مسجدِ اقصیٰ کا حق تولیت : یہود یا مسلمان؟


الواقعۃ شمارہ ٢ 

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زوال پذیر قوموں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے ارباب حل و عقد بھی وقت کی صحیح نباضی سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ ” یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا ” کے مصداق ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسا وقت آیا جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے اختیارات سے مسلسل تجاوز کرتے ہوئے سلطنتِ مغلیہ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج بن گئی مگرکمال ہے اس عہد کے ارباب کمال پر جو امکانِ کذب باری تعالیٰ جیسے مباحث پر دادِ تحقیق دے رہے تھے ۔ علماء کی یہی روش تھی جس نے بالآخر مسلمانوں کو فرنگی استبداد کی چوکھٹ پر غلام بنادیا ۔ لال قلعہ کی دیواریں
مسلمانوں کے خون سے رنگین ہوگئیں اور ہندوستان کے تخت پر سات سمندر پار کے سیاسی تاجروں کا قبضہ ہوگیا ۔
 
”صحیح وقت پر صحیح فیصلہ ” یہ الہامی صلاحیت جس میں ہوگی وہی اس امت کا حکیم اور اس ملّت کا غمخوار ہوگا ۔ تاریخ سے صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔ 
 
میدانِ جہادمیں جب مخالفین شاہ اسماعیل شہید کے مسلک و نظریات کو وجہ جواز بنا کر عام لوگوں کو متنفر کر رہے تھے  تو بمقام پنجتار مذہبی مسائل کی تشریح کے لیے افغان علماء کو بلایا گیا اس مجلس میں شاہ اسماعیل نے عدم وجوب تقلید کی پُر زور حمایت کی ۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے جو رائے دی ، وہ بقول شیخ محمد اکرام آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ]موجِ کوثر : ٦٢[شاہ صاحب نے فرمایا :

"ہمیں اس وقت کفار سے جہاد کرنا ہے ۔ تقلید کا فتنہ اٹھا کر اپنے اندر تفرقہ ڈالنا بہتر نہیں ۔ اس کی وجہ سے ہمارا اصل کام ہجرت اور جہاد جو فرضِ عین ہے ، متاثرہوںگے ۔”

 
اسی طرح جب مولانا ولایت علی صادق پوری بغرضِ جہاد نکلے اور اثنائے راہ دہلی پہنچے تو اس وقت علمائے دہلی میں یہ مسئلہ زوروں پر تھا کہ الو حلال ہے یا حرام ؟ کسی نے مولانا سے بھی دریافت کیا تو امت کے اس حکیم نے جو بات کہی وہ دین کے استخواں فروشوں کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ فرمایا:

"میں الوؤں میں نہیں پڑتا ، میرا مقصد مسلمانوں کی آزادی اور باطل سے جہاد ہے ۔”

 
بدقسمتی سے آج پھر تاریخ دہرا رہی ہے ۔ ہزارہا قربانیاں دے کر اس مملکتِ پاک کی آزادی عمل میں آئی تھی ۔ آج پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نئے پیراہن میں ملبوس ہماری خودمختاری کے لیے سوالیہ نشان بن گئی ہے اور گزری ہوئی تاریخ کے عین مطابق ہمارے علماء نت نئی فقہی موشگافیوں سے اپنی علمی ذوق کی تسکین فرما رہے ہیں ۔ 
 
 
یہ خیال ہی کتنا عجیب لگتا ہے کہ مسلمان یہ سوچنے لگیں کہ ان کا قبلۂ اوّل ان کا نہیں بلکہ اس قوم کا حق ہے جسے اللہ ربّ العزت نے مغضوب قرار دیا ہو اور جن کے حق میں ذلت و مسکنت کی نوید دی ہو ۔ 
 
مولانا محمد عمار خاں ناصر مدیر ماہنامہ ” الشریعة” عصر حاضر کے جید علماء میں سے ہیں ۔ ان کی صلاحیتوں کے مختلف دوائر ہیں اور بلاشبہ ان کی صلاحیتیں قابلِ تسلیم ہیں مگر کاش وہ اپنی صلاحیتوں سے اس امت کے زوال و انحطاط کی وجہ دریافت فرماتے ۔ اس امت کے لیے حکیم اور نباض بنتے اور اس کی غمخواری کرتے ۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے ایسے مباحث کو اپنا مرکزِ تحقیق بنایا جو اس وقت امت مسلمہ میں مزید انتشار و افتراق کا باعث بن گئے ہیں ۔ ان کی تحقیق کا حاصل ہے : 
 

"مسجدِ اقصیٰ کا معاملہ امت مسلمہ کے لیے بھی اسی طرح ایک اخلاقی آزمایش کی حیثیت رکھتا ہے جس طرح کہ وہ بنی اسرائیل کے لیے تھا ، اور افسوس ہے کہ اس آزمائش میں ہمارا رویہ بھی حذو النعل بالنعل (Same to Same) اپنے پیش رووں کے طرزِعمل ہی کے مماثل ہے ۔ ارضِ فلسطین پر حق کا مسئلہ موجودہ تناظر میں اصلاً ایک سیاسی مسئلہ تھا ، اس لیے اس کی وضع موجود میں یہود کے پیدا کردہ تغیر حالات پر اگر عرب اقوام اور امت مسلمہ میں مخالفانہ ردّ عمل پیدا ہوا تو وہ ایک قابلِ فہم اور فطری بات تھی ، لیکن ہیکل کی بازیابی اور تعمیر نو کے ایک مقدس مذہبی جذبے کو ” مسجدِ اقصیٰ کی حرمت کی پامالی ” کا عنوان دے کر ایک طعنہ اور الزام بنا دینا ، مسجدِ اقصیٰ پر یہود کے تاریخی و مذہبی حق کی مطلقاً نفی کردینا اور ، اس سے بڑھ کر ، ان کو اس میں عبادت تک کی اجازت نہ دینا ہر گز کوئی ایسا طرزِ عمل نہیں ہے جو کسی طرح بھی قرینِ انصاف اور اس امت کے شایانِ شان ہو جس کو ” قوامین للّٰہ شھداء بالقسط ” کے منصب پر فائز کیا گیا ہے ۔” [براہین : ٤٠١]

 
مسجدِ اقصیٰ کے حق تولیت پر یہ بحث غالباً دس برسوں سے جاری ہے ۔ اس عرصے میں نہ معلوم کتنی آندھیاں آئیں اور کتنے طوفان اٹھے جنہوں نے اس امت کی زبوں حالی میں اپنا کردار ادا کیا مگر اس طویل علمی مناقشے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ برادرم ابو موحد عبید الرحمن کا تأثر یہی رہا کہ مولانا عمار ناصر نے جو نکات اٹھائے ہیں ان کا اب تک مدلل جواب نہیں آسکا ہے ۔ اس لیے امت کے اس شاذ حلقے کے لیے  جمہورِ امت کے صحیح مؤقف کی ترجمانی ضروری ہے ۔ راقم کو اس بحث سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ ربّ العزت کی حکمتیں علمی مناقشوں کی محتاج نہیں ہوتیں ۔ نہ کسی صاحبِ علم کے دل پر اترنے والے معصومانہ الہام سے تقدیرِ الٰہی کو بدلا جاسکتا ہے ۔ یہ مختصر سا مضمون صرف اس احساس کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ ہذا کی صحیح نوعیت کو واضح کیا جاسکے ۔ یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ ہمارے پیشِ نظر جناب عمار ناصر کی کتاب ” براہین ” ہے ، ” الشریعة ” کے شمارے ہمارے پیشِ نگاہ نہیں ۔ 
 
جناب عمار ناصر نے اپنے دلائل کی اصل بنا ایک قرآنی آیت کے چھوٹے سے ٹکرے پر رکھی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی عقلی و منطقی دلائل ، کچھ مفسرین کی دور از کار تاویلات ، چند آثار اور تاریخی روایات کو بھی پیش کیا ہے ۔ تاہم ہم اپنا موضوعِ سخن صرف قرآن کی روشنی میں پیش کریں گے ۔ اس کے نص ہونے میں کسی کو معمولی درجہ بھی کلام نہیں ہوگا ۔ 
میری ناقص رائے کے مطابق ہر وہ شخص جو اپنے باطل نظریات کے لیے قرآن سے استدلال کرتا ہے وہ کبھی بھی آیتِ قرآنی کو اس کے صحیح ترین سیاق و سباق کے ساتھ پیش نہیں کرتا ۔ بلکہ اس کے بَرعکس محض اپنے مطلب کی بات    ”لے اڑنے ” کی روش اختیار کرتا ہے ۔ ہمیں جناب عمار ناصر کی نیت پر شبہ نہیں ۔ امید ہے کہ انہوں نے اپنا مؤقف پوری دیانتداری سے اختیار کیا ہوگا ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قرآنی استدلال کرتے ہوئے ان کا طریقہ بھی مذکورہ روش ہی کا عکاس ہے ۔ فرماتے ہیں :
 

"اللہ تعالیٰ نے مسجدِ اقصیٰ کی تباہی و بربادی اور اس سے یہود کی بے دخلی کے دو معروف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ یہ ان کی سرکشی اور فساد کے نتیجے میں رونما ہوئے تھے ۔ مسجد اقصیٰ کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت وہ یہود کے زیرِ تصرف نہیں تھی ، بلکہ تباہ شدہ کھنڈر (Ruins) کی صورت میں ویران پڑی تھی ۔ یہ بات بھی ، ظاہر ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ مستقبل قریب میں اس عبادت گاہ کو آباد کرنے کا شرف عملاً مسلمانوں کو حاصل ہونے والا ہے ۔ اگر یہود کے حق تولیت کی شرعی بنیادوں پر قطعی تنسیخ مقصود ہوتی تو یہاں یہود سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے تھا کہ فساد اور سرکشی کے نتیجے میں اس مسجد سے بے دخلی کے بعد اب تمہارے اس پر دوبارہ متصرف ہونے کا کوئی امکان نہیں اور اس عبادت گاہ کی آبادی اور تولیت کا حق اب تمہارے بجائے ہمیشہ کے لیے ، مسلمانوں کے سپرد کردیا جائے گا ، لیکن اس کے برعکس قرآن مجید صاف لفظوں میں یہ فرماتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے پہلے کی طرح اب بھی اس مسجد کے دوبارہ بنی اسرائیل کے تصرف میں آنے کا امکان موجود ہے :

(عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ) [بنی اسرائیل ١٧:٨]

"توقع ہے کہ تمہارا رب تم پر پھر رحمت کرے گا اور اگر تم نے دوبارہ یہی روش اختیار کی ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ۔” [براہین : ٢٦٠]

 
سب سے پہلے آیت کے اس ٹکرے کو اس کے صحیح ترین سیاق و سباق کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے۔ 
 

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا (4) فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (5)  ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا (6)  اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ  ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا  ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا (7) عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا  ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا (8) اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا (9) وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا(10) [بنی اسرائیل :٤-١٠]

”اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلادی تھی کہ تم سر زمین میں دوبارہ خرابی کروگے اور بڑا زور چلانے لگو گے پھر جب ان دو بار میں سے پہلی بار کی میعاد آوے گی ہم تم پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کریں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے پھر وہ گھروں میں گھس پڑیں گے اور یہ ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا ۔ پھر ہم ان پر تمہارا غلبہ کر دیں گے اور مال اور بیٹوں سے ہم تمہاری امداد کریں گے اور ہم تمہاری جماعت بڑھا دیں گے ۔ اگر اچھے کام کرتے رہو گے تو اپنے نفع کے لیے اچھے کام کرو گے اور اگر تم برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لیے پھر جب پچھلی بار کی میعاد آوے گی ہم پھر دوسروں کو مسلط کریں گے تاکہ تمہارے منہ بگاڑ دیں اور جس طرح وہ لوگ مسجد میں گھسے تھے یہ لوگ بھی اس میں گھس پڑیں اور جس جس پر ان کا زور چلے سب کو برباد کر ڈالیں ۔ عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرماوے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کا جیلخانہ بنا رکھا ہے ۔ بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو کہ نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے ۔” ( ترجمہ از مولانا اشرف علی تھانوی )

 

 
ان آیات مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو مرتبہ یہود پران کی نافرمانیوں کے سبب اپنے سخت عذاب کا ذکر فرمایا ہے ۔ پھر اللہ رب العزت نے انہیں ایک موقع دیتے ہوئے مزیدفرمایا (  عَسَی رَبُّکُمْ أَن یَرْحَمَکُمْ ) ”قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے ۔” لیکن اگر تم نے پھر وہی روش اختیار کی تو ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ پہلے کرچکے ہیں ۔ اس بیان کے بالکل متصل اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم کا ذکر فرمایا ہے ۔ سیاقِ و نظمِ کلام کا تقاضا یہی ہے کہ یہود کے لیے وعدئہ رحمت نبی کریم ۖ اور قرآن کریم پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے ۔ 
 
ائمہ مفسرین اس سے یہی مراد لیتے ہیں ۔ 
 
( عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ  ) کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ ۣ لکھتے ہیں:

"یعنی اگر تم محمد ۖ پر ایمان لے آئو گے اور قرآن کا اتباع کرتے ہوئے اپنے اعمال درست کر لو گے تو امید ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا ۔ ” [تفسیر مظہری: ٧/٢٦، مترجمہ عبد الدائم جلالی مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ١٩٩٩ء ]

 
مولانا ابو محمد عبد الحق حقانی دہلوی لکھتے ہیں :

"عسیٰ ربکم کا اشارہ یا تو آنحضرت ۖ کے عہد کے یہود کی طرف ہے کہ اب بھی وقت ہے اگر تم نے نبی آخر الزماں علیہ السلام کی اطاعت کرلی تو خدا پھر تم پر رحم کرے گا تمہارا برگشتہ زمانہ جا کر بھلے دن آجائیں گے اور اگر پھر بھی وہی شرارت کرو گے تو دنیا میں ہم تم پر کوئی تازہ آفت لائیں گے اور آخرت میں تو جہنم منکروں کا جیل خانہ تیار ہے ، یہود نے آنحضرت ۖ سے شرارت کی اور بھی رہی سہی عزت جاتی رہی ۔ دنیا بھر میں ایک انچ زمین کے بھی حاکم نہیں جہاں کہیں ہیں محکوم و ذلیل ہیں یا یہ اسی وقت کے یہود کی طرف اشارہ تھا جس کو حکایت کیا جاتا ہے چنانچہ یہود بختِ نصر کے حادثہ کے بعد کچھ نیکی کی طرف آئے شان و شوکت بھی عود کرنے لگی ، مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد میں پھر شرارت کی جس کے وبال میں طیطس شاہِ روم کے ہاتھ سے ان کا ستیاناس ہوگیا ۔ ” [تفسیر حقانی : ٣/١١٥، مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ]

 
مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

"یہ ان یہود سے خطاب ہے جو ان آیات کے نزول کے وقت موجود اور قرآن کی مخالفت میں کفارِ قریش کی ہمنوائی و پشت پناہی کر رہے تھے ۔ ان سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے وہ تمہیں سنایا جا چکا ۔ اب اگر خیریت چاہتے ہو تو اس نبی امی ( ۖ ) کی دعوت نے تمہارے لیے نجات کی جو راہ کھولی ہے ، اس کو اختیار کرو ، اور اپنے مستقبل کو سنوار لو ۔ اگر تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرلی تو خدا بھی تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر اسی طرح کی حرکتیں کیں جیسی کہ پہلے کرتے آئے ہو تو ہم بھی تمہاری اسی طرح خبر لیں گے جس طرح پہلے لے چکے ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس دنیا میں جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے وہ تو ہوگی ہی ۔ آگے تمہارے جیسے کافروں کے لیے جہنم کا باڑا ہے جس میں سارے کے سارے بھر دیے جائیں گے.” [تدبر قرآن : ٤/٤٨٣ مطبوعہ فاران فائونڈیشن لاہور ٢٠٠٠ئ]

 
ایک تابعی ہیں ضحاک ان کی رائے بھی یہی ہے ۔ مولانا احمد حسن دہلوی لکھتے ہیں :

"ضحاک نے کہا ہے کہ یہ رحمت جس کا اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جناب سرورِ کائنات فخر موجودات ۖ ہیں اور یہ بھی اللہ پاک نے انہیں جتلادیا تھا کہ اگر پھر تیسری دفعہ وہی کام کرو گے اور وہی فساد اٹھائو گے تو یاد رکھو ہم وہی عذاب تم پر نازل کریں گے۔ ہمارے ہاتھ سے تمہیں رہائی نہیں مل سکتی .” [احسن التفاسیر : ٤/٢١-٢٢]

 
سر دست یہ محض چند مفسرین کی آراء ہیں ورنہ اس پر تقریباً اتفاق ہی ہے ۔
” روح المعانی ” ،
” تفسیر النسفی ” اور
” فتح القدیر ”
دیکھ لیجئے اس میں ہمارے ہی مؤقف کی تائیدملے گی ۔ قرآنی نظم بھی اسی تفسیر کا تقاضا کرتی ہے ۔ حیرت ہے نظمِ قرآن کے اتنے بڑے داعی اتنی معمولی سی بات نہ سمجھ سکے ۔
 
جناب عمار ناصر کو یہ احساس تو ہے کہ یہود کو دوسری مرتبہ جس سخت عقوبت سے گزرنا پڑا وہ مسیح علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے تھا ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
 

” ہیکل کی تباہی اور فلسطین سے یہودیوں کی بے دخلی کی پیش گوئی دوسری مرتبہ ٧٠ ء میں پوری ہوئی ۔ اس مرتبہ اس کا سبب بنی اسرائیل کا وہ رویہ تھا جو انہوں نے من حیث القوم سیّدنا مسیح علیہ السلام کی تکذیب کے حوالے سے اختیار کیا تھا ۔ ” [براہین : ٢٤٢]

 
کیا یہ امر تعجب انگیز نہیں ہوگا کہ مسیح علیہ السلام کی تکذیب پر تو یہود کو سزا دی جائے لیکن نبی آخر الزماںۖ جو ” عہد کے نبی ” ہیں ان کی تکذیب پر یہود سے کچھ سرزنش نہ کی جائے بلکہ مستقبل میں ان سے رحمتِ الٰہی کا وعدہ بھی استوار کرلیا جائے؟؟؟
 
قرآنی بیان بالکل واضح ہے اس میں توڑمڑوڑکرنے اور تاویلات کے پھندے بچھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ اللہ کی رحمت ایمان کے ساتھ ہی مشروط ہوسکتی ہے اور اب محمد رسول اللہ ۖ کی رسالت پر ایمان لائے بغیرکوئی ایمان قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ۔ یہود اجتماعی یا انفرادی طور پررسالتِ محمدیۖ پر ایمان لے آئیں تو وہ یقینا وعدۂ رحمت الٰہی کے حقدار ہونگے وگرنہ دائمی ذلّت و مسکنت ان کا مقدر ہوگی ۔
 
تفسیر قرآن کا ایک اہم اصول نظم قرآن ہے اور دوسرا اہم اصول تفسیر القرآن بالقرآن ہے ۔ اس پہلو سے بھی دیکھیں تو معاملہ بالکل صاف ہے ۔ جب دنیا میں اس کتاب مقدس کا نزول ہوا تو یہود اس وقت سطحِ ارضی پر منتشر تھے ۔ کچھ اطمینان و سکون انہیں میسر تھا تو مدینہ میں ۔ لیکن یہاں بھی وہ اپنی سرکشی اور فساد فی الارض کے باعث نکالے گئے ۔ تآنکہ اللہ ربّ العزت نے ان پر ذلت و خواری مسلط کردی ۔ 
 

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ     ۤ   وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ    ۭ   ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ   ۭ  ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ   [البقرة : ٦١]

 

” اور ان پر ذلت اور پست ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ۔ یہ اس سبب سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے ۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نا فرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جانے والے تھے ۔ ”( ترجمہ از مولانا امین احسن اصلاحی )

 

(ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ  ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ) [آل عمران : ١١٢]

"وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے ۔ بس ( اگر کچھ سہارا ہے تو ) اللہ اور لوگوں کے کسی عہد کے تحت ۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں ۔ اور ان پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیتوں کا انکار اور نبیوں کا ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ نافرمان اور حد سے بڑھنے والے رہے ہیں۔” ( ترجمہ مولاناامین احسن اصلاحی)

 
جہاں تک اللہ ربّ العزت کے سہارے کا تعلق ہے تو دنیا میں ایسی کوئی مخلوق نہیں جو ربّ العزت کے سہارے کے بغیر کوئی بھی کام انجام دے سکے ۔ ایک چیز اللہ ربّ العزت کی رضا مندی ہے اور ایک اس کی امرِ تکوینی ۔ شیطان کا اسکے خلاف آمادئہ سرکشی ہونا ایک تکوینی حقیقت ہے ۔ ظاہر ہے اسے تبارک و تعالیٰ کی رضامندی حاصل نہیں ۔ اسی طرح یہود جب تک ایمان کی راہ اختیار نہیں کر لیتے ان پر اللہ کی جانب سے ذلت و مسکنت ہی رہے گی ۔ اس لیے معنوی طور پر دیکھا جائے تو یہود کو دنیا میں محض کسی قوم کا سہارا ہی وقتی طور پر کسی قدر کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے ۔ تنہا ان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ۔ ان آیات سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آج یہود کو سیاسی سطح پر جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور خوشنودی کا نتیجہ نہیں بلکہ محض ایک تکوینی حکمت و ضرورت کا تقاضا ہیں ۔ 
 
ان آیات کے نزول کے وقت یہود اپنے قبلے سے محروم تھے ۔ ان پر ذلت و مسکنت مسلط کی گئی ۔ اب اگر وہ اپنے قبلے کو اپنے زیرِ تصرف لے آئیں تو یہ ” دائرئہ ذلت و مسکنت ” سے اخراج کی ایک صورت ہوگی جو یقینا مشیّتِ الٰہی کے خلاف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ١٩٦٧ء سے بیت المقدس پر یہودی قبضے کے باوجود آج تک وہ اسے مکمل طور سے اپنے زیرِ تصرف نہیں لا سکے ۔ خود عمار ناصر صاحب بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ :
 

"اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے دعواے تولیت کو ایک عملی وجہ ترجیح حاصل ہے ۔ انہوں نے یہ عبادت گاہ نہ یہودیوں سے چھینی تھی اور نہ ان کی پہلے سے موجود کسی عبادت گاہ کو ڈھا کر اس پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کی تھی ۔ نیز وہ بحالتِ موجودہ اس کی تولیت کے ذمہ دار ہیں اور یہ ذمہ داری وہ گزشتہ تیرہ صدیوں سے ، صلیبی دور کے استثنا کے ساتھ ، تسلسل کے ساتھ انجام دیتے چلے آرہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی تولیت کا حق دار مسلمانوں ہی کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ ” [براہین : ٢٤٥ -٢٤٦]

 
ہم نے سطورِ بالا میں نہایت اختصار کے ساتھ جناب عمار ناصر کے قرآنی استدلال پر اپنے نکات فکر کو پیش کیا ہے اور ہمارے پیشِ نظر صرف یہی مقصد تھا کہ 
 
( ِنْ أُرِیْدُ ِلاَّ الِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ ِلاَّ بِاللّٰہِ )
 
اس بحث کے دوران ایک غلط فہمی جو جناب عمار ناصر کی تحریر سے بڑی شدت سے پیدا ہورہی ہے کہ گو یا مسجدِ اقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے کوئی خاص امتیازی مقام حاصل نہیں ۔ لکھتے ہیں :
 

"بعض اکابر صحابہ بھی اس مسجد کی کسی خصوصی فضیلت اور اہمیت سے آشنا نہیں تھے ۔” [براہین : ٢٧٥]

 
مسجدِ اقصیٰ یقینا حرم نہیں ہے اس کے لیے جناب موصوف نے امام ابن تیمیہ ، عبد اللہ بن ہشام انصاری اور سعودی لجنة دائمة کے فتاوے پیش کیے ۔ لیکن اس امر کو نظر انداز کر گئے کہ آخر ایک ایسے مقام کو جو انبیائے سابقین کا قبلہ رہا ہو اسے اللہ رب العزت نے حرم کیوں نہیں بنایا ؟ اس حکمت کی علت یہ ہے کہ ” حرم ” اصطلاحِ شریعت میں اس مقام کو کہتے ہیں جہاں خون بہانا حرام ہوتا ہے ۔ جبکہ بیت المقدس کو اللہ نے آخری معرکۂ حق و باطل کے لیے منتخب کیا ہے ۔ اگر اسے بھی حرم قرار دیا ہوتا تو مسلمانوں کے لیے قتال فی سبیل اللہ کی راہ میں یہ شرعی نکتہ مانع ہوتا ۔ چنانچہ احادیث و آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظہور دجال کے بعد جب دجال تمام سطح ارضی پر گشت کرے گا تب چاہ کر بھی وہ حرمین شریفین کے حدود میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ ان نکات کو پیش نظر رکھا جائے تو مسجدِ اقصیٰ کے حرم نہ بنانے کی وجہ بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔ اس سر زمین کو حق و باطل کے آخری اور نتیجہ خیز معرکے کے لیے مخصوص کرنا بھی ایک نوع کی فضیلت و اہمیت ہی ہے ۔ 
 
مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مسجدِ اقصیٰ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ، وہ بھی ملاحظہ فرمائیے ، کیونکہ یہ جناب عمار ناصر  کے گھر کی شہادت ہے ، صوفی صاحب فرماتے ہیں :

"مسجدِ اقصیٰ وہ مسجد ہے ( اَلَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہ ) جس کے ارد گرد ہم نے برکات رکھی ہیں اس میں ظاہری اور باطنی دو قسم کی برکات شامل ہیں ۔ ظاہری طور پر یہ خطہ سر سبز و شاداب ہے ۔ یہاں پر نہریں ، چشمے اور باغات ہیں ۔ نیز یہ مقام ہزاروں انبیاء کا قبلہ رہا ہے اور ان کی وہاں قبریں بھی موجود ہیں ۔ یہاں پر خدا تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں نازل ہوئی ہیں ، لہٰذا یہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے بابرکت مقام ہے ۔ مفسرین یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے میں یہ حکمت بھی ہے کہ حشر کا میدان اسی مقام پر قائم ہوگا ۔” [معالم العرفان فی دروس القرآن : ١٢/٢٧-٢٨ ، مکتبہ دروس القرآن گوجرانوالہ ٢٠١٠ء ]

مزید فرماتے ہیں :

"اگرچہ ملّت ابراہیمیہ کا عظیم قبلہ تو بیت اللہ شریف ہی ہے مگر اللہ نے بیت المقدس کو بھی محترم قرار دیا ہے وہ سارے انبیاء کا قبلہ رہا ہے ۔ وہاں پر ایک نماز پڑھنے کا اجر دوسری جگہ کی نسبت پچاس ہزار گنا زیادہ ہے ۔” [١٢/٤٤]

 
دینی مسائل کی تشریح کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پہلے سے کسی مفروضے کو قائم نہ کر لیا جائے کہ دورانِ تحقیق اسی کے مطلب کے دلائل جمع کرلیے جائیں ۔ بلکہ نصِ شرعی کی پیروی کی جائے اور دلائل جس امر کی نشاندہی فرمائیں اسے بلا کراہت قبول کیا جائے ۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012– سے ماخوذ ہے۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s