگہ اتحاد و اتفاق کے رشتۂ وحدت سے منسلک کرنے کا تھا ۔ ان کا کام اتباعِ سبل متفرقہ کی جگہ صراطِ مستقیم کی ہدایتِ عام تھا ۔ مگر ان سگانِ دنیا نے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر امت کو تفرقہ پرستی کے قعرِ مذلّت میں جا گرایا ۔ بقول مولانا ابو الکلام آزاد :

"سانپ اور بچھو ایک جگہ اکٹھے ہوسکتے ہیں مگر یہ علمائے دنیا پرست کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے.”

اب حال یہ ہے کہ علماء حق کی آواز شرپرستی کے اس نقار خانے میں کہیں کھو گئی ہے ۔ ان کی صدائے حق کی حالت بے آب و گیاہ صحرا کی اس پکار کی طرح ہے جو گونجتی تو پوری قوت سے ہے مگر کسی کان کو چیر کر اس کے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتی ۔ فیا اسفا علیٰ ھذا  
 
( ِنَّمَا أَشْکُوا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ ِلَی اللّٰھِ )
"الواقعة"  کے مقاصد ِاجراء:
 "الواقعة" قرآنی اصطلاح میں قیامت کو کہتے ہیں ۔
اور بقول جوش:

ارباب ستم کی خدمت میں بس اتنی گزارش ہے اپنی

دنیا سے قیامت دور سہی ، دنیا کی قیامت دور نہیں

"الواقعة” کا مقصد —دنیا کے لوگوں کو دنیا کی قیامت سے آگاہ کرنا ہے جو ان کی زندگیوںمیں داخل ہوچکی ہے ۔ 
"الواقعة” کا مقصد— اس امت کے تنِ مردہ کی خشک شریانوں میں حرارتِ ایمانی کو رواں کرنا ہے جو انہیں ایک بار پھر تقدیرِ امم کا مالک بنادے ۔ 
"الواقعة”  کا مقصد —امت کو بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی ہے جس کی یاد آوری ہی میں ان کی دائمی کامیابی ہے ۔
"الواقعة” کا مقصد— قلبِ لطیف میں اس نورِ ایمان کو روشن کرنا ہے کہ جس کی روشنی ہی تمام تاریکیوں کو معدوم کرسکتی ہے ۔
"الواقعة”کا مقصد— شیطنیت اور دجالیت کی ظلمتوں میں نورانیت و روحانیت کی اشاعت ہے ۔ کیونکہ یہی وہ نورِ ہدایت ہے جو ازل سے شرارِ بولہبی سے نبرد آزما رہی ہے ۔
"الواقعة” کا مقصد— رجوع الی اللہ تعالیٰ ، اتباعِ رسول عربی فداہِ امی و ابی ، اعتصام بالکتاب و السنة اور سلفِ صحابہ و تابعین و ائمہ اسلام کے نقوشِ قدم کی جستجو ہے جو اس امت کا واحد نسخہ فلاح و کامرانی ہے ۔
"الواقعة"—مردہ لفظوں سے قرطاسِ ابیض کو سیاہ کرنے کی سعی نہیں بلکہ ایک فکری و نظری تحریک بپا کرنے کی کاوش ہے ۔
لاریب کہ مقاصد بہت بلند ہیں اور ہماری حیثیت نہایت حقیر ۔ لیکن آپ کا اتحاد ہماری کمزوری کو رفع کرکے اس کی طاقت بنے گا ۔ اس علمی و فکری تحریک کی کامیابی میں ہمارا ساتھ دیجئے ۔ ورنہ گواہ رہیے کہ:

اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ (ھود : ٨٨)

"بلاشبہ میرا ارادہ تو محض اصلاح ہے جس قدر میری استطاعت ہے ۔ اور مجھ میں کچھ توفیق نہیں سوائے یہ کہ اللہ عطا فرمائے ، اور میں صرف اسی پر توکل کرتا ہوں اوراسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔”

” الواقعة ” کراچی جمادی الثانی ١٤٣٣ھ /اپریل مئی ٢٠١٢ء کے لیے تحریر کردہ اداریہ
Advertisements

One thought on “مسلمانوں کا انتشارِ خیال –اور — اتحاد امت کا چیلنج. اداریہ

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s