کیا وہابیت خارجیت کا نقشِ ثانی ہے ؟


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر 

سب سے پہلے گب نے خارجیت کا تعلق وہابیت میں تلاش کیا ہے۔ اس حوالے سے اس کا تجزیہ ہے کہ خوارج مذہبی انتہاپسند تھے، جو صرف خود کو سچا اور حقیقی مسلم سمجھتے تھے دیگر مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے۔ ان کے اس اصول پر تلوار مستزاد تھی، جو انہوں نے مسلم امت کے خلاف اٹھائی اور خود کو امت سے جدا کرلیا، جو راسخ العقیدہ (Orthodox) سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں خوارج کے متعلق اعتدال پسند علماء نے ایک ایسا نظام وضع کرلیا جس نے ان کو جنوبی الجیریا، عمان اور زنجبار میں چھوٹی چھوٹی آبادیوں کی شکل میں زندہ رکھا۔

پس صدر اسلام میں تو خوارج کے انتہاپسندانہ نظریات کو مسترد کردیا گیا لیکن اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہم وہی نظریات عرب کے وہابی مصلحین میں جاگزین دیکھتے ہیں۔
"Thus early, Islam rejected the doctrine of religious fanaticism. At a later day, in the eighteenth and early nineteenth century, we shall find the same lesson enforced on the wahhabi reformers of Arabia”. (١) 
گب کی متابعت میں امیر علی کا بھی یہی موقف ہے، وہ لکھتے ہیں:

”ان فرقوں میں ازارقہ سب سے بڑھ کر کٹر، اکل کھرے اور تنگ نظر ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے سوا سب فرقے واصل بجہنم ہوں گے۔ اس لیے انہیں یا تو جبراً راہ راست پر لانا چاہئے یا نیست و نابود کردینا چاہئے۔ کسی مشرک کو زندہ نہ رہنے دینا چاہئے (مشرک کی اصطلاح کو وہ بڑے وسیع معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں سب کو شامل کرلیتے ہیں) تمام گناہوں کا ان کے نزدیک ایک ہی درجہ ہے۔ قتل، زنا، خمر، تمباکو نوشی سب ان کے مذہب میں مستوجب عذاب ہیں۔ جہاں دوسرے مسلمانوں کا، عام اس سے کہ وہ سنی ہوں یا شیعہ، یہ عقیدہ ہے کہ ہر بچہ مسلمان بن کر دنیا میں آتا ہے اور جب تک تعلیم اسے بگاڑ نہیں دیتی مسلمان ہی رہتا ہے وہاں ازرقی یہ کہتے ہیں کہ کافر کا بچہ کافر ہوتا ہے۔ جس طرح راسخ العقیدہ عیسائیوں کا یہ ایمان ہے کہ جس بچے کو بپتسمہ نہ دیا گیا ہو وہ دوزخ میں جائے گا، اسی طرح خارجی یہ رائے رکھتے ہیں کہ جس بچے کو کلمہ نہ پڑھایا گیا ہو اس کی نجات نہیں ہوسکتی۔ حجاج بن یوسف نے ازرقیوں کا قلع قمع تو کردیا لیکن ان کے سنگدلانہ نظریوں نے نو صدیوں کے بعد وہابیت کی صورت میں عود کیا۔” (٢)

امیر علی آگے چل کر مزید لکھتے ہیں:

”مسٹر پیلگریو (Mr. Palgrave) نے اپنی کتاب Travels in Central Arabia میں وہابیوں کا نقشہ قدرے خوش آئند رنگوں میں کھینچا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بلا واسطہ ان ازرقیوں کے جانشین ہیں جنھوں نے حجاج بن یوسف کے ہاتھوں شکست کھا کر وسطی عرب میں پناہ لی۔ محمد بن عبدالوہاب کے عقائد و نظریات نافع بن ازرق کے پیروئوں کے عقائد و نظریات سے نہایت قریب کی مشابہت رکھتے ہیں۔ ازرقیوں کی طرح وہابی بھی تمام دوسرے مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں اور ان کا مال لوٹنے اور انھیں غلام بنالینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ آج کل کے مسلمانوں میں جو تشبیہ پرستانہ رسوم رائج ہیں ان کے خلاف وہابیوں کی بغاوت چاہے کتنی ہی قابل تحسین ہو، حقیقت یہ ہے کہ نجد کے اخوان کی طرح دین اور خدا کی حاکمیت کے بارے میں وہ جو عقائد رکھتے ہیں ان میں کیلون (Caluin) کے پیروئوں کے خیالات کی سی سختی ہے اور وہ ترقی اور نشوونما سے متصادم ہیں۔” (٣)

Marcel Morand بھی وہابیت کو خارجیت کا نقش ثانی قرار دیتے ہیں(٤)۔

 ای، ادیب سالم کا نکتہ نظر بھی یہی ہے:

"The response of the Khawarij to the corruption of the old Islamic state is manifested today in the wahhabi sect, which is performing a more on less similar rale. The Khawarij and the wahabbis were motivated by thr same purpose, and both have reacted similarly”.(٥)

گب سے لے کر ادیب سالم تک سب نے خوارج اور وہابیوں میں معمولی مشابہت کا اندازہ لگا کر یہ نظریہ قائم کرلیا جو بڑا گمراہ کن ہے۔ خاص طور سے امیرعلی نے جس طرح محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں کو ازارقہ سے مماثل قرار دیا، اس کی بظاہر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، اب تک خوارج کا جو مطالعہ سامنے آیا ہے اس کے پیش نظر خوارج خصوصاً ازارقہ اور وہابیوں میں جوہری فرق ہے۔

جس تحریک کو وہابی تحریک کہا جاتا ہے اور جس کے بانی کے طور پر شیخ محمد بن عبدالوہاب (١٧٠٦ء تا ١٧٩١ئ) کا نام لیا جاتا ہے، یہ نام ان کے مخالفین کا دیا ہوا ہے، خود محمدبن عبدالوہاب کے پیروکار اپنے آپ کو ”موحدون” کہتے ہیں۔ ایک غیر وابستہ اور غیر جانبدار شخص جب ابن وہاب کی تحریک کا مطالعہ کرے گا، وہ شائد اس کو ایک ”سلفی اصلاحی دعوت” کا نام دے، کیونکہ محمد بن عبدالوہاب دیگر داعیوں اور مصلحین کی طرح دعوت کے لیے اٹھے تھے، تجدید واحیائے دین کا کام ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء نے کیا، مثلاًامام ابن تیمیہ (م٧٢٨ھ ١٣٢٨ئ) ابن قیم جوزیہ (م٧٥١ھ ١٣٥٠ئ)، شاطبی (م٧٩٠ھ ١٣٨٨ئ)، عز بن عبدالسلام، امام سنوسی، شاہ ولی اﷲ وغیرہ وغیرہ۔

جو مغربی مورخین شیخ محمد بن عبدالوہاب کے ہمعصر تھے، اور جنہوں نے شیخ کی تحریک کے بارے میں لکھا، وہ ”وہابیت” کا نام استعمال نہیں کرتے۔ مسعود عالم ندوی، نیپئر کا تذکرہ کرتے ہیں جو شیخ کا یورپی معاصر ہے، وہ شیخ کی دعوت کو New Religion ”دین جدید” کا نام دیتا ہے، یا ان کی تحریک کو ”محمدیہ” سے تعبیر کرتا ہے۔ سب سے پہلے ”وہابی” کی اصطلاح برک ہارٹ نے استعمال کی ہے، جو محمد علی پاشا کے قبضے کے بعد ١٢٢٩ھ ١٨١٤ء میں حجاز میں آیا تھا (٦)۔

محمد بن عبدالوہاب کی سلفی اصلاحی تحریک کو وہابیت کا نام دینا ایک حوالے سے انتہائی معنی خیز ہے۔ کیونکہ ایک وہابی فرقے اور وھابیت کا ظہور دوسری صدی ہجری کے اواخر اور تیسری صدی ہجری کے اوائل میں مراکش (المغرب) میں اباضی خارجیوں کے یہاں ہوچکا تھا۔ اس بات کا تذکرہ تیرہویں باب (خارجیت کا پھیلائو) میں ہوچکا ہے کہ اباضی خارجی عبدالرحمن بن رستم بن بہرام (٧) نے الجزائر کے شہر تاہرت میں رستمی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ جب ١٧١ھ ٧٨٧ء میں اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے دولت رستمیہ کے سات معزز حضرات کو حکومت کی تشکیل کی وصیت کی، جن میں اس کا اپنا بیٹا عبدالوہاب اور ایک شخص یزید بن فندیک بھی شامل تھا۔ بیعت عبدالوہاب کے ہاتھ پر ہوگئی جس کے نتیجے میں اس کے اور ابن فندیک کے مابین اختلاف پیدا ہوگیا۔

ابن رستم اور اس کے ساتھیوں کا مذہب ”اباضیہ” تھا۔ عبدالوہاب رستمی کے زمانے میں یہ مذہب دو فرقوں وہابیوں اور نکاریہ میں تقسیم ہوگیا۔ ”وہابی” نسبت عبدالوہاب بن عبدالرحمن بن رستم کی طرف تھی۔ پھر ان دونوں اباضی فرقوں کے مابین خونریز جنگیں ہوئیں جن میں نکاریہ کو شکست ہوئی اور ان کا سردار ابن قندیرہ قتل ہوا۔ عبدالوہاب جو شمالی افریقہ میں وسیع رستمی حکومت کا موسس مانا جاتا ہے ١٩٠ھ میں فوت ہوا (٨) جبکہ مشرق عباسی خلافت کے ماتحت تھا۔ تاہرت کی اس رستمی حکومت کا خاتمہ عبداﷲ شبعی نے ٢٩٧ھ ٩١٠ء میں کیا۔

الغرض ‘وہابیت’ اسی اباضی خارجی عبدالوہاب بن عبدالرحمن بن رستم بن بہرام کی طرف منسوب تھی۔ اس نام کو بعض مخالفین نے ازاں بعد محمد بن عبدالوہاب کی تحریک پر چسپاں کردیا۔

اگر ایک طرف خوارج کا طرز فکر دیکھا جائے کہ وہ صحابہ کرام کو کافر قرار دیتے تھے، احادیث و اجماع صحابہ کی جگہ اپنی عقل پر بھروسہ کرتے تھے، غیر خارجیوں کو نہ صرف کافر قرار دیتے تھے بلکہ ان کے نومولود بچوں تک کو کافر قرار دے کر ان کے خلاف قتال کرتے تھے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے مقابلے پر شیخ محمد کی سلفی تحریک کیا تھی اور خود ان کے افکار کیا تھے، اس کے لیے اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں، تاہم یہاں ان کے بعض مکاتیب سے اقتباسات دیئے جارہے ہیں تاکہ خود ان کی زبانی یہ معلوم ہوسکے کہ وہ کون لوگ تھے، اور کیا چاہتے تھے۔

عراق کے ایک عالم عبدالرحمن سویدی کے نام شیخ محمد لکھتے ہیں:

”آپ کا مکتوب موصول ہوا۔ دل خوش ہوگیا۔ اﷲ آپ کو ائمہ متقین اور سیدالمرسلین کے دین کے داعیوں میں سے بنائے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ میں متبع کتاب و سنت ہوں۔ دین میں کوئی نئی بات ایجاد کرنے والا مبتدع نہیں ہوں۔ میرا عقیدہ اور میرا مذہب جسے میں نے اختیار کیا ہے، اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے جس پر ائمہ مسلمین چلے، جیسے: ائمہ اربعہ ہوئے جن کے متبعین قیامت تک رہیں گے۔ ہاں! میں نے لوگوں سے اﷲ کے لیے دین کو خالص کرنے کی بات یقیناً کی ہے۔ زندہ یا مردہ بزرگان دین وغیرہ کو پکارنے سے منع کیا ہے۔ اﷲ کے لیے کی جانے والی عبادت، جیسے: ذبح و نذر، توکل و سجدے اور ان کے علاوہ دیگر عبادتیں جو صرف اﷲ ہی کا حق ہیں جس میں کسی مقرب فرشتے، مبعوث نبی کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا، میں ان سب میں بزرگوں کو شریک کرنے سے منع کرتا ہوں۔ یہی وہ دین ہے جس کی دعوت شروع سے آخر تک سارے انبیاء نے دی ہے اور جس پر اہل سنت و الجماعت کے لوگ قائم و دائم ہیں۔” (٩) 

شیخ محمد بن عبدالوہاب کا وہ خط جو انہوں نے مکہ مکرمہ کے علماء کے نام بھیجا، اس میں ان کی دعوت کے اہم نکات واضح ہوتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:

”ہم پر جو مصیبت آئی ہے، اس کی خبر آپ حضرات اور دیگر لوگوں کو پہنچ چکی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں بزرگوں کی قبروں پر بنے ہوئے مزارات مسمار کردیئے گئے ہیں(١٠)۔جب عام لوگوں پر یہ عمل اس خیال سے گراں گزرا کہ اس میں بزرگوں کی توہین ہے تو ہم نے انھیں ان بزرگوں کو پکارنے سے بھی منع کیا اور اﷲ کے لیے عبادت خالص کرنے پر زور دیا۔ قبروں پر بنے ہوئے مزاروں کو ڈھانے کے بعد جب ہم نے یہ مسئلہ چھیڑا تو عوام پر اور بھی زیادہ گراں گزرا اور علم کے دعویداروں نے مخصوص اسباب کے باعث ان کی پشت پناہی کی۔ یہ اسباب آپ حضرات سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان میں ایک بڑا سبب عوام کی خواہش کی پیروی ہے۔ ان لوگوں نے ہمارے بارے میں یہ تہمت پھیلائی کہ ہم بزرگوں کو گالی دیتے ہیں اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ معاملہ مشرق و مغرب تک پہنچا دیا اور ہمارے متعلق ایسی باتیں کہیں کہ ایک صاحب عقل انھیں بیان کرتے ہوئے بھی شرماتا ہے۔ میں آپ لوگوں کو اپنے مذہب کی سچی خبر دیتا ہوں۔ جھوٹ نہیں بول سکتا کیونکہ آپ جیسے لوگوں پر جو اپنے مذہب کا خاص و عام میں اظہار کرتے ہیں، جھوٹ نہیں چل سکتا۔

الحمداﷲ! ہم متبعین کتاب و سنت ہیں۔ ہم دین میں کسی نئی بات کے موجد نہیں۔ ہم امام احمد بن حنبل کے مذہب پر ہیں۔ دشمنوں نے یہ بہتان باندھا اور پھیلایا ہے کہ میں اجتہاد کا دعویٰ کرتا ہوں، ائمہ کی پیروی نہیں کرتا۔میں اس بہتان سے برأت ظاہر کرتا ہوں۔ اگر آپ لوگوں پر ظاہر ہوکہ قبروں پر بنے مزاروں کو ڈھانے اور بزرگوں کو پکارنے سے روکنا، جیسا کہ ہم نے کیا ہے، مذہب سلف کے خلاف ہے تو میں اﷲ اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناکر اور آپ لوگوں کو اﷲ اور اس کے رسولۖ کے دین پر گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں اہل علم کی پیروی کرنے والا ہوں گا۔ اگر حق بات مجھ سے پوشیدہ رہی اور اس میں مجھ سے کوئی غلطی ہوئی، اسے آپ لوگ بیان کردیں۔ میں اﷲ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں اسے سر آنکھوں پر رکھوں گا۔ حق کو قبول کرنا باطل پر مصر رہنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ ” (١١)

محمد بن عبدالوہاب کے خطوط پر مبنی کتاب شائع ہوچکی ہے، جس سے ان کی تحریک اور ان پر لگائی گئی تہمتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ ان خطوط کی تعداد ٥١ ہے جو ایک جلد میں چھپے ہیں۔ 

ادیب سالم کہتے ہیں وہابی، خارجیوں کی طرح متشدد موحد تھے، یعنی عقیدہ توحید پر سختی سے ایمان رکھنے والے تھے(١٢)۔یہ انتہائی گمراہ کن جملہ ہے، عقیدہ توحید پر جو شدت سے عمل پیرا ہو کیا وہ کوئی خامی ہے؟ اور کیا اس کی وجہ سے انسان خارجی ہوجاتا ہے؟ رسول اﷲۖ تمام سابقون الاو لون، صحابہ کرام کی اکثریت، تمام اہل بدر وغیرہ سب عقیدہ توحید پر شدت سے ایمان رکھنے والے اور عمل کرنے والے تھے تو کیا یہ سب خارجی تھے؟ 

الغرض محمد بن عبدالوہاب کی سلفی تحریک کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کے بعد یہ بیانیہ، بلاخوف تردید حرف آخر کے طور پر دیا جاسکتا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی سلفی اصلاحی دعوت (جسے وہابیت نہیں کہنا چاہئے) تجدید دین کی تحریک ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت اور منہج صحابہ کرام و سلف صالحین پر ہے، یہ کوئی فقہی مسلک نہیں ہے، فروعی مسائل میں امام احمد بن حنبل کے پیروکار تھے اور اس ضمن میں امام ابن تیمیہ کی تشریح کو قبول کرتے تھے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ ان کے پیروکاروں سے کچھ بے اعتدالیاں سرزد ہوئی ہوں لیکن محمد ابن وہاب کے پیروکاروں یا افغانستان کے طالبان کو خوارج سے تشبیہ دینا یا مماثل قرار دینا عصبیت اور علمی منافقت ہے، دونوں کے مابین اعتقاد، مشتملات و مفہوم، علاقہ، کیفیت، ادلہ شرعی، طرز استدلال غرضکہ ہر اعتبار سے بعد مشرقین ہے۔ 


حواشی
(١) H.A.R. Gibb, Mohammedanism, P.82, Oxford University Press, London 1969.
(٢) امیر علی، سپرٹ آف اسلام
(٣) ایضاً، ص ٥٢٦
(٤) Political Theory and Institutions     of the Khawarij, P.23 (with reference Morand, Marcel, Introduction a L’Etude du Droit Musulman Algerian, Alger Jules Carlonel, 1921, P.97)
(٥) ایضاً
(٦) دیکھئے مسعود عالم ندوی کی کتاب ”محمد بن عبدالوہاب، ایک بدنام اور مظلوم مصلح”
(٧) یہ اباضی فقہا میں سے تھا، اپنے زہد و تواضع کی وجہ سے مشہور تھا اس کی کتاب ”التفسیر” ہے۔ یہ خارجی الاصل تھا، اس کا دادا بہرام، حضرت عثمان ابن عفان کے موالی میں سے تھا۔ ]زرکلی، الاعلام، جلد٣، ص٣٠٦[
(٨) اس کی تاریخ وفات میں خاصا اختلاف ہے تاہم زرکلی نے ١٩٠ھ کی تاریخ راجح قرار دی ہے۔ زرکلی کے مطابق یہ اپنے باپ کی وفات کے تقریباً ایک ماہ بعد ١٧١ھ میں خلیفہ بنا، اباضیوں اور غیر خارجیوں پر اسے ایسی حکومت ملی کہ اس جیسی حکومت اس سے پہلے کسی اور اباضی خلیفہ کو نہیں ملی تھی، وہ عالم اور فقیہ تھا، نہایت دلیر تھا، بنفس نفیس جنگ کرتا تھا۔ ]الزرکلی، الاعلام، جلد٤ ص١٨٣[
(٩) محمد بن سعد الشویعر، تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں، ص٩٧
(١٠) جبیلہ میں ان صحابہ کرام کی قبریں پائی جاتی تھیں جو مرتدین کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے تھے یہ جگہ معرکہ یمامہ کے مورچوں میں سے ہے، جہاں مسلیمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا گیا تھا، جہالت اور عقیدے کی کمزوری کے باعث لوگوں نے صحابہ کرام کی قبروں پر عمارتیں بنالی تھیں۔ زید بن خطاب اور دیگر صحابہ کی قبروں پر قبے تعمیر کردیئے تھے، ان کے لئے نذر و نیاز کی جاتی تھی، وہاں جانوروں کی قربانی دی جاتی تھی اور لوگ اﷲ کو بھول کر ان قبروں کا رخ کرنے لگے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قبروں پر مزار بنانے کا آغاز جزیرہ نمائے عرب میں قرامطہ اور مراکش اور مصر میں فاطمیوں کی حکومت نے کیا۔ ]تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں، ص١٣٤[
(١١) محمد بن سعد الشویعر، تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں، ص٩٨
(١٢)  ادیب سالم، ص٢٣

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

اسلام کا سیاسی نظام


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢

مولانا صفدر زبیر ندوی

اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا ) کے زیر اہتمام سیمینار کی رودادبمقام : علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ) بتاریخ : ٢٨ -٢٩ اپریل ٢٠١٢ء

اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) جہاں ایک طرف امت مسلمہ ہندیہ کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، وہیں مختلف تازہ موضوعات پر سمینار کر کے اور اس کے ذریعہ لوگوں تک معلومات منتقل کر کے انھیں غور وفکر کا رخ بھی بتا رہی ہے، اور انھیں ایک باشعور شہری بنانے میں مدد اور تعاون کرتی ہے، چنانچہ پوری دنیا خصوصا عرب دنیا میں آئی بیداری کے پس منظر میں اکیڈمی نے سب سے پہلے ”اسلام کا سیاسی نظام” کے عنوان سے ایک سمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا
تاکہ اسلامی سیاسی نظام کے تعلق سے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے سوالات کو حل کیا جا سکے اور موجودہ مسلم حکومتوں کے نظامہائے حکومت کے تعلق سے پیدا ہونے والے شبہات کو دور کیا جا سکے، اس مرکزی عنوان کے حسب ذیل ذیلی محاور مقرر کیے گئے تھے:

١ ـ اسلامی سیاسی نظام کے اصول ومبادی
٢ـ خلافت علی منہاج النبوہ ـ خصوصیات وامتیازات
٣ـ اسلام میں شوری کی اہمیت اور دائرہ اختیار
٤ـ اسلام اور ملوکیت
٥ـ اسلامی سیاسی نظام ـ عہد بہ عہد
٦ـ اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق
٧ـ انتخابی نظام ـ اسلامی ہدایات کی روشنی میں
٨ـ اسلامی مملکت میں آزاد عدالتی نظام
٩ـ اسلامی مملکت میں وضع قانون اور اس کے لیے طریقہ کار
١٠ ـ اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب
١١ـ اسلامی مملکت میں حکمرانوں کے حقوق واختیارات
١٢ ـ موجودہ جمہوری نظام اور اسلامی اصولوں پر اس کی تشکیل
١٣ ـ اسلامی سیاسی نظام اور دیگر نظامہائے سیاست کے درمیان توافق وہم آہنگی کی صورتیں
١٤. اسلامی سیاسی تصورات ـ اہل یورپ کی تحریروں میں

اکیڈمی کو اس سمینار کے لیے مختلف موضوعات پر اردو میں تقریباً ٨١ مقالے اور انگریزی میں ١١ مقالے موصول ہوئے۔ چنانچہ اکیڈمی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اشتراک سے مورخہ٨ ٢۔٢٩/ اپریل ٢٠١٢ء کو مذکورہ موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا، جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں ٢٨/ اپریل بروز شنبہ صبح٠ ١ بجے اس فکری سمینار کا افتتاحی اجلاس شروع ہوا، جس کی صدارت ملک کے مشہور محقق جناب پروفیسر یسین مظہر صدیقی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد محب الحق نے انجام دیئے، اور جس میں ملک کے مختلف علماء اور اساتذہ سیاسیات و تاریخ نے خطاب کیا، جس کی ترتیب کچھ اس طرح ہے:

صدارت: پروفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

نظامت: ڈاکٹر سید محب الحق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تلاوت قرآن: عبدالخالق کامل
استقبالیہ کلمات:پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور(چیئرمین، شعبہ سیاسیات، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

افتتاح:پروفیسر محسن عثمانی ندوی (صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدرآباد)

کلیدی خطبہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(جنرل سکریٹری، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

اظہار خیال:

١۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی(ڈائرکٹر سر سید اکیڈمی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)
٢۔ پروفیسر رفاقت علی خان(سابق صدر شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
٣۔ڈاکٹر عرشی خان (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

صدارتی خطاب:پروفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

کلمات تشکر: پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور(چیئرمین، شعبہ سیاسیات، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

تلاوت قرآن کے بعداستقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات کے صدرپروفیسرعبدالرحیم بیجاپورنے کہاکہ ”جس جگہ اس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہونی چاہیے تھی وہاں بھی عموماًاس سے اعراض کیاجاتارہاہے۔آج ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس موضوع پر گفتگوکررہے ہیں۔”

پروفیسرمحسن عثمانی ندوی(سابق صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدر آباد) نے اپنی گفتگومیں امامت کبری ،سیاست اورخلافت کی اہمیت سے متعلق کہاکہ اس نظام کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ نبی اکرم ۖ کی تدفین کے معاملہ کو بھی مئوخر کیاگیا۔انہوںنے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ پچاس سال میں اسلام کے سیاسی نظام پر کوئی وقیع کتاب اردومیں نہیں لکھی گئی ۔یہی حال عربی کا بھی ہے البتہ حال ہی میں عربی زبان میں فقہ الدولة اورفقہ الجہاد(یوسف القرضاوی ) کی آئی ہیں جن کا اردومیں ترجمہ کیاجانابہت ضروری ہے۔”

کلیدی خطبہ میں مولاناخالدسیف اللہ رحمانی جنرل سیکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیانے اسلامی سیاست کے اہم پہلوئوں کو آسان اوررواں زبان میں پیش کیا۔اس خطبہ کو پمفلٹ کی شکل میں سامعین میں تقسیم کردیاگیاتھا۔اس خطبہ میں سیرحاصل بحث کے ذریعہ اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال واضح کیے گئے ۔
افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی خلافت کے زوال کے پس منظرمیںسرسیداکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہاکہ اسلامی نظام سیاست کو خراب کرنے میں ملائیت ،سرمایہ داری اورملوکیت ،تینوں اداروں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیاہے۔

ڈاکٹرعرشی خان (مشرق وسطی کے ماہر) نے اپنے خطاب میں ملیشیامیں مقیم معروف اسلامی مفکرسیدنجیب العطاس (جنہوںنےIslam and Secularism کے نام سے کتاب لکھی ہے) کے حوالہ سے کہاکہ مسلمانوںکو سب سے پہلے یہ طے کرناچاہیے کہ انسان کا آخری مقصد کیاہے اورPure knowledgeکیاہے ۔موجودہ زمانہ جاہلیت اورکنفیوژن کا دورہے جس سے ہم اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک اپنے paradigme میں نظام زندگی اورنظام سیاست پر گفتگونہیں کرتے ۔

پروفیسررفاقت علی خاں سابق صدرشعبہ سیاست جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیااورتقسیم ہندکے بعدہندوستانی مسلمانوںکے مستقبل کے سوال پر مولانامودودی اورمحمدعلی جناح کے خیالات پر تنقیدکی۔

صدارتی کلمات پروفیسریٰسین مظہرصدیقی نے پیش کیے اورکہاکہ ہمارانقطہ نظرعموماً traditional  ہوتاہے ۔ دانشوراورعلماء سب اسی کو اختیارکرتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ خلیفہ کا انتخاب امت کے اجتماعی شعورکی ذمہ داری ہے ۔ انہوںنے یہ بھی کہاکہ امت کے پہلے تین خلفاء کو مدینہ کا تحفظ (protection)حاصل تھا جوکہ چوتھے خلیفہ ٔراشد حضرت علی کو حاصل نہیں ہوسکا۔انہوںنے یہ بھی کہا بدلے ہوئے حالات میں پورے عالم اسلام کا ایک خلیفہ ممکن نہیں رہا،اس بات کو ہم سب نظراندازکرتے ہیں ۔اس کے علاوہ انتظامی چیزوں کو بھی ہم political systemسے جوڑ دیتے ہیں مثال کے طورپر جزیہ کا مسئلہ ہے جو ایک administrative  چیز تھی ۔

پروفیسرصدیقی نے یہ اہم بات بھی کہی کہ علماء کا کہنا ہے کہ غیرمسلموںکو اسلامی نظام میں برابرکے حقوق نہیں دیے جائیں گے بلکہ ان کو دوسرے درجہ کا شہری قراردیاجائے گا ، دوسرے لوگ بھی مسلمانوں کو عملًایہی درجہ دیے ہوئے ہیں ، علماء اس تصورپر اٹکے بیٹھے ہیں حالانکہ یہ تصوربالکل غلط ہے۔
اس افتتاحی نشست کے بعد مقالات و مباحثات کی نشستیں شروع ہوئیں، اور اس کی پہلی نشست سوا بارہ بجے شروع ہوئی، جس کا عنوان ”اسلام کا سیاسی نظام: اصول وضوابط” رکھا گیا تھا اور جس کی صدارت اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی اور نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے سنبھالی،اور درج ذیل مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے جن پر مناقشے اور مباحثے بھی ہوئے:

١۔پروفیسر سعود عالم قاسمی (علی گڑھ)
اسلام میں حکمراں کے انتخاب کا طریقہ

٢۔ڈاکٹر سید عبد الباری شبنم سبحانی (دہلی)
کیا جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام میں مطابقت ممکن ہے؟

٣۔ڈاکٹر محمد محب الحق(علی گڑھ)
Beyond the Paradigm of State and Government: Perspectives on  Islamic Commonwealth

٤۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی (علی گڑھ)
Islamic Shura and its Jurisdiction: A Political Study

اس کے بعد اس سمینار کی دوسری نشست سوا تین بجے شروع ہوئی، جس کا عنوان ” خلافت اسلامیہ اور منہاج نبوت” رکھا گیا تھا، اور جس کی صدارت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ جغرافیہ کے سابق چیئرمین پروفیسر صلاح الدین قریشی نے اور نظامت مولانا عمر عابدین مدنی (المعہد العالی الاسلامی ، حیدر آباد) نے فرمائی۔اس نشست کے مقالہ نگاروں کے اسمائے گرامی اور ان کے موضوعات مندرجہ ذیل ہیں:

١۔مولانا محمد شاہجہان ندوی (کیرالا)
خلافت علی منہاج النبوة ـ خصوصیات وامتیازات

٢۔ڈاکٹر عبد المجید خان(علی گڑھ)
Spirituo, Political Institution of ”خلافة علی منہاج النبوة” : Nature, Legitimacy and Relevance

٣۔ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی(دہلی)
اسلامی سیاسی فکر ـ جدید اسلامی فکر کے تناظر میں

٤۔پروفیسر صلاح الدین قریشی(علی گڑھ)
Social Inequality and Political Instability in the Muslim Countries and Islamic Measures to Reduce it

مقالات کے اختتام پر شرکاء نے سوالات بھی کیے اور ان پر بحثیں بھی ہوئیں۔ پھر بعد نماز مغرب سوا سات بجے سے تیسری نشست شروع ہوئی،جس کا عنوان تھا: ” اسلامی مملکت میں عدالتی نظام اور رعایا کے حقوق”، اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس پوری نشست کو ریسرچ اسکالر کے لیے خاص کیا گیا تھا، اس نشست کی صدارت دو ممتاز افراد یعنی ڈاکٹر شیخ شوکت حسین (شعبہ قانون،کشمیر یونیورسٹی)/ پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور (شعبہ سیاسیات، اے ایم یو) نے فرمائی ، اور نظامت کے فرائض عنبرین جمالی (سوشل سائنسز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے انجام دیئے،اس نشست میں درج ذیل ریسرچ اسکالرز نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے:

١۔محمد معاذالحق
Independance of Judiciary under Islam

٢۔ظفر دارک
میثاق مدینہ کی سیاسی اہمیتـ عہد حاضر میں

٣۔عبد الخالق کامل ندوی
اسلامی تناظر میں انسانی حقوق اور خاص کر اقلیتی حقوق کا تحفظ

٤۔محمد ناصر
اسلام اور انسانی حقوق

٥۔محمد نظیر حسین 
Social Security in Islam

٦۔عبرت جہاں
اسلامی عدل کی حکمرانی۔ اندلس کی اموی تاریخ قضا کا ایک جائزہ

٧۔گورو وارشنے
Insurance system of Islam

٨۔شہلا جمیل انصاری
اسلام میں عورت کے معاشی حقوق

اس کے بعد دوسرے دن٩ ٢/ اپریل کو صبح ساڑھے نو بجے چوتھی نشست کا آغاز اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور مولانا عتیق احمد بستوی صاحب کی صدارت اورڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی(شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کی نظامت میں ہوا، اس نشست کا عنوان ” اسلام ، جمہوریت اور جدید سیاسی رجحانات” رکھا گیا، اور اس کے تحت سات مقالے پیش کیے گئے جو درج ذیل ہیں:

١۔ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی(لکھنؤ)
غیر اسلامی ریاست میں حصہ داری ـ علامہ یوسف القرضاوی کی آراء کی روشنی میں

٢۔مولانا عمر عابدین مدنی(حیدر آباد)
انتخابی نظام ـ اسلامی ہدایات کی روشنی میں

٣۔پروفیسر عارف الاسلام(علی گڑھ)
مغربی جمہوریت اور اسلام

٤۔ڈاکٹر توقیراحمد(علی گڑھ)
Economic Exploitation in the Modern World: Looking for Alternative Model

٥۔ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی(علی گڑھ)
اسلامی مملکت میں جمہوریت اور شہریت: علامہ غنوشی کے افکار کا مطالعہ

٦۔ڈاکٹر عنبرین جمالی(علی گڑھ)
Contemporary Feminist Discourse and Islamic Perspectives

٧۔پروفیسر اقبال علی خان (علی گڑھ)
Human Rights and Islam

اور پھر اس کے فورا بعد ہی ١١ بجے سے پانچویں نشست پروفیسر رفاقت علی خان (سابق صدر شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کے زیر صدارت اور ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی، مانو، لکھنؤ برانچ) کے زیر نظامت شروع ہوئی، جس کا عنوان تھا: ” اسلامی مملکت میں حکمرانوں کے اختیارات و فرائض”۔ اس نشست میں مندرجہ ذیل مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے:

١۔پروفیسر محسن عثمانی ندوی(حیدر آباد)
حکمرانوں کا احتساب۔ ایک فریضہ

٢۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی(دہلی)
اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب

٣۔ ڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی(علی گڑھ)
شراکت اقتدار اور اسلام: بعض علماء اور دانشوران کے افکار کا مطالعہ

٤۔ ڈاکٹر شیخ شوکت حسین(کشمیر)
Minority Protection with Islamic Political Thought

٥۔ ڈاکٹر محمد حبیب الحق انصاری(علی گڑھ)
اسلام اور جمہوریت کی ہم آہنگی۔ تیونس کے انقلاب میں 
کار فرما خیالات کا جائزہ

٦۔ مولانا محمد راشد قاسمی خیر آبادی (بنارس)
اسلامی مملکت میں آزاد عدالتیں

ان پانچ نشستوں میں مقالات پیش کیے جانے اور ان پر بحث و مباحثہ کے بعد تقریبا ًپونے ایک بجے سے اختتامی نشست کا آغاز کیا گیا،جس کی صدارت انگلش اینڈ فارن لینگویجزیونیورسٹی حیدر آباد کے شعبہ عربی کے سابق صدر جناب پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض صفدر زبیر ندوی (رفیق شعبہ علمی،اسلامک فقہ اکیڈمی) نے انجام دیئے،اور شرکاء سمینار میں سے بعض اہم افراد نے اس سمینار کے تعلق سے اپنے بہتر تاثرات کا اظہار کیا، اختتامی نشست کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی گئی تھی:

صدارت: پروفیسر محسن عثمانی ندوی(سابق صدر شعبہ عربی،انگلش اینڈ فارن لنگویجز یونیورسٹی، حیدرآباد)

نظامت: صفدر زبیر ندوی (شعبہ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

اختتامی خطاب:پرفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تاثرات:

١۔ مولانا عتیق احمد بستوی (سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

٢۔ پروفیسر عبد الباری (سابق چیئرمین، شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

٣۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی (ڈائرکٹر سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم 
یونیورسٹی )

٤۔ پرفیسر اقبال علی خان (سابق چیئرمین، شعبہ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

٥۔ ڈاکٹر مفتی محمد زاہد علی خان (ناظم شعبہ سنی دینیات، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی)

٦۔ڈاکٹر محمد محب الحق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تجاویز:صفدر زبیر ندوی (شعبہ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

صدارتی کلمات:پروفیسر محسن عثمانی ندوی

کلمات تشکر: پروفیسر عبد الرحیم بیجا پور

ناظم شعبہ سنی دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹرمفتی زاہدعلی خاں نے کہاکہ انڈیاکے دستورمیں پہلے سیکولرازم کا لفظ نہیں تھا بعدمیں بڑھایاگیا،لہٰذادستورکے ارتقاء پر بھی ہماری نظر ہونی چاہیے ۔پروفیسر عبد الباری (سابق صدر شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ دین سے شعوری وابستگی بہت اہم ہے اور ہمارے ہاں اس کی کمی ہے، اور دوسری بڑی کمی سیاسی بصیرت کی ہے۔

پروفیسراقبال علی خاں (سابق چیئرمین شعبہ قانون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ غیراسلامی ریاست میں ہمارا کیارول ہوناچاہیے یہ پہلوبہت زیادہ اہم ہے۔انہوں نے یہ رائے بھی دی ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔ڈاکٹرمحب الحق(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ علماء کو وقت کی صورت حال کو سمجھناچاہیے، کیونکہ out  of context فتووںسے مسلمانوں کی بے عزتی ہوتی ہے۔اس سیمنارمیں یہ کمی محسوس ہوئی کہ موجودہ صورت حال کے بارے میں کوئی گفتگو سامنے نہیں آئی ۔

پروفیسرسعودعالم قاسمی (ڈائریکٹر سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے مسلم دنیاکے حالات کے ضمن میں کہاکہ سعودی عرب میں ٢٥یونیورسٹیاں ہیں اورکسی یونیورسٹی میں بھی سیاسیات کا شعبہ نہیں ہے ۔وہ چاہتے ہی نہیں کہ سیاست پرکوئی بات ہو یاکوئی مثبت تنقید ہو۔ مزید کہا کہ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اساتذہ وطلبہ کو ہمت کرنی چاہیے اورنئے سیاسی نظریات اوراسلام کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے ۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانامفتی عتیق احمدبستوی نے فرمایاکہ موضوع بڑااہم ہے اورا س پر ایک سمینارسے کام نہیںچلے گا،ایسے مذاکرے باربارہونے چاہئیں اورتیاری کے ساتھ ہونے چاہئیں ۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ زندہ قومیں کسی ایک ادارہ وتنظیم پر تکیہ نہیں کرتیں مختلف ادارے ڈیولپ کرتی ہیں۔ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے شیخ عز الدین عبدالسلام کے حوالہ سے کہاکہ انہوںنے لکھاہے کہ : ”اگردوشخصوں کے پاس حکومت جانے کا خطرہ ہو، اور دونوں نقصان دہ ہوں ،مثلاایک قاتل ہے دوسراغاصب ، اب اگرہم دونوں کو چھوڑکر کنارہ کھڑے ہوجائیں اوراخف الضررین کو اختیارنہ کریں تو ہم بھی مجرم ہوں گے ۔” مولانا نے یہ بھی کہاکہ موجودحالات میں یہی موقف زیادہ درست ہے کہ سیاست میں حصہ لیاجائے۔

پروفیسریٰسین مظہرصدیقی نے کہاکہ ”ہم ماضی کے اسیرہیں ،کسی میدان میں نئی بات سوچنے اورکہنے کی ہمت نہیں رکھتے ،اس چیز کا ازالہ ہوناچاہیے ،انہوںنے کہاکہ اسلام کے سیاسی نظام پر علماء اورعصری علوم کے ماہرین کے اشتراک سے ہی اس کام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ 

اس نشست کے آخرمیںاپنی مختصراورجامع صدارتی گفتگومیں موضوع کی مناسبت سے پروفیسرمحسن عثمانی ندوی (سابق صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدر آباد) نے کہاکہ دین وسیاست کی صحیح تعبیرکرنابہت اہم بھی ہے بہت نازک بھی۔ انہوںنے کئی دینی تنظیموں کے ا فکار و نظریات کی مثال دیتے ہوئے اپنی بات واضح کی اوران پر صحت مندانہ تنقیدبھی کی اوراس حوالہ سے لوگوںکو مزیدمطالعہ کی رہنمائی بھی کی۔

 پروفیسرعبدالرحیم بیجاپور (چیئرمین شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے اسلامک فقہ اکیڈمی ،ملک کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے علماء اوراسکالرز اورشعبہ سیاسیات کے اساتذہ اورطلبہ وطالبات اوردیگرمعاونین کا شکریہ ادا کیا۔ 

اس سمینار کے لیے تقریباً ٤٠ مقالات موصول ہوئے ، نشستوں میں موجود مقالہ نگاروں کے مقالے پیش ہوئے اور ان کی کاپیاں شرکاء کے درمیان بھی تقسیم کی گئیں، لیکن ہمارے بعض مقالہ نگار ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنے مقالے اکیڈمی کو بھیجے، لیکن کسی وجہ سے وہ سمینار میں شریک نہ ہوسکے، تو ان کے مقالے نشستوں کے دوران پڑھے نہیں جا سکے ، البتہ ان مقالوں کی کاپیاں شرکاء سمینار کے درمیان تقسیم کی گئیں، تاکہ شرکاء ان کی تحریروں سے بھی استفادہ کر سکیں، ان حضرات کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

١۔مولانا راشد حسین ندوی(رائے بریلی)
اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق

٢۔مولانا اختر امام عادل قاسمی (سمستی پور)
آزاد عوامی حکومت۔ اسلامی تصور

٣۔ڈاکٹر سید احمد ومیض ندوی(حیدر آباد)
اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب

٤۔ڈاکٹر شکیل احمد صمدانی (علی گڑھ)
Administration of Justice by Hazrat Umar(RA)

٥۔پروفیسر عبد الخالق( علی گڑھ)
اسلام کا سیاسی نظام

٦۔مولانا ضیاء الدین ندوی قاسمی (فیض آباد)
اسلامی مملکت میں آزاد عدالتیں

٧۔ثنا تہذیب(علی گڑھ)
Democratic Key Features of Islamic Governance: Consitution, Consent, Shura

٨۔محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (کراچی )
انتخابی نظام۔ اسلامی ہدایات کی روشنی میں

٩۔محمد طارق محمود نیازی (ملتان)
اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق

  سات نشستوں پر مشتمل یہ دو روزہ قومی سمینار بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا، اس سمینار میں دہلی، حیدر آباد، کشمیر، کیرالا، لکھنؤ اور بنارس سے اہل علم و دانش کی شرکت کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ، طلباء اور خصوصاً ریسرچ اسکالرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اخیر میں تجاویز پیش کی گئیں جنھیں شرکاء سمینار نے بالاتفاق منظور کیا، وہ تجاویز درج ذیل ہیں:

تجاویز
٢٨۔٩ ٢اپریل ٢٠١٢ء کو آرٹس فیکلٹی لاؤنج علی گڈھ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ میں ”اسلام کے سیاسی نظام” پر دو روزہ سمینار شعبہ سیاسیات مسلم یونیورسٹی علی گڈھ اور اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے تعاون واشتراک سے ہوا، موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پڑھے گئے اور مذاکرات ہوئے۔ شرکاء سمینار نے درج ذیل تجاویز منظور کیں:

١ـاسلام ایک جامع او رمکمل نظام حیات ہے، اس نے حیات انسانی کے تمام پہلوؤں اور زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں جامع ہدایات دی ہیں، چنانچہ اس نے حکومت وسیاست مدن کے بارے میں بھی بڑی عادلانہ اور حکیمانہ تعلیمات دی ہیں، جن پر عمل کرنے سے دنیا میں امن وامان قائم ہوگا اور عدل وانصاف کا فروغ ہوگا او رملک کے تمام باشندوں کو ان کے حقوق حاصل ہوںگے۔

٢ـ شرکاء سمینار کا مشترکہ احساس ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں اسلام کے سیاسی نظام اور اس سے وابستہ موضوعات پر زیادہ گہرائی او رجامعیت کے ساتھ تحقیق وبحث کی ضرورت ہے، اس موضوع پر کتاب وسنت کی تصریحات واشارات، فقہاء اسلام کے اجتہادات اور موجودہ عالمی حالات کے تقاضوں کی بنیاد پر اسلام کے سیاسی نظام کو زیادہ منقح اور روشن کرنے کی ضرورت ہے۔

٣ـ یہ سمینار اسلامک فقہ اکیڈمی کے ذمہ داروں سے اپیل کرتا ہے کہ ”اسلام کے سیاسی نظام” سے متعلق اہم سوالات کو مرتب کرکے ان پر سنجیدہ علمی تحقیق کرائے اور علماء اور ماہرین سیاسیات کی ایسی کمیٹی تشکیل دے جو موجودہ دور میں اسلام کے سیاسی نظام کا قابل عمل خاکہ تیار کرے اور اسے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے کسی سمینار میں زیر بحث لائے۔

٤ـ یہ سمینار اس بات پر مسرت کا اظہار کرتا ہے کہ عالم اسلام کے مختلف ممالک میں استبداد کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں، اور عامة المسلمین کو حکومت قائم کرنے کے مواقع حاصل ہورہے ہیں، اور یہ امید کرتا ہے کہ عالم اسلام میں حالیہ تبدیلیاں تمام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے بہتر اور نفع بخش ثابت ہوںگی۔

٥ـ یہ سمینار ملک کی یونیورسٹیوں خصوصاً مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ علوم سیاسیات اور شعبہ اسلامک اسٹڈیز سے یہ اپیل کرتا ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام کو تحقیق اور تدریس کا موضوع بنائیں اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کی ہمت افزائی کریں۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ  ٢

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمارسلیم

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر 3 کا مطالعہ کیجئے

قسط 1

یہ مختصر تجزیہ بطور خاص صرف مسلمانوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ ان مسلمانوں کے لیے جو مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں دیتے ۔ ان مسلمانوں کے لیے جن کو یہ دلی اطمینان حاصل ہے کہ اسلام بذات خود ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس کو کسی دوسرے مذہب، دیو مالائی کہانیوں، فلسفہ اور ما بعدالطبیعیاتی نظریوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور ان مسلمانوں کے لیے جو نہ تو کسی دوسرے طریق زندگی کی سرپرستی کرتے ہیں اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں ان کی سرپرستی کی جائے۔
 

تصوف بطور احسان

 
اسلام سچائی کا دین ہے۔ خالق کائنات نے اس دین کو اپنے پیغام کے طور پر خود انسان کو عطا کیا ہے۔ اس پیغام کا ایک حصہ انسان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی ہدایت پر مبنی ہے، یعنی یہ انسان کو اس کے معاشرتی ، سیاسی اور معاشی معاملات میں حتمی اور سچی راہنمائی دیتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنے اخلاقی اقدار کا داعی ہوتا ہے۔ اس پیغام کا دوسرا حصہ اس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقام کے مقابلہ میں اس کی اپنی ذاتی حیثیت کا اتہ پتہ دیتا ہے۔ انسان اس علم کے تحت اپنی روحانی اہلیت اور قابلیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح ایک قابل اور صاحب فہم انسان کے لیے اس پیغام میں انتہائی معمولی دنیاوی معاملات سے لے کر اعلیٰ ترین معاملات تک کے لیے ہدایات موجود ہیں ۔
 
خالق کائنات کا یہ پیغام ہر انسان کے لیے ہے۔ مگر جن لوگوں نے اس پیغام کو قبول کیا ہے، ان کی اکثریت اس پیغام کے بہت ہی قلیل چیزوں پرقانع ہے، جس کے بغیر گذارا نہیں ہو سکتا۔ یا پھر انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ اس پیغام میں کتنی خوبصورتی موجود ہے۔ جب اسلام کے اس پیغام کو سہ رخی جہت سے یعنی اسلام ، ایمان اور احسان کے رو سے دیکھا جائے تو اس خوبصور ت حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام متقاضی ہے کچھ بنیادی عقائد اور لازمی عمل کا۔ ایمان ان تمام عقائد کا جوہر اور اصل ہے جو یقین کامل تک پہنچا دیتا ہے۔ احسان وہ سچی پرستاری ہے جس پر عمل سے کاملیت اور فضیلت کے راستے کھلتے ہیں اور سرفرازی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس پیغام پر کاربند ہوکرجو سفر طے ہوتا ہے وہ انہی تینوں جہت کے تحت ہوتا ہے، یعنی اسلام سے ایمان اور اس سے آ گے احسان کے درجے تک پہنچاتاہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایمان بغیر اسلام کے قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا احسان جس کی بنیاد اسلام اور ایمان کے اوپر نہ ہو صرف منافقت ہے ۔
 
(دیکھئے حدیثِ جبریل، جس میں احسان کے بارے میں نبیۖ نے فرمایا ہے:” الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔”یعنی ” اللہ کی عبادت اس طرح کرو، جیسے کے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ حالانکہ تم اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔” اسی کو احسان کہتے ہیں۔ تاریخ میںہم دیکھتے ہیں کہ احسان کے اس مرتبہ کو حاصل کرنے لیے ایک منظم ادارہ بنایا گیا، جس کو ہم تصوف اور طریقت کے نام سے پہچانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو زبان میں احسان کا لفظ اس معنی میں کم ہی استعمال ہوتا ہے ۔ )
 
اب اگر یہ سوال کریں کہ اللہ کا پیغام کیا ہے؟ یا یہ کہ اللہ کیا چاہتا ہے، کہ ہم کیا کریں؟ تو یہ شریعت یعنی قانون کو جنم دیتا ہے اور یہ سوال کہ اللہ کے پیغام پر عمل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ طریقت کو ہموار کر تا ہے۔ یہ دونوں تقسیم خالصتاً نظریاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان جو کام بھی کرنا چاہے اس میں کیا اور کیسے لازم و ملزوم ہوتے ہیں، ایک دوسرے میں گتھے ہوتے ہیں اور ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شریعت اور طریقت دونوں کے دستور مسلمان علاقوں میں الگ الگ وجود رکھتے تھے اور دونوں کے ماہرین اپنے اپنے معاملات میں سر گرم تھے ۔
 
اصولی طور پر وہ لوگ جو شریعت کے امور میں ماہر ہیں یعنی جنہیں ہم علما ء کہتے ہیں وہ یقیناً طریقت کے علوم سے بھی بخوبی واقف ہیں ، اور ان معاملات کے کیا اور کیسے کے تمام سوالات کا بخوبی جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی نظر اسلامی تعلیمات کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔  اور جب ہی توپیغمبر اسلام صادق الامین حضرت احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی ۖ نے فرمایا کہ میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں(١)۔اور یہ بات تو مسلّم ہے کہ پیغمبروں نے نہ صرف اللہ کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ، بلکہ اس کی وضاحت بھی کر دی اور راستہ بھی دکھا دیا۔ اس لیے اسلام کے وہ علماء جو علماء کہلانے کے مستحق ہیں شریعت اور طریقت دونوں میں رہنمائی کرنے کے لیے بہترین لوگ ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں ان علماء کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے ترکی میں مولا، شمالی افریقہ میں مولایا یا مولے ، برصغیر میں مولانا اور عرب دنیا میں انہیں شیخ کہا کرتے ہیں ۔ 
 
مشاہدے میں آیا ہے کہ ان علماء میں سے کچھ اپنی ذاتی استعداد اور قابلیت کے اضافہ کے لیے اللہ کے پیغام کو اس کی تمام تر جزئیات سمیت سمجھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔  اس لیے کہ یہ لوگ اسلام اور ایمان کے تمام مراحل کو بحسن و خوبی طے کرکے احسان کی جہت میں داخل ہو جاتے ہیں،  اس لیے کہ ان کے پاس اس کی استطاعت ہوتی ہے۔ کچھ کچھ مسلم ممالک میں مشائخ کا لفظ صرف ایسے علماء کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی یہی لوگ طریقت کے ماہرین  سمجھے جاتے ہیں ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
تاریخ میں ایک ایسا بھی وقت آیا ہے جب طریقت اپنے انفرادی روپ میں ایسے ابھری کہ اس کے اپنے خدوخال تھے، اپنا قانون تھا، اپنا مطمح نظر تھااور اس کے اپنے ماننے والوں کا ایک گروہ تھا۔ اور پھر ایسے میں یوں بھی ہوا کہ جانے پہچانے اصولوں سے تجاوز بھی کیا گیا اور اس کے لیے باطنی علوم ، حد سے بڑھی ہوئی روحانیت اور فراست کا لبادہ اوڑھ لیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ایسے بہت سے لوگ اٹھے جو اپنی ذات میں اسلام ، ایمان اور احسان کے راستوں کے کوہ گراں تھے۔ اسلام کے سچے شیدائی کی طرح ان کی راتیں رکوع اور سجود میں اور دن گھوڑے کی پیٹھ پر بسر ہوتے تھے۔  یعنی جب تخلیہ میں ہوتے تو اللہ سے رازونیاز کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہوتے تو عدل و انصاف کرتے۔ (نوٹ: ایسے لوگوں میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی جو مغل حکمراں اکبر اور جہانگیر کے دور میں اٹھے، شاہ جلال اور خان جہاں علی بنگال کے مسلم دور میں، جبکہ سید احمد بریلوی شہید برطانوی راج میں منظر عام پر آئے ۔ )
 

دورِ حاضر کے صوفیا

 
ماضی میں اور آج کے دور میں بھی بہت سے ایسے صوفیا موجود ہیں جو دن کی روشنی میں چھپے رہتے ہیں اور را توں کو نفس پرستی میں گزارتے ہیں۔ وہ عدل و انصاف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ فلسفہ میں الجھے رہتے ہیںاور ایسے باطنی اور چھپے ہوئے ذرائع ڈھونڈتے ہیں جن کے ذریعہ سے باطل تصورات کو قابل قبول بنایا جاسکے۔ ایسے لوگ اسلام کی سچائی کو اجاگر کرنے کی بجا ئے د وسرے مذاہب کی تعلیم کو اسلام میں داخل کرکے اسلام کی صحیح صورت بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کے پیروکاروں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے تمام جستجو میں اسلام کا انقلابی نقطہ نظر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
 
پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مغرب کی برتری نے اسلام کے خدوخال کو اور بھی مسخ کر دیا ہے۔Esoteric  یعنی مخفی یا باطنی اور  Exotericیعنی خارجی یا ظاہری کی اصطلاحات ان کی لغت کے حساب سے مخفی اور ظاہری مطالب سے کہیں دور کی چیز بن گئی ہے۔ مغرب سے مستعار لی ہوئی اصطلاحات اسلامی لٹریچر میں شدتِ استعمال کی وجہ سے اب ایک نئی شکل میں آگئی ہے، اور اس نے مسلمانوں کو دو مختلف قسم کے گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے، یعنی نچلا طبقہ اور اونچا طبقہ ، یعنی عوام اور اشراف میں بانٹ دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس گروہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے وہ در پردہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ درجہ کے فضیلت یافتہ لوگوں میں شمار کرنے لگتے ہیں  اور دوسروں پر نہ صرف یہ کہ حقارت کی نظر ڈالتے ہیں بلکہ ان کا گمان ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کبھی ان کی حقیقت کو نہیں پا سکیں گے۔ اور پھر یہ گمان یافتہ لوگ دوسروں سے الگ تھلگ رہتے ہیںاور اسلام کا جو فلسفہِ جہادہے اس میں بالکل حصہ نہیں لیتے۔یہ لوگ گھات لگا کر نوجوان مسلمانوں کو قابو کر لیتے ہیں اور ذ ہنی طور پر ساکت و جامد کر دیتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی اسلامی احیاء کی کارروائی میں حصہ نہ لے سکیں۔ وہ عیارانہ حربوں سے اور الفاظ کے ہیرا پھیری سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم روایتی اسلام کا احیاء کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ اسلامی روایت کو پٹری سے اتار دیا جائے۔
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ روایتی اسلام، اسلام کو اس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اسلام آج کے دور میں مختلف اسلامی ممالک میں رائج ہے۔ فی الوقت اسلام میں جتنی غیر اسلامی روایات اور دوسرے مذاہب کی چیزیں در آئی ہیں یہ لوگ ان سب چیزوں کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لینا چاہتے ہیں۔ جب کہ در حقیقت اسلامی روایت کا مطلب وہ قاعدہ اور کلیہ ہے جس کے ذریعہ سے اسلام میں گھس آنے والی تمام چیزوں کو دیکھا جائے ، جانچا جائے اور ان خرابیوں کو دور کیا جائے۔ یہ لوگ حصولِ علم الٰہی کو اپنا وظیفۂِ خاص بتاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو صحیح سمت سے ہٹا دیتی ہے۔  بجائے اس کے کہ وہ اپنے اسلام اور ایمان کو علم یقین کی زینت سے آراستہ کریں جو احسان کی ایک جہت ہے، اس کی بجائے وہ اللہ کی ذات اور اس کے وجود کے بارے میں بیکراں قیاسی کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ ایسے دلائل میں الجھ جاتے ہیںجو اسلام اور ایمان کی تعلیم کے عین مخالف ہوتی ہیں۔
 

سچا علم

 
اگلے سطروں میں ہم عقائد کی بحث کی طرف پھر واپس آئیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم پہلے علم کی حقیقت کو سمجھ لیں ۔علم حقیقی کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کی مشیت کیا ہے۔ تخلیق کائنات اللہ کی مشیت ہے۔  جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کُن اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے اور جو چیز وجود میں آجاتی ہے وہ اللہ کی تخلیق ہے۔ مخلوق اللہ کے ارادے کی ظاہری حقیقت ہے۔ علم کی تمام شاخوں کو بروئے کار لاکر اللہ کی خلقت کو درست طریقہ سے سمجھ لینا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کو سمجھ لینا ہے۔ کوئی شاعر اور فلسفی اگر تخلیق خداوندی کو اپنی عقل اور فہم کی بنیاد پر بیان کرے تو ایک عام آدمی جس کو حقیقت کا علم نہیں ہے اس کے زور بیان اور الفاظ کی خوبصورتی کی بدولت اس کی تعریف تو کرے گا مگر وہ بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہوگا ،کیونکہ جب تک اس کو اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک نہ ہو وہ حقیقت کو نہ پا سکے گا ، نہ بیان کر سکے گا۔ مختصراً ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کی حکمت اور مشیت کو قرآن کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے کہ کوئی بھی زبان زد عام حکمت اور علم کو ہم اس وقت تک حکمت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ قرآن کریم کی نازل شدہ حکمت سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
 
اللہ کی تمام مخلوق میں انسان کو یہ منفرد شرف حاصل ہے کہ اس کو قوتِ ارادہ عطا ہوئی ہے اور اس قوتِ ارادہ کے عملی اظہار کے لیے انسان کو کسی حد تک آزادی بھی دی گئی ہے ، جو دوسروں کو نہیں ملی ہے اور پھر یہی آزادی اس کو مکلف بھی بنا دیتی ہے۔ اب اس کی اپنی یہ خواہش کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، اللہ کی مشیت اور ارادہ کی تابع ہوگی۔ یعنی انسان کا ہر قابل قبول عمل لازماً قرآن مجید کے احکامات کے عین مطابق ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کا ہر وہ عمل قابل تعریف ہوگا جو اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق ہوگا وگرنہ ناقابل ستائش اور قابل گرفت ہوگا۔ اب اس بحث کے بعد ہم واپس علم کی طرف لوٹیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر انسان کا عمل اللہ کی مشیت کی مطابقت میںہے تو یہ عمل علم پر مبنی ہے ، اس لیے کہ علم اللہ کی مشیت اور ارادہ کا دوسرا نام ہے۔ کسی جنگل یا صحرا میں ایک شخص ہو اور وہ اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک بھی رکھتا ہو اور اس کی پاسداری بھی کرتا ہو تو وہ شخص عالم کہلائے گاخواہ اس کے پاس کسی مدرسہ یا یونیورسیٹی کی کوئی سند بھی نہ ہو اور اگر اس کا عمل اللہ کی مشیت کے برخلاف ہوجائے تو وہ جاہل ہے چاہے اس نے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ حاصل کر رکھی ہوں یا کتنی ہی ضخیم کتابوں کا مصنف ہو یا کتنے ہی لوگوں کو اس نے اپنی خوبصورت تقریروں اور پر اثر شخصیت کے سحر میں گرفتار کر رکھا ہو۔ (نوٹ:  اسلام کے ظہور سے قبل عرب کے معاشرتی دور ( بلکہ کل انسانی دور) کو دور جاہلیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس دور کے عرب نہ تو تجارت میں ، نہ سفارتکاری میں اور نہ شعر و ادب میں جاہل تھے ، اور نہ کسی دوسری قوم سے کسی طور بھی کم تر تھے۔ مگر ان کے پاس کمی تھی تو صرف اللہ کے علم کی۔)
 
انسان کو اللہ کی مشیت کے مطابق اپنی خواہش کو استوار کرنا چاہئے،جو قرآن مجید فرقان حمید میں بتفصیل موجود ہے۔ بیشک اس کو اس کے ان اعمال کی جزا ملے گی، یعنی جب اس کے ارادے اور اللہ کے ارادے یکساں ہو جائیں ۔ بہر صورت یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس کے عمل سے وہی نتیجہ نکلے جو وہ چاہ رہا ہے خواہ اس کا وہ عمل قرآن و سنت کی حدود میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت اس کی جا ئز خوا ہش سے مختلف ہو سکتی ہے ، اور پھر آخر کار ہوتا تو وہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور اس کی بیکراں آزادی،انسان کی خواہشات کا پابند نہیں ہے ۔ یعنی انسان کا عمل قرآن و سنت کے مطابق جائز بھی ہو پھر بھی نتیجہ عمل پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دوسری جانب ایسا علم جو اللہ کی خواہش کا عکس ہو علم لَدُنّی کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورة کہف میں آیا ہے۔ 
 

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہ السلام 

 
اوپر دیئے ہوئے بیان کی شہادت میں حضرت خضر علیہ السلام کا، جو ایک بڑے عارف تھے، قرآن مجید میں دیا ہوا  واقعہ یہاں دہرایا جاسکتا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کے ہم سفر تھے جس کے دوران حضرت خضر نے ایک غریب آدمی کی کشتی میں سوراخ کردیا، آگے چل کر ایک نوجوان لڑکے کو مار دیا ، اور پھر ایک گرتی ہوئی دیوار کو اجرت لیے بغیر ٹھیک کردیا ، حالانکہ ان لوگوں کو کھانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، اور بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو بتایا کہ میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار بنا دوںتاکہ ظالم بادشاہ غریب آدمی کی کشتی پر قبضہ نہ کر لے۔ نوجوان جس کو مار دیا تھا وہ اپنے والدین کا نافرمان تھا اس کے لیے انہوں نے کہا ہم نے چاہا کہ اس کو ختم کرکے ایک نیک فرمانبردار لڑکا دے دیا جائے۔ اور اس گرتی ہوئی دیوار کے نیچے ایک خزانہ دفن تھا جو ایک صالح آدمی کا تھا اور  تمہارے رب نے چاہا کہ خزانے کو محفوظ کردیا جائے تاکہ اس کے لڑکے بڑے ہو کر اس کو حاصل کر لیں۔
 
جب حضرت خضر  نے کہا میں نے چاہا تو انہیں اللہ کی مشیت اور اس کی خواہش کا علم تھا اور وہ اس کی مشیت کے خلاف کوئی ارادہ نہیں کر سکتے تھے۔ جب انہوں نے کہا کہ ہم نے چاہا  تو انہیں اللہ کے مشیت کے الہام نے تحریک دی اور اس دنیاوی کام کو انہوں نے اللہ کی طرف سے سر انجام دیا۔  اور جب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب نے چاہا تو ایک طرف تو انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ انہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوا ہے اور ساتھ ہی اللہ کی مشیت کی برتری ظاہر کی تاکہ ان کی خدائی کا دعویٰ نہ ہوجائے۔ ان تینوں واقعات میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذاتی علم کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت کے۔ 
 
علم لدنّی کا تحفہ ان تمام علماء اور مشائخ کا اشتیاق ہے جو طریقت کے عالم ہیں اور احسان کے درجۂ کامل تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس کو مزید بہتر بنانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت خضر کا یہ واقعہ یقینا ان کے لیے امید کی کرن ہے، اس لیے کہ حضور نبی کریم صادق الامین ۖ  نے فرمایا کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ایسا خواب نہ تو قرآن اور نہ ہی شریعت کا جزو ہے اور نہ ہی یہ کہ جس کو یہ عطا ہو جائے وہ خدائی طاقت کا حامل ہو گیا، اور اب اس کی پرستش ہونے لگے۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کی مرضی کو اپنی مرضی بنا لیتے ہیںاور اپنی خواہشات نفسانی کو اللہ کی خواہش کے تابع کر لیتے ہیں وہ اولیائَ اللہ ہوتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے بارے میں نیک گمان کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں مگر اصل ولی کون ہے اس کا علم صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہی ہے۔ طریقت کے مرشدوں کو عموماً یہ درجہ دے دیا جاتا ہے لیکن یہ خیال ان لوگوں کو نظر انداز کرتا ہے جو بطور مرشدِ طریقت کے نہیں جانے جاتے ۔ یہاں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جو مرشدِ طریقت ہو وہ ہی ولی بن سکتا ہے، ا ور دیگر تمام لوگ رد کر دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان مرشدوں کے مریدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مرید ہونے کی وجہ سے الہام الٰہی میں سے حصہ ملنے کا بہت واضح امکان ہے اس لیے کہ وہ دوسروں کی نسبت روحانی طور پر بہت آگے ہیں ، حالانکہ بسا اوقات دوسروں کے مقابلے میں یہی لوگ شریعت کی خلاف ورزی اور ایمان اور اسلام سے زیادہ روگردانی کرتے ہیں۔  
 

ذات و صفات 

 
قرآن کریم فرقان حمیدکی آ یات میں ایک تیسرا رخ خود اللہ ربّ العزت کی ذات و صفات سے متعلق ہے۔ وہ خود کو جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا علم وہاں تک ہی ہے جو اس نے خود ہمیں اپنے متعلق بتا یا ہے۔ہماری سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیںہے۔یہاں ضروری ہے کہ ہم اس کی ذات اور صفات کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔ انہوں نے ہمیں جو کچھ بھی بتایا ہے وہ ان کی کچھ صفات پر محیط ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ اپنی تخلیق میں موجود نشانیوں (آیات ) کی طرف کرائی ہے جو ہمارے گردا گرد پھیلی ہوئی ہیںاور یہی نشانیاں ان کی صفات کو سمجھنے میں ہماری مدد گار ہیں۔ ان کی تخلیق کردہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جس میں ان کی ذات کی کسی طرح سے بھی تشبیہ ہو۔ ہم جو زبان ان کی تخلیق کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ زبان ان کی ذات کے احاطہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہم جتنے بھی استفہامیہ الفاظ جیسے کیا، کیسے ، کیوں ، کہاں ، کب وغیرہ وغیرہ اس کی تخلیق کے تجزیہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اس خالق کائنات اللہ تبارک و تعالیٰ علیُّ العظیم و کبیر الجلیل کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔
 
اب ہم واپس عقائد کی طرف لوٹتے ہیں، اس لیے کہ یہاں پہنچ کر کچھ مرشدوں یا علماء کی نظروں سے اسلام اور ایمان کا علم اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ لوگ قرآن مجید کے دیئے ہوئے علم سے کٹ جاتے ہیںاور گمراہی میں جا پڑ تے ہیں۔  وہ خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کا ادراک نہیں کرسکتے۔  وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مخلوق خالق ہی کا ایک روپ ہے، یا اس کا اظہار ہے ، یا پھر یہ کہ خالق بذات خود مخلوق میں موجود ہے۔  (نوٹ: بقول شیخ محی الدین ابن العربی جو وحدت الوجود کے فلسفہ کے بانی ہیں)۔ یا پھر یہ کہ مخلوق کی حقیقت صرف فریبِ نظر کی ہے۔ (نوٹ:  بقول ہندو دیو مالا میں مذکور مایا  اسی نظریہ کی ترجمانی کرتا ہے)، یعنی ا یسا لگتا ہے لیکن اصل میںکچھ بھی نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وجود سے مراد صرف وجودِ ِباری تعالیٰ ہے۔ بے شک اللہ کا وجود ایک حقیقت ہے جو اپنی ذات میں صمد ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ البدیع ہے اور اس نے کائنات کو لا شئے سے پیدا کیا ہے اور اس کو اس کی حقیقت عطا کی ہے جو کہ اسی سے مشتق ہے اور ماخوذ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کی موجودگی کا نظر یہِ تقابل ( یعنی ایک طرف اللہ یعنی خالق اور دوسری سمت مخلوق) نہ تو ایک دوسرے سے متصل ہیں اور نہ ہی متحارب۔ قرآن حکیم نے کس قدر جامع اختصار کے ساتھ دونوں کو الگ الگ واضح کردیا ہے۔ جب قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ ” اس جیسا کوئی چیز نہیں اور کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے۔( لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئی )]سورة شعرائ:٤٢[ اور( لَمْ یَکُن لَّہ’ کُفُواً اَحَد )]سورة اخلاص:١١٢[۔ اور یہی وہ سچ اور سچا علم ہے جو قرآن حکیم عطا کرتا ہے۔ کوئی فلسفہ، کوئی تشریح، کوئی نظریہ یا کوئی خیال جو اس سیدھی سادی زبان میں کی گئی بات کو توڑے مروڑے تو وہ سوائے خدا کی شان میں بے ادبی اور کفر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
 

شیخ ابوبکر سراج الدین کی تصنیف میں حلول کا تصور  

 
مارٹِن لِنگس ( Martin Lings ) عرف شیخ ابوبکر سراج الدین ( شاذلیہ  درقویہ علٰویہ طریقت کے مریمیہ شاخ کے ایک صوفی شیخ ) نے یہ لکھ کر دنیا کو چونکا دیا کہ انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان یہ فرق ہے کہ دوسری مخلوقات اللہ کی صفات کی مظہر ہیں جب کہ انسان اللہ کی ذات کا مظہرہے جس میں اس کی تمام صفات شامل ہیں۔( بحوالہ : Splendours of Qur’an Calligraphy and Illumination. Thesaurus Islamicus Foundation, 2004 )۔  وہ اس نتیجہ پر اس نظریہ کے تحت پہنچے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا ہے۔  جو کہ سراسر یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کا ایک نمونہ ہے۔ ہم نے ابھی اوپر دیکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا مظہر نہ کوئی چیز ہے ، نہ کوئی چیز اس جیسی ہے اور نہ ہی اس کا عکس ہے۔
 
یہ بات بطور خاص دہرائی جارہی ہے کہ شریعت اور طریقت کی تقسیم خالصتاً من مانی ہے۔ شریعت اسلامی روایت کے ان تین درجات کی تفصیل دیتی ہے جو اسلام ، ایمان اور احسان  سے متعلق ہے۔ جب کہ طریقت ان ہی تین چیزوںکے اندر موجود جوہر کو اجاگر کرتی ہے، اور ان کو قابلِ عمل بناتی ہے۔ یعنی طریقت مسلمانوں کے اندر یقین کو بڑھاتی ہے۔ نہ طریقت شریعت سے پہلے وجود پاتی ہے اور نہ ہی طریقت شریعت کے بعد کی کوئی چیز ہے۔ قرآن کی اصطلاح شِرعة یعنی قانون، اور منہاج یعنی رستہ ، دونوں کی بہت موزوں تعریف پیش کرتاہے۔ اور اگر قرآن کریم کی اس تعریف کو اپنی زندگیوں میں داخل کر لیں تو طریقت سے متعلق بہت ساری لغویات سے نجات مل جائے گی۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
طریقت  بجز  خدمت  خلق  نیست 

بہ  تسبیح  و  سجادہ  و  دلق  نیست

 

 
یعنی طریقت صرف خلق خدا کی خدمت میں ہے ، نہ کہ تسبیح ، جائے نماز اور گدڑی میں ہے۔ شیخ سعدی یہاں یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ طریقت کا ایک مرشد (شیخ) جو احسان کے درجہ کو پہنچ جائے وہ ایسی چھوٹی موٹی چیزوں سے بہت پرے جا پہنچتا ہے۔ اس کو اب ظاہری دنیاوی دکھاوے اور بناوٹی چیزوں سے نکل آنا چاہئے ، اس لیے کہ دنیائے اسلام کو اس کے خدمات کی ضرورت ہے۔ اس کو چاہئے کہ اپنے گرد لوگوں کا ایک حلقہ بنائے اور ان پر اپنی شفقتوں کا سایہ کیے رکھے اور نئے آنے والوں کو بھی اس حلقہ میں شامل کرتا رہے، اس لیے کہ اسلام کوئی پرائیویٹ کلب نہیں ہے۔  اور پھر شیخ کی ذاتی زندگی بالکل شفاف اور قابل اتباع ر ہنی چاہئے۔ اس کے گرد کوئی پراسراریت نہیں ہونی چاہئے۔  ایسے ہی شیخ کو حضور نبی کریم ۖ کی اس حدیث کا مصداق ہونا چاہئے جس کے تحت آپۖ نے فرمایا :” اللہ کی رحمتیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو ایک گروہ میں ہو کر رہتے ہیں۔ ” ( یدُ اللّٰہِ فوق الجماعة )۔ اسلامی معاشرت کا یہ اصولِ اوّل (first principle)ہے۔ اب شیخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دورہ کرے اور دیکھے کہ کوئی اکیلا تو نہیں رہ گیا اور بغیر کسی گروہ میں شامل ہوئے زندگی گزار رہا ہے۔
 

اسلامی روایت بمقابلہ روایتی اسلام 

 
اگر شیخ صاحب اسلامی روایات کو قابل عمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اوپر درج شدہ تمام باتیں درست ہیں۔ اس کے بر خلاف اگر وہ روایتی اسلام کو پراسرار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو سب کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں اور ان شیخ صاحب پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔ کیونکہ روایتی اسلام وہ ہیں جن کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمان اسلام کو سمجھتے رہے ہیں اور مختلف ادوار میں اس کے مطابق زندگی گزارتے رہے ہیں۔ مثبت بات اس میں یہ ہے کہ کچھ سمجھدار اور صاحب فہم شیوخ نے کچھ ایسے عمل شامل کر لیے جو لوگوں کو شریعت کی طرف مائل رکھنے میں مددگار ثابت ہوںمگر ان کی حیثیت زائد از ضرورت عمل یعنی نوافل سے زیادہ نہیںرہی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نو وارد مسلمانوں کو اپنے پرانے مذہبی روایات کو چھوڑ کر اسلامی روایات کو اپنانے میں سہولت ہو جائے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ زائداز ضرورت چیزیں مسلمانوں کے اندر لازمی جزو کی حیثیت سے داخل ہو گئیں اور ان شیوخ کے گدی نشیں اُس سوچ کے حامل نہ تھے کہ مریدین کو اس سفر میں اُس مقام سے آگے لے کر جاتے، نتیجے کے طور پر ان لوگوں نے اُنہیں اس بھنور میں پھنسا ہوا چھوڑ دیااور بد قسمتی سے نو واردوں نے ان ہی زائد از ضرورت چیزوں کو اسلامی تعلیمات میں تبدیل کرلیا۔ اور لوگوں نے یہ گمان بھی کر لیا کہ ان کے شیخ بڑے بلند مرتبہ لوگ تھے اور ان کی تعلیمات سے انحراف کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ 
 
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نئی چیزیں ان کی معاشرت میں داخل ہو گئیں اور اسلام کی تعلیمات اور سنت رسول ۖ کے ہم پلہ ہو گئیں، یعنی یہی ان کے لیے صراط المستقیم بن گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کے معاملات میں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے پیدا ہوئیںمگر ان میں درست اور غلط کا فیصلہ کرنا انتہائی دشوار معاملہ تھا۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ان تمام اختلافات کا تعلق بدعت کے مسائل سے تھا۔  پھر ان میں سے کچھ کو بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت قرار دے کر برقرار رکھا گیا اور کچھ کو بدعت سئیہ یعنی بری بدعت قرار دیا گیا جو نا قابل قبول تھیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان تمام بدعات کو پرکھنے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا، اس میں بھی تو کوئی شک نہیں کہ آخر بدعت حسنہ بھی تو ایک نئی چیز تھی جو دین میں داخل کر لی گئی۔ اگر اس کی کسی وجہ سے ضرورت تھی تو ایک خاص مدت اور مصلحت کے تحت اس کی اجازت ہو نی چاہئے تھی۔ اگر اس کو ایک مستقل حیثیت دے دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ایک مکمل دین نہیں تھا اور اس میں اس نئے عمل کی احتیاج باقی رہ گئی تھی۔ اس لیے بدعت حسنہ کے تمام مخالف حضور رسالت مآب ۖ کے اس انتباہ کی روشنی میںاپنی مخالفت میں درست تھے کہ تمام بدعت ضلالت کی طرف لے جاتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی اس نظریہ کے زبردست حامی تھے، اور پھر سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی یہ فرما چکے تھے کہ جب کوئی بدعت ہماری زندگی میں داخل ہوتی ہے ، تو ایک سنت رسول ۖ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ( نوٹ: مجدد الف ثانی یا دوسرے ہزار سال کا مصلح،  کی اصطلاح شیخ احمد سرہندی کے لیے استعمال ہوئی۔ ابو دائود کی ایک حدیث مبارک کے تحت اللہ ہر سو سال کے اوپر ایک مصلح پیدا کرے گا جو اسلام کا احیاء کرے گا ۔ اپنے دور میں شیخ صاحب کو اسلام کے بچائو کے لیے تین اطراف میں جنگ کرنی پڑی۔ اکبر کے دور میںدین الٰہی کا جھوٹا گمراہ کن جھگڑا جو اس کے غیر اسلامی رتنوں کا شوشہ تھا، پھر جہانگیر کے دور میں شیعہ حضرات کا پھیلائے ہوئے زہر کے خلاف، اور آخر میں وحدت الوجود کے فلسفہ کے خلاف جو اس بات کا داعی تھا کہ اللہ کائنات کی ہر چیز میں بہ نفسہ موجود ہے۔ )  
 
اسلام کو اس کے صراط مستقیم سے ہٹانے کی مہم مسلسل جاری تھی اور دوسرے مذاہب اور کلچر سے خیالات اور تصورات کو مستقلاً اسلامی نظریات میں ملایا جارہا تھا۔ یہ کارروائی ان لوگوں کی جانب سے ہو رہی تھی جو منحرف مسلمان تھے یا پھر وہ جنہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ ان تمام تصورات اور تعلیمات میں سب سے زیادہ نقصان دہ وہ فلسفہ تھا جس کی رو سے یہ کہا جا رہا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب ایک ہی ہیں اور سب کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔  وحدت الوجود کے ماننے والے ایک صوفی شاعر نے اس بات کویوں بیان کیا کہ 
 
سب یار کا جلوہ ہے

کعبہ ہو یا بت خانہ 

 

[[ جاری ہے ]]

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

جناب محمد عالمگیر صاحب ١٩٤٢ء میں کولکتہ میں پیدا ہوئے ۔تقسیم کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل آپ نے کراچی سے ہی کی۔ ساٹھ کی دہائی میں کراچی کی ایک مشہور درسگاہ علیمیہ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں زیر تعلیم رہے اور اپنے وقت کے مشہور عالم ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری اور ”منہاج القرآن” کے مصنف ڈاکٹر برہان الدین احمد فاروقی کے زیر تربیت رہے اور ان سے کسب فیض کیا۔ محمد عالمگیر صاحب ١٩٧٤ء میں بغرض ملازمت آسٹریلیا روانہ ہوئے اور آج بھی سڈنی میں ہی مقیم ہیں۔ محمد عالمگیر صاحب علیمیہ انسٹیٹیوٹ میں شیخ عمران نذر حسین صاحب کے ہم مکتب رہے ہیں۔ آج وہ ملازمت سے ریٹائر ہوکر اپنا بیشتر وقت اپنے ہم جماعت اور دیرینہ دوست شیخ عمران نذر حسین صاحب کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ان کی تمام تحقیقات اور تحریروں میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ان کے بیرونی ممالک کے دوروں اور وہاں کے لکچروں کو پروگرام کرتے ہیں اور ان کا بندوبست کرتے ہیں۔
تصوف ایک ہَمہ جہت پہلوئوں کا حامل موضوع ہے ۔ اس کے کئی چہرے اور کئی رنگ ہیں ۔ اس پر بحث و تحقیق کرنے والے خواہ تائید میں ہوں یا تردید میں اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس موضوع پر توازن اور اعتدال کے ساتھ خامہ فرسائی نہایت ضروری ہے ۔ محمد عالمگیر صاحب نے اس موضوع پر اعتدال کے ساتھ اپنے قلم کو اٹھانے کی سعی کی ہے ۔ اس سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی تاہم اگر کوئی صاحبِ علم اس موضوع پر دلائل کی رُو سے اپنے خیالات پیش کرنا چاہیں تو ” الواقعة ” کے صفحات اس کے لیے حاضر ہیں ۔ ( ادارہ )
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے دوسرے شمارہ، – رجب المرجب 1433ھ / مئی، جون 2012 – سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کا حق تولیت : یہود یا مسلمان؟


الواقعۃ شمارہ ٢ 

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زوال پذیر قوموں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے ارباب حل و عقد بھی وقت کی صحیح نباضی سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ ” یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا ” کے مصداق ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسا وقت آیا جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے اختیارات سے مسلسل تجاوز کرتے ہوئے سلطنتِ مغلیہ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج بن گئی مگرکمال ہے اس عہد کے ارباب کمال پر جو امکانِ کذب باری تعالیٰ جیسے مباحث پر دادِ تحقیق دے رہے تھے ۔ علماء کی یہی روش تھی جس نے بالآخر مسلمانوں کو فرنگی استبداد کی چوکھٹ پر غلام بنادیا ۔ لال قلعہ کی دیواریں
مسلمانوں کے خون سے رنگین ہوگئیں اور ہندوستان کے تخت پر سات سمندر پار کے سیاسی تاجروں کا قبضہ ہوگیا ۔
 
”صحیح وقت پر صحیح فیصلہ ” یہ الہامی صلاحیت جس میں ہوگی وہی اس امت کا حکیم اور اس ملّت کا غمخوار ہوگا ۔ تاریخ سے صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔ 
 
میدانِ جہادمیں جب مخالفین شاہ اسماعیل شہید کے مسلک و نظریات کو وجہ جواز بنا کر عام لوگوں کو متنفر کر رہے تھے  تو بمقام پنجتار مذہبی مسائل کی تشریح کے لیے افغان علماء کو بلایا گیا اس مجلس میں شاہ اسماعیل نے عدم وجوب تقلید کی پُر زور حمایت کی ۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے جو رائے دی ، وہ بقول شیخ محمد اکرام آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ]موجِ کوثر : ٦٢[شاہ صاحب نے فرمایا :

"ہمیں اس وقت کفار سے جہاد کرنا ہے ۔ تقلید کا فتنہ اٹھا کر اپنے اندر تفرقہ ڈالنا بہتر نہیں ۔ اس کی وجہ سے ہمارا اصل کام ہجرت اور جہاد جو فرضِ عین ہے ، متاثرہوںگے ۔”

 
اسی طرح جب مولانا ولایت علی صادق پوری بغرضِ جہاد نکلے اور اثنائے راہ دہلی پہنچے تو اس وقت علمائے دہلی میں یہ مسئلہ زوروں پر تھا کہ الو حلال ہے یا حرام ؟ کسی نے مولانا سے بھی دریافت کیا تو امت کے اس حکیم نے جو بات کہی وہ دین کے استخواں فروشوں کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ فرمایا:

"میں الوؤں میں نہیں پڑتا ، میرا مقصد مسلمانوں کی آزادی اور باطل سے جہاد ہے ۔”

 
بدقسمتی سے آج پھر تاریخ دہرا رہی ہے ۔ ہزارہا قربانیاں دے کر اس مملکتِ پاک کی آزادی عمل میں آئی تھی ۔ آج پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نئے پیراہن میں ملبوس ہماری خودمختاری کے لیے سوالیہ نشان بن گئی ہے اور گزری ہوئی تاریخ کے عین مطابق ہمارے علماء نت نئی فقہی موشگافیوں سے اپنی علمی ذوق کی تسکین فرما رہے ہیں ۔ 
 
 
یہ خیال ہی کتنا عجیب لگتا ہے کہ مسلمان یہ سوچنے لگیں کہ ان کا قبلۂ اوّل ان کا نہیں بلکہ اس قوم کا حق ہے جسے اللہ ربّ العزت نے مغضوب قرار دیا ہو اور جن کے حق میں ذلت و مسکنت کی نوید دی ہو ۔ 
 
مولانا محمد عمار خاں ناصر مدیر ماہنامہ ” الشریعة” عصر حاضر کے جید علماء میں سے ہیں ۔ ان کی صلاحیتوں کے مختلف دوائر ہیں اور بلاشبہ ان کی صلاحیتیں قابلِ تسلیم ہیں مگر کاش وہ اپنی صلاحیتوں سے اس امت کے زوال و انحطاط کی وجہ دریافت فرماتے ۔ اس امت کے لیے حکیم اور نباض بنتے اور اس کی غمخواری کرتے ۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے ایسے مباحث کو اپنا مرکزِ تحقیق بنایا جو اس وقت امت مسلمہ میں مزید انتشار و افتراق کا باعث بن گئے ہیں ۔ ان کی تحقیق کا حاصل ہے : 
 

"مسجدِ اقصیٰ کا معاملہ امت مسلمہ کے لیے بھی اسی طرح ایک اخلاقی آزمایش کی حیثیت رکھتا ہے جس طرح کہ وہ بنی اسرائیل کے لیے تھا ، اور افسوس ہے کہ اس آزمائش میں ہمارا رویہ بھی حذو النعل بالنعل (Same to Same) اپنے پیش رووں کے طرزِعمل ہی کے مماثل ہے ۔ ارضِ فلسطین پر حق کا مسئلہ موجودہ تناظر میں اصلاً ایک سیاسی مسئلہ تھا ، اس لیے اس کی وضع موجود میں یہود کے پیدا کردہ تغیر حالات پر اگر عرب اقوام اور امت مسلمہ میں مخالفانہ ردّ عمل پیدا ہوا تو وہ ایک قابلِ فہم اور فطری بات تھی ، لیکن ہیکل کی بازیابی اور تعمیر نو کے ایک مقدس مذہبی جذبے کو ” مسجدِ اقصیٰ کی حرمت کی پامالی ” کا عنوان دے کر ایک طعنہ اور الزام بنا دینا ، مسجدِ اقصیٰ پر یہود کے تاریخی و مذہبی حق کی مطلقاً نفی کردینا اور ، اس سے بڑھ کر ، ان کو اس میں عبادت تک کی اجازت نہ دینا ہر گز کوئی ایسا طرزِ عمل نہیں ہے جو کسی طرح بھی قرینِ انصاف اور اس امت کے شایانِ شان ہو جس کو ” قوامین للّٰہ شھداء بالقسط ” کے منصب پر فائز کیا گیا ہے ۔” [براہین : ٤٠١]

 
مسجدِ اقصیٰ کے حق تولیت پر یہ بحث غالباً دس برسوں سے جاری ہے ۔ اس عرصے میں نہ معلوم کتنی آندھیاں آئیں اور کتنے طوفان اٹھے جنہوں نے اس امت کی زبوں حالی میں اپنا کردار ادا کیا مگر اس طویل علمی مناقشے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ برادرم ابو موحد عبید الرحمن کا تأثر یہی رہا کہ مولانا عمار ناصر نے جو نکات اٹھائے ہیں ان کا اب تک مدلل جواب نہیں آسکا ہے ۔ اس لیے امت کے اس شاذ حلقے کے لیے  جمہورِ امت کے صحیح مؤقف کی ترجمانی ضروری ہے ۔ راقم کو اس بحث سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ ربّ العزت کی حکمتیں علمی مناقشوں کی محتاج نہیں ہوتیں ۔ نہ کسی صاحبِ علم کے دل پر اترنے والے معصومانہ الہام سے تقدیرِ الٰہی کو بدلا جاسکتا ہے ۔ یہ مختصر سا مضمون صرف اس احساس کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ ہذا کی صحیح نوعیت کو واضح کیا جاسکے ۔ یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ ہمارے پیشِ نظر جناب عمار ناصر کی کتاب ” براہین ” ہے ، ” الشریعة ” کے شمارے ہمارے پیشِ نگاہ نہیں ۔ 
 
جناب عمار ناصر نے اپنے دلائل کی اصل بنا ایک قرآنی آیت کے چھوٹے سے ٹکرے پر رکھی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی عقلی و منطقی دلائل ، کچھ مفسرین کی دور از کار تاویلات ، چند آثار اور تاریخی روایات کو بھی پیش کیا ہے ۔ تاہم ہم اپنا موضوعِ سخن صرف قرآن کی روشنی میں پیش کریں گے ۔ اس کے نص ہونے میں کسی کو معمولی درجہ بھی کلام نہیں ہوگا ۔ 
میری ناقص رائے کے مطابق ہر وہ شخص جو اپنے باطل نظریات کے لیے قرآن سے استدلال کرتا ہے وہ کبھی بھی آیتِ قرآنی کو اس کے صحیح ترین سیاق و سباق کے ساتھ پیش نہیں کرتا ۔ بلکہ اس کے بَرعکس محض اپنے مطلب کی بات    ”لے اڑنے ” کی روش اختیار کرتا ہے ۔ ہمیں جناب عمار ناصر کی نیت پر شبہ نہیں ۔ امید ہے کہ انہوں نے اپنا مؤقف پوری دیانتداری سے اختیار کیا ہوگا ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قرآنی استدلال کرتے ہوئے ان کا طریقہ بھی مذکورہ روش ہی کا عکاس ہے ۔ فرماتے ہیں :
 

"اللہ تعالیٰ نے مسجدِ اقصیٰ کی تباہی و بربادی اور اس سے یہود کی بے دخلی کے دو معروف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ یہ ان کی سرکشی اور فساد کے نتیجے میں رونما ہوئے تھے ۔ مسجد اقصیٰ کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت وہ یہود کے زیرِ تصرف نہیں تھی ، بلکہ تباہ شدہ کھنڈر (Ruins) کی صورت میں ویران پڑی تھی ۔ یہ بات بھی ، ظاہر ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ مستقبل قریب میں اس عبادت گاہ کو آباد کرنے کا شرف عملاً مسلمانوں کو حاصل ہونے والا ہے ۔ اگر یہود کے حق تولیت کی شرعی بنیادوں پر قطعی تنسیخ مقصود ہوتی تو یہاں یہود سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے تھا کہ فساد اور سرکشی کے نتیجے میں اس مسجد سے بے دخلی کے بعد اب تمہارے اس پر دوبارہ متصرف ہونے کا کوئی امکان نہیں اور اس عبادت گاہ کی آبادی اور تولیت کا حق اب تمہارے بجائے ہمیشہ کے لیے ، مسلمانوں کے سپرد کردیا جائے گا ، لیکن اس کے برعکس قرآن مجید صاف لفظوں میں یہ فرماتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے پہلے کی طرح اب بھی اس مسجد کے دوبارہ بنی اسرائیل کے تصرف میں آنے کا امکان موجود ہے :

(عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ) [بنی اسرائیل ١٧:٨]

"توقع ہے کہ تمہارا رب تم پر پھر رحمت کرے گا اور اگر تم نے دوبارہ یہی روش اختیار کی ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ۔” [براہین : ٢٦٠]

 
سب سے پہلے آیت کے اس ٹکرے کو اس کے صحیح ترین سیاق و سباق کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے۔ 
 

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا (4) فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (5)  ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا (6)  اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ  ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا  ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا (7) عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا  ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا (8) اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا (9) وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا(10) [بنی اسرائیل :٤-١٠]

”اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلادی تھی کہ تم سر زمین میں دوبارہ خرابی کروگے اور بڑا زور چلانے لگو گے پھر جب ان دو بار میں سے پہلی بار کی میعاد آوے گی ہم تم پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کریں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے پھر وہ گھروں میں گھس پڑیں گے اور یہ ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا ۔ پھر ہم ان پر تمہارا غلبہ کر دیں گے اور مال اور بیٹوں سے ہم تمہاری امداد کریں گے اور ہم تمہاری جماعت بڑھا دیں گے ۔ اگر اچھے کام کرتے رہو گے تو اپنے نفع کے لیے اچھے کام کرو گے اور اگر تم برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لیے پھر جب پچھلی بار کی میعاد آوے گی ہم پھر دوسروں کو مسلط کریں گے تاکہ تمہارے منہ بگاڑ دیں اور جس طرح وہ لوگ مسجد میں گھسے تھے یہ لوگ بھی اس میں گھس پڑیں اور جس جس پر ان کا زور چلے سب کو برباد کر ڈالیں ۔ عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرماوے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کا جیلخانہ بنا رکھا ہے ۔ بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو کہ نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے ۔” ( ترجمہ از مولانا اشرف علی تھانوی )

 

 
ان آیات مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو مرتبہ یہود پران کی نافرمانیوں کے سبب اپنے سخت عذاب کا ذکر فرمایا ہے ۔ پھر اللہ رب العزت نے انہیں ایک موقع دیتے ہوئے مزیدفرمایا (  عَسَی رَبُّکُمْ أَن یَرْحَمَکُمْ ) ”قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے ۔” لیکن اگر تم نے پھر وہی روش اختیار کی تو ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ پہلے کرچکے ہیں ۔ اس بیان کے بالکل متصل اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم کا ذکر فرمایا ہے ۔ سیاقِ و نظمِ کلام کا تقاضا یہی ہے کہ یہود کے لیے وعدئہ رحمت نبی کریم ۖ اور قرآن کریم پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے ۔ 
 
ائمہ مفسرین اس سے یہی مراد لیتے ہیں ۔ 
 
( عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ  ) کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ ۣ لکھتے ہیں:

"یعنی اگر تم محمد ۖ پر ایمان لے آئو گے اور قرآن کا اتباع کرتے ہوئے اپنے اعمال درست کر لو گے تو امید ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا ۔ ” [تفسیر مظہری: ٧/٢٦، مترجمہ عبد الدائم جلالی مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ١٩٩٩ء ]

 
مولانا ابو محمد عبد الحق حقانی دہلوی لکھتے ہیں :

"عسیٰ ربکم کا اشارہ یا تو آنحضرت ۖ کے عہد کے یہود کی طرف ہے کہ اب بھی وقت ہے اگر تم نے نبی آخر الزماں علیہ السلام کی اطاعت کرلی تو خدا پھر تم پر رحم کرے گا تمہارا برگشتہ زمانہ جا کر بھلے دن آجائیں گے اور اگر پھر بھی وہی شرارت کرو گے تو دنیا میں ہم تم پر کوئی تازہ آفت لائیں گے اور آخرت میں تو جہنم منکروں کا جیل خانہ تیار ہے ، یہود نے آنحضرت ۖ سے شرارت کی اور بھی رہی سہی عزت جاتی رہی ۔ دنیا بھر میں ایک انچ زمین کے بھی حاکم نہیں جہاں کہیں ہیں محکوم و ذلیل ہیں یا یہ اسی وقت کے یہود کی طرف اشارہ تھا جس کو حکایت کیا جاتا ہے چنانچہ یہود بختِ نصر کے حادثہ کے بعد کچھ نیکی کی طرف آئے شان و شوکت بھی عود کرنے لگی ، مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد میں پھر شرارت کی جس کے وبال میں طیطس شاہِ روم کے ہاتھ سے ان کا ستیاناس ہوگیا ۔ ” [تفسیر حقانی : ٣/١١٥، مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ]

 
مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

"یہ ان یہود سے خطاب ہے جو ان آیات کے نزول کے وقت موجود اور قرآن کی مخالفت میں کفارِ قریش کی ہمنوائی و پشت پناہی کر رہے تھے ۔ ان سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے وہ تمہیں سنایا جا چکا ۔ اب اگر خیریت چاہتے ہو تو اس نبی امی ( ۖ ) کی دعوت نے تمہارے لیے نجات کی جو راہ کھولی ہے ، اس کو اختیار کرو ، اور اپنے مستقبل کو سنوار لو ۔ اگر تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرلی تو خدا بھی تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر اسی طرح کی حرکتیں کیں جیسی کہ پہلے کرتے آئے ہو تو ہم بھی تمہاری اسی طرح خبر لیں گے جس طرح پہلے لے چکے ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس دنیا میں جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے وہ تو ہوگی ہی ۔ آگے تمہارے جیسے کافروں کے لیے جہنم کا باڑا ہے جس میں سارے کے سارے بھر دیے جائیں گے.” [تدبر قرآن : ٤/٤٨٣ مطبوعہ فاران فائونڈیشن لاہور ٢٠٠٠ئ]

 
ایک تابعی ہیں ضحاک ان کی رائے بھی یہی ہے ۔ مولانا احمد حسن دہلوی لکھتے ہیں :

"ضحاک نے کہا ہے کہ یہ رحمت جس کا اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جناب سرورِ کائنات فخر موجودات ۖ ہیں اور یہ بھی اللہ پاک نے انہیں جتلادیا تھا کہ اگر پھر تیسری دفعہ وہی کام کرو گے اور وہی فساد اٹھائو گے تو یاد رکھو ہم وہی عذاب تم پر نازل کریں گے۔ ہمارے ہاتھ سے تمہیں رہائی نہیں مل سکتی .” [احسن التفاسیر : ٤/٢١-٢٢]

 
سر دست یہ محض چند مفسرین کی آراء ہیں ورنہ اس پر تقریباً اتفاق ہی ہے ۔
” روح المعانی ” ،
” تفسیر النسفی ” اور
” فتح القدیر ”
دیکھ لیجئے اس میں ہمارے ہی مؤقف کی تائیدملے گی ۔ قرآنی نظم بھی اسی تفسیر کا تقاضا کرتی ہے ۔ حیرت ہے نظمِ قرآن کے اتنے بڑے داعی اتنی معمولی سی بات نہ سمجھ سکے ۔
 
جناب عمار ناصر کو یہ احساس تو ہے کہ یہود کو دوسری مرتبہ جس سخت عقوبت سے گزرنا پڑا وہ مسیح علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے تھا ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
 

” ہیکل کی تباہی اور فلسطین سے یہودیوں کی بے دخلی کی پیش گوئی دوسری مرتبہ ٧٠ ء میں پوری ہوئی ۔ اس مرتبہ اس کا سبب بنی اسرائیل کا وہ رویہ تھا جو انہوں نے من حیث القوم سیّدنا مسیح علیہ السلام کی تکذیب کے حوالے سے اختیار کیا تھا ۔ ” [براہین : ٢٤٢]

 
کیا یہ امر تعجب انگیز نہیں ہوگا کہ مسیح علیہ السلام کی تکذیب پر تو یہود کو سزا دی جائے لیکن نبی آخر الزماںۖ جو ” عہد کے نبی ” ہیں ان کی تکذیب پر یہود سے کچھ سرزنش نہ کی جائے بلکہ مستقبل میں ان سے رحمتِ الٰہی کا وعدہ بھی استوار کرلیا جائے؟؟؟
 
قرآنی بیان بالکل واضح ہے اس میں توڑمڑوڑکرنے اور تاویلات کے پھندے بچھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ اللہ کی رحمت ایمان کے ساتھ ہی مشروط ہوسکتی ہے اور اب محمد رسول اللہ ۖ کی رسالت پر ایمان لائے بغیرکوئی ایمان قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ۔ یہود اجتماعی یا انفرادی طور پررسالتِ محمدیۖ پر ایمان لے آئیں تو وہ یقینا وعدۂ رحمت الٰہی کے حقدار ہونگے وگرنہ دائمی ذلّت و مسکنت ان کا مقدر ہوگی ۔
 
تفسیر قرآن کا ایک اہم اصول نظم قرآن ہے اور دوسرا اہم اصول تفسیر القرآن بالقرآن ہے ۔ اس پہلو سے بھی دیکھیں تو معاملہ بالکل صاف ہے ۔ جب دنیا میں اس کتاب مقدس کا نزول ہوا تو یہود اس وقت سطحِ ارضی پر منتشر تھے ۔ کچھ اطمینان و سکون انہیں میسر تھا تو مدینہ میں ۔ لیکن یہاں بھی وہ اپنی سرکشی اور فساد فی الارض کے باعث نکالے گئے ۔ تآنکہ اللہ ربّ العزت نے ان پر ذلت و خواری مسلط کردی ۔ 
 

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ     ۤ   وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ    ۭ   ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ   ۭ  ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ   [البقرة : ٦١]

 

” اور ان پر ذلت اور پست ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ۔ یہ اس سبب سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے ۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نا فرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جانے والے تھے ۔ ”( ترجمہ از مولانا امین احسن اصلاحی )

 

(ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ  ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ) [آل عمران : ١١٢]

"وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے ۔ بس ( اگر کچھ سہارا ہے تو ) اللہ اور لوگوں کے کسی عہد کے تحت ۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں ۔ اور ان پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیتوں کا انکار اور نبیوں کا ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ نافرمان اور حد سے بڑھنے والے رہے ہیں۔” ( ترجمہ مولاناامین احسن اصلاحی)

 
جہاں تک اللہ ربّ العزت کے سہارے کا تعلق ہے تو دنیا میں ایسی کوئی مخلوق نہیں جو ربّ العزت کے سہارے کے بغیر کوئی بھی کام انجام دے سکے ۔ ایک چیز اللہ ربّ العزت کی رضا مندی ہے اور ایک اس کی امرِ تکوینی ۔ شیطان کا اسکے خلاف آمادئہ سرکشی ہونا ایک تکوینی حقیقت ہے ۔ ظاہر ہے اسے تبارک و تعالیٰ کی رضامندی حاصل نہیں ۔ اسی طرح یہود جب تک ایمان کی راہ اختیار نہیں کر لیتے ان پر اللہ کی جانب سے ذلت و مسکنت ہی رہے گی ۔ اس لیے معنوی طور پر دیکھا جائے تو یہود کو دنیا میں محض کسی قوم کا سہارا ہی وقتی طور پر کسی قدر کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے ۔ تنہا ان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ۔ ان آیات سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آج یہود کو سیاسی سطح پر جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور خوشنودی کا نتیجہ نہیں بلکہ محض ایک تکوینی حکمت و ضرورت کا تقاضا ہیں ۔ 
 
ان آیات کے نزول کے وقت یہود اپنے قبلے سے محروم تھے ۔ ان پر ذلت و مسکنت مسلط کی گئی ۔ اب اگر وہ اپنے قبلے کو اپنے زیرِ تصرف لے آئیں تو یہ ” دائرئہ ذلت و مسکنت ” سے اخراج کی ایک صورت ہوگی جو یقینا مشیّتِ الٰہی کے خلاف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ١٩٦٧ء سے بیت المقدس پر یہودی قبضے کے باوجود آج تک وہ اسے مکمل طور سے اپنے زیرِ تصرف نہیں لا سکے ۔ خود عمار ناصر صاحب بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ :
 

"اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے دعواے تولیت کو ایک عملی وجہ ترجیح حاصل ہے ۔ انہوں نے یہ عبادت گاہ نہ یہودیوں سے چھینی تھی اور نہ ان کی پہلے سے موجود کسی عبادت گاہ کو ڈھا کر اس پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کی تھی ۔ نیز وہ بحالتِ موجودہ اس کی تولیت کے ذمہ دار ہیں اور یہ ذمہ داری وہ گزشتہ تیرہ صدیوں سے ، صلیبی دور کے استثنا کے ساتھ ، تسلسل کے ساتھ انجام دیتے چلے آرہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی تولیت کا حق دار مسلمانوں ہی کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ ” [براہین : ٢٤٥ -٢٤٦]

 
ہم نے سطورِ بالا میں نہایت اختصار کے ساتھ جناب عمار ناصر کے قرآنی استدلال پر اپنے نکات فکر کو پیش کیا ہے اور ہمارے پیشِ نظر صرف یہی مقصد تھا کہ 
 
( ِنْ أُرِیْدُ ِلاَّ الِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ ِلاَّ بِاللّٰہِ )
 
اس بحث کے دوران ایک غلط فہمی جو جناب عمار ناصر کی تحریر سے بڑی شدت سے پیدا ہورہی ہے کہ گو یا مسجدِ اقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے کوئی خاص امتیازی مقام حاصل نہیں ۔ لکھتے ہیں :
 

"بعض اکابر صحابہ بھی اس مسجد کی کسی خصوصی فضیلت اور اہمیت سے آشنا نہیں تھے ۔” [براہین : ٢٧٥]

 
مسجدِ اقصیٰ یقینا حرم نہیں ہے اس کے لیے جناب موصوف نے امام ابن تیمیہ ، عبد اللہ بن ہشام انصاری اور سعودی لجنة دائمة کے فتاوے پیش کیے ۔ لیکن اس امر کو نظر انداز کر گئے کہ آخر ایک ایسے مقام کو جو انبیائے سابقین کا قبلہ رہا ہو اسے اللہ رب العزت نے حرم کیوں نہیں بنایا ؟ اس حکمت کی علت یہ ہے کہ ” حرم ” اصطلاحِ شریعت میں اس مقام کو کہتے ہیں جہاں خون بہانا حرام ہوتا ہے ۔ جبکہ بیت المقدس کو اللہ نے آخری معرکۂ حق و باطل کے لیے منتخب کیا ہے ۔ اگر اسے بھی حرم قرار دیا ہوتا تو مسلمانوں کے لیے قتال فی سبیل اللہ کی راہ میں یہ شرعی نکتہ مانع ہوتا ۔ چنانچہ احادیث و آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظہور دجال کے بعد جب دجال تمام سطح ارضی پر گشت کرے گا تب چاہ کر بھی وہ حرمین شریفین کے حدود میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ ان نکات کو پیش نظر رکھا جائے تو مسجدِ اقصیٰ کے حرم نہ بنانے کی وجہ بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔ اس سر زمین کو حق و باطل کے آخری اور نتیجہ خیز معرکے کے لیے مخصوص کرنا بھی ایک نوع کی فضیلت و اہمیت ہی ہے ۔ 
 
مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مسجدِ اقصیٰ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ، وہ بھی ملاحظہ فرمائیے ، کیونکہ یہ جناب عمار ناصر  کے گھر کی شہادت ہے ، صوفی صاحب فرماتے ہیں :

"مسجدِ اقصیٰ وہ مسجد ہے ( اَلَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہ ) جس کے ارد گرد ہم نے برکات رکھی ہیں اس میں ظاہری اور باطنی دو قسم کی برکات شامل ہیں ۔ ظاہری طور پر یہ خطہ سر سبز و شاداب ہے ۔ یہاں پر نہریں ، چشمے اور باغات ہیں ۔ نیز یہ مقام ہزاروں انبیاء کا قبلہ رہا ہے اور ان کی وہاں قبریں بھی موجود ہیں ۔ یہاں پر خدا تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں نازل ہوئی ہیں ، لہٰذا یہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے بابرکت مقام ہے ۔ مفسرین یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے میں یہ حکمت بھی ہے کہ حشر کا میدان اسی مقام پر قائم ہوگا ۔” [معالم العرفان فی دروس القرآن : ١٢/٢٧-٢٨ ، مکتبہ دروس القرآن گوجرانوالہ ٢٠١٠ء ]

مزید فرماتے ہیں :

"اگرچہ ملّت ابراہیمیہ کا عظیم قبلہ تو بیت اللہ شریف ہی ہے مگر اللہ نے بیت المقدس کو بھی محترم قرار دیا ہے وہ سارے انبیاء کا قبلہ رہا ہے ۔ وہاں پر ایک نماز پڑھنے کا اجر دوسری جگہ کی نسبت پچاس ہزار گنا زیادہ ہے ۔” [١٢/٤٤]

 
دینی مسائل کی تشریح کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پہلے سے کسی مفروضے کو قائم نہ کر لیا جائے کہ دورانِ تحقیق اسی کے مطلب کے دلائل جمع کرلیے جائیں ۔ بلکہ نصِ شرعی کی پیروی کی جائے اور دلائل جس امر کی نشاندہی فرمائیں اسے بلا کراہت قبول کیا جائے ۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012– سے ماخوذ ہے۔

المغراف فی تفسیر سورۂ ق


الواقعۃ شمارہ ١، ٢ 

 مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ
تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط ١ اور ٢ 

الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نؤمن بہ و نتوکل علیہ و نعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا و من سیأت اعمالنا من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ و من یضللہ فلا ھادی لہ و نشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ.

اما بعد ! واضح ہوکہ قرآن شریف کے جملہ احکام کی تعمیل مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اسے سیکھیں ، تلاوت کرتے رہیں ، اور یہ نہ ہوسکے تو سن کر ہی اس پر عمل کریں ۔ پس بعض نمازوں میں جہراً بھی تلاوت واجب کی گئی اور مسلمانوں کے لیے حضوری جماعت لازم و متحتم ہوئی ، اور حضرت رسول اللہ ۖ کو ارشاد ہوا ( اور جو حکم کہ آپ کے لیے مخصوص نہ ہوا اس میں تمام مسلمان شامل ہیں )  :

( و ذکر فانّ الذکری تنفع المومنین ) [ الذاریات : ٥٥ ]
”آپ نصیحت کرتے رہیے اس لیے کہ وعظ و نصیحت مسلمانوں کو فائدہ بخش ہے ۔” 
اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ
” انّما بعثت معلماً ” (١)
” میں اسی لیے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں کہ تم لوگوں کو دین کی باتیں سکھائوں ۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے ہفتہ میں ایک بار بطور تعلیم دین و عظ و نصیحت فرض ہوئی ، اور وہ دن جمعہ کا ہے اور وعظ و نصیحت یہی خطبہ ہے جو جمعہ کی نماز میں شرط ہے ۔ پھر نمازِ جمعہ کا یہ اہتمام کیا گیا کہ تمام کاروبارِ دنیا موقوف کرکے آنا ضروری ٹھہرایا گیا اور فرمایا:
 ( اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ) [الجمعة : ٩ ] یعنی "جب صلوٰة جمعہ کی اذان سنو تو اللہ کی یاد ( یعنی خطبہ ) کی طرف دوڑو اور بیچ کھونچ[خرید و فروخت ] موقوف کردو”. 
اور حدیث شریف میں آیا ہے :

عن أبی ھریرة و ابن عمر : ” انہما سمعا رسول اللّٰہ ۖ یقول علی اعواد منبرہ لینتہین اقوام عن ودعہم الجمعات او لیختمن اللّٰہ علی قلوبہم ثم لیکونن من الغافلین ۔”رواہ مسلم و ابن ماجة (٢)

 حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر نے رسول اللہ ۖ کو منبر کے اوپر فرماتے سنا کہ ” لوگ جمعہ کی نماز کو ترک کرنے سے باز آئیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دل پر مہر کردے گا پھر اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ دین کی طرف سے لاپروائی کرنے والوں میں ہو جائیں گے ۔ ”

اور بلحاظِ شفقت اور آسانی کے صرف جمعہ کے دن ظہر میں سے دو رکعت کو کم کرکے ان کی جگہ دو خطبے مقرر کیے گئے اس لیے کہ اگر ہر روز ہوتا تو تکلیف ہوتی ۔ ماہوار یا سا ل بسال ہوتا تو بعد بعید ہوجاتا اور جمعہ کے دن چاروں رکعتیں بھی بحال رہتیں اور دو خطبے بھی تو حرج لازم آتا ۔

اور چونکہ نصیحت کے لیے استماع اور حضورِ قلب ضروری ہے ۔ خطبہ کے وقت سکوت اور سکون محض کی تاکید فرمائی

( فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا )

[ الاعراف : ٢٠٤] "چپ چاپ سنتے رہو”

اور حدیث شریف میں آیا ہے : 
” عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا قلت لصاحبک یوم الجمعة انصت و الامام یخطب فقد لغوت ۔ ” رواہ البخاری (٣)

[ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن خاموش رہنے کے لیے کہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے یقینا لغو کام کیا ۔]
اور نصیحت کے لیے بہترین کلام ، کلام اللہ ہے اس لیے فرمایا :

فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ ) [ق : ٤٥] "آپ بذریعہ قرآن کے نصیحت فرمائیں ، اس کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے ۔ ”

اور حدیث میں آیا ہے :

” ان ھذا القرآن حبل اللّٰہ و النور المبین و الشفآء النافع ۔ ” رواہ الحاکم عن ابن مسعود (٤)”یہ قرآن اللہ کی ڈوری ہے ، اور جگمگاتا نور ہے اور دل کے روگ کی نافع شفا ہے ۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے رسول اللہ ۖ نے جمعہ کے دن سورئہ ق کا پڑھنا خطبہ میں اختیار فرمایا ۔ 

عن ام ھشام بنت حارثة بن النعمان قالت : ما أخذت ق والقرآن المجید الا علی لسان رسول اللّٰہ ۖ کان یقرأ بہا کل یوم جمعة علی المنبر اذا خطب الناس ۔” رواہ احمد (٥)ام ہشام صحابیہ فرماتی ہیں کہ ” میں نے سورئہ ق حضرت ہی کے زبان مبارک سے سیکھ کر یاد کرلی آپ اس سورت کو منبر پر ہر جمعہ کے خطبہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ ”

اس حدیث سے جمعہ کے خطبے میں اس سورہ کا پڑھنا مسنون ثابت ہوتا ہے ۔ اس کی تخصیص میں یہ بھید ہے کہ 

( اوّل ) تذکیر اور وعظ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر آلہ موت کی یاد دہانی ہے ، اور قیامت کا ہولناک واقعہ سنانا ، اللہ کے نافرمان بندوں کے دنیا دین میں رسوا ہونے کا بیان اور یہ سورہ باوجود اس قدر مختصر ہونے کے ان تمام بیانات کی جامع ہے ۔ 

( دوسرے ) ساری خوبیوں کی اصل اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب پر اور رسول پر ایمان لانا ہے اور یہ سورت بتمامہا اسی کے اثبات میں اتری ہے ۔ 

( تیسرے ) رسول اللہ ۖ کی اور مسلمانوں کی اس سورت میں نہایت تسلی فرمائی ہے اور صبر کا حکم دیا ہے پس ہر ہفتے اس کا اعادہ مجمع عام میں مسلمانوں کے پر زور اور غم دیدہ دل کی نہایت تشفی کا باعث ہے ۔ 

( چوتھے ) منکرین ہمیشہ آپ کی نبوت کے انکار میں نئے نئے عذر پیش کرتے ، کبھی شاعر کہتے ، کبھی کاہن ، کوئی مجنون بتلاتا ، تو کوئی معلم ، کوئی مفتری کہتا ، کوئی اساطیر اوّلین کا ناقل ، جس کے سبب سے ان کے تزلزل رائے کا بخوبی پتہ لگتا ہے ، اور جناب سیّد المرسلین رسول برحق کا ہمیشہ ایک دعوے کو مختلف دلائل سے ثابت کرتے رہنا اور بر ملا ہزاروں آدمیوں کے رُوبرو بار بار اپنے دعویٰ کا بڑے زور سے ظاہر کرتے رہنا دلیل ہے آپ کے استقلال اور آپ کے دعویٰ کے قوت کی ۔ 

( پانچویں ) قیامت کے دن شیطان اور کفار میں جھگڑا اور اس کے جواب میں جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ( مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ) [ق : ٢٩] "ہمارے یہاں ہر لحظہ ردّ و بدل نہیں ہوا کرتی ۔ ” اس میں مذکور ہے ۔ تو گویا ہر جمعہ میں ایک سورة التزام جس میں بار بار ایک ہی مضمون آتا رہتا ہے ۔ اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا اسی کیفیت کی یاددہانی اور اشارہ ہے ۔ 

نظر بریں وجوہات اس سورت کی تفسیر لکھنے کی میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ عام خلق خدا کو اس کے سمجھنے کا ثواب ملے اور اس پر عمل کی توفیق ہو اور اس صورت سے نبی ۖ کی ہر ہفتے میں جمعہ کے خطبہ میں اس کو اختیار کرنے سے جو غرض تھی ، وہ باقی رہے ۔ و اللّٰہ أسالہ ان یجعلہ خالصا لوجھہ الکریم و ینفعنی بہ اولا ثم کل من یرید ان یسلک الصراط المستقیم انہ تعالیٰ جواد کریم و صلّی اللّٰہ علیہ رسولہ محمد و الہ و صحبہ بالتسلیم ۔

{جاری ہے۔۔۔}
حواشی 
(١) سنن الدارمی : کتاب المقدمة ، باب فی فضل العلم والعالم ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المقدمة ، باب فضل العلما والحث علی طلب العلم ۔علامہ سندھی اور شیخ البانی کے مطابق بہ لحاظ اسناد حدیث ضعیف ہے ۔ 
(٢) صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب التغلیظ فی ترک الجمعة ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المساجد و الجماعات ، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعة ۔مسند أحمد : و من مسند بنی ہاشم ، بدایة مسند عبد اللّٰہ بن العباس ۔صحیح مسلم کے سوا بقیہ روایات میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے ۔ 
(٣) صحیح بخاری : کتاب الجمعة ، باب الانصات یوم الجمعة والامام یخطب واذا قا ل لصاحبہ انصت۔صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب فی الانصات یوم الجمعة فی الخطبة ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب اقامة الصلاة و السنة فیھا ، باب ما جاء فی الاستماع للخطبة والانصات لہا۔
(٤) سنن الدارمی : کتاب فضائل القرآن ، باب  فضل من قرأ القرآن ۔ المستدرک علی الصحیحین للحاکم : کتاب فضائل القرآن ، باب اخبار فی فضائل القرآن جملة ۔ امام حاکم کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے تاہم امام شمس الدین الذہبی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ۔
(٥) مسند احمد : مسند القبائل ، حدیث ام ہشام بن حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہا ۔ صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب تخفیف الصلاة و الخطبة ۔ 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012– سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

ذیل میں قسط نمر 2 پیش کی جارہی ہے:


( ق ) یہ حرف اور جو ایسے ایسے حروف سورتوں کے شروع میں مذکور ہیں ، ان کے معنوں کو سوائے اللہ اور رسول ۖ کے کوئی نہیں جانتا ۔ ہر دوست اپنے دوست کے لیے کچھ نہ کچھ اشارے رکھتا ہے جن کو اغیار نہیں سمجھ سکتے ۔ ہم مسلمانوں کو اپنے مقام پر پر ٹھہرنا چاہیے ، اور آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرنی چاہیے جس قدر معلوم ہے ، اس پر شکر احسان ہے ، اور جو مخفی ہے اس پر ایمان ہے ۔ 

( وَ القُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ )[١] "قسم ہے قرآن کی جو بزرگ ہے”

 اس لیے کہ اس کا اتارنے والا مجید اور پروردگار عالم اور جس پر اتارا گیا وہ سیّد اولادِ آدم ، جو فرشتہ اس کے لانے کے لیے انتخاب کیا گیا ، وہ تمام ملائکہ میں محترم ، جس شہر میں اوّل نازل ہوا یعنی مکہ وہ امّ القریٰ اور حرم ، جہاں کی ایک رکعت نماز کا ثواب دوسری جگہ کی لاکھ رکعت کے برابر ۔ جس ماہ میں اترا یعنی رمضان وہ تمام مہینوں سے بزرگی و برکات و فضل میں ممتاز ۔ جس شب میں نازل ہوا یعنی لیلة القدر اس کے فضائل بے انتہا ۔ جس امت کے لیے اترا وہ خیر الامم ۔ اس کے تلاوت کا ثواب نا محدود ۔ اس کے تفکر و تدبر سے حصول مقصود خود وہ مضامین جو اس کے مندرج ہیں ، پاکیزہ و بابرکت و پر زور جو جہاں بھر کے مختلف اقوام کے رہنمائی کے لیے قیامت تک کافی ۔ اس کے قصص پُر اثر اور نتیجہ خیز اس پر کذب و فحش سے پاک اس کی تمثیلیں ابلغ تمثیلات ہر ایک دعویٰ راست اور دلائل موصل الی المطلوب [مطلب تک پہنچانے والی].

ایسی محترم چیز کی قسم کھا کر کفار سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ہماری طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں ، اور قیامت کے عذاب سے تم لوگوں کو ڈرانے کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔ 


آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی تعجب خیز بات سنتا ہے ، تو اوّلاً اس کی صحت میں شک کرتا ہے ، مگر جب دیکھتا ہے کہ کہنے والا نہایت راست گو ، دیانتدار ہے ، اور بقسم بیان کرتا ہے ، تو اس کا شک دور ہوجاتا ہے اور ایسی حالت میں کم از کم اس قدر ضرور کہتا ہے کہ جب تمہارے جیسا دیانت دار اور سچا آدمی بڑے دعوے سے کہہ رہا ہے تو اگرچہ میری عقل میں نہیں آتی مگرسچ مان لیتا ہوں ۔ لیکن ان کفار کا ( آپ کی راستی کا کمال یقین رہتے ہوئے ) آپ کی نبوت کو نہ تسلیم کرنا بسبب ایک شبہ کے ہے جس سے وہ شک و تردد ہی کی حد تک نہ رہے ( بَلْ ) ”بلکہ” شک سے ترقی کرکے ایک جانب کا فیصلہ کرلیا کہ آپ نبی نہیں ہیں اور قیامت کا ہونا ہر گز صحیح نہیں اور آپ کو اس فیصلے کے خلاف دعویٰ پر اصرار کرتے دیکھ کر  ( عَجِبُوْا ) ”تعجب کرنے لگے” ( اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِر ) ”کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا” جو اپنے کو باوجود اوصاف بشریت کے اللہ کا بھیجا ہوا کہتا ہے ۔ اگر کوئی فرشتہ یا جن یہ دعویٰ کرتا تو چنداں جائے تعجب و انکار نہ ہوتا ، تعجب تو اس لیے ہے کہ وہ ڈرانے والا ( مِنْھُمْ ) ”انہیں میں کا ایک آدمی ہے” جو نہ من حیث بشریت کے لائقِ نبوت ہے نہ من حیث عزت و وجاہت کے نہ من حیث مال و دولت کے ( فَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ) ”تو کہا نہیں ماننے والوں نے” ( ھٰذَا )”یہ” یعنی ہمیں لوگوں میں سے ایک شخص کا اس قدر بلند پایہ ہوجانا اور منصب نبوی تک پہنچ جانا اور بلا ستعانت مال و جاہ وغیرہ کے جو ترجیح استحقاق کے فی الجملہ باعث ہوسکتے ہیں ۔ سب پر فوقیت کا دعویٰ کرنا ( شَیْٔ عَجِیْب ) [٢] "عجیب چیز ہے”. دوسرے جس مصیبت سے ڈراتے ہیں وہ اگر دنیا ہی میں آنے والی بتاتے تو خیر ، تعجب بالائے تعجب تو یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد جب قیامت کا دن آئے گا جس کو مدت دراز ہے تو ( ئَ اِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ) ”کیا جب ہم مر مٹیں گے اور سڑ گل کر مٹی ہوجائیں گے ۔” بھلا ایسی حالت میں یہ عذاب کس طرح ہوگا ، کس پر ہوگا ، کون سہیگا ۔ تو خواہی نخواہی یا یہ بات ہی غلط ہے یا مانا جائے کہ مرمٹنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے پوری طرح پر آدمی کی ہستی لوٹائی جائے گی ، اور عذاب کیا جائے گا ۔

گو یہ بات مسلمان اور رسول قرین عقل سمجھیں مگر ( ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد ) [٣] ”وہ لوٹنا اور بار دوم ہستی کا واپس ملنا قیاس و عقل سے نہایت دور ہے ۔” 

انسان میں ناری و ہوائی و آبی اجزا سب ہوا ہوجائیں گے خاکی اجزاء خاک میں مل جائیں گے ۔ اگر ڈوب کر دریا میں مرا تو کوسوں کی مچھلیوں اور دریائی جانوروں کا جزو بدن ہوگیا ۔ جل کر مرا تو خاک سیاہ ہوکر نیست و نابود ہوگیا ۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا تو مختلف جانوروں کے مختلف اجزا ہوکر وہ بھی یا کسی دوسرے حیوان کا جزو بدن بن جائے گا ، اور وہ تیسرے کا یا آخر کو خاک بن جائے گا ۔ پھر وہ خاک خدا جانے کہاں کہاں اڑتی پھرے گی ۔ 


پس اس قدر اجزاء کا پراگندگی کے بعد مجتمع ہوجانا ، اور جوڑ جوڑ کا از سر نو اسی حال پر آنا بالکل عقل کے خلاف ہے ۔ 


کفار کے یہی دو شبہے ایک بہ نسبت نبوت کے اور دوسرا بہ نسبت حشر و نشر کے جو ذکر کیے گئے ، ان کے لیے باعث تعجب تھے ان دونوں شبہوں کی تردید یہاں سے لے کر تا آخر سورت بیان فرمائی گئی ہے ۔ 


(١) متفرق اجزا کا بہم کرنا بعد مدت دراز ہر جوڑ بند کا پہلی حالت پر لے آنا اس کے نزدیک مشکل ہے ، جو خبر نہ رکھتا ہو کہ وہ اجزا کیا ہوئے اور کدھر گئے ۔ میرے نزدیک کیا مشکل ہے میری خبر داری کا یہ حال ہے کہ


( قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ )"میں جان رہا ہوں جو کچھ ان میں سے زمین کم کرتی ہے”.


گو زمین اپنی جذبی تاثیر سے جسم کو مٹی بنا ڈالتی ہے ، اور کچھ اجزائے جسم ہوا یا پانی ہوجاتے ہیں اور ترکیبِ نوعی بالکل بدل جاتی ہے ، اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں انقلابات ہوجاتے ہیں مگر یہ ساری حالتیں میرے علم میں موجود ہیں ، جس وقت چاہوں ہر جزو کو دوسرے سے الگ کر سکتا ہوں اور ایک جسم کے تمام اجزاء کا گو وہ کتنے ہی پراگندہ اور دوسرے جسم کی طرف مستحیل[شامل] ہوگئے ہوں پتا لگا کر بہم [جمع] کرسکتا ہوں ۔ 


اور میرے کارکنان قضا و قدر موکل فرشتے بھی بہت آسانی سے اس کو پتا لگا کر بہم [جمع] کرلیں گے ۔ ( وَ ) ”اور” ( اس لیے کہ )


( عِنْدَنَا کِتَاب )"ہمارے پاس تو ایک عظیم الشان کتاب ہے”


جس میں کارخانۂ عالم کے جزوی و کلی اجمالی و تفصیلی حالات مندرج ہیں ، کوئی واقعہ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے باہر نہیں ہو سکتا ، جیسا کہ فرمایا ہے 


( لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ )[الانعام : ٥٩]

"ہر تر و خشک کتاب مبین میں موجود ہے”.


 ( یعنی جو ہوا ہے اور ہونے والا ہے وہ سب ہماری کتاب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ) اور اس میں نہ بسبب کہنگی کے تغیر ہوتا ہے ، اور نہ کوئی ایسا ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتا ہے ، جو واقعات کو ردو بدل کر ڈالے ۔ اس لیے کہ وہ


( حَفِیْظ ) [٤] ”نہایت محفوظ ہے”


اور سارے انقلابات اور حادثات کی حافظ ہے ۔ اب جو ان کی تسکین کے لیے کافی وا فی دلیل بیان کردی گئی ، تو مان ہی لینا تھا ، مگر پھر بھی نہ مانا


( بَلْ کَذَّبُوْا بِا لْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ )"بلکہ حق بات آتے ہی جھٹلا دی ۔ ”


اب کوئی معقول وجہ انکار کی نہ رہی تو لگے واہی تباہی باتیں بنانے اور ہٹ دھرمی کرنے ۔ کبھی کہتے ہیں کہ خدا اگر فرشتے کی معرفت کہلواتا تو مانتے ، بشر کی کبھی نہ مانیں گے۔


( وَ قَالُوا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَک ۔ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُونَ ) [الانعام : ٨]”اور کہا کفار نے کیوں نہ ان پر فرشتہ اتارا گیا ( تاکہ ہم کو یقین لانے کا عمدہ موقع ملتا مگر یہ نہ سمجھے ) کہ اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا پھر مہلت نہ دی جاتی ۔”


( وَ قَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْ لَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَک فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا ۔ اَوْ یُلْقٰی اِلَیْہِ کَنْز اَوْ تَکُوْنُ لَہ جَنَّة یَّاْکُلُ مِنْھَا ط وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا ) [الفرقان : ٧-٨]

”اور کہا منکروں نے اس رسول کو کیا ہے کھانا کھاتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ( ساری باتیں تو تمہاری سی ہیں اس پر رسالت و نبوت کا دعویٰ جو ان کے نزدیک آدمیت کی شان سے بالاتر تھا ) کیوں نہیں اس پر کوئی فرشتہ اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ ڈراتا رہتا ۔کیوں نہ اسے کوئی خزانہ دیا گیا یا کوئی باغ اس کے لیے ہوتا کہ اس میں سے کھاتا اور ظالموں نے کہا کہ تم تو جادو زدہ اور دیوانے کی اتباع کرتے ہو ( یعنی یہ تو دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے تم اس کی کیوں سنتے ہو )۔”


( وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَةُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا ط لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ) [الفرقان :٢١]”اور جن کو ہم سے ملنے اور جی کر زندہ ہونے کا یقین نہیں ہے انہوں نے کہا ( اگر یہ پیغمبر ہے تو ) کیوں نہ اس کے ساتھ فرشتے آئے یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھتے بیشک ان منکروں نے اپنے جی میں تکبر کیا اور بہت سر اٹھایا ۔”


کوئی کہتا ہے کہ یہ ہوش ہی میں نہیں ، سب مالیخولیا ہے ۔ مجنونانہ خیالات ہیں ، دیوانے کی باتوں کا کیا ٹھکانا ، جس سے ہم آبائی دین کو چھوڑ دیں جیسا کہ فرمایا


( أَ ئِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ) [الصآفات:٣٦]” بھلا ہم لوگ اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانے کی خاطر سے کبھی چھوڑنے والے ہیں ۔”


اور فرمایا


( ھَلْ نَدُلُّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزِّقٍ اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمْ بِہ جِنَّة )[سبا:٧-٨]” کفار تمسخر کی راہ سے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ آئو تمہیں ایک آدمی کے پاس لے چلیں جو تمہیں یہ بتائے گا کہ جب تم سڑ گل کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجائو گے تو پھر دوبارہ نئی طرح سے پیدا کیے جائو گے ۔ نہیں معلوم کہ خدا کی طرف جھوٹ جھوٹ ان باتوں کی نسبت کرتا ہے یا سڑی [جن زدہ] ہے ۔”


کوئی کہتا ہے کہ یہ سب شاعرانہ نازک خیالیاں ہیں ان کو منجانب اللہ ہونے سے کیا علاقہ مگر جو خود شاعر ہیں جب وہ غور سے سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کجا شاعرانہ تُک بندیاں اور محض خیالات ، بے سروپا مضامین اور کجا یہ کلام معجز نظام بیشک ایسا نظم کلام طاقت بشری سے باہر ہے ۔ 


مگر یہ کیا ضرور ہے کہ خدا کا ہی ارشاد ہو ، کوئی شیطان یا جن اسرارِ غیبی ملا ملا کر ان کو یہ باتیں سکھا جاتا ہے ، جیسا کہ اس کی تردید میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے


( وَ لَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ) [الحاقة:٢٢]"یہ کسی کاہن کی بات نہیں ۔ تم لوگ سوچتے بہت کم ہو”.


غرض کوئی شاعر ، کوئی مجنوں ، کوئی کاذب ، کوئی کاہن ، کوئی کچھ کوئی کچھ کہتا ہے ۔


( فَھُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ )[٥]"تو وہ لوگ آپ کی تنقیص اور انکار کے بارے میں نہایت مختلف القول اور مختلف الرائے ہو رہے ہیں ۔”

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

{جاری ہے۔۔۔}


کیا سعودی عرب کو تنہا کرنے کی سازش کی جارہی ہے ؟


الواقعۃ شمارہ ١ 

محمد آفتاب احمد

مملکت خادم حرمین و شریفین تاریخ کے ایک نازک اور اہم ترین موڑ سے گزررہا ہے ۔ ایسے میں کسی غیر معمولی واقعہ سے9/11 کی طرح پوری دنیا کی سمت کو بدلنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔حالات کی سنگینی کا ادراک سعودی حکومت کے ١٢ مارچ٢٠١٢ء (١٦ربیع الثانی ١٤٣٣ھ)کے اقدام سے کیا جاسکتا ہے۔جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی حکومت نے دنیا بھر میں اپنے سفارتکاروں کو قومی لباس پہننے سے روک دیا(سعودی گزٹ)۔عربوں کی تاریخ میں خواہ وہ زمانہ جاہلیت کا دور ہو یا اسلام کے بعد کا آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان کا لباس ہی ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن گیا ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ
سعودی حکومت کو انتہائی اقدام اٹھا نا پڑا؟اس کے پس پر دہ مقاصد کیا ہیں؟ریاض حکومت کو اس اقدام پر مجبور کرنے والے آخر کیا چاہتے ہیں؟معاملہ صرف سعودی باشندوں کا تحفظ ہے یاکچھ ؟
 
سعودی عرب کے خلاف سازشوں کا کھیل تو بہت پرانا ہے مگر چند عشروں کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ایک سر سری جائزہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات کو سمجھنے کے لیے کافی ہوگا۔عرب اسرائیل جنگ کسے یاد نہیں ۔١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ نے ایمان و عقیدے کی روح سے عاری ملت کو ایسا کاری زخم لگایا کہ وہ آج تک مندمل نہ ہوسکا۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ اردن کے مشرقی کنارے کے ساتھ بیت المقدس کو جانے والی سڑک جہاں پر حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت ضرار بن آزد کے مزارات واقعہ ہیں، کے سامنے سے مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے وہ سارا علاقہ چھوڑ کر جارہے تھے جسے ان کے اسلاف نے بے پناہ قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا۔بیت المقدس اور اردن کا وہ سارا علاقہ جو آج اسرائیل کے قبضے میں ہے،نہایت گنجان آبادی سے بھرا پڑا اور سر سبز و شاداب علاقہ تھا۔بیت المقدس کی وجہ سے اردن حکومت کو سیاحت سے خاصی آمدنی بھی تھی۔اردن کی کمر ٹوٹ گئی۔سیاسی لحاظ سے بھی۔فوجی اعتبار سے بھی اوراقتصادی طور پر بھی۔ یہ مقامات مقدسہ بھی ہاتھ سے گئے ۔ یہاں کے آنے والے سیاحوں کی آمدنی بھی گئی۔ مسئلہ اسرائیل کو صرف عربوں کا مسئلہ بنادیاگیا۔شاہ فیصل شہید معاملے کی حقیقت سے آگاہ تھے۔انہوں نے کوشش کی کہ اسرائیل کو تنہا عربوں کا نہیں بلکہ امت محمدیہ کا مسئلہ بنایا جائے مگر قدرت کو ابھی اور امتحان مقصود تھاشاہ فیصل شہید کردیے گئے۔
 
عربوں اور ان کے مفادات پر دشمن جہاں ایک جانب براہ راست حملہ آور تھا وہیں انہیں دوسرے طریقوں سے بھی بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ اس کی سب سے بڑی مثال او آئی سی ہے جو اپنے قیام کے مقاصد پورے کرنے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ بیشتر مواقعوں پر امت محمدیہ کے لیے مضرکردار ادا کیا۔ مگر او آئی سی کی ناکامی اور اس کے کرتوتوں کو بھی کسی نہ کسی طرح سعودی عرب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا اور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہی بآورکرایا گیا کہ مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ عربوں کا انتشار اور ان کا غیر مؤثر ہونا ہے۔
 
9/11کاواقعہ کسے یاد نہیں۔( دنیا کی اکثریت جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہی ہے آج بھی اسے عرب مسلمانوں کی کارروائی ہی سمجھتی ہے۔ باوجود اس کے کہ خود امریکی ماہرین طبیعیات نے اپنی تحقیق سے یہ بات ثابت کی ہے کہ امریکی معیشت کوکنٹرول کرنے والے ایک محدود طبقے کا کارنامہ ہے۔ آج تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ آخر اس مقصد کے لیے ٹوئن ٹاور کا انتخاب ہی کیو ں کیا گیا؟ اور اس کے لیے11ستمبر کی تاریخ کیوں متعین کی گئی؟)یہ واقعہ ایک استعارہ تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں ابلیس کے گماشتوں کو یہ بتانا تھا کہ اب ان کی وفاداری ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا ہے ۔ سوچ کے زاویے بدل گئے۔ نظریات نے اپنی معنویت تبدیل کرلی۔ فلسفہ کا قبلہ بدل گیا۔معاشی اصول کے نئے معنی بنائے گئے۔ غریبوں کی مدد دہشت گردوں کی معاونت قرار پائی اور صرف او ر صرف دنیا کے ٢ مسلم ملکوں پاکستان اور سعودی عرب کو کسی نہ کسی طریقے سے ان معاملات میں ملوث کرکے ہدف تنقید بنایا گیا تاکہ مستقبل کی کارروائیوں کو سند جواز فراہم کیا جاسکے۔
 
موجود ہ دور میں ایک جانب جہاں پاکستان کو براہ راست ”حملوں” کا نشانہ بنایا گیا وہیںبالواسطہ طور پر سعودی عرب پر بھی حملے کیے گئے۔ان حملوں میں جہاں سعودی عرب کے مفادات کو نشانہ بنایا گیا وہیں خود مسلم ملکوں میں عربوں میں اسے بے توقیر ثابت کرنے کے لیے کمزور اور مردہ قوم کی حیثیت سے پیش کیا گیا ۔اس کی تازہ مشال گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان، بنگلہ دیش اور یمن میںسعودی سفارتخانوں پر کیے جانے والے حملے ہیں۔ ١٦ مئی٢٠١١ء کو کراچی میں شہر کے ریڈ زون ڈیفنس خیابان شہباز میں سعودی قونصلر کی گاڑی پر سعودی سفارتکار حسن گابانی کو قتل کیا گیا۔انہیں گھر سے قونصل خانہ جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ سے چند روز قبل سیکورٹی اداروں نے قونصل خانہ سے ایک سیکورٹی افسر کو مشکوک سرگرمیوں پر گرفتار بھی کیا لیکن اس کے بعد پہلے سعودی قونصل خانہ پر دستی بم سے حملہ کیا گیااورچند روز بعد سفارتکار کو ہدف بنا کر قتل کردیا گیا(ڈان۔ عرب نیوز) ۔ قاتل آج تک گرفتار نہیں ہوسکے۔ابھی اس واقعہ کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں خلف بن محمد سلیم العلی کوڈپلومیٹک انکلیو میں قتل کردیاگیا ۔ انہیں انتہائی قریب سے سینے میں گولی ماری گئی۔اس بارے میں بنگلہ دیش پولیس کے بیان میں تضاد پایا گیا۔ سفارتکار کے گھر19/B کے سیکورٹی گارڈ ذوالفقار علی اورمکان نمبر20/A کے سیکورٹی گارڈ ربیع الاسلام کا کہنا ہے کہ انہیں دن سوا بجے قتل کیا گیا جبکہ ڈھاکا کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر نورالعالم کا کہنا ہے کہ خلف العلی کو علی الصبح نشانہ بنایا گیا(دی ڈیلی اسٹار) ۔ اس واقعہ پر نہ صرف سعودی عرب بلکہ کویت ، بحرین، اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔سب کا ایک ہی مؤقف تھا کہ خلف العلی کا قتل دہشت گردی اور کھلی جنگ ہے (سعودی گزٹ۔ عرب نیوز) ۔ قاتلوں کی گرفتاری اور تفتیش میں مدد کے لیے سعودی عرب کی تحقیقاتی ٹیم ڈھا کا پہنچی مگر خلف العلی کے قاتل بھی تادم تحریر گرفتار نہ ہوسکے اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا کہ واردات کرنے والے کون تھے؟ان کے مقاصد کیا تھے؟دوسری جانب ٢٨ مارچ ٢٠١٢ء کو سعودی عرب کے پڑوسی ملک یمن کے شہر عدن سے سعودی قونصلر عبداللہ الخالدی کو اغوا کرلیا گیا۔انہیں المنصورہ کالونی میں گھر کے باہر موجود گاڑی سے صبح کے وقت اغو ا کیا گیا۔ 4ماہ قبل ان سے راستے میں روک کر گاڑی بھی چھین لی گئی تھی( العربیہ .نیٹ ) ۔ الخالدی کے بارے میں اب تک نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں؟ انہیں کس نے اغوا کیا؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟یہ سار ے عوامل کہیں اس امر کی نشاندہی تو نہیں کررہے کہ سعودی عرب کو عالم اسلام میں تنہا کیا جارہا ہے۔ 
 
پے در پے سعودی سفارتکاروں پر حملہ یہ واضح کرتا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف اس وقت کسی عالمی سازش کا کھیل جاری ہے ۔ یہ کھیل کھیلنے والے کسی بھی طرح مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے کیونکہ سعودیہ کے خلاف کھیلا جانے والا کھیل صرف وہیں تک محدود نہیں رہے گا بالآخر اس کا اثر پورے عالم اسلام پر پڑے گا ۔ 
 
اس امر کو بخوبی سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ سعودی  عرب میں انتشار مسلمانوں کے لیے کسی بھی طرح سود مند نہیں ۔ سعودی عرب کی تنہائی محض سعودی عرب کی تنہائی نہیں بلکہ اسلام کی مرکزیت یعنی حجازِ مقدس سے مسلمانوں کو دور کردینے کی ناپاک کوشش ہے ۔ 
 
اس بات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل اپنے قیام کے ساتھ ہی پاکستان اور سعودی عرب کا مخاف رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا بلکہ ان دو اسلامی ممالک –جن کے تعلق مثالی نوعیت کے ہیں — کے مابین اختلافات پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بن گورین کا بیان ریکارڈ پر ہے ، جس میں اس نے پاکستان سے متعلق اپنے خبث باطن کا اظہار کیا تھا ۔ 
 
اگر مفروضہ کو درست مان لیا جائے توایک یہودی سردار حاخام اکبر کا وہ بیان جو اس نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے کے بعداپنی تقریر میں کہا تھا کہ
” مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلینے کے بعد یقنیاً ہمیں خوشی ہوئی ہے۔ لیکن ہماری یہ خوشی اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک ہم مدینہ منورہ میں اپنے پرانے مکانوں اور قلعوں کو واپس نہ لے لیں اور جب تک ہم مدینہ کے ایک ایک باشندے کے ساتھ قتل و خون کا وہی معاملہ نہ کریں جو مسلمانوں نے ہمارے بڑوں بنی قرنیطہ،بنی قینقاع، بنو نضیر اور اہل خیبر کے ساتھ کیا تھا۔”
ان تمام کڑیوں کو ملائیے اور غور کیجئے کہ کہیں سعودی عرب کو تنہا کرنے کی سازش تو نہیں کی جارہی ؟

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا علامہ تمنّا عمادی منکر حدیث تھے ؟


الواقعۃ شمارہ #1

محمّد تنزیل ا لصدیقی ا لحسینی

 

کیا علامہ تمنّا عمادی 

منکر حدیث تھے ؟

 

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی ماضیِ قریب کی مشہور و معروف علمی شخصیت ہیں ۔ انہیں علم و ادب کی دنیا میں شہرت و مقبولیت بھی ملی اور ان کے افکار و خیالات علمی دنیا کے لیے محلِ نزاع بھی بنے ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی شخصیت اور افکار پر غیر جانبدارانہ تحقیق کی جاتی تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت غیر متوازن تنقید اورمبالغہ آمیز تعریف کی کشمکش میں مبتلا مظلوم شخصیت ہے ۔ ان پر تنقید کرنے والوں کی نظر میں ان کی خوبیاں بھی خامیاں ہیں اور جو لوگ آج ان کی وراثتِ علمی کے امین ہیں انہوں نے بھی ان کے ساتھ کچھ کم زیادتی نہیں کی ۔ اپنے خیالات پر تمنائی مہر لگا کر طرح طرح کے رطب و یابس کو علامہ سے منسوب کردیا ۔ 

 

 

 

 

علّامہ تمنا کی علمی و فکری زندگی پر اظہارِ خیال سے قبل ان کی مختصر سوانح ذکر کرنا ضروری ہے ۔ 

 

 

 

علّامہ تمنّاکا تعلق ہندوستان کے مشہور خانوادئہ علم و طریقت سے تھا ۔ نسباً جعفری الزینبی تھے ۔ مختصر سلسلۂ نسب حسبِ ذیل ہے :

 

 

 

 

 

علامہ محی الدین حیات الحق تمنّا بن نذیر الحق فائز بن سفیر الحق سفیر بن ظہور الحق ظہور بن نور الحق تپاں پھلواروی ۔ 

 

 

اس سلسلہ نسب سے وابستہ یہ تمام افراد حامل علم و فضل تھے ۔ علامہ تمنا کے پردادا شاہ ظہور الحق پھلواروی بارہویں و تیرہویں صدی ہجری کے کبار فقہائے کرام میں سے تھے ۔ صحیحین کے حافظ تھے ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے ان کے علم و فضل سے متاثر ہوکر انہیں سندِ حدیث مرحمت فرمائی تھی ۔ علّامہ اقبال ان کی ایک کتاب ” تسویلات الفلاسفة ” کے ازحد متلاشی تھے اور انہیں ” ہندی فلسفی ساکن پھلواری ” قرار دیتے تھے ۔شاہ ظہور الحق کی وفات ١٣٣٤ھ میں ہوئی ۔ علامہ تمنا کے والد اور دادا بھی اپنے عہد کے جید فضلاء میں سے تھے ۔ 

 

 

علامہ تمنّا ٣ شوال ١٣٠٥ھ / ١٤ جون ١٨٨٨ء کو پھلواری شریف میں پیدا ہوئے تھے ۔  زیادہ تر اخذِ علم اپنے والد سے کیا ۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اوّلاً مدرسۂ حنیفیہ ، پٹنہ میں مدرس مقرر ہوئے ۔ یہاں ١٩١٠ء سے ١٩١٨ء تک عربی اور فارسی کے مدرّس رہے ۔ اس کے بعد تقریباًساڑھے تین سال ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد کے قائم کردہ ودّیا پیٹھ یونی ورسٹی ( بہار ) میں عربی فارسی پڑھاتے رہے ۔ ١٩٢١ء میں یہاں سے الگ ہوئے ، تو پھر کسی ادارے میں ملازمت نہیں کی ۔ انہوں شروع ہی سے قرآن کریم سے شغف اور دلچسپی تھی ۔ باوجود اس کے کہ ان کا تعلق خانوادئہ خانقاہی سے تھا مگر اوائل عمر ہی میں انہیں تصوف سے شدید بیزاری ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی چلی گئی ۔ علّامہ تمنا سلسلۂ آبائی کے اعتبار سے نظامِ تصوف سے منسلک تھے لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے مسلک کو نہ صرف ترک کیا بلکہ اس پر شدید نکیر بھی کی ۔ مسلکِ آبائی سے انحراف کوئی معمولی بات نہیں ۔

 

 

١٩٤٨ء میں انہوں نے مشرقی پاکستان ہجرت کی ۔ وہ ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرشاد کے دوستوں میں سے تھے ۔ ہندوستان کے اکابر سیاسی زعماء سے ان کے روابط تھے ۔ وہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اپنے لیے بڑے مواقع پیدا کرسکتے تھے لیکن چونکہ وہ مسلم لیگ کے حامی تھے اس لیے اپنے رجحانِ فکر کے عین مطابق انہوں نے ہندوستان سے ہجرت ضروری سمجھا ، چنانچہ اپنی آبائی جائیداد ہندوستان چھوڑ کر مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ تشریف لے آئے ۔ ہجرت سے متعلق ان کا نقطۂ نظریہ تھا کہ جن لوگوں نے اللہ ربّ العزت کی خاطر ہجرت کی ہے ان کے لیے حکومتِ پاکستان سے کسی جائیداد کا مطالبہ درست نہیں ۔ چنانچہ اپنے رجحانِ فکر کے باعث یہاں بھی انہوں نے ایثار و قربانی کی مثال پیش کرتے ہوئے اپنے لیے کسی قسم کی جائیداد کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ یہاں بھی انہوں نے بہت اچھا وقت گزارا ۔ علمی و فکری حلقوں میں انہیں شہرت و اہمیت حاصل ہوئی ۔ ١٩٧٢ء کے شروع میں انہیں حلق کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ علاج معالجہ بے سود رہا ، تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی ۔ بالآخر اسی مرض میں ٢٧ نومبر ١٩٧٢ء / ٢٠ شوال ١٣٩٢ھ کو کراچی میں وفات پائی ۔

 

 

علامہ تمنا کی علمی و فکری ارتقاء کے مختلف مراحل ہیں ۔ انہوں نے تصوف کی گود میں آنکھ کھولی اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی ۔ پھلواری میں جو نظام تصوف رائج ہے وہ نہ خالص دیوبندی طرزِ فکر کا ہے اور نہ ہی بریلوی، بلکہ ایک طویل عرصے تک پھلواری کے خانقاہی ماحول میں تشیّع ، تفضیلیت کی شکل میں داخل رہی ۔ خود علامہ تمنا کے والد شاہ نذیر الحق فائز نے تعزیہ داری کے جواز میں ایک رسالہ لکھا ۔ شاہ نذیرالحق فائز کے حقیقی نانا قاضی سیّد مخدوم عالم پھلواروی تفضیلی تھے ۔ علامہ تمنا کے حقیقی ماموں مولانا حکیم منظور احمد پھلواروی بھی تفضیلی تھے ۔ اس نظام وماحول میں پرورش پانے کے باوجود علامہ تمنا کا تصوف اورتشیّع کی تردید میں کمربستہ ہونا کسی جرأت رندانہ کے بغیرممکن نہیں ۔ انہوں نے علم و تحقیق کے بعد جسے درست سمجھا اسے اختیار کیا ، محض مسلکِ آبائی کو اپنا دین نہیں سمجھا ۔

 

 

غالباً تشیّع کی تردید کا جذبہ حدّ اعتدال سے باہرہوگیا اور یہی وجہ رہی کہ انہیں ایسے تمام راوی ، جن میں تشیّع کی ذرا بو محسوس ہوتی ، اس کی تمام روایتوں کی تردید کو وہ ضروری خیال کرتے ۔ چنانچہ اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو علّامہ تمنا نے جن احادیث و آثار پر تنقیدیں کی ہیں ان میں بیشتر میں یہی جذبہ کار فرما نظر آئے گا ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ روّیہ درست ہے بلکہ ہمارا مقصد صرف موصوف کے نفسیاتی پہلو کو اُجاگر کرنا ہے ۔ 

 

 

موصوف پر انکارِ حدیث کا ایک خاص اور طویل دور گزرا ، ان کی تحریریں منکرینِ حدیث کے رَسائل میں شائع ہوئیں اور انہیں منکرینِ حدیث کے طبقے کا امام شمار کیا جانے لگا ۔ چنانچہ ان کی ایسی تحریریں پرویزی رَسائل و جرائد میں بکثرت شائع ہوئیں جن میں احادیث پرکڑی تنقیدیں ہوتی یا جن میں حدیث کی حجیت کو مشکوک ٹھہرایا جاتا ۔ بدقسمتی سے یہ دور طویل بھی رہا اور اس دور کے ” تمنّائی اجتہادات ” کی نشر و اشاعت کا فریضہ بھی منکرینِ حدیث حضرات ہی نے انجام دیا ۔

 

 

پھر ایک دور خاصا ” تلبیسانہ ” آیا ۔جس میں علامہ موصوف مطابقِ قرآن حدیثوں کو ہی درست قرار دینے لگے ۔ ہدایت کو صرف قرآن میں محصور ماننے لگے اور ایسی تمام احادیث قابلِ رد قرار پائیں جن کا مآخذ قرآن نہیں تھا ۔ غور کیا جائے تو یہ نظریہ کسی ” شرارت ” سے کم نہیں ۔ کوئی صحیح حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہوتی تاہم یہ الگ بات ہے کہ انسانی فہم کی کجی اسے قرآن حکیم کے خلاف سمجھ بیٹھے ۔ اس نظریے کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ حدیث کی بنیادی حیثیت باقی نہیں رہتی گویا رسول اللہ ۖ  تو قرآن کی تشریح نہیں کرسکتے لیکن ان متجددین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن کریم کی جو چاہیں تشریح کریں ۔ علامہ تمنا پر یہ دور تقریباً ایک دَہائی پر محیط رہا ۔ 

 

 

پھر علامہ تمنا کا آخری دور شروع ہوتا ہے ۔ اس دور میں انہوں نے حدیث کی حجیت کو صاف اور صریح لفظوں میں تسلیم کرلیا ۔ گزشتہ دور میں اگر موصوف نے ” مثلہ و معہ ” کو روایتِ مکذوبہ قرار دے کر حدیث کا مذاق اڑایا تھا تو اس دور میں ، جو کہ گزشتہ دور کا ناسخ بھی ہے ، وحی متلو اور وحی غیر متلو کو قرآنی تقسیم قرار دے کر حدیث کو حجّت فی الدین تسلیم کیا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

” وحی غیر متلو کو ” غیر قرآنی ” کہہ کر رد کرنا اور اس کے اتباع سے انکار کرنا در حقیقت قرآن مجید کا انکار ہے ۔ ” [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

افسوس یہ عہد ، عہدِ آخر تھا ۔ گزشتہ کوتاہیوں کا جس قدر ازالہ ممکن تھا ، سوکیا۔ غلام احمد پرویز کے ” لغات القرآن ” پر تنقید لکھی جس کی چند قسطیں ” فاران ” کراچی میں شائع بھی ہوئیں تاہم اس تنقید کا مسودہ مکمل کتابی شکل میں شائع نہ ہو سکا ۔ اس دور کی عدم شہرت ہی نے علامہ تمنا کی شہرت کو متاثر بھی کیا اور داغدار بھی ۔ آج اہلِ علم کی اکثریت بھی انہیں پرویزی قسم کا منکر حدیث قرار دیتی ہے ۔ علامہ تمنا عمادی کی ایک بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کے افکار و نظریات کی نشر و اشاعت کا فریضہ جن لوگوں نے انجام دیا اور جو دے رہے ہیں وہ بیشتر ایسے افراد ہیں جو حدیث کے باب میں تشکیک زدہ ہیں ۔ ” تمنائی افکار و نظریات ” کی تریج و اشاعت میں بھی ان کی غرض اپنے ” افکارِ خاص ” کی ترویج و اشاعت ہوتی ہے ۔ اس بات کا احساس خود علّامہ تمنا کو بھی ہوگیا تھا ، چنانچہ فرماتے ہیں : 

 

 

” طلوعِ اسلام میں میرے وہی مضامین چھپتے رہے جو ادارہ طلوعِ اسلام کے مسلک کے موئد تھے اور جن سے ادارے کو ذرا سا بھی اختلاف ہوا وہ مضامین شائع نہ ہوئے چنانچہ بعض واپس شدہ مضامین اب تک میرے پاس موجود ہیں طلوعِ اسلام سے تعلقات پیدا ہونے کے چند برس کے بعد ہی سے مجھ کو اس کے مسلک سے اختلاف ہوا تو میںنے کسی اور رسالے میں اپنے اختلافی مضامین شائع کرانے کے بجائے نجی طور پر مراسلت شروع کی اور اپنے اختلاف سے مطلع کرتا رہا کیونکہ اس طور پر افہام وتفہیم سے اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے ، بہ نسبت اس کے کہ رسائل و جرائد میں ردّ و قدح کا ہنگامہ برپا کیا جائے اس لیے کہ ایسی صورت میں مناظرے اور ضد کی نوعیت پیدا ہوجانے کا قوی امکان ہوتا ہے ، چنانچہ بہت سے مسائل پر نجی خطوط کے ذریعہ مسلسل افہام و تفہیم کرتا رہا اور یہ صورت حال امسال [١٩٧١ئ] تک جاری رہی ۔ ”

[وحي  متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

یہ ٹھیک ہے کہ ایک عرصے تک خود علامہ تمنا بھی منکرینِ حدیث کے ہمنوا تھے لیکن جب انہیں اس فتنے کا ادراک ہوا تو یہ ادراک بھی پورے احساس و شعور کے ساتھ تھا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

”ادارہ بلاغ القرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ پر صرف قرآن کریم اترا ، قرآن کریم کے علاوہ کسی قسم کی وحی بھی آنحضرت ۖ کی طرف اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ۔ سنّت اگر کوئی چیز واجب الاتباع ہوتی تو قرآن کی طرح رسول کریم ۖ ضرور اس کو بھی لکھوا کہ کتابی صورت میں قرآن کریم کے ساتھ امت کو دے جاتے ۔ اس لیے سنّت کہاں ہے ؟ کس کتاب میں ہے ؟ کوئی ایسی کتاب دکھائیے جس میںتمام فرقوں کی متفق علیہ سنت ہو جس کے کسی جز سے کسی فرقے کو اختلاف نہ ہو ، اور طلوعِ اسلام کا مؤقف بھی یہی ہے ۔ ان کے اس سوال کا جواب تو میرے رسالہ ” السنة” میں ہے یہاں اعادہ بے فائدہ ہے مگر یہاں مجھ کو صرف یہ دکھانا ہے کہ صرف قرآن کریم کو قبول کرنے اور باقی سب چیزوں کو روایت کہہ کر ٹھکراتے رہنے سے ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟”

”اصل مقصد: قرآن مجید کو قبول کرلینے اور باقی سارے دینی لٹریچر کو ردی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو توڑ مروڑ کر جو مفہوم جس آیت سے چاہیں گے نکال لیں گے ، جس لفظ کے چاہیں گے معنی حقیقی کی جگہ مجازی لے لیں گے، جس واقعے کو چاہیں گے خواب کا واقعہ کہہ دیں گے، جس عبارت میں ضمیر جدھر چاہیں گے پھیر دیں گے ، جس اسم اشارہ کا جس کو چاہیں گے مشار الیہ قرار دیں گے ، جس لفظ کے متعدد معانی لغت والوں نے لکھے ہیں ان میں سے جو معنیٰ چاہیں گے حسبِ دلخواہ مرادلے لیں گے، اس طرح قرآن مجید کی آیتوں کو اپنے منشا اور اپنی اغراض کے تابع رکھنے کی پوری آزادی حاصل رہے گی ۔ دوسروں نے کیا لکھا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ دوسرے تو سب کسی نہ کسی فرقے کے ہیں اور فرقہ وارانہ روایات کے پابند ہیں اور یہاں روایات کے اتباع کو گمراہی بلکہ شرک سمجھتے ہیں اس لیے ان ” مشرکین ” کی تفسیروں اور ترجموں کو دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ ہاں ! ان میں سے اگر کسی کا کوئی قول ایسا مل جائے جس سے اپنے خیال کو تقویت ہو تو البتہ اس کو پیش کریں گے بلکہ ضعیف سے ضعیف روایت اور کسی منافق راوی کا قول بھی اپنے موافق مل جائے گا تو اس کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کریں گے اور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰن )ہم نے ضرور اس قرآن کو آسان کردیا ہے تو پھر انسان کے سمجھنے میں دشواری کیوں ہوگی ؟ ہم جو مطلب جس آیت کا سمجھے ہیں صحیح ہی سمجھے ہیں ۔ آسان بات کے سمجھنے میں غلطی نہیں ہوسکتی ۔ مگر قرآنی آیات کو سمجھنے کی کوشش کب کی جاتی ہے ؟ ساری کوششیں تو آیات سے اپنے موافق مفہوم پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں اس لیے ضرورت ہوئی کہ اس فرقے کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جائے ۔ خصوصاً اس لیے دیکھ رہا ہوں کہ کوئی صاحبِ علم اس فرقے کی طرف پوری طرح سے متوجہ نہیں ہو رہا ۔ صرف ” فتنہ انکارِ حدیث ” کہہ دینے یا بعض رسالوں سے اس فتنہ کا انسداد نہیں ہو سکتا ۔” [ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

رسول اور احادیث رسول کی حیثیت و اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 

 

”جس پر وحی اتری ہے وہی توا س وحی کا مخاطب اولیٰ ہے چاہے وہ وحی کتابی ہو یا غیر کتابی یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ خود رسول نے اس وحی کا کیا مفہوم سمجھا تھا اور احکام وحی کی کس طرح تعمیل فرمائی تھی رسول صرف مبلغ کتاب بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ معلّم اور مبینِ کتاب بھی تھے اس لیے تعلیم و تبیین رسول سے واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت نہ سمجھنا اور بطور خود اپنی خواہش کے مطابق آیات قرآنی کی تفسیرکرنا سخت گمراہی اور بدترین الحاد ہے ۔” [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

وحی متلو و غیر متلو کی تقسیم کو قرآنی تقسیم قرار دیتے ہوئے صاف لفظوں میں فرماتے ہیں : 

 

”یہ تقسیم علماء سلف نے اپنی طرف سے نہیں کی خود قرآن مجید نے تقسیم بیان فرمادی ہے ۔ سورة الکہف کی آیت ٢٧ پڑھیے :

 

 

 

( وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ )  

 

 

 

” اورتم تلاوت کرو اس وحی کی جو تمہارے رب کی کتاب سے تمہاری طرف کی گئی ہے ۔”

 

 

 


 اس آیت کریمہ میں ( مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ) کی قید بتارہی ہے کہ تلاوت وحی کتاب ہی کی مامور بھا ہے اور اس قید نے یہ بتادیا کہ کتاب سے باہر بھی بعض وحی ہوئی ہے جس طرح اگلے انبیاء علیہم السلام کی طرف کتابی و غیرکتابی دونوں طرح کی وحی آتی ہے ۔ اس لیے رسول اللہ ۖنے کاتبین وحی سے صرف کتابی وحی لکھوائی تاکہ اس کی تلاوت ہو غیر کتابی وحی کی تلاوت کا حکم نہ تھا ۔ اس لیے قرآن کی طرح باضابطہ اس کو نہیں لکھوایا ۔ کتابی وحی میں الفاظ وحی ہوتے جن کا محفوظ رکھنا ضروری تھا غیر کتابی وحی میں مفہوم کی وحی ہوتی تھی اوراگر مفہوم فرشتے کو القا ہوتا تھا تو الفاظ فرشتے کے ہوتے تھے جو وہ رسول تک پہونچاتا اور اگرمفہوم رسول پر بیداری میں یا خواب میںا لقاء ہوتا تھا تو رسول اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے ۔مگر مفہوم ایسی احکامی وحیوں کے بعد کو کہیں نہ کہیں قرآن مجید میں کسی نہ کسی طرح ضرور بیان فرمادیئے جاتے تھے تاکہ وہ مفہوم محفوظ رہ جائے اسی لیے دیکھئے دوسری جگہ بھی یونہی فرمایا ہے :

 

 

 


( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ط اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ ط وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ) 

 

 

 


” اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو اورنماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی کی باتوں اورناپسندیدہ کاموں سے روک دیتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرو گے ۔” ( عنکبوت : ٤٥)

 

 

 

اس آیت کریمہ میں دو کاموں کا حکم دیا گیا ہے پہلا حکم  ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) کا ہے یعنی حکم دیا جارہا ہے کہ اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو ۔ جو شخص کچھ بھی آخرت کی باز پرس سے ڈرتا ہو اوریقین رکھتا ہو کہ اگر قرآنی آیات کے مفہوم صحیح کے اقرار و انکار میں ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو قیامت کے دن ہم سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ میں ایسے مومن سے پوچھتا ہوں کہ ( مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ) میں جو قید (مِنَ الْکِتٰبِ ) کی ہے صاف بتارہی ہے یا نہیں کہ کتاب والی وحی کے علاوہ بھی وحی ضرور آتی تھی ورنہ من الکتاب کی قید محض فضول ٹھہرے گی اور قرآن مجید میں کوئی لفظ بھی بے سود نہیں لایا گیا ہے اور چونکہ صرف کتابی ہی وحی کی تلاوت کا حکم ہے اس لیے کتابی ہی وحی متلو ہوئی اور غیر کتابی وحی غیر متلو ہوئی قرآن مجید نے خود وحی کی دو قسم متلو و غیر متلو بتادی یا نہیں ؟ [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

اتباع قرآنی وحی کی بھی ہوگی اور غیر قرآنی وحی کی بھی ۔ علامہ تمنا اس امر کو قرآنِ کریم کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

 

”اتباع چونکہ ہر قسم کی وحی کا فرض ہے اس لیے جہاں اتباع کا حکم ہے وہاں عام وحی کے اتباع کا حکم یا ذکر ہے ان آیتوں میں ( من الکتاب ) کی قید نہیں لگائی گئی ۔ تو اب اتباعِ وحی کے ذکر یا حکم کی آیات کریمہ ایمان و دیانت کی نظر سے خدا ترسی کے جذبے کے ماتحت ملاحظہ فرمائیے۔

 

 

 

 (١) ( قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ ِنِّیْ مَلَک ِنْ أَتَّبِعُ ِلاَّ مَا یُوحَی ِلَیَّ )]انعام :٥٠[

 

 

 


” کہہ دو ( اے رسول ) کہ نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے ( دیئے ہوئے ) خزانے ہیں اور نہ میں غیب ( کی باتیں ) جانتا ہوں اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جس ( بات ) کی وحی میری طرف کی جاتی ہے ۔ ”

 

 

 


(٢) (اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا ِلَہَ ِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ)] انعام : ١٠٧[

 

 

 


” (اے رسول ) تم اتباع کرو اس ( بات ) کا جس کی وحی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے کی گئی اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکین کی طرف سے منہ پھیر لو ( ان کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو )۔”

 

 

 


(٣) ( قُلْ ِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا یِوحَی ِلَیَّ مِن رَّبِّیْ )  ] اعراف:٢٠٣[ 

 

 

 

” کہہ دو ( اے رسول ) کہ میں اتباع صرف اسی کا کرتا ہوں جس کی وحی میری طرف میرے رب کی طرف سے کی جاتی ہے ۔”

 

 

 

 

(٤)  ( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی ِلَیْْکَ وَاصْبِرْ حَتَّیَ یَحْکُمَ اللّٰہُ وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ ) 

 

 

 

 

” جو وحی ( اے رسول ) تمہاری طرف کی جائے تم اس کا اتباع کرو اور صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔” ( سورئہ یونس کی آخری آیت )

 

 

 

 

(٥)  ( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ ِنَّ اللَّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً )

 

 

 

 

” ( اے رسول ) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی کی جائے اس کا اتباع کرتے رہو تم لوگ جو کچھ کروگے اللہ تعالیٰ بے شک اس سے باخبر ہے ۔”]احزاب :٢[ 

 

 

 

 

ان پانچ آیتوں میں اتباعِ وحی کا حکم ہے اور یہ حکم عام وحی سے متعلق ہے کہیں بھی کتاب کی قید نہیں ۔”[ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

 

منکرینِ حدیث کی روش پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

 

 

 

”وحی غیر متلو جس کو مدعیانِ قرآن فہمی وحی تو تسلیم ہی نہیں کرتے ، ” غیر قرآنی ” باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں ان میں بہت سی تو ایسی ہیں جن کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن مجید میں کردیا گیا ہے مگر اس فرقے والوں کو ان آیات سے کیا بحث ؟ ان کو ایسی آیتوں کی تلاش رہتی ہے جن سے وہ آج کل کے الحاد زدہ نوجوانوں کو مطمئن کرسکیں اور دنیا میں انسانوں کو خودساختہ نظام معیشت قائم کرسکیں اور بزعم خود سرمایہ داری کا استیصال کرسکیں ۔ ڈارون کی تھیوری کو قرآنی آیتوں سے ثابت کرسکیں ۔ غرض ان کا حاصل یہ ہے :

 

 

 

 

( ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا )

 

 

 

 

” ان کی ساری جدو جہد دنیاوی ہی زندگی کے مفاد میں کھو گئی ( خرچ ہوگئی ہے ) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔” ( کہف : ١٠٤ )

 

 

 

 

اس لیے وہ کبھی اس پر غور ہی نہیں کرتے کہ ( اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ )سے نمازِ جمعہ کا ثبوت تو مل رہا ہے مگر نمازِ جمعہ کب فرض ہوئی تھی ؟ اور کس آیت کے ذریعے فرض ہوئی تھی ؟

 

 

 

 

پھر” نداء للصلوٰة ” یعنی اذان کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے اذان کا حکم اور اذان کے کلمات کی تعلیم کس آیت سے ثابت ہوتی ہے ؟ ان باتوں پر غور کرنے کا ان کے پاس وقت کہاں ؟ ا س لیے یہ ان وحی ہائے غیر متلو سے بالکل بے خبر ہیں جو قرآ ن مجیدمیں صراحتاً مذکور نہیں اور جو قرآن مجید میں صراحتہً مذکور نہیں ان کو غیر قرآنی اور روایتی کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں حالانکہ قرآن مجید ان کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے ۔ ”[ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

علامہ تمنا کے نزدیک ہدایت کے تین ذریعے ہیں اور تینوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

”اللہ کی کتاب اور محمد رسول اللہ ( ۖ ) و الذین معہ یہی تین ذریعے ہیں ہدایت کے ۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے اور نہ کوئی ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ کر راہِ ہدایت پا سکتا ہے ۔ ” [ کتاب اللہ ، محمد رسول اللہ و الذین معہ از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ” نقوش ” رسول نمبر : ١/٣٥٨۔دسمبر ١٩٨٢ء ]

اب علّامہ تمنا کے ایک مکتوب گرامی سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ یہ مکتوب گرامی راقم کو اپنے والد محترم محمد احسن اللہ عظیم آبادی ( ١٩٢١ء -١٩٩٥ء ) کے ذخیرئہ کتب سے ملا تھا ۔ راقم کے والد علامہ تمنا کے قریبی عزیز اور تلمیذِ رشید تھے ۔خط میں مکتوب الیہ کا نام درج نہیں تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب الیہ ” کفایتِ قرآن” کے مدعی اور ” منکرینِ حدیث ” ہمنوا ہی تھے ۔ علامہ تمنا انہیں لکھتے ہیں :

 

 

 

” کفایتِ قرآن کے لفظ سے اپنے نفس کو بہت دھوکہ دیا جا سکتا ہے اوردوسروں کو بھی ۔ مولوی صبیح وکیل بہاری مرحوم جو میرے شاگردبھی تھے صرف چار مہینے مجھ سے میری تصنیف کتاب جواہر الصرف و روح النحو میں مجھ سے عربی صرف و نحو پڑھی تھی ۔ اس کے بعد لگے قرآن مجید کا بطور خود مطالعہ کرنے چند برسوں کے مطالعہ کے بعد مجتہد بن گئے اور کتا ، بلی ، چوہا ، چھچھوندر کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے ذبح کرکے کھانے لگے ۔ اور غسل جنابت کے منکر ہوگئے ۔……. تہجد کو فرض سمجھتے تھے ۔ آپ ایک وقت کو تین وقت بتاتے ہیں وہ ایک وقت نماز پڑھا کر چھ وقت کی نماز فرض قرار دیتے تھے مگر بے اعراب دی ہوئی عربی عبارت صحیح طور سے پڑھ نہیں سکتے تھے نہ دو سطر صحیح عربی لکھ سکتے تھے نہ پانچ منٹ تک کسی موضوع پر صحیح عربی میں بول سکتے تھے ۔ اور یہی کفایت قرآن کی سند پیش کرتے تھے ۔ امت مسلمہ امرتسر کے جلسے میں ایک بار مدعو ہوا تھا اور امرتسر پہونچ کر مولوی احمد الدین مرحوم سے بھی ملا تھا ۔ بھائی مولانا عرشی صاحب سے پہلے پہل وہیں ملاقات ہوئی تھی اور کئی مدعیان کفایت قرآن سے ملاقات ہوئی جن میں مولوی احمد الدین مرحوم کے سوا کسی نئے ملنے والے میں اس کی مطلق صلاحیت نہیں دیکھی کہ وہ علمی بحث کو سمجھ بھی سکتے ۔ مولانا عرشی سے تو رسالہ البیان کی وجہ سے دیرینہ تعلقات تھے ۔ ان کے سوا دیرینہ تعلقات والے بھی کچھ ویسے ہی نظر آئے ۔ مولانا ثناء اللہ اہل حدیث مرحوم سے بھی ملاقات ہوئی انہوں نے اپنی تفسیر القرآن بکلام الرحمان مجھ کو تحفةً دی جو میرے پاس موجود ہے ۔ تو کتاب قرآن پر تو ایمان ہے مگر یہ ویسا ہی ہے کہ بعض لوگوں نے کہا تھا کہ (  ِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا)     ( حٰم :٣٠) اور پھر ( اَلَیْسَ اللّٰہَ بِکَافٍ عَبْدَہ ) کہہ کر صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو کافی سمجھتے تھے اور رسول اور ملائکہ پر ایمان لانے کو شرک فی الایمان کہتے تھے اور ( اَ لَیْسَ اللّٰہَ بِکَافٍ عَبْدَہ ) کے خلاف سمجھتے تھے ۔ ویسے ہی کفایت قرآن کو دعویٰ لے کر معلم کتاب کی تفہیم و تبیین سے استغنا بھی ہے ۔ بہر حال یہ بحث مستقل طور سے زیر غور لانے کی مستحق ہے سرسری طور سے خطوط میں چند سطری لکھ دینے سے کام نہیں چل سکتا ۔ ”

 

مولانا افتخار احمد بلخی ، جو علامہ تمنا کے تلمیذ اور انکارِ حدیث کی تردید میں لکھی گئی ایک مشہور کتاب کے مصنف بھی ہیں ، علامہ تمنا عمادی سے متعلق فرماتے ہیں :

 

 

”میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ مولانا انکارِ حدیث کو ایک ایسی ضلالت تصور کرتے ہیں ، جس کی سرحد کفر سے ملتی ہے ، یہ میرا ذاتی علم ہی نہیں بلکہ مولانا کی شائع شدہ تحریریں بھی اس پر شاہد ہیں ۔”[فتنہ انکارِ حدیث کا منظر و پس منظر: [١/٥٥ – ٦٥]]

یہ مضمون جریدہ "الواقعۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔